مسائل کا حل تلاش کرنے کی ضرورت

کمل مرارکا
k.-morarka

چھتیس گڑھ قتل عام اور آئی پی ایل میچوں میں سٹے بازی اور فکسنگ کی خبریں عوام میں موضوع ِ بحث بنی ہوئی ہیں۔ایسے مسائل کے حل کے لئے آخر کون سے قدم اٹھائے جانے چاہئیں، یہی بتا رہی ہے یہ فکر انگیز تحریر:

گزشتہ دنوں دو اہم واقعات اخباروں کی سرخیوں میں رہے۔پہلا چھتیس گڑھ میںقتل عام کا واقعہ۔ سلوا جوڈوم پر فوری طور پر پابندی لگانی چاہئے اور اسے ختم کیا جانا چاہئے۔کچھ عرصہ پہلے سپریم کورٹ نے اس اسٹیٹ اسپانسرڈ کائونٹر وائلنس (جوابیتشدد) جسے نن اسٹیٹ ایکٹرس کیذریعہ انجام دیا جارہا تھا، کے خلافسنگین تبصرہکیا تھا۔اس کے بعد سلوا جوڈوم کا نام بدل گیا، لیکن تشدد کا سلسلہ پھر بھی جاری رہا۔اسے جس شخص نے شروع کیا تھا ، وہ مارا گیا۔ پورا کا پورا نکسلوادی آندولنسماجی اقتصادی ایشو سے جڑا ہوا ہے۔ مائووادیوں کے تشدد کو جوابی تشدد سے ختم نہیں کیا جا سکتا ۔ آپ پولیس اور فوج کی کارروائی کو مناسب سمجھ سکتے ہیں، لیکن کائونٹر وائلنس کے لئے یقینی طور پر ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ مرکزی سرکار نے اس معاملے میں زیادہ دلچسپی نہیں دکھائی اور نہ اب سنجیدہ نظر آتی ہے۔ کیوں؟ یہ مجھے نہیں معلوم۔

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وزیر اعظم فوری چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ کو طلب کرتے اور اس معاملے کو اپنے ہاتھ میں لیتے ۔ وزیر اعلیٰ اگر متفق نہیں ہیں، تو چھتیس گڑھ میں عارضی طور پرصدر راج نافذ کرنے میں کوئی برائی نہیں ہے،لیکن اس طرح کاغیر انسانی سلوک فوراً بند کر دینا چاہئے اور ساتھ ہی مائووادیوں کے ساتھ بات چیت شروع کی جانی چاہئے۔ دراصل، اصلی ایشو آدیواسیوں کا ان کی رہائش گاہسینقل مکانی کاہے۔ آدیواسی علاقوں میں کمپنیاں کان کنی کے اختیارات کا فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ وہ جگہ نکسلواد یا مائو واد کے لئے مفید بن گئی ہے۔سابق وزیر داخلہ چدمبرم سمجھتے تھے کہ اس مسئلے کو پولیس اور سخت کارروائی سے ختم کیا جا سکتا ہے ۔حالیہ وزیر داخلہ سنجیدہ آدمی ہیں۔قتل عام کے اس واقعے کے وقت وہ امریکہ میں تھے اور بجائے فوری طور پر لوٹنے کے، انہوں نے اپنے سفر کا وقتمزید بڑھا دیا۔جبکہ برطانیہ کے وزیر اعظم نے اپنے کچھ فوجیوں اور شہریوں کی موت کے بعد اپنے غیر ملکی دورے کا وقت فوراً کم کردیا۔ دراصل ،ہم اس معاملے کو بہت ہی ہلکے ڈھنگ سے لے رہے ہیں، لیکن خود وزیر اعظم کو یہ معاملہ اپنے ہاتھ میں لینا چاہئے اور سلوا جوڈوم ہمیشہ کے لئے ختم کیا جانا چاہئے۔
دوسرا معاملہ ہے آئی پی ایل میچوں میں سٹے بازی اور میچ فکسنگ سنڈیکیٹ کا۔ میں ایک بار پھر سے دہرانا چاہوں گا کہ آئی پی ایل فوراً روکا جانا چاہئے اور اسے بند کیا جانا چاہئے۔ بی سی سی آئی اگر خود کو بچانا چاہتا ہے ، تو وہ آئی پی ایل سے دور رہے۔ آئی پی ایل کو للت مودی نے شروع کروایا تھا، یہ دلیل دے کر کہ بی سی سی آئی کو نہیں پتہ کہ پیسہ کیسے کمایا جائے۔ آئی پی ایل کرکٹ کے لئے نہیں ، یہ غیر ملک میں کھیلنے یا ایک بہتر گھریلو کرکٹ ٹیم تیار کرنے کے لئے نہیں ہے، یہ کرکٹروں کے لئے بھی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک انٹر کارپوریٹ تماشا ہے، سٹے بازی اور فکسنگ اس میںپوشیدہ ہے، یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے ۔ دیر رات کی پارٹیاں ، فیشن شو، چیئر لیڈرس ، یہ سب مل کر کرکٹ کے لئے قبر کھودنے کا کام کر رہے ہیں۔ ٹیسٹ کرکٹ یا ون ڈے میچ سے پہلے دیر رات کی پارٹیوں کے لئے بی سی سی آئی کھلاڑیوں کو منع کرتا ہے اور ضابطہ شکنیکی اجازت کبھی نہیں دیتی، لیکن آئی پی ایل میں یہ سب جائز بنا دیا گیا ہے۔ یہ انڈین کرکٹ کے لئے سوچنے کا وقت ہے اور یہی وہ وقت ہے، جبکہ آئی پی ایل کو فوراً بند کردیا جائے۔ بی سی سی آئی کو انٹرنیشنل اور نیشنل کرکٹ کے آپریشن کے اپنے اصل کام میں لگ جانا چاہئے۔ بد قسمتی سے ،سینئر لیڈر جو بی سی سی آئی کی نمائندگی کرتے ہیں،للت مودی کے جال میں پھنس گئے ہیں۔ اب وہ کہہ رہے ہیں کہ شری نواسن کو عہدے سے ہٹ جانا چاہئے۔ شری نواسن عہدہ سے ہٹتے ہیں یا نہیں، یہ اس سے متعلق نہیں ہے اور نہ ہی یہ ایشو ہے۔ ایشو یہ ہے کہ آئی پی ایل کا کردار کیا ہے؟بی سی سی آئی کیسے آئی پی ایل چلا سکتا ہے،جو ایک سرکس کی طرح ہے،ایک تماشا ہے۔ اب صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ آئی پی ایل کو بند کر دیا جائے۔ کئی سینئر سیاستداںبی سی سی آئی میں ہیں۔
دراصل پوری کہانی راجستھان سے شروع ہوتی ہے، جب وزیر اعلیٰ وسندھرا راجے نے اپنے قریبی دوست للت مودی کو راجستھان کرکٹ میں شامل کیا تھا۔ للت مودی کے پاس کرکٹ کو دینے کے لئے کچھ نہیںتھا۔ وہ صرف وزیر اعلیٰ کے نجی دوست تھے۔ ایک آرڈر کے ذریعہ وزیر اعلیٰ نے وہ فیصلہ کر دیا کہ مقامی لوگوں کو راجستھان کرکٹ چلانا چاہئے۔ مقامی لوگوں کی توضیح کیا ہے؟راجستھان کے کسی بھی ضلع میں جس کی جائداد ہے، وہ مقامی آدمی ہے۔ اس طرح سے للت مودی کو راجستھان کرکٹ میں لایا گیا۔ اگر وسندھرا راجے پھر سے اقتدار میں آتی ہیں، تو میں نہیں جانتا کہ کیا وہ دوبارہ ایسا ہی کریں گی،لیکن حالیہ وزیر اعلیٰ کو راجستھان کرکٹ کی بھلائی کے لئے فوری قدم اٹھانے چاہئیں۔ ابھی مرکزی وزیر سی پی جوشی راجستھان کرکٹ ایسوسی ایشن چلا رہے ہیں، انہیں کرکٹ کے بارے میں کیا پتہ ہے؟سچ تو یہ ہے کہ انڈین کرکٹ سڑ چکا ہے، اس کی صفائی کی ضرورت ہے اور یہ آئی پی ایل سے ہی شروع ہونی چاہئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *