کس صورت میں عدالت کی توہین ہوگی

rtiگزشتہ شمارہ میں ہم نے آپ کو آرٹی آئی اور پارلیمانی اختیارات کیمتعلق بتایا تھا۔ہم امید کرتے ہیں کہ آگے سے جب کبھی بھی آپ کوپبلک انفارمیشن آفیسر کی طرف سے ایسا جواب ملے کہ’ پارلیمانی خصوصی اختیارات سے جڑے ہونے کی وجہ سے آپ کو مکمل جانکاری نہیں دی جا سکتی ہے‘ تب آپ چپ چاپ نہیں بیٹھیں گے۔ بلکہ ایسی کوشش کریں گے کہ پبلک انفارمیشن آفیسر کو خط لکھ کر یا ذاتی طور پر مل کر یہ سمجھانے کی کوشش کریں گے کہ کیسے آپ کے ذریعہ مانگی گئی اطلاع کو عام کرنے سے پبلک کو فائدہ پہنچے گا اور اگر پھر بھی پبلک انفارمیشن آفیسر آپ کی باتوں سے متفق نہیں ہوتا ہے تب آپ اپنے ثبوتوں کے ساتھ فرسٹ اپیل یا دوسری اپیل ضرور کریں گے ۔ اس کے آگے اس شمارہ میں ہم آپ کو ایسی اطلاع کے انکشاف سے متعلق باتیں بتا رہے ہیں جس کا تعلق عدالت سے ہے یا جس کے بارے میں کہا جاتاہے کہمکمل اطلاع کو عام کرنے سے عدالت کی توہین ہوتی ہے۔ ہم آپ کو بتا دیں کہ پبلک انفارمیشن آفیسر زعدالت کی توہین کی بات کہہ کر کئی مرتبہ اطلاع دینے سے منع کر دیتے ہیں ۔ ہوسکتاہے کہ کبھی کبھی یہ دلیل صحیح بھی ہو،لیکن زیادہ تر معاملوں میں دیکھا گیاہے کہ پبلک انفارمیشن آفیسر اس دلیل کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ درخواست کنندہ کو عدالت کی توہین کی صحیح ڈیفینیشن کے بارے میں جانکاری ہو۔ اس شمارہ میں ہم آپ کو مثال سمیت یہ بتا رہے ہیں کہ عدالت کی توہین کب اور کیسے ہوتی ہے اور کن کن صورتوں میں آپ کو اطلاع دینے سے منع کیا جا سکتا ہے اور کن کن صورتوں میں نہیں۔ ہمیں امید ہے کہ آپ جم کر آر ٹی آئی قانون کا استعمال کر رہیہوںگے اور دوسروں کو بھی اس کے لئے راغب کر رہے ہوں گے۔ اگر کوئی مسئلہ درپیش ہو یا کسی طرح کی پریشانی ہو تو ہمیں بتائیں ۔ ہم ہر قدم پر آپ کو مدد دینے کے لئے تیار ہیں۔
حق اطلاعات قانون 2005 کی دفعہ 8(1)(B)میں ایسی اطلاعیں جن کے شائع کرنے پر کسی عدالت یا ٹریبونل کی طرف سے خاص طور پر پابندی لگائی گئی ہو یا جس کے شائع کرنے سے عدالت کی توہین ہوتی ہو، اس کے عام کیے جانے پر روک لگائی گئی ہے۔ اگر کوئی معاملہ کسی کورٹ میں فیصلہ کے لئے زیر غور ہے تواس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس سے متعلق کوئی اطلاع نہیں مانگی جا سکتی ۔ زیر غور معاملوں کے سلسلے میں کوئی اطلاع عام کیے جانے سے کورٹ کی توہین ہو، یہ ضروری نہیں ہے۔ ہاں ،کوئی خاص اطلاع جو کورٹ نے صاف طور پر عام کیے جانے پر روک لگا دی ہو، اگر اسے عام کیے جانے کی بات ہوگی تو کورٹ کی توہین ضرور ہوگی۔ گودھرا جانچ کے دوران ہائی کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں ریل منسٹری کو خصوصی طور پر حکم دیا تھا کہ گودھرا قتل عام کی جانچ رپورٹ پارلیمنٹ کے سامنے پیش نہ کریں۔ عدالت نے رپورٹ کے عام کیے جانے پر روک لگا دی۔ اس اطلاع کے دیے جانے سے کورٹ کی توہین بھی ہوسکتی ہے اور دفعہ 8(1)(B) کی خلاف ورزی بھی۔ ایسے ایشوز پر فیصلہ دیتے وقت افسروں کو صرف وہی اطلاعات دینے سے منع کرناچاہئے ،جس کو عدالت نے خاصطور پر عام کیے جانے سے روک رکھا ہے۔ کچھ معاملوں میں دیکھنے میںآیا ہے کہ سرکاری افسر اس دفعہ کا استعمال اطلاع نہیں دینے کے بہانے کے طور پر دھڑلے سے کر رہے ہیں۔ افروز نے ایمس اور دلی پولیس سے بٹلہ ہائوس انکائونٹر کے دوران مارے گئے دہشت گردوں کی پوسٹ مارٹم رپورٹ، ایف آئی آر کی کاپی ، دہلی میں ہوئے سیریل دھماکوں کی تفتیش کے دوران گرفتاری وغیرہ کی جانکاری مانگی تھی۔ جواب میں بتایا گیا کہ معاملہ عدالت میں زیر غور ہے لہٰذا اطلاع نہیں دی جا سکتی، جبکہ کور ٹ کی طرف سے اطلاع عام نہیں کیے جانے کے سلسلے میں کوئی بھی آرڈر سامنے نہیں آیا۔ ظاہر ہے ، ایسے وقت میں جب اطلاع نہ دینا ایک مثال بنتا جارہا ہو، انفارمیشن کمشنر کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔
کیا کہتا ہے قانون:حق اطلاعات قانون میں کورٹ کی توہین کو ڈیفائن نہیں کیا گیا ہے۔ اسے سمجھنے کے لئے توہینِ عدالت قانون1971 کا سہارا لیا جا سکتا ہے۔ قانون کی دفعہ 2(A)(B) اور (C) میں بتایا گیا ہے کہ (الف) دیوانی یا فوجداری دونوں طرح سے کورٹ کی توہین ہو سکتی ہے۔(ب) اگر کسی کورٹ کے فیصلے ، ڈگری، حکم ، ہدایت، رٹ یا کورٹ کی کسی کارروائی کی جان بوجھ کر خلاف ورزی کی جائے یا کورٹ کے ذریعہ دیے گئے کسی حلف کو جان بوجھ کر توڑ دیا جائے تو یہ کورٹ کی دیوانی توہین ہوگی۔ (ج)کسی انکشاف چاہے وہ زبانی، تحریری،کنائی یا کسی دیگر کسی طریقے سے ہو۔
1 بدنام کرنے یا بدنام کرنے کی کوشش یا توہین یا کورٹ کو نیچا دکھانے کی کوشش کی جائے
2 کسی عدالتی کارروائی میں مداخلت
3 عدالتی نظاممیں کسی طرح سے خلل ڈالنا ،مداخلت کرنا یا رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرنا، اس سے عدالت کی توہین ہوسکتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *