کانگریس سے زیادہ کرپٹ ہے بی جے پی

سنتوش بھارتیہ
Mastراشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سینئر لوگوں سے بات چیت کرکے اگر بھارتیہ جنتا پارٹی کے بارے میں لکھا جائے، تو وہ بہت اچھا شاید نہ ہو، کیوں کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے اثر دار لوگوں کا ماننا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس میں بہت زیادہ فرق نہیں ہے۔ سنگھ کے لوگ اپنی اندیکھی سے غم زدہ ہیں اور اپنے اصولوں کا گلا گھونٹنے والے لیڈروں سے ناراض بھی ہیں۔ وہ دراصل، اب اس ذہنی حالت میں پہنچ گئے ہیں، جہاں بوڑھا شیر شکار کو سامنے سے جاتے ہوئے دیکھ کر بھی اس پر حملہ نہیں کر پاتا۔ اس کی بے بسی ضرورہوتی ہے، لیکن وہ اس کا ایک راستہ نکالتا ہے اور وہ راستہ یہ ہے کہ وہ بچے سے جوان ہوتے ہوئے شیروں کو نئے سرے سے شکار کے لیے ٹریننگ دیتا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے بارے میں ان بوڑھے، مایوس اور غصے سے بھرے ہوئے کچھ شیروں سے جب ہماری بات چیت ہوئی، تب ہمیں لگا کہ ان کا درد بھی لوگوں کے سامنے آنا چاہیے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی یہ کہانی ان بوڑھے، بے سہارا، مایوس، لیکن ناراض سنگھ کے لوگوں کا درد ہے۔ یہ درد تب اور بڑھ جاتا ہے، جب یہ لوگ گوا میں بی جے پی کی مجلس عاملہ کی میٹنگ کے دوران ایک دوسرے کو گرانے کی حکمت عملی کھلے عام بناتے اور اس پر عمل کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
بھارتیہ جنتا پارٹی آج اندرونی طور پر کئی حصوں میں بنٹی ہوئی ہے۔ ہر آدمی دوسرے کو پٹخنے میں لگا ہوا ہے۔ حالت ایسی ہو گئی ہے کہ دوسرے بھلے ہی ڈوب جائیں، میں بچ جاؤں۔ شری لال کرشن اڈوانی زندگی میں ملے اس آخری موقع کو گنوانا نہیں چاہتے۔ نریندر مودی اور ان کے ساتھی مان رہے ہیں کہ ایسا موقع انہیں زندگی میں دوبارہ نہیں ملے گا۔ سشما سوراج اور راجناتھ سنگھ سب کے سر پر سوار ہونا چاہتے ہیں۔ وہیں راجناتھ سنگھ، مودی کا استعمال کرکے سیٹیں تو لانا چاہتے ہیں، پر ایسے حالات بھی پیدا کر رہے ہیں، جن سے مودی کے اتفاقِ رائے سے وزیر اعظم بننے میں شک پیدا ہو جائے۔ نریندر مودی کا سہارا لے کر سیٹیں لانا اور پھر خود وزیر اعظم بننا راجناتھ سنگھ کی حکمت عملی کا بنیادی حصہ ہے۔ ایسا ہی انہوں نے 2004 میں اڈوانی جی کے وقت بھی کیا تھا اور سبھی سے کہا تھا کہ میں پارٹی کا صدر ہوں، اس لیے میرے وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار بننے میں کسی کو کیا دقت ہو سکتی ہے۔ اتفاق ہے کہ 2014 کے عام انتخابات سے پہلے راجناتھ سنگھ پھر بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر بن چکے ہیں۔
نریندر مودی اپنے ساتھ پارلیمانی بورڈ میں امت شاہ کو لائے۔ حالانکہ اُن کا قد ہندوستانی سیاست میں کبھی اونچا تھا ہی نہیں۔ ان کی ساکھ گجرات میں مسلمانوں کے خلاف ایک بڑے ولین کی رہی ہے اور انہیں گجرات میں چھوٹا پرمود مہاجن مانا جاتا رہا ہے۔ اب انہیں نریندر مودی نے اتر پردیش کا انچارج بنوا دیا ہے۔ نریندر مودی کا ماننا ہے کہ اتر پردیش میں جتنی زیادہ سیٹیں ان کے اپنے امیدواروں کو ملیں گی، ان کے وزیر اعظم بننے میں اتنی ہی سہولت ہوگی۔ نریندر مودی کے اس مفاد کی دیکھ بھال امت شاہ کو اتر پردیش میں کرنی ہے، پر مودی کی اس چال کا جواب بہت جلدی بھارتیہ جنتا پارٹی کے اثردار لوگوں نے رام جیٹھ ملانی کو پارٹی سے نکال کر دے دیا۔ رام جیٹھ ملانی مودی کے آدمی ہیں اور انہیں گرو مورتی اس دلیل کے ساتھ پارلیمنٹ میں لے کر آئے تھے کہ جیٹھ ملانی مودی کے لیے پورے ملک میں اچھی زمین تیار کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ گجرات فسادات میں کسی بھی چوک کی وجہ سے مودی جیل نہ جائیں، کیوں کہ یہی سنگھ پریوار کے حق میں ہے، اسی لیے رام جیٹھ ملانی کو پارٹی اور پارلیمنٹ میں لانا چاہیے۔ ہمیں بھارتیہ جنتا پارٹی کے دانشوروں کی بیوقوفی کے بارے میں بتایا گیا اور کہا گیا کہ رام جیٹھ ملانی وکیل ہیں اور وہ پیسہ لے کر مقدمہ لڑتے ہیں، اس لیے انہیں پیسہ دے کر نریندر مودی کا مقدمہ لڑوایا جا سکتا تھا۔ اس کے لیے انہیں پارٹی میں لینے کی کیا ضرورت تھی۔ ایک دوسری مثال ہمیں بتائی گئی کہ بھارتیہ جنتا پارٹی میں سنگھ سے آئے نمائندہ مدن داس دیوی نے پارلیمانی بورڈ میں یہ دلیل دی کہ مہیش چندر شرما کے پاس رہنے کے لیے گھر نہیں ہے، اس لیے انہیں راجیہ سبھا کا ٹکٹ دے دیا جائے اور انہیں رہنے کے لیے گھر نہ ہونے کے سبب ٹکٹ بھی مل گیا۔ اسی طرح گرو مورتی نے دلیل دی اور وہ دلیل بھی مان لی گئی۔ رام جیٹھ ملانی وکیل ہیں۔ انہوں نے وہی کیا، جو انہیں کرنا چاہیے تھا۔ انہوں نے دلائل دیے، اب چاہے وہ دلائل کسی نشانے پر لگیں۔ ہمیں ایک اچھی مثال دی گئی کہ کوئلہ اگر ہتھیلی پر رکھیں، تو اگر وہ گرم ہو گا، تو ہاتھ جلائے گا اور ٹھنڈا ہوگا، تو ہاتھ کالا کرے گا۔
پارلیمانی بورڈ کی اس میٹنگ میں سبھی لوگ تھے، جس میں رام جیٹھ ملانی کو نکالنے کا فیصلہ لیا گیا۔ اننت کمار نے تجویز رکھی اور سب نے یہ تجویز مانی۔ اس تجویز کے پیچھے اڈوانی جی تھے، جنہوں نے مودی کو واضح اشارہ دیا۔ اڈوانی جی نے اننت کمار کے ذریعے جیٹھ ملانی کو نکلوا کر مودی کو بتا دیا کہ بھلے ہی وہ پارلیمانی بورڈ میں آ گئے ہوں، لیکن ان کے پر بہت زیادہ محفوظ نہیں ہیں۔
بھارتیہ جنتا پارٹی میں اس قسم کی سیاست بتاتی ہے کہ نریندر مودی کہیں پہنچ بھی پائیں گے یا نہیں، کیوں کہ نہ تو اٹل بہاری واجپئی اور لال کرشن اڈوانی جیسے لیڈر بھارتیہ جنتا پارٹی میں ہیں اور نہ ہی 89-90 جیسا ماحول اب ملک میں ہے۔ مزے کی بات یہی ہے کہ نہ قیادت ہے اور نہ ماحول ہے۔ اس کے باوجود بھارتیہ جنتا پارٹی یہ سوچ رہی ہے کہ وہ 200 سیٹیں پا جائے گی۔ حالانکہ جب ماحول تھا، لیڈر تھا، اس وقت بھی 190 سیٹیں نہیں آ پائی تھیں۔ ان دعووں کا کھوکھلا پن بھارتیہ جنتا پارٹی کے لوگ جانتے ہیں، پر اس کے بعد بھی حکمت عملی یہ چل رہی ہے کہ اگر سیٹیں آ گئیں، تو میں کیوں پیچھے رہوں، میں اپنی دعویداری ابھی سے کیوں نہ ٹھونک دوں۔ راجناتھ سنگھ جب سیٹیں آئیں گی، تب دعویٰ ٹھونکیں گے، لیکن لال کرشن اڈوانی نے سیٹیں آنے سے پہلے ہی دعویٰ ٹھونکنا شروع کر دیا ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی میں کئی گروپ بن گئے ہیں۔ پہلا گروپ اڈوانی جی کا ہے، جس کے اب تک نریندر مودی بھی حصہ رہے ہیں، لیکن اب اس کے دو حصے ہو گئے ہیں۔ ایک کی قیادت نریندر مودی کر رہے ہیں اور دوسرے کی لال کرشن اڈوانی۔ نریندر مودی کو اس وقت راجناتھ سنگھ طاقت دے رہے ہیں۔ سچائی تو یہ ہے کہ راجناتھ سنگھ توازن برقرار رکھنے کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ ایک طرف انہوں نے نریندر مودی کے امت شاہ کو اتر پردیش بھیجا اور دوسری طرف انہوں نے اوما بھارتی کو اتر پردیش میں دبایا اور ساتھ ہی ورون گاندھی کو اہم رول دیا۔ اوما بھارتی نے فوراً بیان دیا کہ اڈوانی جی ہی وزارتِ عظمیٰ کے عہدہ کے لائق ہیں۔ بی جے پی کی قیادت میں کہا جانے والا ہر آدمی بنا دوسرے کی فکر کیے خود کو پانی سے اوپر رکھنے کی کوشش کر رہا ہے اور ایسے میں تنظیم مار کھا رہی ہے، یہی سنگھ کی سب سے بڑی تشویش ہے۔
راجناتھ سنگھ سیاست کے چالاک کھلاڑی ہیں۔ انہیں معلوم تھا کہ نریندر مودی کو امت شاہ نامی مہرے کا جواب اوما بھارتی سے کیسے دلایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اوما بھارتی کو جان بوجھ کر اتنا دبایا کہ وہ اڈوانی جی کی گود میں جا کر بیٹھ گئیں اور انہوں نے وزارتِ عظمیٰ کے عہدہ کے لیے اڈوانی جی کا نام لے لیا۔ اوما بھارتی بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرگرم سیاست میں نہیں ہیں۔ وہ اس وقت گنگا یاترا کر رہی ہیں۔ دراصل، بی جے پی میں ہر چہرے کے پیچھے ایک اور چہرہ ہے۔ چہرہ کچھ ہے، حقیقت کچھ ہے۔ شو راج سنگھ چوہان ظاہری طور پر کہتے ہیں کہ انہیں وزیر اعظم کے عہدہ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، لیکن وہ مدھیہ پردیش میں اس لیے بھی زیادہ سے زیادہ سیٹیں لانا چاہتے ہیں، تاکہ وہاں کے لوگ ان کا بھی نام وزارتِ عظمیٰ کے عہدہ کے لیے لے سکیں۔ یہی حال وسندھرا راجے سندھیا کا ہے۔ ہر آدمی اپنا گھر پختہ کرنے میں لگا ہوا ہے۔ اُس کی سوچ مرکز میں آنے والی بی جے پی کی سرکار کے لیے کم اور اپنا اقتدار کیسے قائم ہو، اس کے لیے زیادہ ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی ’پِچھ لگّو‘ بھی بن گئی ہے۔ قصہ صدارتی عہدہ کے الیکشن میں امیدواری کو لے کر ہے۔ لال کرشن اڈوانی اور نوین پٹنائک بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ نوین پٹنائک نے کہا کہ ہر بار ہم آپ کے امیدوار کی حمایت کرتے ہیں، اس لیے اس بار آپ ہمارے امیدوار کی حمایت کر دیجیے۔ انہوں نے اس کے لیے سنگما کا نام سامنے کیا اور اڈوانی جی نے اس کی حمایت کی۔ اس کے بعد نوین پٹنائک نے اڈوانی جی سے یہ بھی کہا کہ اگلے الیکشن میں کانگریس کو اکھاڑنے کے لیے انہیں ان کے وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار کی حمایت کرنی پڑے گی، کیوں کہ سرکار تیسرے مورچہ کی ہی بنے گی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اب قیادت کرنے کی جگہ حمایت کرنے والے کے رول میں آ گئی ہے۔
دہلی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے بہت سارے کارکن ’عام آدمی پارٹی‘ میں چلے گئے ہیں۔ سنگھ کا ماننا ہے کہ اِن کارکنوں کو اب اِس بات کا یقین نہیں رہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی دہلی کی قیادت کانگریس کو ہٹانے میں کوئی سنجیدہ رول نبھا پائے گی۔ کارکنوں کو اس بات کا غم ہے کہ جنہیں بھی بی جے پی میں پہلے سر پر بیٹھا یا گیا، انہیں بعد میں جوتے سے روندا بھی گیا۔ ایسے لوگوں کی ایک لمبی فہرست ہے، جس میں مدن لال کھورانہ، اوما بھارتی، وسندھرا راجے، شانتا کمار، بھگت سنگھ کوشیاری، بی سی کھنڈوری اور خود راجناتھ سنگھ کا نام ہے۔ ان میں صرف راجناتھ سنگھ ایسے خوش قسمت انسان ہیں، جو مین اسٹریم میں پھر واپس آ گئے۔
اڈوانی جی نے بی جے پی میں یہ کہہ کر کہ نتن گڈکری لوک سبھا الیکشن کی رہنمائی کریں گے، اقتدار کے ایک نئے مرکز کی داغ بیل ڈال دی۔ دراصل، یہ چھوٹے چھوٹے واقعات ضرور ہیں، لیکن یہ واقعات نریندر مودی کو پیغام دیتے ہیں کہ وہ اپنی حد میں رہیں۔ سنگھ کا دوسرا سب سے بڑا غم یہ ہے کہ اس کے پاس دنیا میں سب سے زیادہ فرمانبردار کارکن ہیں، لیکن باوجود اس کے، بھارتیہ جنتا پارٹی الیکشن ہارتی رہی ہے۔ اس کی جڑ میں اپنا ہی اپنوں کو مارتا ہے، کی سائیکلوجی دکھائی دے رہی ہے۔ نریندر مودی کو بھی اپنے ہی ماریں گے، ایسا ان کا ماننا ہے۔ آج بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکنوں میں ذرا بھی جوش نہیں ہے۔ شاید اس کے پیچھے وجہ ان لوگوں کی قیادت ہے، جن کا بھارتیہ جنتا پارٹی سے رشتہ نہیں رہا۔ اس کی مثال بھارتیہ جنتا پارٹی کی موجودہ عاملہ (ایگزیکٹو) ہے۔ اس میں کئی سارے لوگ ایسے بھی ہیں، جن کا بی جے پی سے کبھی لینا دینا ہی نہیں رہا۔ سنگھ کے یہ لیڈر کہتے ہیں کہ ارون شوری، جسونت سنگھ، سشما سوراج اور یشونت سنہا کا بی جے پی سے کیا لینا دینا؟ کہا جاتا ہے کہ سنگھ بی جے پی کو کنٹرول کرتا ہے، پر اب بی جے پی میں نہ تو سنگھ کی آئڈیولوجی ہے اور نہ ہی سنگھ کے کارکنوں کی قیادت۔ یہ بھی مثال دی جا رہی ہے کہ گووندا چاریہ اور سنجے جوشی جیسے لوگوں کو تو بی جے پی سے نکال دیا جاتا ہے، لیکن رام لال جیسے لوگوں کو رکھا جاتا ہے، جن کے زمانے میں بی جے پی کے مرکزی دفتر سے تین کروڑ روپے غائب ہو گئے اور ان کا آج تک پتہ نہیں چلا۔ نہ تو آج تک اس کی ذمہ داری طے ہو پائی اور نہ ہی کسی نے اس پر کوئی سوال اٹھایا

سنگھ کے اس افسردہ لیڈر کا کہنا ہے کہ پوت کے پاؤں پالنے میں ہی دکھائی دے رہے ہیں۔کانگریس کے اندر پاور ایک آدمی کے ہاتھ میں رہتی ہے، بھلے ہی اس پاور کا استعمال سنڈی کیٹ کرتا ہے، لیکن یہ سنڈی کیٹ کانگریس کے سپریم لیڈر کے نام پر کام کرتا ہے۔ سونیا گاندھی خود طاقتور نہیں ہیں، لیکن انہیں سنڈی کیٹ نے طاقتور بنا رکھا ہے۔ یہ سنڈی کیٹ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ہر فیصلہ سونیا گاندھی کے نام سے ملک میں جائے اور جانا جائے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نظام اور اختیارات عوام کے سامنے واضح طور پر نظر آتے ہیں اور کوئی کنفیوژن نہیں رہتا۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جو بھی سیاسی سودے بازی ہوتی ہے، وہ پہلے نچلی سطح پر ہو جاتی ہے اور لیڈر اس پر مہر لگا دیتا ہے۔ یہ ایک قسم کا پاور سنٹر ہے۔ دوسرے قسم کا پاور سنٹر کمیونسٹ پارٹیوں کا ہے، جس میں سب مل کر فیصلہ لیتے ہیں۔
بی جے پی پہلے کمیونسٹوں کی طرح دکھائی دیتی تھی، جس میں سبھی مل کر فیصلہ لیتے ہیں۔ اس میں سنگھ اور بی جے پی کے لوگ مل کر بیٹھتے تھے اور ایک فیصلہ لے لیتے تھے، لیکن آج کی تاریخ میں بی جے پی میں فیصلے کون لیتا ہے اور کون اُن فیصلوں کو پلٹ دیتا ہے، اس کا پتہ کسی کو نہیں چلتا۔ ایک مہینہ پہلے تک لگتا تھا کہ مودی ایک بڑی طاقت کے روپ میں ابھر رہے ہیں، پر اب بی جے پی کے شاطر لوگوں نے مودی کو بھی چھیلنا شروع کر دیا ہے۔ سنگھ کے لوگوں کا ماننا ہے کہ چونکہ انفرادی پاور سنٹر نہیں ہے، اس لیے یونٹی آف کمانڈ بھی نہیں ہے۔ گروپ بیٹھتا نہیں ہے، اس لیے فیصلے بھی دائیں بائیں ہوتے ہیں۔ کانگریس اور بی جے پی میں پہلے ایک چیز مشترک تھی کہ جہاں کانگریس میں ایک آدمی فیصلہ لیتا تھا، وہیں بی جے پی میں گروپ بیٹھ کر فیصلہ لیتا تھا۔ اب ایک یکسانیت اور ہو گئی ہے، جیسے کانگریس میں اگر کوئی آدمی بدعنوانی میں پھنس جائے، تو سبھی اس کی حمایت کرکے اسے بچانے کی کوشش کرتے ہیں، ویسا ہی اب بی جے پی میں بھی ہو رہا ہے۔ بی جے پی میں بھی کانگریس کی طرح پیسے کھائے جا رہے ہیں۔ اس کی مثال سنگھ کے لوگ دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پہاڑوں پر بہت زیادہ باندھ (ڈَیم) نہیں بننے چاہئیں۔ اس کا سب سے زیادہ شور بی جے پی نے مچایا، لیکن سب سے زیادہ باندھ بی جے پی کی حکومت کے وقت بنے۔ سنگھ پریوار اور فوج نے سب سے زیادہ شور مچایا کہ سری لنکا پر بنے پُل کے نشان کو نہیں توڑا جانا چاہیے، کیوں کہ نقشہ اور ناسا، دونوں کہتے ہیں کہ یہیں پر ’رام سیتو‘ تھا اور اسے نہیں ٹوٹنا چاہیے، لیکن اسے تڑوانے کا کام بی جے پی کی سرکار نے شروع کیا، کیوں کہ اس کے پیچھے مالی مفاد تھا۔
بی جے پی نے ایسے کئی کام کیے، جنہیں کانگریس خواب میں بھی نہیں سوچ سکتی تھی۔ جیسے، کانگریس خواب میں بھی ’ہندوستان زِنک‘ کو پانچ سو کروڑ روپے میں نہیں بیچ سکتی تھی، لیکن بی جے پی نے اسے بیچ دیا۔ ہندوستان زِنک کا جو تیس فیصد حصہ بچا ہوا ہے، اسے مشہور صنعت کار انل اگروال 20 ہزار کروڑ روپے میں لینے کو تیار ہیں۔ آخر پچھلے 12 سالوں میں ایسا کیا ہوا کہ 70 فیصد حصے کی قیمت 452 کروڑ اور 30 فیصد حصے کی قیمت 20 ہزار کروڑ روپے؟ ماروتی فروخت ہوگی، یہ کوئی خواب میں بھی نہیں سوچ سکتا تھا۔ سکندر بخت بی جے پی کے وزیر تھے، انہوں نے ایک ہزار کروڑ روپے میں ماروتی فروخت کر ڈالی۔ جو فیصلہ کانگریس نہیں کر سکتی، وہ فیصلہ بھارتیہ جنتا پارٹی کر سکتی ہے۔ ہم ایک نئے راز سے پردہ اٹھا رہے ہیں۔ جب اٹل بہاری واجپئی وزیر اعظم تھے، تو ان کے داماد رنجن بھٹا چاریہ اور ان کے قومی سلامتی کے صلاح کار برجیش مشرا مل کر پاکستان اور امریکہ سے بات چیت کر رہے تھے۔ بات چیت جموں و کشمیر کے کچھ حصوں کو لے کر تھی کہ انہیں پاکستان کو دے دیا جائے اور اس کے ساتھ ایک مستقل سرحدی معاہدہ کر لیا جائے۔ سنگھ کے لوگوں کا ماننا ہے کہ ملک کے ساتھ یہ سب سے خطرناک معاہدہ ہونے والا تھا، جو نہیں ہو پایا۔ اس وقت گووندا چاریہ نے یہ شور مچایا اور بھارتیہ جنتا پارٹی سے کہا کہ اگر ملک کا ایک بھی حصہ اس نے پاکستان کو دیا، تو وہ زندگی میں کبھی بھی اقتدار میں واپس نہیں آ سکے گی۔ اس وقت گووندا چاریہ کے ذریعے مخالفت کرنے پر امریکی سفیر بہت ناراض ہوئے اور انہوں نے باہر نکل کر کہا کہ گووندا چاریہ واجپئی کو مکھوٹا کہہ رہے ہیں۔ دراصل، گووندا چاریہ کو پارٹی سے باہر امریکہ کے کہنے پر کیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بی جے پی وہ کر سکتی ہے، جو کانگریس بھی نہیں کر سکتی اور شاید اسی لیے، بدعنوانی میں بی جے پی کئی جگہوں پر کانگریس سے بہت آگے ہے۔ کرناٹک میں یدیو رَپا اور راجستھان میں وسندھرا راجے کے دورِ حکومت کی کہانیاں اس کی تصدیق کرتی ہیں۔ پیسے کھانے، کام نہ کرنے اور اپنے آدمیوں کے کام نہ کرنے کے معاملے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کانگریس سے بہت زیادہ آگے ہے۔
سنگھ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ جب کوئی کارکن بی جے پی کے وزیروں کے پاس جاتا تھا، یا جاتا ہے، تو چونکہ وہ اس سے پیسہ نہیں مانگ سکتے، اس لیے اس کا کام نہیں کرتے ہیں اور وہیں اسی کام کو پیسے دینے پر آسانی سے ہوتے دیکھا گیا۔ بی جے پی کے دورِ حکومت میں جتنے بینکوں میں ڈائریکٹر بنے، ان میں سے آدھے کانگریس کے لوگ تھے، جو کبھی کانگریس کے دورِ حکومت میں بھی ڈائریکٹر نہیں بن پائے۔ اُن دنوں کہا جاتا تھا کہ بینکوں کے ڈائریکٹر بننے والے لوگوں نے ایک لاکھ یا دو لاکھ روپے دیے ہیں۔ کانگریس اس معاملے میں اے ٹیم نہیں، بلکہ بی جے پی کانگریس کی اے ٹیم ہے۔ بی جے پی میں اب کبھی بھی کسی کو نکالا جا سکتا ہے۔ کانگریس میں نکالے گئے آدمی کو کبھی واپس نہیں لیا جاتا، لیکن بی جے پی میں نکالا گیا آدمی کبھی بھی واپس آ سکتا ہے۔ رام جیٹھ ملانی چار بار پارٹی سے باہر گئے اور واپس آئے۔ اتر پردیش میں اوما بھارتی اور کلیان سنگھ کا واپس آنا اُتنا بڑا واقعہ نہیں ہے، جتنا پچھلے اسمبلی الیکشن کے دوران مایاوتی سرکار کے ایک وزیر بابو لال کشواہا کا بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہونا ہے۔ بی جے پی میں سبھی جانتے ہیں کہ دہلی میں موٹا پیسہ لے کر اِس آدمی کو پارٹی میں لیا گیا، جس کی وجہ سے بھارتیہ جنتا پارٹی بری طرح ہار گئی۔ یہی نہیں، ڈی پی یادو بھی موٹا پیسہ دے کر بھارتیہ جنتا پارٹی میں گھُسنا چاہ رہے تھے۔ سنگھ کے یہ بہی خواہ بتاتے ہیں کہ ڈی پی یادو کو پارٹی میں نہ لینے کا فیصلہ لے کر اکھلیش یادو نے اتر پردیش میں جیت کی بنیاد رکھ دی۔ وہیں مایاوتی کے بدعنوان وزیر کو پارٹی میں لے کر بی جے پی نے اپنے ہاتھوں اپنی ہار کا مستقبل لکھ لیا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی میں ایک کمال کی بات یہ ہے کہ جس قیادت کے تحت پارٹی کی سیٹیں گھٹتی ہیں، اسے کبھی بدلا ہی نہیں جاتا۔
کیا بھارتیہ جنتا پارٹی اسپینٹ فورس ہو گئی ہے یا پھر چوکی ہوئی طاقت؟ سچائی یہ ہے کہ سنگھ، بھارتیہ جنتا پارٹی کے فیصلہ لینے کے عمل سے پوری طرح باہر ہے۔ سنگھ کا ماننا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کٹی پتنگ کی طرح آسمان میں اڑ رہی ہے اور یہ دھیرے دھیرے دس پندرہ سیٹوں پر سمٹ جائے گی۔ جب بی جے پی کے لیڈر نا امید ہو جائیں گے اور ’سنگھم شرنم گچھامی‘ ہو جائیں گے، تب سنگھ کے کارکن دوبارہ بی جے پی کو کھڑا کرنے میں لگیں گے۔ سنگھ کا کہنا ہے کہ آج جیسی مہنگائی ہے، جتنی بے ضابطگیاں ہیں، جتنے گھوٹالے باہر آ رہے ہیں، اس کے باوجود اگر مرکزی حکومت نہیں گر پار ہی ہے، تو یہ بھارتیہ جنتا پارٹی کا قصور ہے اور یہ صورتِ حال تب ہے، جب کہ سرکار کے پاس اکثریت نہیں ہے۔ ملک کا وزیر داخلہ امریکہ میں اپنی آنکھ دکھانے جائے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ 120 کروڑ لوگوں کی آنکھیں دیکھنے والے ڈاکٹر ناکارہ ہیں۔ اگر اسے بھی بی جے پی اپنا مدعا نہیں بنا سکتی، تو وہ کچھ بھی نہیں کر سکتی۔ اگر سشیل کمار شندے کی آنکھیں اتنی خراب ہیں، تو وہ ملک کے وزیر داخلہ کیسے ہیں؟ ان کی برخاستگی کی مانگ بھارتیہ جنتا پارٹی نے کیوں نہیں اٹھائی؟ ملک جل رہا تھا اور وہ امریکہ میں اپنی آنکھیں دکھا رہے تھے۔ سنگھ کو اس بات کا غم ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے کوئی آواز نہیں اٹھائی۔ سنگھ کو اِس بات کا بھی غم ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے اہم اپوزیشن پارٹی ہوتے ہوئے بھی اپوزیشن کا وقار ختم کر دیا۔ دراصل، بی جے پی میں کوئی دھار نہیں ہے اور نہ ہی وہ لوگ بچے ہیں، جو اسے دھار دے سکیں۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *