نقلی دوائوں کے گھوٹالہ پر عمر عبداللہ حکومت خاموش کیوں؟

محمد ہارون 
p-5bاپریل کے پہلے ہفتے میں جموں میں جاری اسمبلی کے اجلاس میں اُس وقت اودھم مچ گئی، جب یہ انکشاف ہوا کہ وادیٔ کشمیر کے سرکاری اسپتالوں کو سپلائی ہونے والی ضد انفکشن، یعنی اینٹی بایوٹک کی ٹکیاں جعلی ہیں اور یہ آٹے سے بنائی جاتی ہیں۔ اسمبلی میں شور و غل مچ جانے کے بعد حکومت کو اس بارے میں کارروائی کرنی پڑی۔ ابتدائی مرحلے میں اس جعلی دوائی سپلائی کرنے والی جموں کی ایک کمپنی کو بلیک لسٹ کرنے اور اس کا لائسنس منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ حکومت نے کیس درج کرکے وادی کے ڈرگ کنٹرولر کو معطل کردیا۔ وزارتِ صحت نے معاملے کی تحقیق کے لیے ایک سہ رکنی کمیٹی قائم کردی۔ سرکاری اسپتالوں کو جعلی ادویات فراہم کرنے کے اس اسکینڈل میں شک کی سوئی سب سے پہلے اس پرچیز نگ کمیٹی کی طرف مڑ گئی، جس نے مذکورہ کمپنی کو یہ دوائی سپلائی کرنے کا ٹھیکہ دیے جانے کو گرین سگنل دیا تھا۔ اس کمپنی کو سابق وزیر صحت شام لعل شرما کے دور میں سال 2012 میں ٹھیکہ دیا گیا تھا۔ اس سنسنی خیز اسکینڈل کے بارے میں حکومت کی پوزیشن اس وقت مضحکہ خیز بن گئی، جب یہ پتہ چلا کہ حکومت نے تحقیقات کے لیے جو تین نفری کمیٹی قائم کی ہے، اس میں پر چیزنگ کمیٹی، جو اس سارے معاملے میں سب سے بڑی ملزم ہے، کے ایک اہم رکن کو شامل رکھا گیا ہے، یعنی ملزم کو ہی محقق مقرر کیا گیا۔ اس رونگٹے کھڑے کردینے والے اسکینڈل کے سامنے آنے کے بعد وادی میں ’ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر‘نے سابق وزیر صحت کے خلاف فوجداری کیس درج کرنے کا مطالبہ شروع کردیا اور اس کے ساتھ ہی وادی میں جعلی ادویات فراہم کرنے کے خلاف سول سوسائٹی بھی متحرک ہوگئی۔ ابھی وادی کے اسپتالوں میں ’اینٹی بایو ٹک ‘ ادویات کے نام پر آٹے سے بنی ٹکیوں کے معاملے پر الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ جاری ہی تھا کہ میڈیا کے ذریعے یہ انکشاف بھی ہوا کہ سابق وزیر صحت شام لعل شرما کے دور اقتدار میں نجی فرموں کی طرف سے اسپتالوں کو سپلائی کی جانے والی ادوایات میں 13 اقسام کی ادویات غیر معیاری پائی گئی ہیں۔ ان ادویات کی سپلائی کی منظوری بھی سینٹرل پر چیزنگ کمیٹی نے دی تھی۔ اس بات کی تصدیق بھی ہوگئی ہے کہ ان 13 غیر معیاری ادویات کو اسپتالوں کو سپلائی کرنے کا معاملہ جولائی 2011 میں ہی حکومت کے نوٹس میں آیا تھا، لیکن حیران کن طور پر اسے اس وقت دبایا گیا تھا۔ اس معاملے میں حکومت نے جموں و کشمیر کے ڈرگ اسٹورس سے 311 نمونے حاصل کیے تھے۔ ان نمونوں میں 13 ادویات کو غیر معیاری پایا گیا تھا۔ عجیب بات یہ ہے کہ محکمہ ڈرگ کنٹرول نے ان ادویات کے غیر معیاری اور جعلی ہونے سے متعلق رپورٹ سینٹرل پر چیزنگ کمیٹی کو فراہم کی تھی، لیکن پر چیزنگ کمیٹی نے ان ادویات کی سپلائی منسوخ نہیں کرائی، یعنی غیر معیاری ادویات کی سپلائی کو جاری رکھا گیا۔ اس سارے معاملے پر جب شور و غل مچا، تو حکومت نے جعلی ادویات فراہم کرنے والی ادویات کی فرم کے خلاف ایک فوجداری مقدمہ درج کر لیا۔ ماہرین کی ایک ٹیم کو تحقیق کا کام سپرد کیا گیا، لیکن تحقیق کا یہ معاملہ انتہائی سست رفتاری سے جاری ہے اور ایک عام تاثر ہے کہ حکومت معاملے کودبانے کی کوشش کررہی ہے۔ معاملہ یہیں پر ختم نہیں ہوتا، بلکہ جعلی ادویات کی فراہمی کے اسیکنڈل کے بے نقاب ہونے کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ جموں و کشمیر میں محکمہ صحت نے قوائد و ضوابط کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے گزشتہ دس سال میں 17 ہزار فارماسسٹ لائسنس جاری کیے ہیں، یعنی اب صرف ادویات جعلی نہیں ہیں، بلکہ ادویات بیچنے والے بھی نا اہل ہیں۔ اس ضمن میں یہ بات بھی منکشف ہوئی ہے کہ صرف پچھلے چار سال میں 11 ہزار لائسنس قواعد و ضوابط کو روندتے ہوئے جاری کیے گئے ہیں۔ لائسنس جاری کرنے کے لیے ضروری تھا کہ ان کے بارے میں نوٹیفکیشن جاری کیا جاتا، لیکن محکمہ صحت نے ایسا نہیں کیا، یعنی ادویات بیچنے کے لائسنس کس کس کو فراہم کیے گئے، اس کے بارے میں کسی کو کانوں کان بھی خبر نہیں ہونے دی گئی ہے۔
ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر نثارالحسن نے الزام عائد کیا کہ محکمہ صحت کے افسران نے رشوت کے عوض میں ان ادویات کو فروخت کرنے کے لائسنس اندھا دھند طریقے سے جاری کیے ہیں۔ ڈاکٹرس ایسوسی ایشن نے پچھلے چند سال کے دوران وادی کے سرکاری اسپتالوں میں ہوئی اموات کی تحقیق کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے، تاکہ یہ پتہ چلے کہ جعلی ادویات کے استعمال سے کتنی انسانی زندگیاں ضائع ہوئی ہیں۔ ’’چوتھی دنیا‘‘ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر نثار الحسن نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ پچھلے کئی برسوں سے وادی کے سرکاری اسپتالوں میں غیر معیاری ادویات سپلائی کرنے کے اس اسکینڈل میں چھوٹے افسران سے لے کر وزارتِ صحت کے بڑے بڑے عہدیداران تک شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’جب 2011 میں ہی یہ پتہ چل گیا تھا کہ 13 اقسام کی ادویات جعلی یا غیر معیاری ہیں، تو حکومت نے ان کی سپلائی کیوں نہیں روکی؟ پچھلے دو سال سے اس مسئلے پر خاموشی کیوں اختیار کی گئی۔‘‘ ڈاکٹر نثار کا یہ بھی الزام ہے کہ محکمہ صحت نے رشوت لے کر پرچون کی دکانیں چلانے کے لیے ہزاروں لائسنس جاری کر دیے ہیں۔ جعلی ادوایات کی سپلائی اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پرچون ادویات بیچنے کے لیے لائسنس فراہم کرنے کے اس شرمناک اسکینڈل کے چلتے محکمہ صحت کی بدحالی کی کئی اور بھی مثالیں پچھلے تین ہفتوں کے دوران سامنے آئی ہیں۔ ایک اسکینڈل یہ بھی ہے کہ قومی دیہی صحت مشن کے تحت چند سال پہلے ڈرگ کٹس کی خریداری میں بھاری گھپلے ہوئے ہیں۔ اس ضمن میں سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق حکام کی ہدایت پر ایک کروڑ 90 لاکھ 88 ہزار 502 روپے کے ڈرگ کٹس 4 کروڑ 8 لاکھ 77 ہزار 903 روپے میں خرید کر سرکاری خزانہ کو لوٹا گیا ہے۔ اسی طرح ریاست کے سرکاری اسپتالوں کے لیے وینٹی لیٹرس کی خریداری میں بھی بڑے پیمانے پر گھپلے ہوئے ہیں۔ اس سارے معاملے کی تحقیق کے لیے نامزد کی گئی سرینگر کی ایک خصوصی عدالت نے حال ہی میں 15 ملزمان کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیے ہیں، جن میں سے کئی لوگ گرفتار ہوچکے ہیں اور بعض ہنوز روپوش ہیں۔ گزشتہ 30 اپریل کو سرینگر میں ہائی کورٹ نے مفاد عامہ میں دائر کی گئی وہ عرضی سماعت کے لیے منظور کرلی، جو جعلی ادویات کی سپلائی کے خلاف ڈاکٹرس ایسوسی ایشن نے پیش کی تھی۔ عدلیہ نے اس درخواست پر ابتدائی کارروائی کرتے ہوئے ریاستی حکومت اور سابق وزیر صحت شام لعل شرما کے نام نوٹس جاری کردیے ہیں، جس میں جعلی ادوایات کے بارے میں انہیں اپنا موقف بیان کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ عدالت عالیہ کی اس کارروائی اور اس سے پہلے سرینگر کی ایک نچلی عدالت کی جانب سے 15 ملزمان کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کرنے کے باوجود وادی میں ایک عام خدشہ یہ ہے کہ حکومت اس معاملے کو دبانے کی بھر پور کوشش کررہی ہے۔ اس بارے میں سرکردہ سماجی کارکن اور ویلی سٹیزنس فورم کے صدر ظریف احمد ظریف نے ’’چوتھی دنیا‘‘ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایسا لگتا ہے کہ عمر عبداللہ کی سرکار اس معاملے کو بھی اسی طرح دبانے کی کوشش کررہی ہے، جیسے کہ اس سے پہلے کے کرپشن کے اسکینڈلز کو دبایا گیا۔‘‘ ظریف نے یاد دلاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال کانگریس کے سینئر لیڈر اور ریاستی وزیر تعلیم پیر زادہ محمد سعید پر جب یہ الزام عائد ہوا تھا کہ انہوں نے بحیثیت وزیر تعلیم اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے، اپنے بیٹے کو دسویں جماعت کے امتحانات میں نقل کرانے کی چھوٹ دلوائی تھی، تو اس وقت وزیر اعلی عمر عبداللہ نے ان سے استعفیٰ طلب کیا تھا، لیکن پیرزادہ نے وزیر اعلیٰ کے سامنے اپنا استعفیٰ پیش کرنے کے بجائے اسے مرکزی کانگریس کی چیئر پرسن سونیا گاندھی کو اپنا استعفیٰ بھیج دیا اور سونیا گاندھی نے پیر زادہ کا استعفیٰ نامنظور کر دیا۔ اس طرح سے وزیر اعلیٰ کو خفت اٹھانی پڑی۔ اس واقعہ کے چند ماہ بعد بدعنوانیوں کا ایک اور اسکینڈل منظر عام پر آیا، جب کانگریس کے ایک اور سینئر لیڈر اور کابینہ وزیر تاج محی الدین پر جنوبی ضلع شوپیاں میں ایک جنگلاتی اراضی پر قبضہ جمانے کا انکشاف ہوا تھا۔ اس ضمن میں حزب اختلاف کے ممبران نے اسمبلی میں دستاویزی ثبوتوں کی نقول بھی تقسیم کروا ئی تھیں، لیکن بعد میں اس معاملے کو دبا دیا گیا۔ اسی لیے وادی کے سیاسی حلقوں میں فی الوقت یہ تاثر تقویت پا رہا ہے کہ حکومتی سطح پر جعلی ادویات کا اسکینڈل بھی دبا دیا جائے گا، کیونکہ جعلی ادویات کی سپلائی کے اسکینڈل میں بھی کانگریس کے ہی ایک سینئر لیڈر، یعنی شام لعل شرما پر الزامات عائد ہوئے ہیں۔ ظریف احمد ظریف کا کہنا ہے کہ ’’دراصل عمر عبداللہ اور ان کی جماعت نیشنل کانفرنس حکومت میں اپنی اتحادی جماعت، یعنی کانگر یس کو نارا ض نہیں کرنا چاہتی ہے، کیونکہ اسمبلی انتخابات قریب آرہے ہیں اور ممکن ہے کہ نیشنل کانفرنس کو اگلی حکومت بنانے کے لیے بھی کانگریس کا ہی سہارا لینا پڑے۔اس لیے اگر نیشنل کانفرنس کانگریس کو ناراض کرتی ہے، تو ممکن ہے کہ اگلے انتخابات کے بعد کانگریس نیشنل کانفرنس کے بجائے مفتی محمد سعید کی پیپلز ڈیموکڑیٹک پارٹی کے ساتھ گٹھ جوڑ کرلے اور نیشنل کانفرنس اقتدار کی مسند سے بے دخل ہوجائے۔‘‘ ظریف کے اس استدلال میں کافی دم خم نظر آتا ہے، کیونکہ جموں و کشمیر کے باتونی وزیر اعلیٰ نے ایک ماہ قبل جعلی ادویات کے اسکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد اب تک اس بارے میں کوئی بیان نہیں دیا اور نہ ہی نیشنل کانفرنس کے کسی اور لیڈر نے اس پر رائے زنی کی۔ تاہم سول سوسائٹی نے جعلی ادویات کے معاملے میں کڑا رخ اختیار کیا ہے۔ اب تک اس موضوع پر کئی سمینار کرائے جا چکے ہیں۔ احتجاجی مارچ بھی کیا گیا، کئی عام ہڑتالیں بھی ہوئیں اور وکلا نے بھی ایک دو بار جعلی ادویات کے اسکینڈل پر اظہار برہمی کرتے ہوئے بطور احتجاج عدالتوں کا بائیکاٹ کیا ہے۔
کشمیر سینٹر فار سوشل اینڈ ڈیولپمنٹ اسٹڈیز کی سربراہ اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والی انجمنوں کی ایک خاتون نمائندہ پروفیسر حمیدہ نعیم نے ’’چوتھی دنیا‘‘ کے ساتھ ایک بات چیت میں کہا کہ ’’اس بات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ حکومت کو جعلی ادویات کا اسکینڈل دبانے کا موقع دیا جائے گا، کیونکہ یہ کرپشن کا کوئی عام معاملہ نہیں ہے، بلکہ جعلی ادویات سپلائی کراکے، دراصل انسانی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا ہے۔ اس کو دبانے نہیں دیں گے، بلکہ مجرموں کو ان کے انجام تک پہنچانے کے لیے ہماری کوشش جاری رہے گی۔‘‘ دیکھنے والی بات یہ ہوگی کہ کیا نیشنل کانفرنس کی سربراہی والی مخلوط سرکار اس گھناؤنے اسکینڈل میں ملوث لوگوں کو ننگا کرنے میں بھر پور کردار نبھاتی ہے یا پھر مصلحت کی سیاست کی چادر میں ان گناہ گاروں کی پردہ پوشی کرے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *