سسٹم آئین کو دھوکہ دے کربنا ہے

سنتوش بھارتیہ
کرناٹک میں کانگریس بھاری اکثریت سے جیت گئی اور بھارتیہ جنتا پارٹی ہار گئی۔ کیا اس کا مطلب ہم یہ نکالیں کہ کرناٹک کے عوام نے بدعنوانی کے خلاف ووٹ دیا ہے اور اس نے کانگریس کو بدعنوان نہیں مانا؟ اس سے پہلے تمل ناڈو میں انتخاب ہوئے تھے، جس میں عوام نے کروناندھی کے مقابلے جیہ للتا کو ووٹ دیا تھا۔ تو کیا وہاں بھی یہ مانا جائے کہ کروناندھی کی بدعنوانی زیادہ تھی اور جیہ للتا کی کم؟ دراصل، جہاں جہاں الیکشن ہوئے، عوام نے ممکنہ متبادل کا ہی ساتھ دیا۔ آنے والے الیکشن میں آندھرا ایک چنوتی ہے، کیوں کہ وہاں کانگریس، جگن موہن ریڈی اور چندر بابو نائڈو کے درمیان لڑائی ہے۔ تینوں میں سے شاید جگن موہن ریڈی کے جیتنے کا امکان زیادہ لگ رہا ہے۔ کیا اس کا مطلب یہ مانیں کہ جگن موہن ریڈی بدعنوان نہیں ہیں اور جو پارٹیاں ہار جائیں گی، جیسے کانگریس یا چندر بابو نائڈو، وہ زیادہ بدعنوان ہیں؟
یہ عجیب صورتِ حال ہے کہ بدعنوانی سے ہندوستان کے عوام پریشان ہیں اور اتنے زیادہ پریشان ہیں کہ وہ چھٹ پٹاہٹ میں جو جیتا ہوا ہے، اس کے خلاف ووٹ دے دیتے ہیں۔ ہماری جمہوریت کی جو شکل و صورت بنی ہے، وہ کمال کی ہے۔ عوام کے پاس متبادل کے روپ میں محدود متبادل ہیں۔ اگر دو تین چار پارٹیاں ایسی ہیں، جن کے اوپر بدعنوانی کے الزام لگے ہوئے ہیں یا وہ سیدھے طور پر بدعنوانی میں ملوث دکھائی دیتی ہیں، تو پھر ووٹروں کی مجبوری ہے کہ وہ کسی نہ کسی بدعنوان کو منتخب کریں۔ الیکشن کے وقت جہاں جو کم بدعنوان دکھائی دیتا ہے، عوام اسے اس امید سے ووٹ دیتے ہیں کہ شاید یہ اس دفعہ کم بدعنوانی کرے، لیکن حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ جیتنے کے بعد وہ پارٹی بدعنوانی میں پچھلی پارٹی کو پیچھے چھوڑنے کی ہوڑ میں لگی دکھائی دیتی ہے۔
تو کیا جمہوریت کے بارے میں دوبارہ سوچنے کی ضرورت ہے؟ کیا ہم یہ مان لیں کہ جمہوریت صرف بدعنوان سیاسی پارٹیوں کو ہی آگے آنے کی اجازت دیتی ہے یا پھر جمہوری نظام میں عوام اتنے سمجھدار کبھی ہو ہی نہیں پاتے کہ وہ بدعنوان لوگوں کے خلاف کوئی فیصلہ کن لڑائی لڑ سکیں؟ پر مان لیجئے، اگر کہیں فیصلہ کن لڑائی عوام نے لڑی بھی اور جیت بھی جائے، تو نتیجہ کے طور پر اس کے سامنے متبادل کیا ہیں؟ آج تو متبادل ایک ہی ہے کہ عوام دستیاب سیاسی پارٹیوں میں سے کسی ایک کو ووٹ دیں اور وہ سیاسی پارٹی اگر پھر بدعنوانی کرے اور پھر لڑے، تو پہلی والی سیاسی پارٹی کو ووٹ دیں یا ایسی سیاسی پارٹی کو ووٹ دیں، جس نے کم بدعنوانی کی ہو اور پھر اس بات کی امید رکھیں کہ یہ اور بڑی بدعنوانی آگے جا کر نہیں کرے گی۔
آئین اس معاملے میں کیوں خاموش ہے؟ کیا اس کا علاج آئین کی کتاب میں مل سکتا ہے؟ آئین کی کتاب دیکھنے پر یہ پتہ چلتا ہے کہ اس میں کہیں بھی سیاسی پارٹیوں کا ذکر نہیں ہے۔ سیاسی پارٹیاں تب کہاں سے آئیں، کیوں کہ آئین تو یہ کہتا ہے کہ الیکشن کمیشن ہوگا، جس کے دو کام ہوں گے۔ ایک، امیدواروں کے ذریعے بھرے ہوئے حلف ناموں کی جانچ کرنا اور دوسرا، غیر جانبدار الیکشن کرانا۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ تب پھر یہ سیاسی پارٹیاں کہاں سے آ گئیں، کیوں کہ اگر آئین سازوں کے من میں سیاسی نظام کی سیاسی پارٹیوں والی شکل و صورت ہوتی، تو وہ آئین میں اس کا صاف صاف ذکر کرتے۔ پر دراصل، ایسا نہیں تھا، کیوں کہ آئین کی تشکیل گاندھی جی کی خواہشوں کے مطابق ہوئی، جس میں لوگوں کے نمائندوں کے لوک سبھا میں جانے کی بات کہی گئی۔
آئیے، بتاتے ہیں کہ کیسے ہوئی آئین کی تشکیل۔ الیکشن کمیشن نے عوامی نمائندگی قانون کی سفارش کی اور پارلیمنٹ نے اسے پاس کر دیا۔ اس طرح عوامی نمائندگی قانون کے تحت سیاسی پارٹیاں وجود میں آ گئیں اور انہوں نے آئین کی وضاحت کے برعکس کام کرنا شروع کر دیا۔ آئین کی روح کے برخلاف کام کرنے کا مطلب یہ ہے کہ پارٹی اپنے لیڈر کی سوچ کے مطابق پارلیمنٹ میں بحث کرتی ہے اور پارٹی ہی اپنی پالیسی کے مطابق پارلیمنٹ میں مخالفت یا حمایت کرتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اس میں عوام کے مفاد کا کہیں کوئی وجود ہی نہیں ہوتا۔ دراصل، سیاسی پارٹی جو سوچتی ہے، اسے ہی وہ عوام کا مفاد مان لیتی ہے۔ عوام سے کبھی یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی جاتی کہ وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ پوچھنے پر سیاسی پارٹیوں کا جواب یہی ہوتا ہے کہ چونکہ ہم عوام سے ہی آتے ہیں، اسی لیے ہمیں یہ معلوم ہے کہ عوام کے مفاد کیا ہیں اور عدم مفاد کیا ہیں۔ پر افسوس! سیاسی پارٹیاں یہ کبھی نہیں بتاتیں کہ ان کے پاس عوام کی رائے جاننے کا طریقہ کیا ہے۔ دراصل، آج سے 30 سال پہلے یہ عمل شروع ہوا۔ سیاسی پارٹیوں کے اپنے کارکنوں سے بھی تعلقات کمزور ہونے لگے۔ آج حالت یہ ہے کہ سیاسی پارٹیاں اپنے کارکنوں کی بات نہیں سنتیں، انہیں سیاست کے مرکز میں آنے کا موقع ہی نہیں دیتیں۔ وہ کارکنوں کو صرف جھنڈا اٹھانے اور دری بچھانے کے کام میں استعمال کرتی ہیں، بلکہ اب حالت یہ ہے کہ یہ کام بھی کارکنوں سے چھین لیے گئے ہیں اور انہیں ٹھیکے پر کرایا جا رہا ہے۔ کئی پارٹیاں تو اسٹیج مینجمنٹ اور کانفرنسوں کا انتظام بھی ایونٹ کمپنیوں کو سونپ رہی ہیں اور ایک فائیو اسٹار کلچر کے تحت سارے کام پورے کیے جا رہے ہیں۔
سیاسی پارٹیاں جب وجود میں

Share Article