خبروں کا لوکلائزیشن باعث تشویش

سنتوش بھارتیہ 
ہندوستان میں ایک مزیدار کھیل اخباروں کے ذریعے کھیلا جا رہا ہے۔ اطلاعات کی ترسیل رک گئی ہے اور اسے روکنے میں سب سے بڑا رول اخباروں کا ہی ہے۔ نہ صرف اخبار اس کی وجہ سے خوش ہیں، بلکہ سرکار کو بھی یہ صورتِ حال راس آ رہی ہے۔ گزشتہ 25 سالوں میں خبروں کا لوکلائزیشن بہت تیزی سے ہوا ہے۔ بیس یا 25 سال قبل جنیو، منڈن، شادی، یومِ پیدائش اور چھوٹے جرائم سے متعلق خبریں اخباروں میں اپنی جگہ نہیں بنا پاتی تھیں، لیکن پہلے اخباروں کے نیشنل ایڈیشن نکلے، پھر ان کے علاقائی ایڈیشن نکلے اور اب ضلع ایڈیشنوں سے بات آگے بڑھ کر تحصیل ایڈیشنوں تک پہنچ چکی ہے۔ اخباروں کا خبروں والا حصہ ضلع اور تحصیل میں رونما ہونے والے واقعات کے اوپر زیادہ منحصر ہوتا ہے۔ عوام اپنی خبروں کو اخبار میں چھپا دیکھ کر خوش ہو جاتے ہیں اور اخبار بھی چھوٹی سے چھوٹی خبروں کو چھاپنے میں سہولیت محسوس کرتے ہیں، کیوں کہ انہیں اس کے لیے کہیں اور جانا نہیں پڑتا۔ جرائم سے جڑی خبریں ایسے میں زیادہ اہمیت حاصل کر لیتی ہیں، لیکن جرائم سے جڑی خبروں اور انہیں پڑھنے والوں کا دائرہ بہت چھوٹا ہوتا ہے۔ دراصل، اب خبریں ایک ضلع میں بھی نہیں دوڑتیں۔ جو لوگ یہ سوچتے ہیں کہ ان کی خبریں اخباروں میں شائع ہو گئیں اور ان سے سارا ضلع یا پورا صوبہ باخبر ہو گیا، تو وہ ایک بہت بڑے بھرم میں ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ان کی خبروں کو ضلع کے آفیسر تک نہیں پڑھتے، کیوں کہ اگر ضلع میں ہی دو یا تین طرح کے ایڈیشن دستیاب ہوں، تو ضلع کا افسر زیادہ تر اس ایڈیشن کو ہی پڑھتا ہے، جہاں اس کا گھر ہوتا ہے اور اس گھر کو کور کرنے والا علاقہ ہوتا ہے۔
پہلے اخباروں میں چھپی خبریں افسروں کے اوپر لگام کسنے کا کام کرتی تھیں اور اسی لیے انہیں یہ ڈر رہتا تھا کہ اگر یہ خبر راجدھانی میں بیٹھے اعلیٰ افسروں یا وزیروں تک پہنچ گئی، تو ان سے سوال جواب ہو سکتا ہے۔ اسی لیے وہ اخباروں میں چھپی خبروں کے اوپر دھیان دیتے تھے اور کوشش کرتے تھے کہ مسائل کا حل نکل آئے، تاکہ اخباروں میں ایسی خبریں شائع ہی نہ ہوں۔ پر اب ضلع کے افسر اس صورتِ حال سے بہت خوش ہیں، کیوں کہ اب انہیں خبروں پر دھیان دینے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ اسی لیے خبروں کا اثر انتظامیہ اور حکومت پر سے اب ختم ہو گیا ہے۔ یہی نہیں، خبروں کے معیار میں بھی کمی آئی ہے۔ آج سے 20 یا 25 سال پہلے خبروں کو تلاش کرنے اور ان کی تصدیق کرنے کے پیچھے پہلا مقصد یہی ہوتا تھا کہ خبر غلط نہ ثابت ہو جائے اور خبریں اپنا احترام نہ کھو دیں۔ اسی لیے 25 سال پہلے چھپی خبروں کے اوپر انتظامیہ اور حکومت دھیان دیتی تھی، لیکن اب اسے کوئی فکر نہیں ہوتی۔
پہلے اخبار میں چھپی خبروں کے اوپر ہر جگہ سے مایوس آدمی کی امید ٹک جاتی تھی، کیوں کہ اسے لگتا تھا کہ جب کوئی اس کی بات نہیں سنے گااور ایسے میں اگر اس کی بات اخبار کے لوگ سن لیں گے، تو اس کے مسئلہ کا حل آسانی سے نکل آئے گا۔ پر اب لوگوں کی یہ امید بھی دھیرے دھیرے ختم ہو رہی ہے۔ اب لوگ کہنے لگے ہیں کہ بہت چھوٹی قیمت پر اخباروں میں خبریں چھپ جاتی ہیں۔ حالانکہ اس قسم کے الزام پہلے بھی لگتے تھے کہ ضع سے نکلنے والے اخبار بلیک میلنگ جیسے کام میں شامل ہو جاتے ہیں۔ وہ مقامی ٹھیکہ داروں یا چھوٹے افسروں کے بارے میں خبریں چھاپنے کا ڈر دکھاکر کچھ پیسوں کی وصولی کر لیتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کچھ جگہوں پر ایسا ہوتا رہا ہو، پر یہ بڑے پیمانے پر ہونے لگے گا، ایسا کبھی وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ آج حالات یہ ہیں کہ پورے ملک میں پیڈ نیوز کو لے کر اتنی زیادہ چرچا ہے کہ ہر اخبار ایک بازار کی شے دکھائی دے رہا ہے۔ کچھ اخباروں نے پیسے لے کر الیکشن میں خبریں چھاپنے کی روایت کیا شروع کی کہ ہر اخبار کو عام قاری شک کی نظر سے دیکھنے لگا ہے۔ پر اس سے بڑا خطرہ خبروں کے لوکلائزیشن کا ہے، کیوں کہ ایسے میں ایک ضلع میں رونما ہونے والا واقعہ دوسرے ضلع میں نہیں جا پاتا۔ آدھے ضلع کا واقعہ پورے ضلع میں نہیں جا پاتا۔ پہلے صفحہ پر دہلی میں رونما ہونے والے چند واقعات ضرور آ جاتے ہیں، لیکن وہ صرف ایک جھلک بھر ہوتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ قاری ملک کے واقعات اور مسائل سے بالکل انجان اور اچھوتا رہ جاتا ہے۔ زمین کی لڑائی، غریبوں پر ہونے والے مظالم یا کسی نا انصافی کے تئیں لوگوں کے ذریعے کی گئی زبردست مخالفت کو اخباروں میں کوئی جگہ ہی نہیں مل پاتی ہے اور اگر ملتی بھی ہے، تو اس کی جانکاری پورے ضلع کو ہی نہیں ہو پاتی ہے، پڑوس کے ضلعوں اور صوبے کی تو بات ہی چھوڑ دیجئے۔
یہ ساری صورتِ حال بہت ہی خطرناک ہے، کیوں کہ پہلے اخبار میں چھپی خبریں انتظامیہ اور حکومت کو اس بات کا تاثر دیتی تھیں کہ کس طرح کی ہلچل لوگوں میں ہو رہی ہے، لیکن آج وہ جانکاریاں انہیں نہیں مل پاتیں۔ ان کی جانکاری کے ذرائع صرف انٹیلی جنس ایجنسیاں ہوتی ہیں، جو اپنا کام جس سمجھداری سے کرتی ہیں، اس کی مثالوں کی ایک لمبی فہرست ہے۔ اسی لیے حکومت و انتظامیہ نہ تو لوگوں کے تئیں اپنی کوئی ذمہ داری محسوس کرتی ہے اور نہ ہی ان مسائل کے اوپر دھیان دیتی ہے، جنہیں لے کر سب سے نچلی سطح پر بے اطمینانی پیدا ہو رہی ہوتی ہے۔
ایسے میں لوگوں کے سامنے ملک گیر خبروں کو جاننے کا صرف ایک ذریعہ ٹیلی ویژن رہ جاتا ہے۔ ٹیلی ویژن بھی زیادہ تر سنسنی پھیلانے والی خبروں کو دن بھر پیٹتے رہتے ہیں۔ ایک ذریعہ دوردرشن ضرور ہے، جو لوگوں کے لیے خبریں مہیا کراتا ہے، پر افسوس! اب وہ بھی اسی ڈھرے پر چل پڑا ہے، جس پر باقی ٹیلی ویژن چینل چل رہے ہیں۔ دراصل، نیوز چینل خبروں کی مسخری، خبروں کا اتھلاپن اور خبروں کا گلیمر ہی لوگوں تک لے جاتے ہیں۔ جو خبریں گلیمرس نہیں ہوتی ہیں، وہ ان کے لیے قابل توجہ نہیں ہوتیں اور اسی لیے وہ ان کے اوپر دھیان نہیں دیتے، انہیں کور ہی نہیں کرتے۔ یہ مجموعی صورتِ حال پورے ملک کے لیے خطرناک ہے۔ شمال کے لوگوں کو جنوب کے لوگوں کی اور جنوب کے لوگوں کو شمال کے لوگوں کی جانکاری نہیں ملتی۔ ملک میں زمین کی جدوجہد دھیرے دھیرے نکسل وادیوں کی بڑھوتری میں آگ میں گھی جیسا کام کر رہے ہیں، پر اس کی جانکاری سرکاروں کو نہیں ہے اور سیاسی لیڈروں کو تو بالکل نہیں ہے۔ اسی لیے یہ ماننا چاہیے کہ اخبار دو طرح سے لوگوں کی زندگی پر اثر ڈال رہے ہیں۔ وہ ان لوگوں، جو عوام کے مسائل کا حل نکال سکتے ہیں، کے پاس جانکاری نہیں جانے دینا چاہتے اور جن لوگوں کے مسائل ہیں، انہیں وہ خطرناک ڈھنگ سے منظم ہونے کا موقع دیتے ہیں اور ملک میں ایک مایوسی کا ماحول پیدا کرتے ہیں۔ اخبار کے مالکوں، سرکاری افسروں اور سیاسی لیڈروں کا یہ گٹھ جوڑ اس ملک میں کس طرح کے نئے مسائل پیدا کرے گا، اگر انہیں ہم سوچیں، تو ماتھا ٹھنک جاتا ہے۔ اس کے باوجود اخباروں کا لوکلائزیشن ہونے کا سلسلہ لگاتار تیز ہوتا جا رہا ہے اور حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ سرکاریں اسے اپنے لیے اچھا اشارہ مان کر خاموش بیٹھی مسکرا رہی ہیں۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *