آئین اور جمہوریت کی حفاظت کرنا ہمارا فرض ہے

کمل مرارکا 
p-7پچھلا ہفتہ دو وزیروں اور ان کے استعفیٰ کی مانگ کو لے کر خبروں سے بھرا ہوا تھا۔ اخیر میں، ان وزیروں نے 10 مئی کو استعفیٰ دے ہی دیا۔ لیکن صحیح ڈھنگ سے اس مدعے کو سمجھنے میں ممبرانِ پارلیمنٹ اور پریس، دونوں ناکام رہے۔ اس مدعے کی سنگینی کو وہ سمجھ نہیں سکے۔ یہ ایک المیہ سے کم نہیں ہے۔ شری بنسل کے معاملے، یعنی کسی کے پروموشن کے لیے کچھ رشوت لینے کے معاملے کو ثابت ہونا باقی ہے یا خود بنسل کو اس کے بارے میں پتہ ہو بھی سکتا تھا یا نہیں بھی ہو سکتا تھا، یہ سب جانچ کا موضوع ہے۔ اس کی ابھی سی بی آئی کے ذریعے جانچ کی جانی ہے۔ لیکن، وزیر قانون کے معاملے میں تو یہ صاف تھا کہ انہوں نے اپنی طاقت، عہدہ اور حکومت کا غلط استعمال کیا ہے اور وہ بھی زبردست بے شرمی اور غرور کے ساتھ۔ استعفیٰ کے بعد انہوں نے کہا کہ میں نے کچھ غلط نہیں کیا، میں اس تنازع کو آگے نہیں بڑھنے دینا چاہتا تھا، اس لیے میں نے استعفیٰ دیا۔
اگر انہوں نے کچھ غلط نہیں کیا ہے، تو وزیر اعظم کو عوام کے سامنے آ کر اس مسئلے پر اپنی رائے بتانی چاہیے کہ کیا ان کی رائے میں کسی وزیر قانون کو عدالت میں پیش کی جانے والی کسی جانچ رپورٹ کو دیکھنے یا اس میں تبدیلی کرنے کا اختیار ہے۔ یہ قانونی سوال بھی ہے۔ اگر وزیر اعظم بھی کہتے ہیں کہ اشونی کمار نے غلط نہیں کیا ہے، تو طے مانئے کہ وہ گہری مصیبت میں ہیں، کیو ںکہ یہاں کھلے عام آئین کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ کل کسی صوبے کا ہوم منسٹر، پولس کمشنر یا ایک تھانیدار کو کال کرتا ہے اور قتل کی جانچ رپورٹ کو دکھانے کے لیے اور اس میں تبدیلی کرنے کے لیے کہتا ہے یا وزیر خزانہ انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ میں کال کرکے کسی آدمی کی ٹیکس اسسمنٹ میں تبدیلی یا اسے دکھانے کے لیے کہتا ہے، تو کیا یہ صحیح ہوگا؟ ظاہر ہے، یہ ہمارے آئین کا کہنا نہیں ہے۔ ہمارا آئین وزارتوں کو سی بی آئی یا انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ یا پولس محکمہ پر صرف انتظامی کنٹرول کا اختیار دیتا ہے، انہیں ذاتی تجزیہ یا جانچ میں دخل دینے کا کوئی اختیار نہیں ملا ہے، یہی آئین کا کہنا ہے۔
اور اگر اس سرکار کے وزیر اعظم یا وزیر قانون جانچ رپورٹ میں تبدیلی کے لیے کہتے ہیں، تو ظاہر ہے کہ ہمارا آئین، ہماری جمہوریت گہری مصیبت میں ہے۔ شری اشونی کمار جو مدعا اٹھا رہے ہیں، وہ پون کمار بنسل کے مدعے سے زیادہ سنگین مسئلہ ہے۔ کمار نے عدالت عظمیٰ سے جھوٹ بولا۔ سپریم کورٹ کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ سرکار کو یہ بتائے کہ کس وزیر کو ہٹانا ہے۔ سپریم کورٹ کا تبصرہ ہی کافی تھا۔ پھر سرکار کس بات کا انتظار کر رہی تھی۔ سپریم کورٹ کیا کہتا ہے، یہ اہم نہیں ہے۔ وزیر اعظم کیا کہتے ہیں، یہ اہم ہے۔ میں وزیر اعظم سے جاننا چاہتا ہوں کہ وہ کیا کہتے ہیں، کیا سوچتے ہیں۔ وزیر اعظم نے کمار کے اس بیان کی ایک طرح سے حمایت ہی کی کہ انہوں نے کچھ غلط نہیں کیا ہے۔ بی جے پی نے بھی پختہ اپوزیشن کا رول ادا نہیں کیا۔ وہ معاملے کی سنگینی کو سمجھ نہیں پائی۔اس نے بھی چیخنا شروع کر دیا کہ دونوں وزیر استعفیٰ دیں۔ کمار نے جو کیا، وہ غیر قانونی، غیر آئینی تھا۔ انھیں استعفیٰ دینے کی نہیں، بلکہ ان کے عہدہ سے ہٹانے کی مانگ کی جانی چاہیے تھی۔ یہ رشوت خوری کا سوال نہیں ہے۔ رشوت خوری کے مقابلے یہ زیادہ سنگین مسئلہ ہے۔
آج کی صورتِ حال ایمرجنسی کی طرح ہے، لیکن مجھے یقین ہے کہ ایمرجنسی میں بھی کسی وزیر نے ایسا نہیں کیا ہوگا۔ بے شک اس وقت کوئی آزاد پریس نہیں تھا، اس لیے بہت سی باتیں سامنے نہیں آئی ہوں گی، لیکن پھر بھی ایسا بے شرم کام نہیں ہوا ہوگا، جیسا آج ہوا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ شری منموہن سنگھ ساری صورتِ حال کو خود اپنے ہاتھ میں لیں اور اسے بہتر بنانے کی کوشش کریں۔ عام انتخابات قریب ہیں۔ پھر سے یو پی اے – 3 کی سرکار بنانے کے لیے لابنگ شروع ہو چکی ہے۔ اگر واقعی یو پی اے – 3 اس اصول کے ساتھ اقتدار میں آ جاتی ہے کہ اس کا کوئی وزیر، کسی جانچ یا تجزیہ میں دخل اندازی کر سکتا ہے، تو ہمیں 1950 میں اپنائے گئے اس آئین کو الوداع کہنے کے لیے مجبور ہونا پڑے گا۔ جمہوریت کیا ہے؟ عوام کی ملکیت، یہی جمہوریت ہے۔
کانگریس کی صدر کو کریڈٹ دینا چاہیے کہ وہ اس بات کو لے کر ڈٹ گئیں کہ غلط شبیہ کے ساتھ کانگریس الیکشن میں نہیں جا سکتی اور اس لیے ان دو وزیروں کو مجبوراً کابینہ سے ہٹانا پڑا۔ لیکن اب جو بھی اقتدار میں آئے، وہ جمہوریت کو اس کی بنیادی حالت اور مناسب شکل میں بحال کرنے کے لیے کام کرے۔ ہر پانچ سال بعد لوگ ووٹ کریں گے اور سرکار آتی جاتی رہے گی، لیکن اس آئین اور اس جمہوریت کی حفاظت کی جانی چاہیے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *