!سیاست کا مہرا بنا سربجیت

سنتوش بھارتیہ 
آخر کار سربجیت سنگھ کی موت ہو ہی گئی اور سامنے آ گیا پاکستان کے ایک اور جھوٹ کا سچ! پہلے جیل میں حملہ اور پھر اسپتال میں موت۔ موت کے فوراً بعد وزیر اعظم منموہن سنگھ نے آناً فاناً میں سربجیت سنگھ کی موت پر نہ صرف صدمے کا اظہار کیا، بلکہ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ سربجیت ہندوستان کے بہادر سپوت تھے۔ ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ آج انہیں سربجیت کی یاد کیوں آئی۔ کیا کسی کی موت کے بعد صرف بیان دینے سے ہی وزیر اعظم کی اخلاقی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے۔ موت کے بعد ہی وزیر اعظم نے جان لیوا حملے کی مذمت کیوں کی؟ پہلے وہ خاموش کیوں رہے؟ جب سربجیت بستر مرگ پر تھے، تب انہوں نے کوئی ایکشن کیوں نہیں لیا۔ سچ تو یہ ہے کہ سربجیت آخر کار سیاست کا مہرا بن گیا۔
دراصل، سربجیت کے ساتھ قسمت نے شروع سے ہی کھیل کھیلا۔ سرحد کا گاؤں، بھٹک کر وہ پاکستان چلا گیا اور پکڑ لیا گیا۔ اس پر بم دھماکہ کا کلیدی ملزم ہونے کا الزام لگ گیا۔ پاکستان میں سربجیت کہاں ہے، کہاں نہیں، یہ اس کے گھر والوں کو بھی نہیں معلوم تھا۔ پاکستان کے اخبار ہندوستان نہیں آتے، بلکہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہاں کی خبریں تیس کلومیٹر کی دوری بھی طے نہیں کر پاتیں۔ سربجیت کے گھر اور لاہور کے درمیان 25 سے 30 کلومیٹر کا فاصلہ ہے، لیکن حیرانی کی بات ہے کہ سالوں تک یہ خبر سربجیت کی فیملی تک نہیں پہنچ پائی کہ وہ 30 کلومیٹر دور واقع جیل میں بند ہے اور اس پر بم دھماکہ کرنے کا الزام لگا ہے۔ سربجیت کو منجیت سنگھ کے نام سے پاکستان میں پہچان ملی، اس پر مقدمہ چلا اور سزا بھی ہوئی۔ اسے ہم قسمت کا کھیل کہہ سکتے ہیں، لیکن اس کے بعد سرکاروں کا سیاسی کھیل شروع ہوا۔
سربجیت کا مقدمہ پاکستان کی عدالت میں چلتا رہا اور جس وکیل کو سربجیت کی طرف سے عدالت میں مقرر کیا گیا تھا اور جسے سربجیت کی طرف سے پیروی کرنی تھی، وہ کبھی بھی سربجیت کے کیس میں حاضر ہی نہیں ہوا۔ سربجیت کو سزائیں سنائی جاتی رہیں۔ سربجیت کے وکیل نے اپنے پیشہ کی عزت نہیں رکھی اور اس نے جھوٹی ہی سہی، لیکن کوئی دلیل پاکستان کی کسی عدالت میں دی ہی نہیں۔ لیکن تین سال پہلے پاکستان کے ایک وکیل اویس شیخ کو جب انسانیت کے ناتے یہ احساس ہوا کہ ایک شخص کو غلط سزا دی جا رہی ہے، تو انہوں نے سربجیت کا مقدمہ لڑنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے وزارتِ داخلہ کو عرضی دی، لیکن حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ وزارتِ داخلہ اور وہاں کی عدالت نے اویس شیخ کو اجازت ہی نہیں دی کہ وہ سربجیت کا مقدمہ لڑیں۔ حالانکہ لمبی لڑائی کے بعد اویس شیخ کو سربجیت کا وکیل بننے کی اجازت ملی اور انسانیت کے اس پہریدار نے سربجیت کا کیس کچھ اس انداز میں لڑا کہ ساری دنیا کو ان پوشیدہ سچائیوں کا پتہ چل گیا، جو کہ بہت پہلے ہی سامنے آ جانی چاہیے تھیں۔ دراصل، سربجیت کی کہانی اویس شیخ کی بدولت ہی دنیا کے سامنے آئی تھی۔ ہندوستان میں سربجیت کے لیے عوامی رائے بنی۔ ہمارے بہت سارے لوگ پاکستان میں بند ہیں، لیکن ہم یہ نہیں کہتے کہ انہیں چھوڑ دیا جائے، پر سربجیت کے لیے اس ملک کے زیادہ تر لوگوں کے دل سے یہی دعا لگاتار نکل رہی تھی کہ اسے چھوڑ دیا جائے اور اسی لیے ایک امید بھی بندھی تھی کہ شاید سربجیت کو چھوڑ دیا جائے گا، لیکن ایسا نہیں ہوا، انہیں چھوڑنے سے پہلے ہی وہ موت کی آغوش میں چلے گئے۔
پاکستان کے حقوقِ انسانی کارکن انصار برنی نے سربجیت کے ساتھ ایک اور نا انصافی کی۔ انہوں نے ساری دنیا میں یہ ہوا پھیلائی کہ سربجیت کا کیس وہ دیکھ رہے ہیں، جب کہ سچائی یہی ہے کہ انصار برنی نے سربجیت کے کیس میں ایک گھنٹہ بھی نہیں دیا۔ وہ کبھی اس سے ملے تک نہیں، انہوں نے اس کے کاغذ تک نہیں دیکھے اور نہ ہی کبھی عدالت میں حاضر ہوئے، لیکن ساری دنیا میں انہوں نے اپنے نام کا پرچار کیا۔ شاید کئی سارے حقوقِ انسانی کارکن انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے کے لیے ہی حقوقِ انسانی کا نام لیتے ہیں۔ ہندوستان میں جب قصاب کو پھانسی ہوئی اور پھر افضل گورو کو پھانسی ہوئی، تب ہندوستان میں لگ بھگ ہر ایک کے سامنے یہ صاف تھا کہ ایک دن صبح ہم خبر پڑھیں گے کہ سربجیت پھانسی پر لٹکا دیا گیا، لیکن حکومتِ پاکستان نے دراصل ہوشیاری اور چالبازی سے کام لیا۔ اس نے سربجیت کو پھانسی پر ضرور نہیں لٹکایا، لیکن اس نے اندر ہی اندر ایک تانا بانا بُنا اور اسی کے نتیجہ میں سربجیت کی موت ہو گئی۔ دراصل، سربجیت جس جگہ بند تھا، وہ پھانسی کی کوٹھری کا ایک حصہ ہے، جہاں پر سوائے کھانا دینے والے کے دوسرا کوئی جا ہی نہیں سکتا تھا۔ قانوناً پھانسی کی کوٹھری میں بند ایک قیدی، بھلے ہی وہ پھانسی کی سزا پایا ہوا ہو، دوسرے قیدی سے بات بھی نہیں کر سکتا۔ لیکن کمال کی بات تو یہ ہے کہ دو قیدی اس سیل میں گھسے، جہاں سے سربجیت باہر نکالا گیا تھا۔ ایک دوسرا قیدی اس کے ساتھ باہر نکلا، جسے اس کی سیل میں بھیج دیا گیا۔ دراصل، انہی دو پاکستانی قیدیوں نے سربجیت پر حملہ کیا تھا۔
سچ تو یہ ہے کہ جہاں پھانسی کی کوٹھری ہوتی ہے، وہاں پر کوئی ایسی چیز ہوتی ہی نہیں، جس سے کوئی خود کشی کر سکے۔ یہاں تک کہ کانچ کا ایک ٹکڑا بھی وہاں آس پاس نہیں رکھا جاتا، لیکن سربجیت کو مارنے والوں نے نہ صرف راڈ کا وہیں انتظام کیا، بلکہ بلیڈ اور چاقو کا بھی انتظام کیا اور سربجیت کے جسم کے ہر حصہ کو کاٹنے کی کوشش کی۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ یہ جیل کے اہل کاروں کی ملی بھگت کے بغیر نہیں ہو سکتا تھا۔ پاکستان میں واقع میرے ذرائع نے مجھے بتایا کہ دو لوگ اکثر پھانسی کی سزا پائے ان دو قیدیوں سے ملنے آتے تھے۔ کون تھے وہ دو لوگ؟ وہ ان قیدیوں کے گھر کے لوگ نہیں تھے۔ ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ آئی ایس آئی یا پاکستان کی کسی دوسری ایجنسی کے لوگ ہو سکتے ہیں، پر وہ یقینا کسی سوچی سمجھی سازش کا حصہ تھے۔ سربجیت کو پھانسی نہیں ملی، لیکن اسے پھانسی دے دی گئی۔ شاید ایسے بدقسمت انسان بہت کم اس دنیا میں ہوتے ہیں، جیسا سربجیت رہا۔ وہ اپنے گھر سے نکلا اور اس کے بعد لگاتار جیل میں رہا۔ اس کی موت بھی بدقسمتی کا ایک آئینہ ہے۔ بعد میں سربجیت کے سارے اعضاء نے کام کرنا بند کر دیا۔ میری خبر کے حساب سے آکسیجن کے پریشر سے اسے دنیا میں لانے کی ایک کوشش کی جا رہی تھی۔
سربجیت کے وکیل اویس شیخ پانچ ماہ قبل ہندوستان آئے تھے اور یہاں انہوں نے مجھے ایک لمبا انٹرویو دیا، جس میں انہوں نے ان حالات کی تفصیل بیان کی تھی، جن میں سربجیت پر مقدمہ چلا اور کیسے اویس شیخ نے سربجیت کا وکیل بن کر وہ کیس لڑا، جس میں انہیں جیتنے کی شروع سے ہی کوئی امید نہیں تھی۔ امید نہ ہونے کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ کمزور وکیل ہیں، بلکہ پاکستان میں جس طرح عدالتی کارروائی چل رہی تھی، اس میں پہلے دن سے ہی یہ لگ رہا تھا کہ سربجیت سیاست کا ایک مہرا بنایا جائے گا۔ اور چونکہ ہندوستان میں لوگ اس کے بارے میں زیادہ باتیں کر رہے ہیں، اس لیے حکومتِ پاکستان اس کا استعمال کسی نہ کسی طرح کے نگوسی ایشن کے لیے کرے گی۔ لیکن شاید پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کو لگا کہ اب سربجیت کا استعمال نگوسی ایشن کے لیے نہیں کیا جاسکتا ہے اور تب انہوں نے سربجیت کو دنیا سے اٹھانے کے منصوبہ پرچالبازی کے ساتھ عمل کر لیا۔
سربجیت کی دو بیٹیاں ہیں، جن میں سے ایک بیٹی نے تو انہیں دیکھا بھی نہیں ہے۔ سربجیت کی بہن اس کے لیے لگاتار لڑتی رہیں۔ سربجیت کی بیوی بے زبان ہیں، وہ کسی کو اپنے آنسو بھی نہیں دکھا پا رہی ہیں، پر حکومتِ ہند کو کیا ہوگیا تھا؟
کیا ہندوستان اتنا بے یارو مددگار ہے کہ جو آئے، اسے دو طمانچے مارے اور اپنی بات کہہ کر نکل جائے؟ بنگلہ دیش ہو، میانمار ہو، یہاں تک کہ نیپال یا پاکستان ہو، کوئی بھی حکومتِ ہند کو آنکھیں دکھا دیتا ہے۔ چین کا قصہ ہمارے سامنے ہے۔ وہ ہماری سرحد میں ہے۔ دو ہندوستانیوں کا سر کاٹنے کے بعد پورے ملک سے آوازیں اٹھیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی آواز بھی اٹھی کہ پاکستان پر حملہ کر دینا چاہیے، لیکن افسوس! اس وقت ہماری حکومتِ ہند اس ساری مانگ کو ایک طرف رکھ کر پاکستان کے وزیر اعظم کو بریانی کی دعوت دے رہی تھی۔ دعوت دینے میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن اپنی بات بھی تو سختی سے کہنی چاہیے۔ وہیں ہندوستان کی سیاسی پارٹیاں اور وہ پرجوش لوگ، جو پاکستان پر حملہ کرنے کی بات کر رہے تھے، چین کے سامنے خاموش کھڑے ہیں اور ایک بھی آواز نہیں نکل رہی ہے کہ چین کی فوج کو ہندوستانی سرحد سے باہر نکال دینا چاہیے۔ ملائم سنگھ یادو کی آواز تو آئی کہ فوج تیار ہے، لیکن سرکار بزدلوں کی طرح خاموش کھڑی ہے۔ میں سرکار کو بزدل اور کمزور نہیں کہہ رہا ہوں، لیکن اب اسے 120 کروڑ لوگوں کی نمائندگی کرنے والی سرکار ماننے سے میرا من انکار کر رہا ہے۔ ایسے میں مجھے لگتا ہے کہ سرکار نہ اپنے شہریوں کی ملک میں حفاظت کر سکتی ہے اور نہ ملک سے باہر۔ ہمارے بحری مسافر، سمندری جہاز جب صومالیہ کے سمندری ڈاکوؤں کے قبضے میں مہینوں رہتے ہیں اور وہ پیسے مانگتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر پیسے نہ دیے، تو ہم انہیں مار دیں گے۔ ایسے میں انہیں چھڑانے کے لیے ہندوستان کے نہیں، بلکہ پاکستان کے شہری چندہ کرتے ہیں اور ہماری سرکار کو اس بات پر شرم تک نہیں آتی کہ ہمارے ہم وطنوں کی جان پاکستان کے شہریوں نے چندہ کرکے بچائی۔
سربجیت کو اچھی طرح سے حملے سے پہلے یہ سمجھ میں آگیا ہوگا کہ حکومتِ ہند اس کے لیے کچھ نہیں کر سکتی، اسی لیے اس نے اپنے گھر والوں کو ایک خط لکھا کہ اسے دھیما زہر دیا جا رہا ہے۔ اس نے ایک خط سونیا گاندھی کو بھی لکھا تھا، جس کی کاپی میرے پاس بھی ہے۔ اس میں اس نے لکھا کہ اسے دھیما زہر دیا جا رہا ہے، پر اس کے ہاتھ سے لکھا ہوا وہ خط سونیا گاندھی کے خطوط کے انبار میں کہیں کھو چکا ہوگا۔ ہم 120 کروڑ طاقتور لوگ ضرور ہیں، لیکن حیرانی اس بات پر ہے کہ ہم اپنے لوگوں کی جان اور اپنے ملک کی عزت کی حفاظت نہیں کر سکتے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس کے لیے کون ذمہ دار ہے، وزیر اعظم، وزیر خارجہ یا پھر پوری پارلیمنٹ؟ مثال ایک ہی آدمی کی ہوتی ہے اور سربجیت صرف ایک آدمی نہیں تھا، بلکہ وہ 120 کروڑ لوگوں کے من میں بے قصور شبیہ والا ہندوستان کا پاکستان میں ایک قیدی تھا۔ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ حکومتِ ہند نے بھی یہ زحمت نہیں اٹھائی کہ ہندوستان کے بڑے ڈاکٹروں کو لاہور بھیج کر سربجیت کا معائنہ کراتی۔ پاکستان کا طبی نظام اتنا شاندار ہے کہ وہاں کے لوگ ہی اس پر بھروسہ نہیں کرتے اور نہ کوئی وہاں پر اپنا علاج کرانے کی زحمت ہی اٹھاتا ہے۔ متوسط طبقہ کے لوگ ہندوستان چلے آتے ہیں اور امیر لوگ لندن یا امریکہ چلے جاتے ہیں۔ افسوس! اسی پاکستان میں سربجیت کا علاج ہو رہا تھا اور ڈاکٹر کہہ رہے تھے کہ اب دوا کی نہیں، بلکہ دعا کی ضرورت ہے، اس لیے آپ لوگ دعا کیجئے۔ یہ وہ ڈاکٹر کہہ رہے تھے، جنہوں نے سربجیت کو اسپتال لائے جانے کے بعد علاج کا ایک بھی کامیاب قدم نہیں اٹھایا اور کہہ دیا تھا کہ سربجیت کی حالت نہیں سدھرے گی۔ اور اگر ڈاکٹروں نے یہ کہہ دیا تھا، تو حکومتِ پاکستان نے اسے وہیں کیوں بند کرکے رکھا، یہ ایک اہم سوال ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *