مگر صبر کیوں اور کب تک؟

کمل مرارکا 

سربجیت کے قتل نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ہر طرف پاکستان کے خلاف غصہ ہے۔ہمیں آخر اب کرنا کیا چاہئے، یہی بتارہا ہے یہ تجزیہ……..

پاکستان کی ایک جیل میں سربجیت سنگھ کی موت، پاکستان کے ذریعہ ہندوستان کی سب سے بڑی توہین ہے۔اس نے غلط پہچان کی بنیاد پر23 سال تک ایک قیدی کو حراست میں رکھا اور کوئی راستہ بھی نہیں، چاہے جوڈیشیل پروسیس ہو یا صدر کی طرف سے معافی کا ذریعہ، جس سے کہ وہ رہا ہو سکے۔ دبائو بنایا جارہا تھا،یہ عوام کا دبائو تھا۔ہندوستان اور پاکستان کے ہی حقوق انسانی کے کارکنوں نے سرکار پر دبائو ڈالا۔ پاکستان نے بجائے قانون کے جنرل پروسیجر کو قبول کرنے کے ایسا کیا، جس کو دنیا میں کوئی بھی سرکار سوچ یامنظور نہیں کرسکتی۔فوجی علاقے کے اندر ایک قتل ،دیگر قیدیوں کو اس آدمی کو مارنے کے لئے پیسوں کی ادائیگی کی گئی تاکہ پاکستانی سرکار کی کوئی ذمہ داری نہیںبنے۔
بیشک اب طالبان وغیرہ کا حملہ بکواس باتیں ہیں۔ کسی کے بھی یہ سمجھ میں آئے گا کہ جو کچھ بھی جیل کے اندر ہوا وہ زیادہ خطرنا ک ہے۔ ایشو یہ ہے کہ ہندوستانی سرکار کیا کرتی ہے؟ ابھی ہمارے پاس جو سرکار ہے، وہ پچھلے کئی سالوں کی سب سے کمزور سرکار ہے۔ وہ کچھ نہیں کرے گی، سوائے کچھ بیان دینے کے۔ اب بات چیت کے لئے وقت ختم ہوچکا ہے۔ اب ہندوستان کو چاہئے کہ وہ پاکستان کو اپنی طاقت دکھائے۔ بیشک یہ ایشو بڑے ایشو کے مقابلے چھوٹا ہے، لیکن اس کی بھی اہمیت کم نہیں ہے۔ پاکستان کو اگر اس ذمہ داری کو قبول کیے بغیر جانے دیا جاتا ہے ،تو یہ بہت غلط ہوگا۔
آپ ان لوگوں کے ساتھ بات چیت کرکے کچھ حاصل نہیں کرسکتے ۔ آپ کیا کہتے ہیں، اس کے لئے آپ ذمہ دار ہیں ،وہ نہیں۔ وہ کہہ دیں گے کہ یہ ایک ’’نان اسٹیٹ ایکٹ ‘‘ ہے۔2008 کے ممبئی حملے کے لئے آپ کسی اور کو قصوروار ٹھہرا سکتے ہیں۔انہوں نے مانا کہ وہ پاکستان سے آئے ہیں، لیکن اس میں وہاں کی سرکار کا کوئی کردار نہیں ہے۔ فوج کا کوئی کردار نہیں ہے۔ آئی ایس آئی کا کوئی کردار نہیں ہے۔ پولیس کارروائی نہیں کر سکتی ۔ بیشک یہ کام ساتھی قیدیوں نے کیا ہے۔وہ آسانی سے اپنے کو پاک صاف بول دیں گے۔ہم پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات سدھارنے کے لئے بہت زیادہ زور لگا چکے ہیں۔
میں نہیں سمجھتا کہ دوسرا فریق غیر جانبدار رہا ہے۔ ہمیں یہ سب چھوڑ دینا چاہئے۔یہ کارروائی کے بدلے کارروائی کا وقت ہے۔پاکستان کو یہ نہیں لگنا چاہئے کہ یہ یکطرفہ ایشو ہے۔ ہندوستان ایک بڑا ملک ہے ۔ اس کے پاس نیوکلیئر پاور ہے۔ ایسے میں یہ شبیہ بنانا کہ ہم کمزور ہیں، اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ دوستی ٹھیک ہے ،سفارتی تعلقات ٹھیک ہیں،لیکن کمزور ملک کی شبیہ بناناصحیح نہیں ہے۔
بد قسمتی سے موجودہ وزیر اعظم کو اور اس ملک کو کمزور سمجھا جارہا ہے۔کوئی بھی آسکتاہے اور ہمیں تھپڑ مار سکتاہے۔ کوئی بھی اپنے فوجیوں کو سرحد کے اندر انیس کلو میٹر تک بھیج سکتاہے۔ جیل میں ایک ساتھی قیدی کو مار سکتا ہے، فوجیوں کے سر کاٹ سکتا ہے،پھر بھی ہم کچھ نہیں کرتے ۔ اس کالم میں پہلے بھی کہا جا چکا ہے کہ ہمارے پاس ایک نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر ہے، کیبنٹ کمیٹی آن سیکورٹی ہے اور ایک نیشنل سیکورٹی ایڈوائزری بورڈ ہے۔ آخر یہ سب کیا کر رہے ہیں؟ اب وقت آگیا ہے کہ ہم وزیر اعظم یا صدر جمہوریہ کی صدارت میں ٹھوس کارروائی کرنے کے لئے مشورہ کریں۔ ہاں! ملک میں ایسے بھی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ صبر کریں،لیکن سوال یہ ہے کہ صبر کیوں اور کب تک؟اب پاکستان میں عام انتخاب کا موقع ہے،ہمیں نہیں پتہ کہ انتخاب کے بعد کیا ہوگا؟یہاں کوئی بھی بلی کے گلے میں گھنٹی نہیں باندھنا چاہتا اور پھر بھی کہتا ہے کہ اب بہت ہوا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *