یہ ایک افسوسناک صورتحال ہے

کمل مرارکا
سرکار خود کو ایک بار پھر زیادہ سے زیادہ مسائل سے گھیرتی جا رہی ہے۔ مثال کے طور پر، سی بی آئی رپورٹ۔ یہ حقیقت سب کو معلوم ہے کہ کیسے سرکار سی بی آئی پر دباؤ ڈالتی ہے اور کیسے اس کا استعمال خود کو فائدہ پہنچانے کے لیے کرتی ہے۔ سی بی آئی پر سرکار کا دباؤ ڈالنا اور وہ بھی ایک رپورٹ میں تبدیلی کے لیے، سرکار کے لیے ایک نیا مسئلہ بن گیا ہے۔ سی بی آئی ڈائریکٹر کو وزیر قانون ایک رپورٹ میں تبدیلی کے لیے کہتے ہیں، وہ بھی تب، جب اس معاملے کو خود سپریم کورٹ سیدھے دیکھ رہا ہے۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا ہے۔
مجھے لگتا ہے کہ وہ سپریم کورٹ میں سی بی آئی کے ذریعے حلف نامہ دیے جانے کا انتظار کر رہے ہیں۔ سپریم کورٹ سی بی آئی میں کیا حلف نامہ فائل کرتا ہے، یہ اہم نہیں ہے۔ سی بی آئی اگر سپریم کورٹ میں جھوٹ بولتی ہے، تو اس کے لیے اسے سپریم کورٹ سے پھٹکار پڑے گی۔ میں سمجھ نہیں پا رہا ہوں کہ وہ کون سی وجہ تھی اور ایسا کیا ہے، جو وزیر قانون سی بی آئی سے حاصل کرنا چاہتے تھے۔ جو بھی ہوا ہے، وہ بہت غلط ہوا ہے اور کم از کم منموہن سنگھ کو سامنے آ کر اس معاملے میں دخل دینا چاہیے اور وزیر قانون کے خلاف ایکشن لینا چاہیے۔
اسی طرح کول گیٹ معاملے میں بھی ہوا۔ کوئلے کی بڑی تعداد میں بلاک، وہ بھی بغیر کوئی مناسب قیمت لیے، تقسیم کی گئی۔ ممبئی کا کوئی بھی معمولی سا کاروباری بھی آپ کو بتا دے گا، اپنے کیلکولیٹر یا کمپیوٹر پر حساب کرکے کہ کسے کتنا فائدہ پہنچایا گیا اور اس معاملے میں کتنے کا نقصان ہوا۔ کوئلہ بلاک کے لیے پھر کارپوریٹ گھرانوں نے قومی بینکوں سے کروڑوں ہزار روپے کا قرض لیا ہے۔ یہ ایک طرح سے دوہرا نقصان ہوا۔
کوئلہ کا معاملہ بہت ہی سنگین ہے۔ ایسا اس لیے بھی، کیوں کہ کچھ وقت کے لیے وزارتِ کوئلہ خود وزیر اعظم دیکھ رہے تھے۔ وزیر اعظم نے تو یہ بھی کہا تھا کہ اگر اس معاملے میں ان کی براہِ راست حصہ داری ثابت ہو جاتی ہے، تو وہ استعفیٰ دے دیں گے۔ میں وزیر اعظم کو استعفیٰ دینے کے لیے مشورہ دینے والوں میں سے ایک نہیں ہوں، لیکن عوام اسے اتنی جلدی بھولنے والے نہیں ہیں۔
اسی طرح، ٹو جی لائسنس معاملے میں چاکو رپورٹ کو دیکھئے۔ پارلیمانی کمیٹیوں کا ایک وقار ہوتا ہے اور وہ ہمیشہ برقرار رہنا چاہیے۔ چاکو نے جو کیا ہے، اس سے پارلیمنٹ کے وقار میں اضافہ نہیں ہوا ہے، بلکہ اس سے پارلیمنٹ کی بے حرمتی ہوئی ہے۔ اس کمیٹی نے نہ تو وزیر اعظم کو جانچ کے لیے بلایا اور نہ ہی پی چدمبرم کو۔ آخر ایک وزیر یا وزیر اعظم کو مذکورہ کمیٹی کے سامنے حاضر ہونے میں کیا پریشانیاں آ رہی تھیں۔ پہلے بھی ایک وزیر 1966 میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے سامنے پیش ہو چکے ہیں۔ پارلیمانی کمیٹیاں سیاسی پارٹیوں، اراکین اور پارلیمنٹ کی نمائندگی کرتی ہیں۔ یہ پارٹی لائن سے اوپر اٹھ کر کام کرتی ہیں، لیکن افسوس کی بات ہے کہ آج ایسا نہیں ہو رہا ہے۔ اب ایسی کوششیں کی جا رہی ہیں، جن سے کہ ایسی کمیٹیاں اور پارلیمنٹ بس نام کے رہ جائیں۔ یہ نہایت افسوس ناک صورتِ حال ہے۔ ایسے میں جتنی جلدی الیکشن ہو، وہی بہتر رہے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *