کرناٹک اسمبلی انتخابات : راہل بڑے نہ مودی؟

ڈاکٹر قمر تبریز 
p-3کرناٹک اسمبلی انتخاب کے نتائج زیادہ چونکانے والے نہیں ہیں۔ الیکشن سے کافی پہلے ہی سیاسی تجزیہ کار یہ پیش گوئی کر چکے تھے کہ اس دفعہ کرناٹک میں کانگریس کی ہی حکومت بننے والی ہے۔ یدیو رپا کے ساتھ بی جے پی ہائی کمان نے جس طرح کا مذاق کیا اور پھر ایک لمبے عرصے تک بی جے پی اعلا کمان اور یدیو رپا میں جس طرح چوہا بلی کا کھیل چلتا رہا، اس سے یہ بات عیاں ہو چکی تھی کہ بی جے پی کے لیے کرناٹک کی کرسی بچا پانا بہت مشکل ہو جائے گا۔ کانگریس بھی بی جے پی کی اندرونی لڑائی سے خود کو مضبوط کرنے کی کوششوں میں لگی ہوئی تھی، جس کا پھل آج اس کے ہاتھ میں ہے۔ لیکن ان سب سے قطع نظر آج پورا ملک کسی بھی انتخاب میں اگر کسی کی صلاحیت کا اندازہ لگانے کی کوشش کرتا ہے، تو وہ دو لیڈر ہیں کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی اور گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی۔ جس دن سے ملک میں بے جی پی نے یہ ہوا پھیلائی ہے کہ اس کی طرف سے اگلے لوک سبھا انتخاب میں وزیر اعظم کے امیدوار نریندر مودی ہیں، تبھی سے کانگریسی حلقوں کی طرف سے راہل گاندھی کو ملک کے اگلے وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر پیش کیا جانے لگا ہے۔ جہاں تک کرناٹک اسمبلی انتخاب کے دوران پرچار کا سوال ہے، تو کانگریس کی طرف سے صوبے میں راہل گاندھی سمیت خود سونیا گاندھی، وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ اور دہلی کی وزیر اعلیٰ شیلا دکشت نے کئی ریلیاں کیں۔ وہیں بی جے پی کی طرف سے بھی نریندر مودی سمیت لوک سبھا میں حزبِ اختلاف کی لیڈر سشما سوراج، پارٹی کے صدر راجناتھ سنگھ جیسے قد آور لیڈروں نے انتخابی ریلیاں کیں۔ لیکن کرناٹک کے عوام پر قومی سطح کی ان دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں کے قد آور لیڈروں کا کوئی زیادہ اثر نہیں پڑا۔ کانگریس کو اگر وہاں پر جیت ملی ہے، تو اسے یدیورپا کی مہربانی کہا جائے گا، جنہوں نے یہ ٹھان لیا تھا کہ وہ کسی بھی حالت میں صوبے کے اندر بی جے پی کو دوبارہ اقتدار میں آنے نہیں دیں گے، البتہ بی جے پی سے ان کی دشمنی خود ان کے لیے بھی وبالِ جان بن گئی اور وہ خود الیکشن تو ہارے ہی، اپنی پارٹی کو بھی کسی نمایاں کامیابی سے ہم کنار نہیں کر سکے ۔ ان کی نو تشکیل شدہ پارٹی، کرناٹک جنتا دل کو صرف 6 سیٹوں پر ہی اکتفا کرنا پڑا۔ دوسری طرف کمار سوامی کی پارٹی جنتا دل سیکولر نے بی جے پی کے برابر ہی 40 سیٹیں جیت کر سب کو حیرانی میں ڈال دیا۔ اس پر سب سے زیادہ اگر کسی کو افسوس ہو رہا ہے، تو وہ بی جے پی ہے، جو اب یہ دعویٰ نہیں کر سکتی ہے کہ کرناٹک میں وہ دوسرے نمبر کی واحد پارٹی ہے۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو کرناٹک کے اسمبلی انتخاب میں سیدھی لڑائی کانگریس اور بی جے پی کے درمیان ہی تھی، لیکن کانگریس کو فائدہ اس لیے مل گیا، کیوں کہ ایک تو وہ اقتدار میں نہیں تھی، دوسرے اس کے مخالفین میں یدیورپا جیسا کوئی باغی نہیں تھا۔

کرناٹک اسمبلی انتخاب میں کانگریس نے بازی مار لی ہے۔ 224 سیٹوں والی صوبائی اسمبلی میں اسے 121 سیٹیں ملی ہیں۔ پورے ملک کو الیکشن کے نتائج کا بے صبری سے انتظار تھا، کیوں کہ ہندوستان کے لوگ یہ جاننا چاہتے تھے کہ کرناٹک میں راہل اور مودی کا جادو چلتا ہے یا نہیں۔ لوگوں کی توجہ ان دونوں پر اس لیے مرکوز تھی، کیوں کہ ایک طرح سے دونوں ہی لیڈر اپنی اپنی پارٹیوں کی طرف سے اگلے لوک سبھا الیکشن کے لیے وزیر اعظم کے عہدے کے غیر اعلانیہ امیدوار بن چکے ہیں۔ یہ بات الگ ہے کہ ہندوستان کا دانشور طبقہ ان دونوں میں سے کسی کو بھی وزیر اعظم کے عہدہ کے لائق نہیں مانتا۔ اب کرناٹک کے عوام نے بھی یہ ثابت کر دیا ہے کہ ملک کا اگلا وزیر اعظم بننے کی صلاحیت نہ تو راہل گاندھی کے اندر ہے اور نہ ہی نریندر مودی کے اندر۔

راہل گاندھی نے کرناٹک میں مودی کے مقابلے زیادہ ریلیاں کیں۔ مودی نے جہاں صرف بنگلور، منگلور اور بیلگام میں تین انتخابی ریلیوں سے خطاب کیا، وہیں راہل گاندھی نے ایک درجن سے زیادہ انتخابی ریلیوں میں تقریر کی۔ ان ریلیوں میں مودی نے جہاں سونیا گاندھی، راہل گاندھی اور منموہن سنگھ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور ان پر فقرہ کسا، اسی طرح راہل گاندھی نے بھی ایسا کوئی متبادل پیش نہیں کیا، جس سے بدعنوانی اور مہنگائی پر قابو پایا جاسکے۔ وہ اپنی تمام ریلیوں میں انہی دو چار باتوں کو دوہراتے رہے، جو پہلے بھی کانگریس کے دوسرے لیڈر دوہراتے آئے ہیں، جیسے کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت نے اس ملک کو حق اطلاعات قانون (آر ٹی آئی) دیا، حق تعلیم یا رائٹ ٹو ایجوکیشن (آر ٹی ای) یو پی اے حکومت نے منریگا کے تحت گاؤں کے ہر بے روزگار کو سال میں 100 دن کا روزگار دیا۔ ان ریلیوں میں راہل گاندھی بھی یہی کہتے نظر آئے کہ بی جے پی کے لوگوں کو اپنا کرپشن دکھائی نہیں دیتا، ٹھیک اسی طرح، جیسے بی جے پی کے لیڈر کانگریس کو بدعنوانی کے لیے قصوروار مانتے رہے ہیں۔ اگر صحیح معنوں میں دیکھا جائے، تو کرناٹک میں کانگریس کو ملی جیت کا سہرا وہاں کے مقامی لیڈروں اور خاص کر آسکر فرنانڈیز اور مدھو سودن مستری کے سر جاتا ہے، جو میڈیا میں کم اور عوام کے درمیان زیادہ دکھائی دیے۔
box-3جہاں تک مودی کا سوال ہے، تو بعض ذرائع سے ملنے والی خبروں پر اگر یقین کریں، تو کرناٹک بی جے پی چاہتی تھی کہ نریندر مودی درجن بھر سے زیادہ انتخابی ریلیوں کو مخاطب کریں۔ لیکن اس کے برعکس نریندر مودی بالکل نہیں چاہتے تھے کہ وہ کرناٹک میں بی جے پی کے لیے پرچار کریں۔ انہیں اس بات کا ڈر تھا، جو اب سچ بھی ثابت ہو چکا ہے، کہ اگر کرناٹک میں بی جے پی ہار گئی، تو اس کے لیے سب سے زیادہ نشانہ مودی پر ہی لگایا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ مودی نے بہت پھونک پھونک کر قدم اٹھایا اور صرف پرچار ختم ہونے سے ایک دن پہلے بنگلور میں ایک بڑے مجمع سے خطاب کیا۔ وہاں جا کر نریندر مودی نے بھی علاوہ یو پی چیئر پرسن سونیا گاندھی، وزیر اعظم منموہن سنگھ اور کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی پر وار کرنے کے علاوہ کوئی ایسا بڑا مدعا نہیں چھیڑا، جس سے کہ بی جے پی مخالف ہوا پر کوئی روک لگ پاتی۔ نریندر مودی کرناٹک کے عوام کا موڈ سمجھنے میں پوری طرح ناکام رہے۔ انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ جس راہل گاندھی کو وہ ’سونے کا چمچہ‘ کہہ رہے ہیں، کل کو یہاں پر اسی کی سرکار بننے والی ہے۔ وہ یہ بھی نہیں سمجھ پائے کہ جس مہنگائی اور بدعنوانی کے لیے وہ منموہن سنگھ اور سونیا گاندھی کو قصور وار ٹھہرا رہے ہیں، اسی مہنگائی اور بدعنوانی کی وجہ سے کرناٹک بی جے پی میں بغاوت ہوئی ہے۔ ہاں، اپنی اس انتخابی تقریر میں اگر نریندر مودی کرناٹک کے لوگوں سے یہ وعدہ کرتے کہ اگر دوبارہ صوبے میں ان کی پارٹی کی سرکار بنتی ہے، تو بجرنگ دل، شری رام سینا اور اس جیسی سماج اور ملک دشمن تنظیموں کو قانون و انتظامیہ سے کھلواڑ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، تو شاید وہاں کے لوگوں کو بی جے پی سے ضرور کچھ ہمدردی ہو جاتی۔ اگر نریندر مودی کرناٹک کے لوگوں کو یہ یقین دلاتے کہ جس طرح سے انہوں نے گجرات میں آر ایس ایس اور اس جیسی سخت گیر ہندو تنظیموں پر لگام کس رکھی ہے، کرناٹک میں دوبارہ اقتدار میں آنے پر یہاں بھی بی جے پی ایسا ہی کرے گی، تو شاید لوگوں میں ان کی پارٹی کے تئیں کچھ امید جگتی اور وہ کانگریس کی گود میں نہیں جاتے۔ کرناٹک کے لوگ یدیو روپا اینڈ کمپنی کے ذریعے انجام دیے گئے گھوٹالوں سے بیزار تو تھے ہی، وہ اس بات سے بھی نالاں تھے کہ بی جے پی حکومت کی آڑ میں صوبے میں سرگرم تمام سماج دشمن عناصر وہاں کے امن پسند عوام کی نیندیں حرام کیے ہوئے ہیں۔ کبھی کسی نائٹ پارٹی میں ہنگامہ ہوتا ہے، تو کبھی کسی پارک میں کسی جوڑے کو مارا پیٹا جاتا ہے۔ اس طرح دیکھا جائے، تو کرناٹک میں بی جے پی کی ہار کا یہ بھی ایک بڑا سبب رہا۔
جہاں تک کرناٹک اسمبلی میں مسلم امیدواروں کی سیٹ کا سوال ہے، تو پچھلے انتخاب کے مقابلے اس بار مسلم ممبرانِ اسمبلی کی تعداد میں تین کا اضافہ ہوا ہے، یعنی پچھلے الیکشن میں کل 8 مسلم امیدوار جیتے تھے، جب کہ اس دفعہ کل 11 مسلم امیدوار جیتے ہیں۔ ان میں سے 9 مسلم امیدوار کانگریس پارٹی سے ہیں، جب کہ 2کا تعلق جنتا دل سیکولر سے ہے۔ جیتنے والے ان 11 مسلم امیدواروں میں سے 7 گزشتہ اسمبلی کے سٹنگ ایم ایل ایز ہیں، یعنی وہ اپنی پرانی سیٹ کو بچانے میں اس بار بھی کامیاب رہے۔ مسلمانوں کے لیے خوش آئند بات یہ بھی رہی کہ 11 امیدوار تو جیتے ہی، دیگر 11 مسلم امیدوار ایسے بھی رہے، جو ووٹوں کی گنتی میں دوسرے نمبر پر رہے اور زیادہ ووٹوں سے نہیں ہارے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کرناٹک کے مسلمان اگر اور تھوڑی محنت کریں، تو آئندہ انتخابات میں کرناٹک اسمبلی میں ان کی تعداد دو گنی بھی ہو سکتی ہے۔ اس سے یہ بات اور بھی پختہ ہوتی جا رہی ہے کہ کوئی بھی سیاسی پارٹی اس ملک میں مسلمانوں کو نظر انداز کرکے اپنی حکومت نہیں بنا سکتی ہے۔ گزشتہ چند سالوں کے اسمبلی یا لوک سبھا انتخابات نے اس ملک کو مسلمانوں کو یہ سنہرا موقع دیا ہے کہ وہ اپنی اس آئینی اور جمہوری طاقت کا استعمال اپنی تعمیر و ترقی کے لیے کر سکتے ہیں۔ اگر وہ چاہیں، تو اس پارٹی سے اپنی شرطیں منوا سکتے ہیں، جنہیں وہ ووٹ دے رہے ہیں اور اس طرح اپنی تعلیمی، اقتصادی اور سماجی پس ماندگی کو دور کر سکتے ہیں۔ کچھ دنوں بعد ہی ملک کی دوسری ریاستوں، جیسے دہلی، راجستھان، چھتیس گڑھ،

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *