یو پی کی بساط: مسلم ووٹوں کا کھیل

Mast

(اجے کمار (لکھنؤ
اتر پردیش میں چناؤکوئی سے بھی ہوں، اقلیتی فیکٹر ہمیشہ اہمیت کا حامل ہوتاہے۔ اس کو لبھانے کے لئے سماجوادی پارٹی ، بی ایس پی اور کانگریس میں دوڑ لگی رہتی ہے۔ مختلف جماعتوں کے لیڈروں کے درمیان مسلمانوں کو رجھانے کے لئے گلا کاٹ مقابلہ ہوتا ہے۔ مسلمانوں کی بہبودکے لئے بڑے بڑے وعدے کئے جاتے ہیں، لیکن مسلم دانشور آج بھی اس بات سے ناراض نظر آتے ہیں کہ کسی بھی حکومت نے مسلمانوں کے بنیادی مسائل کی طرف توجہ نہیں دی ، مسلمانوں کوووٹ بینک کی طرح استعمال کیا جاتا ہے اور جب ووٹ کا موسم چلا جاتا ہے ، تو انھیں ان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ کئی بار تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ جو لیڈر اور سرکاریںاپنے آپ کو مسلمانوں کا سب سے ہمدرد بتاتی ہیں، وہ بھی مسلمانوں اور ان کے مذہبی رہنماؤں کے جذبات کو زبردست ٹھیس پہنچاتی ہیں۔ ایسے ہی تمام کارناموں کے لئے ہمیشہ سرخیوں میں رہتے ہیں سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کے لیڈران اور ان کو ساتھ ملتا ہے مسلمانوں کے مبینہ مذہبی رہنماؤں کا۔ جامع مسجد کے امام احمد بخاری کو ہی لے لیجئے، وہ ودھان سبھا کے چناؤ تک ملائم کی ناک کا بال ہوا کرتے تھے، لیکن جیسے ہی نیتاجی کو لگا کہ بخاری سے قربت کے سبب اعظم خان صاحب کاپارہ چڑھا ہوا ہے، تو انھیں دودھ کی مکھی کی طرح نکال کر پھینک دیا گیا۔ اعظم خان جو کبھی بھی مسلمانوں میں مقبول نہیں رہے، پھر بھی ان کی پارٹی میںقدرو منزلت ہے۔ ان کے لئے اکھلیش سرکار صوبے کو بھی گڑھے میں دھکیلنے سے نہیںہچکچاتی۔ اگر ایسا نہ ہوتا، تو سماجوادی سرکار اعظم کے سامنے امریکہ کو حاشیے پر نہ ڈال دیتی، جہاں سے صوبے کے لئے بڑی مقدار میں سرمایہ کاری کے امکانات لگاتارغالب ہو رہے تھے۔ یہ سرمایہ کاری صوبے کے کروڑوں عوام کے لئے روزی روٹی اور روزگار کا مضبوط ذریعہ بن سکتی تھی۔
آج ووٹ بینک کی سیاست اور اعظم کی وجہ سے سماجوادی سرکار غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی اپنی خواہش کا گلا گھونٹنے پر مجبور ہو گئی ہے۔ سماجوادی پارٹی اور اس کی حکومت نے 2014کے لوک سبھا چناؤ کو دھیان میں رکھتے ہوئے امریکہ کے ساتھ رشتوں میں تلخی لانی شروع کر دی ہے، تاکہ امریکہ مخالف ’طاقتوں‘ کا اسے ووٹ مل سکے، بھلے ہی بین الا قوامی اسٹیج پر اس کاکچھ بھی اثر پڑے۔ سپا کے سماجوادیوں کو لگتا ہے کہ امریکہ میں اعظم کے ساتھ ہوئی بدسلوکی سے سپا کو ، اگلے سال ہونے والے عام چناؤ میں اچھا خاصا فائدہ ملے گا۔ اسی لئے وہ اسے کیش کرانے کے لئے کوئی موقع نہیں چھوڑ رہی ہے۔ اسے اس کے لئے کسی بھی حد تک جانے میںگریز نہیں ہے۔ اس بات کا احساس سپا لیڈروں کے طرز عمل سے صاف دکھائی دے رہا ہے۔ سپا کی موقع پرست سیاست کے سبب ہی وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کے ریاست میں سرمایہ کاری کے تعلق سے جولائی میں مجوزہ امریکی دورے پر بھی گہن لگتا نظر آرہا ہے۔ سپا کے ذریعے یہ سب سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت کیا جارہا ہے، جس سے ریاست کے اقلیتی ووٹروں کو لبھایا جاسکے۔
سماجوادی پارٹی کے ہی کچھ بڑے لیڈراکھلیش کو امریکہ کے خلاف دکھا کر انھیں مسلمانوں میں ہیرو بنانے کی مہم چلا رہے ہیں۔ اس بات کا احساس تب ہوا ،جب سپا کے ایک بڑے لیڈر اور وزیر احمد حسن نے اکھلیش کے امریکہ کے خلاف احتجاج پر خوشی کا اظہار کرنے کے لئے تمام مسلم مذہبی رہنماؤں کو ان کی چوکھٹ پر لا کھڑا کیا۔ اکھلیش اس سے خوش ہو گئے۔ احمد حسن ایسا کرکے اعظم کے سامنے اپنے نمبر بڑھانا چاہتے ہیں، یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے، لیکن ان دونوں کی سیاست نے ریاست کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اکھلیش سے ملنے گئے، مسلم مذہبی رہنماؤں نے باتوں ہی باتوں میں وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو سے جولائی میں امریکی شہروں بوسٹن،نیویارک، شکاگو میں مجوزہ اپنا روڈ شو ملتوی کردینے کی بات بھی کہی۔ اکھلیش کو یہ بتایاگیا کہ اس سے انھیں سیاسی فائدہ ملے گا، بھلے ہی ریاست کو ترقی کے معاملے میں کچھ قربانی دینی پڑ جائے۔اکھلیش نے مذہبی رہنماؤں کی باتوں کو سنجیدگی سے سنا۔ ادھر اکھلیش کا رخ بھانپ کر مسلمانوں کو لیکر ہمیشہ امریکہ کو کوسنے والے مسلم چہرے بھی تیزی کے ساتھ سرگرم ہو گئے ہیں۔ وہ ملائم اور اکھلیش کے دربار میں الگ الگ موقعوں پر دستک دے کر اپنی بات رکھ رہے ہیں۔
گزشتہ دنوں وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کے امریکہ مخالف رخ سے خوش ہو کر لکھنؤ کے اہم علماء، اماموں اور سجادہ نشینوں نے ان سے ملاقات کی اور انھیں بوسٹن میں امریکی سیکورٹی ایجنسیوں کے ذریعے کی گئی بد سلوکی پر سخت احتجاج درج کرانے پر مبارکباد دی۔ وزیر اعلیٰ سے ملاقا ت کے دوران مولانا حضرات نے بوسٹن میں ریاستی کابینی وزیر اعظم خان کے ساتھ کی گئی بد سلوکی کے خلاف احتجاج میں امریکہ میں ہارڈورڈ یونیورسٹی سمیت سبھی دیگر پروگراموں کومنسوخ کردینے کے جرأتمندانہ فیصلے پر انھیں مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اکھلیش یادو نے اپنے قدم سے ہندوستان کی عزت بڑھائی ہے اور مسلم سماج کی عزت کی حفاظت کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ کسی شخص یا پارٹی نہیں،بلکہ پورے ہندوستان کی عزت سے جڑا سوال تھا، جس کا معقول جواب اکھلیش یادو نے دیا، اس سے پہلے ہندوستانی لیڈروں کے ساتھ ہوئی بدسلوکی پر مرکزی حکومت اور وزارت خارجہ نے سخت احتجاج نہیںکیا تھا۔
وزیر اعلیٰ سے مل کر ان کو اپنی حمایت اور مبارکباددینے والوں میں مولانا اقبال قادری، صدر علماء کونسل، مولانا سعید الر حمان ندوی، پرنسپل ندوہ کالج، مولانا خالد رشیدفرنگی محلی۔ مولانا سیف عباد، صدر شیعہ ہلال کمیٹی، مولانافضل الرحمان واعظی، امام ٹیلے والی مسجد، مولا نا مسعود کچھوچھوی، فرحت میاں، درگاہ دادا میاں، سعیداحمد، امام عید گاہ گومتی نگر، امام اجریا گاؤں، مولانا سعیدالرحمان اعظمی، سجادہ نشین شاہ مینا درگاہ، مولانا اثر کین، مولانا سلیم زیدی،قمرا لحسن، غلام سرور، آغا مہندی، علم الحسن، افضال حسین، احتشام حسین، قاری اقبال، رحم الدین، راشد مینائی، افتخار مہندی، سعید احمد، عبداللہ ندوی، حفیظ الرحمان ندوی، عظمت اللہ صدیقی، محمد رافع، روح الامین، ولی امام معظم نگر، اختر صاحب، نوراللہ ندوی، عبد اللہ خان، فضلل، منان، واصف محمد علی خان، محمد عباد، شکیل خان، یامین خان، فخرالحسن چاندوغیرہ اہم تھے۔
وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کی ٹیم نے امریکہ کے نام پر مسلمانوں کو خوش کرنے کی مہم سی چلا رکھی ہے، تو ان کی اس مہم کو ناکام کرنے والوں کی تعداد بھی کم نہیں ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں، جو سپا حکومت کے سربراہ اکھلیش یادو سے اس لئے ناراض ہیںکہ سپا حکومت نے اپنے منشور میں مسلمانوں کے ساتھ جو وعدے کئے تھے، وہ انھیں پورا نہیں کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کو ریزرویشن کا معاملہ اٹکا ہوا ہے، دہشت گردی کے نام پر جیلوں میں بند بے گناہوں کو چھڑانے کی بجائے ان کے نام پر سیاست کی جارہی ہے۔ رہائی منچ کے ترجمان شاہنواز عالم کہتے ہیں کہ سپا سرکار کچھ علماء کو آگے کرکے مسلمانوں کے درمیان غلط فہمی پیدا کرنا چاہتی ہے، رہائی منچ کے لیڈروں نے یہاں تک کہہ دیا کہ امریکہ میں اعظم خان کے ساتھ ہوئی بدسلوکی پر وزیر اعلیٰ یادو کے ذریعے بوسٹن میں اپنی مجوزہ تقریر کو ملتوی کردینے پر انھیں مسلمانوں کا ہمدرد بتانے والے علماء سپا کے پیرول پر کام کرتے ہیں۔ رہائی منچ کے لیڈروں کا کہنا تھا کہ علماء کو اعظم خان کے ساتھ ہوئی بد سلوکی تو نظر آتی ہے، لیکن دہشت گردی کے نام پر جیلوں میں بند بیگناہوں پر سے سپا حکومت کے ذریعے مقدمے ہٹانے کا وعدہ کرنے کے باوجود مقدمے نہ ہٹائے جانے کا درد انھیں نہیںمحسوس ہوتا ہے۔
ادھر اترپردیش کانگریس کا کہنا ہے کہ سپا سرکار کا ایجنڈا ترقی کے بجائے ذاتی اعزاز تک محدود ہے۔ یوپی کانگریس کے ترجمان دجیندر ترپاٹھی نے کہا کہ صوبے کے وزیر اعلیٰ ہونے کے ناتے ،سی ایم کو ذاتی توہین کے مدعے کوترقی کے آڑے نہیں آنے دینا چاہئے ، کیونکہ یہ صوبے کے کروڑوں عوام کے مستقبل سے جڑی ہوئی ہے۔ ایک طرف سپا اپنے آپ کو مسلمانو ں کا رہنماثابت کرنے میں لگی ہے، تو دوسری طرف کانگریس کے حق میں بولنے والے لیڈر لگاتار سپا سرکا رپر دباؤ بنائے ہوئے ہیں۔ کانگریس بار بار سپا سرکار سے مطالبہ کر رہی ہے کہ صوبے میں مسلم طبقے کے پولیس سپرنٹنڈنٹ کی تعداد دوسے بڑھ کر 14کی جائے، ہر تھانے میں کم سے کم دو مسلم ملازم ہوں، فسادات میں پھنسے مسلم نوجوانوں پر لگے مقدمے واپس ہوں۔ کانگریس مسلمانوں کو لبھانے کے لئے بڑی تعداد میں اقلیتی کانفرنس کرنے جارہی ہے، یہ سلسلہ نومبر تک چلے گا۔
بات بی ایس پی کی کی جائے تو بہوجن سماج پارٹی کی سپریمو مایا وتی مسلمانوں کے نام پر سیاست تو خوب کرتی ہیں، لیکن دقیانوسی خیالات سے دور رہتی ہیں۔ وہ ملائم کی طرح کسی بھی داڑھی اور ٹوپی والے کے سامنے نہیں جھکتی ہیں۔ اس بات کا نظارہ بی ایس پی کے دور اقتدارمیں اس وقت دیکھنے کو ملا تھا، جب اقلیتوں کے مسائل لے کر کچھ مسلم مذہبی رہنما اور لیڈران ، اس وقت کی وزیر اعلیٰ مایا وتی کی چوکھٹ پر پہنچے، تو ان لوگوں کے جوتے ڈرائنگ روم کے باہر ہی اتر والئے گئے۔ یہ مایاوتی کی سیاست کا ہی رنگ ہے کہ ایک طرف وہ مسلمانوں کی ناراضگی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے دسمبر 1992میں بابری مسجد انہدام کے معاملے کے ملزم پون پانڈے کو لوک سبھا کا ٹکٹ تھما دیتی ہیں، تو دوسری طرف سپا پر مسلمانوں کو گمراہ کرنے کا الزام جڑ دیتی ہیں اور ان کو جامع مسجد کے امام احمد بخاری جیسے لیڈروں کا ساتھ بھی مل جاتا ہے۔ ملائم کے گھریلو ضلع اٹاوہ میں بخاری ’ادھیکار ریلی‘ کرکے مایاوتی کی شان میں قصیدے پڑھتے ہوئے یہاں تک کہہ دیتے ہیں ’ملک میں کوئی حکومت کرنا جانتا ہے تو وہ صرف مایا وتی ہیں، سپا نے مسلمانوں کو ہمیشہ دھوکہ دیا اوران میں عدم تحفظ کا احساس بڑھایا۔‘ ویسے یہ بات کہنے والے بخاری اکیلے نہیں ہیں، کئی مسلم لیڈران بھی کہتے ہیں کہ ملائم نے زندگی بھر ہندو اور مسلمانوں کے درمیان خلیج بڑھانے کی سیاست کی ہے۔ سپا کی ایک سالہ مدتِ کار میں 113فرقہ وارانہ فسادات اس بات کی مثال ہیں۔
یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بی ایس پی سپریمو کی حمایت پر ایک کتاب لکھی جارہی ہے، اس کتاب میں ملائم اور سماجوادی پارٹی کو سنگھ کا ایجنٹ قرار دیا جائے گا۔ کتاب کا عنوان’سپا سرکار کا ایجنڈا سنگھ کا‘ جیسا ہو سکتا ہے۔ اس سلسلے میں مایاوتی کی مسلم لیڈروں سے بھی بات چیت چل رہی ہے۔ کتاب میں اعداد و شمار کے ساتھ دکھایا جائے گا کہ سپا راج میں ہوئے فسادات میں مسلمانوں کو کافی نقصان اٹھانا پڑرہا ہے، فسادات میں مسلمانوں کو مالی اور جسمانی دونوں ہی اعتبار سے نقصان ہوتا ہے، ان کی املاک کو نقصان پہنچایا جاتا ہے، مسلمانوں پر فرضی مقدمے ٹھوک دئے جاتے ہیں۔ بی ایس پی کا ارادہ کسی بھی طرح سے سپا کے مسلم ووٹ بینک میں نقب لگانا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اپنے ارادوں میں کتنی کامیاب ہوتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *