سعودی عرب کا نطاقت قانون : ہندوستان کے لئے بربادی کی گھنٹی

اسفر فریدی

p-8bسعودی عرب نے اپنے ملک کے محنت قانون میں ترمیم کی ہے۔ اپنے شہریوں کو روزگار میں زیادہ حصہ دینے کے مقصد سے کی گئی ترمیم نے ہندوستان سمیت کئی ملکوں میں ہلچل پیدا کردی ہے۔ اس کے تعلق سے طرح طرح کی باتیں کی جارہی ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ سعودی حکومت نے کوئی بڑا جرم کردیا ہے۔ویسے بھی سعودی عرب کے ذریعے اپنے قومی مفاد میں اٹھائے گئے اس کے قدم سے ہندوستان کے محنت کش کتنا زیادہ متاثر ہوں گے ، اس کی حقیقی تصویر اگرچہ ابھی تک سامنے نہیں آسکی ہے لیکن جس طرح سے حکومت ہند کے ذمہ داروں کے متضادبیانات سامنے آرہے ہیں ، اس سے عوام اور خاص طور سے ان لوگوں میں ضرور بے چینی پیدا ہوگئی ہے جن کی روزی روٹی کا رشتہ سعودی عرب سے جڑا ہوا ہے۔ لیکن سعودی عرب کے نطاقت قانون پر واویلا مچانے اور سراسیمگی کا شکارہونے سے پہلے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر نطاقت قانون کا مقصد کیا ہے؟ تو اس کا جواب اس کے قانون کے نام سے مل جاتا ہے۔ نطاقت کا تعلق مقامی باشندوں کو روزگار میں حصہ داری دینے سے ہے۔اس کے مطابق سعودی عرب کی ہر ایک کمپنی یا ادارے میں 10فیصد اسامی سعودی شہریوں کے لیے مختص ہوں گی۔ ظاہر سی بات ہے کہ اب تک ان جگہوں پر پہلے جہاں غیرملکی کارکنان اور محنت کش کام کرتے تھے ، اب ان کے لیے جگہیں کم ہو جائیں گی۔ایسی صورت میں ہندوستان جیسے ملک جہاں کے تقریباً 20لاکھ افراد سعودی عرب میں بر سر روزگار ہیں، کے لیے بڑی پریشانی کھڑی ہوسکتی ہے۔ ایک تو ان کے بے روزگار ہونے سے سالانہ کروڑوں ڈالر کے زر مبادلہ کی رقم آنے کا سلسلہ ٹوٹ جائے گا اور دوسرے ملک میں بے روزگاروں کی بھیڑ میں مزید اضافہ ہوگا۔یہ دونوں صورت حال ہندوستان کے لیے اچھی نہیں کہی جاسکتیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ اس مسئلے کا حل کیا ہے؟کیا صرف سعودی عرب حکومت سے بات چیت اور تھوڑے دنوں کے لیے متاثر ہونے والے لوگوں کو کچھ دنوں کے لیے متاثر ہونے سے بچا دینا کافی ہوگا یا پھر کوئی ایسا لائحۂ عمل تیار کیا جائے گا جس سے اس طرح کے مسائل کا پائیدار حل نکالا جاسکے گا؟ابھی جس طرح سے اس مسئلے پر ہماری حکومت اور اس کے ارباب حل و عقد کا رویہ ہے ، اس سے تو یہی لگتا ہے کہ اس بارے میں بھی ان کی ’ دیکھا جائے گا ‘ اور ’چلتا ہے ‘ والی پرانی سوچ حاوی ہے۔حکومت کا یہ رویہ نیا نہیں ہے۔ اس کی فطرت ہی میں عوام سے بے رخی کا خمیر ہے۔اور ظاہر ہے کہ جب بنیادی عنصر ہی خراب ہو تو پھر خدوخال اور سوچ و فکر کیسی ہوگی، اس کا اندازہ لگانا بہت زیادہ مشکل نہیںہے۔

سعودی عرب میں ہندوستان کے 20 لاکھ سے زیادہ لوگ کام کررہے ہیں۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو سعودی عرب کا نطاقت قانون حکومت ہند کو بیدار کرنے کے لیے ایک گھنٹی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک اقتصادی بحران کا شکار ہورہے ہیں۔ ابھی جب نطاقت قانون کے حوالے سے میں مختلف ویب سائٹوں اور اخبارات میں شائع خبروں کو دیکھ رہا تھا تو ان میں دوسرے عرب ملکوں کے علاوہ امریکہ اور یوروپ کے لوگوں کے رد عمل اور تاثرات بھی دیکھنے کو ملے۔

یہ اس کی سوچ کا ہی نتیجہ ہے کہ ملک کے تقریباً سبھی شعبوں میں مزدوروں اور محنت کشوں کا استحصال ہو رہا ہے۔ خود صحافتی شعبہ جو دوسروں کے حقوق کے لیے ہر وقت آواز اٹھانے کا دعویٰ کرتا ہے ، اپنے کارکنوں کے لیے نہایت ہی خطرناک حالت میں پہنچ چکاہے۔ اس سے بھی زیادہ بہت سے سرکاری ادارے اور شعبہ جات ایسے ہیں جو بظاہر لگتا ہے کہ صرف اور صرف اپنے شہریوں کا استحصال کرنے کے لیے ہی وجود میں آئے ہیں۔ اس میں کسی ایک شعبے کا ذکر کرنے کی بجائے یہ اشارہ کردینا کافی ہوگا کہ ایسے اکثر شعبہ جات جزوقتی کارکنوں کے ہی بل بوتے چل رہے ہیں۔ ظاہر ہے جز وقتی کارکن حکومت کے ذریعہ طے کردہ ان سبھی مراعات سے محروم ہیں جو مستقل ملازمین کو حکومت نے دے رکھی ہیں۔سعودی عرب میں بھی بہت سے غیر ملکی محنت کش اور کارکن اسی طرح کے استحصال کا شکارہورہے ہیں۔ لیکن ان کا استحصال سعودی عرب کی حکومت نہیں بلکہ وہاں اپنی کمپنیاں اور دکانیں چلارہے سعودی عرب کے شہری کررہے ہیں۔وہ حکومت اور انتظامیہ کی آنکھوں میں دھول ڈال کر اپنی کمپنیوں میں کام کرنے کے لیے غیرقانونی طور پر لوگوں کو اپنے یہاں بلاتے ہیں یا پھر ان لوگوں کی خدمات حاصل کرتے ہیں جو چوری چپکے سعودی عرب کی سرحدوں میں داخل ہونے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ ایسے افراد اپنے کفیل یعنی مالکان کے رحم وکرم پر ہوتے ہیں۔سعودی عرب میں آج بھی ایسے افراد کی تعداد ہزاروں نہیں لاکھوں میں ہے جنہیں کسی کمپنی میں کام کرنے کی غرض سے بلایا گیا تھا لیکن وہ کہیں دور دراز ریگستانی علاقے میں بے یار و مددگار کسی ایسے کام میں لگے ہوئے ہیں جس کے بارے میں سوچ کر بھی لوگ ڈر جاتے ہیں۔
اب سعودی عرب کی حکومت نے اندرونی حالات کو بدلنے اور اپنے یہاںبے روزگاری کی شرح کو کم کرنے کے لیے قانون میں جو ترمیم کی ہے، اس سے یہ امید بندھی ہے کہ وہاں کچھ لوگوں کے ذریعے انسانوں کے ساتھ غیرانسانی سلوک کرنے والوں پر قدغن لگانے میں کامیابی ملے گی۔
اس سے اگر ہندوستان کے کچھ شہریوں کواپنے روزگار سے ہاتھ دھونا پڑسکتا ہے تو بہت سے لوگوں کو رہائی اور آزادی بھی مل سکتی ہے۔ یہاں ایک بات اور غور طلب ہے کہ کوئی بھی شخص خوشی سے اپنا وطن ترک نہیں کرتا۔ خود اپنے ملک ہندوستان میں اگربہار یا اترپردیش یا کسی اور ریاست سے لوگ دہلی یا ممبئی اور بنگلور کا رخ کرتے ہیں تو اس کی وجہ تلاش معاش ہی ہے۔اگر انہیں اپنے ہی گاؤں گھر میں روزگار کے مواقع مل جائیں تو پھر وہ ہجرت کرنے پر مجبور نہیں ہوںگے ۔ آزادی کے ساتھ اور اپنے وطن میں خشک روٹی کا میسر آنا خوف و ذلت کے ساتھ حلوہ ملنے سے بہتر ہے۔یہ بات ہندوستان کے بھی تارکین وطن پر صادق آتی ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اپنے یہاں سدھار کرنے کی بجائے ہماری حکومت دوسرے ملکوں پر تکیہ کرنے کو زیادہ سہل اور آسان سمجھتی ہے۔
سعودی عرب میں ہندوستان کے 20 لاکھ سے زیادہ لوگ کام کررہے ہیں۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو سعودی عرب کا نطاقت قانون حکومت ہند کو بیدار کرنے کے لیے ایک گھنٹی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک اقتصادی بحران کا شکار ہورہے ہیں۔ ابھی جب نطاقت قانون کے حوالے سے میں مختلف ویب سائٹوں اور اخبارات میں شائع خبروں کو دیکھ رہا تھا تو ان میں دوسرے عرب ملکوں کے علاوہ امریکہ اور یوروپ کے لوگوں کے رد عمل اور تاثرات بھی دیکھنے کو ملے۔ ان میں سے بعض نے بہت تیز و تند لہجے میں اپنے ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے ’ہندوستانیوں‘ کو اپنے یہاں سے نکال باہر کرنے کی بات کہی تھی۔ ظاہر ہے یہ ان مقامی باشندوں کا رد عمل ہے جو روزگار کے مسئلے سے دوچار ہیں۔ اس لیے بہت ممکن ہے کہ مستقبل قریب میں دوسرے ممالک بھی اپنے شہریوں کو روزگار دینے کے لیے اپنے یہاں کے محنت قانون میں ترمیم کریں اور ہندوستانی شہریوں کو اپنے یہاں آنے سے روکنے کی کوشش کریں۔ہم اس کا مشاہدہ برطانیہ میں کام کر رہے ڈاکٹروں کی بابت وہاں کی حکومت کے فیصلے میں کرچکے ہیں۔ اسی طرح امریکہ نے ویزا قانون اور آؤٹ سورسنگ کے معاملے میں جو رویہ اپنایا وہ جگ ظاہر ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم کس کس ملک کو اپنا قانون بدلنے کے لیے کہتے رہیں گے؟
جہاں تک سعودی عرب کے نطاقت قانون کی بات ہے تو ہندوستان کے وزیر برائے غیرملکی امور ویالار روی اور نائب وزیر خارجہ ای احمد کے دورۂ ریاض کے بعد صورت حال میں بہتری آنے کی امید کی جارہی ہے۔ سعودی عرب کے ارباب اقتدار نے اس مسئلے کے حل کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیشن قائم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔لیکن ہندوستان کے محنت کشوں اور کارکنوں کے ساتھ ہی یہاں کے لاکھوں گھروں کا سکھ چین برقرار رکھنے کے لیے حکومت کو دوررس اقدام کرنے ہوں گے۔سعودی عرب کی تعمیر وترقی میں ہندوستانی شہریوں کا جو رول ہے ، اس سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا۔ اس کااعتراف سعودی حکومت کے ارباب حل و عقد بھی بارہا کرچکے ہیں۔ہندوستان اور سعودی عرب کے درمیان لگاتار مضبوط ہوتے رشتوں میں ان محنت کشوں کا بہت اہم رول ہے۔ اس لیے یہ مان لینا کہ سعودی عرب کی حکومت ہندوستانی کارکنوں کو بلاسوچے سمجھے جانوروں کے ریوڑ کی طرح ہانک دے گی، درست نہیں ہے۔وہاں سے ہندوستانی شہریوں کی واپسی خود اس کی معیشت کو بری طرح سے متاثر کرے گی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ سعودی عرب کے بہت سے شہریوں کو کام کرنے کا تجربہ نہیں ہے اور نہ ہی انہیں کام کرنے کی عادت ہے۔ ایسی صورت میں وہاں چل رہی کمپنیاں اگر ناتجربہ کار لوگوں کا بوجھ اٹھائیں گی تو ان کا وجود بھی خطرے میں پڑجائے گا۔اسی لیے سعودی عرب کے نطاقت قانون سے بہت زیادہ گھبرانے کی بجائے اس مسئلے کو ٹھنڈے دل سے بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے ساتھ ہی اپنے ملک میں روزگار کے مواقع پیداکرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے اپنے عوام کی ضرورتوں کا خیال کرتے ہوئے اقتصادی اصلاحات کو عملی جامہ پہنانا ہوگا۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ آپ اپنے یہاں تو خردہ بازار جیسی جگہوں کو غیرملکی کمپنیوں کے ہاتھوں گروی رکھ کر اپنے لوگوں کے ہاتھوں سے روزگار چھیننے کا کام کریں اور دوسروں سے درخواست کرتے پھریں کہ وہ ہمارے لوگوں کو کام دے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *