فوج رائے سینا ہلس تک جا سکتی ہے

سنتوش بھارتیہ 
چھتیس گڑھ میں بہت بڑا حادثہ ہو گیا۔ کانگریس کے قافلہ پر گولی کا چلنا، تقریباً 29 لوگوں کا مارا جانا، مارنے کے لیے لوگوں کے نام پکارنا اور اس کے بعد جن لوگوں کی جان بچ گئی، ان کا میڈیا میں آکر طرح طرح کے بیان دینا۔ دوسرا واقعہ۔ پولس کے جوانوں کا گھیر کر قتل اور ان کا مجبوری کی حالت میں شکار بن جانا اور اس کے بعد پولس کے لوگوں کا سرکار کے اوپر الزام لگانا۔ کیا ان دونوں واقعات کا نظم و نسق سے تعلق ہے، جسے کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی دونوں ثابت کرنا چاہتی ہیں؟ کانگریس کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت نے معقول سیکورٹی نہیں دی، ورنہ یہ کانڈ نہ ہوتا اور صوبائی حکومت کہہ رہی ہے کہ مرکزی حکومت اسے معقول حفاظتی دستے نہیں دے رہی ہے، تو ایسے میں وہ نکسل وادیوں کا سامنا کیسے کرے؟
سوال یہ ہے کہ 65 سالوں کے بعد بھی ہمارا دماغ یا تو بہت زیادہ کم عقل ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے ہم سچائی کو دیکھ نہیں پا رہے ہیں یا پھر ہم جان بوجھ کر سچائی دیکھنا ہی نہیں چاہتے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا سیاسی نظام ملک میں مجموعی ترقی چاہتا ہی نہیں۔ آزادی کے بعد تقریباً ہر پارٹی کی سرکار مرکز میں رہی اور صوبوں میں بھی سرکاریں بدلتی رہیں۔ اس کے باوجود ملک کا ہر ایک صوبہ انصاف پر مبنی ترقی سے محروم دکھائی دے رہا ہے۔ ایک طرف انصاف پر مبنی ترقی سے محروم رہنا اور دوسری طرف بنیادی سہولیات کا انہیں نہ مل پانا، جو پچھڑوں کے زمرے میں یا پھر صوبے کے ترقی یافتہ حصے میں نہیں آتے ہیں، یہ ایک اور تکلیف دہ بات ہے۔ ہماری سیاسی قیادت نے کبھی ان علاقوں میں جھانکنے کی کوشش ہی نہیں کی، جہاں پر سڑکیں نہیں ہیں، بجلی نہیں ہے، پینے کا پانی نہیں ہے اور مہنگائی کی وجہ سے لوگ کھانا بھی نہیں کھا پا رہے ہیں۔ اگر سیاسی قیادت نے اس صورتِ حال کو دیکھا ہوتا اور اسے سنجیدگی سے محسوس کیا ہوتا، تو آج یہ حالت نہیں ہوتی کہ سڑک پر چلنے میں سیاسی لیڈروں کو ڈر محسوس ہو۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اب بڑے لیڈر سڑکوں پر نکلتے ہی نہیں، وہ صرف خریداری کرنے کے لیے یا تو شاپنگ مال میں جاتے ہیں یا پھر کھانا کھانے کے لیے بڑے ریسٹورنٹ میں۔ وہ چھوٹے ریسٹورنٹ میں کبھی نہیں جاتے۔ اس کے پیچھے جہاں اُن کا کالا دھن کام کرتا ہے، اس سے زیادہ ان کا ڈر کام کرتا ہے۔ وہ عام جگہوں پر جاکر لوگوں کے غصے کا محور نہیں بننا چاہتے۔ جب سیاسی لیڈروں کا یہ حال ہے، تو ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ ملک کی نوکر شاہی کے بڑے حصے، جسے ملک کی ترقی یا مسائل کو حل کرنے میں دلچسپی لینے کی کوئی خواہش ہی نہیں ہے، کی کیا ذہنی حالت ہوگی۔ پورا ملک سیاسی قیادت کی قوتِ ارادی سے چلتا ہے اور آج کے سیاسی لیڈروں میں نہ قوتِ ارادی ہے، نہ سمجھداری ہے اور نہ ہی کوئی مستقبل کا تصور ہے۔
چھتیس گڑھ کے اس واقعہ نے اس سوچ کو صحیح ثابت کر دیا ہے کہ عوام اس مقام پر پہنچ گئے ہیں، جہاں ان کے من میں برسر اقتدار لوگوں کے تئیں اب کوئی وہم نہیں رہا۔ وہ یہ مانتے ہیں کہ ساری پارٹیاں ایک ہیں اور شاید اس پارٹی پر مبنی نظام کی وجہ سے ہی ملک میں بدعنوانی، مہنگائی، بے روزگاری اور غیر برابری والی ترقی کا بول بالا ہے۔ اس سوچ نے لوگوں کو اپنا قانون بنانے کی ذہنی حالت میں لا دیا ہے۔ لوگوں کا یقین نہ تو پولس پر ہے، نہ ہی لوک سبھا اور صوبائی اسمبلیوں پر ہے۔ ان کا عدلیہ کے اوپر سے بھی اب اعتماد ڈگمگانے لگا ہے۔ چھتیس گڑھ کے واقعہ کے بعد ٹیلی ویژن کے کچھ صحافی جنگل میں گئے اور انہوں نے وہاں سے جو تصویریں اپنے چینل کے لیے بھیجیں، انہیں دیکھ کر لیڈروں کے رونگٹے کھڑے ہو جانے چاہئیں تھے۔ ان تصویروں کو دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ ہم افریقی ملکوں سے بھی بدتر حالت میں رہ رہے ہیں۔ ٹیلی ویژن کیمروں کے فوٹیج بتاتے ہیں کہ نہ کہیں سڑک ہے، نہ پانی ہے، نہ انصاف ہے، نہ ترقی ہے، نہ اسکول ہیں، نہ اسپتال ہیں اور نہ ہی ان کی کوئی امید ہے۔ یہ حالت کچھ سینکڑوں یا لاکھوں لوگوں کی نہیں ہے، بلکہ کروڑوں لوگوں کی ہے۔ چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، بہار، مہاراشٹر، آندھرا پردیش، پورا شمال مشرق (نارتھ ایسٹ)، ہماری سرحد سے سٹے جتنے بھی ضلعے ہیں، جن میں اڑیسہ اور کشمیر اہم ہیں، ان سارے ضلعوں میں ایک بڑا حصہ افریقہ سے بھی بدتر حالت میں زندگی گزار رہا ہے۔ ہوتے ہوتے مسئلہ اتنا زیادہ بڑھ گیا ہے کہ اب مسئلہ کو حل کرنے کی بات لوگ سننا ہی نہیں چاہتے۔ لوگ بہت زیادہ غصے میں ہیں، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ سیاسی لیڈر اس بات کو سمجھتے ہی نہیں۔ آج بھی وہ ترقی کی جگہ نظم و نسق کا مسئلہ بتاکر اپنی کوتاہی، اپنی نالائقی اور اپنے گناہوں کو چھپا لینا چاہتے ہیں۔
چھتیس گڑھ یا جن صوبوں کا ہم ذکر کر رہے ہیں، ان کا مسئلہ نظم ونسق کا نہیں ہے۔ ان کا مسئلہ ترقی کا ہے، وہ بھی انصاف پر مبنی اور متوازن ترقی کا۔ پر چاہے ٹیلی ویژن چینل ہوں، سیاسی لیڈر ہوں یا افسر ہوں، ان کے ذریعے فوج بھیجنے کا راگ بھیرویں شروع ہو گیا ہے۔ ٹیلی ویژن کے اوپر بیان دینے والے بہت سارے کم عقل تجزیہ کار فوج بھیجنے کی وکالت کر رہے ہیں۔ انہیں یہ نہیں معلوم کہ اگر فوج ایک بار چھتیس گڑھ جیسے مسائل سے پُر علاقوں میں اپنے ہی ملک کے لوگوں سے لڑنے میں لگا دی گئی، تو پھر وہ وہیں تک نہیں رکے گی، بلکہ رائے سینا ہلس، جہاں صدرِ جمہوریہ کی رہائش گاہ ہے، وہاں تک چلی جائے گی۔ جمہوری ملک میں فوج کا ایک رول ہوتا ہے اور فوج کو اس رول سے الگ کرنے کی بات جو بھی کر رہا ہے، وہ نہ صرف جمہوریت کا، بلکہ اس ملک کا دشمن ہے۔ اس ملک کے نوجوانوں اور دانشوروں کو یہ آواز اٹھانی چاہیے۔ اگر سیاسی لیڈروں نے پورے ملک میں متوازن ترقی کا راستہ نہیں پکڑا اور ملک میں فوج کے استعمال کی زبان پر روک لگانے کی مانگ نہیں کی، تو ہمیں یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوتی کہ اس ملک کے آنے والے دن بہت اچھے نہیں ہیں۔ اس ملک کا جتنا نقصان سیاسی لیڈروں نے کیا ہے اور خاص کر بڑی پارٹیوں کے لیڈروں نے، اتنا نقصان تو انہوں نے بھی نہیں کیا، جنہوں نے برسوں ہمارے اوپر راج کیا تھا۔ کسی طرح کے مستقبل کا کوئی بھی نقشہ سیاسی پارٹیوں کے پاس نہیں ہے اور اسی لیے وہ لوگوں کو جھوٹے وعدوں میں الجھانا چاہتے ہیں۔ آخر 65 سالوں سے عوام وعدوں کا ہی تو کھیل دیکھتے آ رہے ہیں۔ میرا موٹا اندازہ ہے کہ لوگ اس بات کو سمجھ گئے ہیں کہ اس ملک میں بدعنوانی، مہنگائی، بے روزگاری، غیر متوازن ترقی، خراب تعلیم اور کمزور طبی خدمات کے لیے ذمہ دار سیاسی پارٹیاں ہیں۔ میں نے ان سارے کاغذوں کو کھنگالا، جن میں سیاسی پارٹیوں نے عوام کے لیے وعدے کیے ہیں، لیکن مجھے کہیں پر بھی وہ وعدے پورے ہوتے نظر نہیں آئے، بلکہ اپنے منھ سے اپنی تعریف کرنے والے بیان ضرور دیکھنے کو ملے۔ کوئی کہتا ہے کہ ہم نے 100 میں سے 90 وعدے پورے کیے، کوئی کہتا ہے کہ 80 وعدے پورے کر دیے۔ ان لیڈروں میں ذرا بھی سمجھ نہیں ہے کہ اگر وعدے پورے ہونے کا فائدہ عوام کو ملا ہوتا، تو کیا وہ سیاسی پارٹیوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے، جیسے آج دیکھ رہے ہیں۔ سیاسی لیڈر اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ اگر وہ عوام کے مسائل نہیں سنیں گے، تو وہ اپنے مسائل سنانے کے لیے غیر قانونی طریقے اپنا لیں گے۔ کمال کے ہیں وہ لیڈر، جو دن میں بجتے اِس نقارے کی آواز کو نہیں سن پا رہے ہیں، عوام کے درد کی پکار کو نہیں سن پا رہے ہیں، عوام کا درد، ان کی تکلیف اور ان کے آنسوؤں کو نہیں دیکھ پا رہے ہیں۔ تب ہم یہ کہنے میں کیوں ہچکچائیں کہ اگر آپ نہیں دیکھ پا رہے ہیں اور نہیں سن پا رہے ہیں، تو آپ کو چھتیس گڑھ جیسی صورتِ حال کے لیے تیار رہنا چاہیے اور اس طرح کے واقعات بڑے پیمانے پر اس ملک میں کب سے ہونے لگیں گے، اس کا انتظار کرنا چاہیے، کیوں کہ عوام کے صبر کا پیمانہ بھر چکا ہے اور وہ کبھی بھی چھلک سکتا ہے، کبھی بھی ٹوٹ سکتا ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *