جموں و کشمیر: کیا ہل کاکا ہندوستان کا حصہ نہیں ہے؟

رمیز راجہ 
p-2ریاست جموں و کشمیر، جس کو تمام ہندوستانی رہنما ملک کا اٹوٹ حصہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، وہ ریاست تاریخی اعتبار سے متعدد مرتبہ غیر مساعد حالات سے دوچار ہو چکی ہے۔ سرحد پر کشیدگی کے باعث دونوں جانب انسانی خون پانی کی طرح بہا ہے، قیمتی جانیں تلف ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ سر زمین جموں و کشمیر نے عسکریت پسند وں اور فوج کے مابین بے شمار خونی معرکہ آرائیوں کو برداشت کیا ہے۔ نتیجہ کے طور پر ہزاروں کی تعداد میں بچے، بوڑھے، جوان، مر دو عورت بے وقت لقمہ اجل ہوگئے، سینکڑوں خواتین کو بیوہ کا لقب ملا، سینکڑوں بچے یتیم ہوگئے۔ مائوں نے اپنے سامنے اپنے لخت جگروں کو تڑپ تڑپ کر خدا کا پیارا ہوتے دیکھا۔ بہنوں نے اپنے پیارے بھائیوں کا ابھرتا ہوا شباب زیر کفن دیکھا ہے۔ صبح جو لوگ اپنے گھر وں سے نکلے، وہ شام کو نہیں لوٹے۔ سینکڑوں افراد نے اپنا مال، جائداد کھوئے اور بدلے میں جیل کی کال کوٹھریوں میں بے یار و مددگار ٹھونس دیے گئے۔ بے شمار گھر اجڑے، اگر وقت سحر صنف نازک کی آنکھوں میں شوخ ادا کے حسین مناظر نظر آئے، تو شام کے وقت ان پرُ کیف آنکھوں میں آنسو موتیوں کی طرح چھلکتے دکھائی دیے۔ یہاں کے سادہ لوح عوام کا سینہ کبھی فوج کی گولیوں نے چیرا، تو کبھی باد مخالف سے آنے والی گولی پار اتر گئی۔
ریاست جموں و کشمیر کے چپے چپے پر میدان جنگ قائم کیے جاتے رہے ہیں۔ عسکریت پسند و فوج کے درمیان جان کی بازیاں لگتی رہی ہیں۔ دونوں فریقین کا ہر طرح سے جانی و مالی نقصان ہوتا رہا ہے۔ لیکن جموں و کشمیر کے معصوم عوام ان سخت چکیوں کے دو پاٹوں کے درمیان پستے رہے ہیں۔ دنیا کو معافی اور رحم دلی کا پیغام دینے والے صوفیوں کی سر زمین، جنتِ ارضی جموں و کشمیر پر بیشمار کشیدہ حالات پیدا کیے جاتے رہے ہیں۔ ان حالات کے باعث یہاں بے حساب درد ناک واقعات جنم لیتے رہے ہیں، جن کو حساس انسانی دل چاہ کر بھی بھلا نہیں سکتا۔ ان ہی واقعات میں سے ایک خونریز واقعہ 17 اپریل، 2003 کو جموں و کشمیر کے سرحدی ضلع پونچھ کی تحصیل سرنکوٹ کے تحت ’’ہل کاکا‘‘ کا ہے۔ یہ اس وقت رونما ہوا، جب ہماری فوج کو وہاں عسکریت پسندوں کی جانب سے بنائی گئی محفوظ پنا ہ گاہ کی خبر ملی۔ شدت پسند وں کے ٹھکانے اس قدر محفوظ تھے کہ فوج کو ’’سرپ و ناش‘‘ نامی یہ آپریشن 17 اپریل، 2003 کو شروع کرنا پڑا، جو 27 اپریل، 2003 کو اپنے منطقی انجام کو پہنچا۔ آپریشن کے دوران وہاں کے مکینوں کو بیشمار جانی و مالی نقصان برداشت کرنا پڑا تھا۔ حالانکہ آپریشن کے دوران فوج نے مقامی لوگوں کو اس علاقے سے نکال دیا تھا، باوجود اس کے مقامی باشندوں کے گھروں کو نذر آتش کردیا گیا تھا، عام باشندوں کے گزر بسر کا سارا سامان راکھ کا ڈھیر بن چکا تھا۔ وہاں کے متعدد کنبے ضلع پونچھ کی تحصیل مینڈھر کی طرف کوچ کر کے آگئے۔ فوج نے آپریشن میں بے گھر ہوئے لوگوں کو گھر بنا کر دینے کا وعدہ کیا۔ حکام کے ذریعہ لوگوں کو بھاری معاوضہ دینے کا اعلان کیا گیا۔ وعدے کے مطابق معاوضہ ملا بھی ہو، مگر مستحقین اس سے محروم ہی رہے۔ پونچھ میں چرخہ کے کو آرڈی نیٹر اور سماجی کارکن نظام الدین میرؔ کے مطابق ’’معاوضے کا فائدہ حاصل کرنے کے لیے لوگوں نے اپنے اثر و رسوخ کے ساتھ افسران کے لیے رشوت کا بھی اہتمام کیا، جس کا اثر یہ ہوا کہ جس نے آج تک ہل کاکا دیکھا بھی نہیں تھا، اس نے بھی اس معاوضے کی رقم سے خوب فائدہ اُٹھایا۔ جس کے پاس ایک بکری کا بچہ بھی نہیں تھا، اسے بھی سوسو بکریوں اور دیگر جانوروں کا معاوضہ ملا‘‘ لیکن جو حقیقی مستحق تھے، ان میں سے ایک کا حال یہ ہے کہ ہل کاکا سے اپنی تباہی و بربادی کے بعد کوچ کرکے مینڈھر کے ایک گائوں ’نرول‘ میں آئی 35 سالہ صائمہ کوثر کہتی ہیں کہ حکومت کی طرف سے جو کچھ بھی معاوضہ ملا، اس سے ہم جیسے مستحقین اب بھی محروم ہیں۔ وہ مزید کہتی ہیں کے میرے دو بچے اور ایک بچی ہے، جس کی شادی تو میں نے کروا دی ہے، لیکن لڑکی کی شادی میں دیے جانے والے جہیز کے لیے پڑوسیوں سے جو قرض لیا تھا، وہ اب بھی ادا نہیں ہو پایا ہے۔ اس وقت میں 39 ہزار کی مقروض بن چکی ہوں۔ صائمہ کوثر کے شوہر کئی سال پہلے وفات پا چکے ہیں۔ اب وہ یہاں اپنا وطن چھوڑ کر ایک بیوہ کے گھر پررہائش پزیر ہیں اور عوام سے بھیک و امداد مانگ کر زندگی کے مشکل دن گزار رہی ہیں۔
ہل کاکا سے تعلق رکھنے والی محترمہ نگینہ کوثر، جو بارہویں جماعت کی طالبہ ہیں، کہتی ہیں کہ ’’ہمارا یہ گائوں تقریباًچھ سو افراد پر مشتمل ہے، لیکن یہاں تمام بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ یہاں کے لوگوں کے لیے نہ بجلی ہے نہ سڑک، نہ تعلیم کی سہولت نہ علاج کا کوئی بندوبست۔ سڑک کا حال یہ ہے کہ کلالی سے بفلیاز تک، محض گیار ہ کلومیٹر کی مسافت طے کرنے کے لیے ہمیں 100 روپے ادا کرنے پڑتے ہیں۔ علاج کا حال یہ ہے کہ ہم لوگ اپنے کندھوں پر اپنے بیماروں کو لے کر پانچ سات گھنٹے پیدل چلتے ہیں، پھر کہیں جاکر ’بفلیاز‘ میں کوئی ڈاکٹر ملتا ہے۔ ویسے اکثر اوقات آدھے راستے سے ہی مریض کو مردہ کی شکل میں واپس اپنے گائوں لانا پڑتا ہے۔‘‘ و ہ مزید کہتی ہیں کہ ’’ایسا محسوس ہوتا ہے گویا سرحد پر ہونے کے ناطے ہندو پاک دونوں ممالک میں سے کوئی بھی ہمیں اپنا شہری تسلیم ہی نہیں کرتا، کیونکہ اگر کرتا تو ہمیں وہ بنیادی سہولیات ضرور مہیا کرائی جاتیں، جو ایک عام ہندوستانی کا حق اس کے جمہوری ملک نے اپنے شہریوں کو دیا ہے۔‘‘ فضل آباد میں رہ کر سرنکوٹ میں بارہویں جماعت میں تعلیم حاصل کرنے والے طالب علم دل پذیر کہتے ہیں کہ ’’آج تک کوئی بھی نمائندہ یا ان کے کارندے ہمارے گائوں تک آنے کی زحمت نہیں کرتے۔ ہاں، جب انتخابات کا زمانہ ہوتا ہے، تو الیکشن میں اپنی کامیابی کے لیے ہل کا کا کا رخ ضرور کرتے ہیں، گویا ہم ہندوستانی انسان نہیں، بلکہ ووٹ دینے کی مشین ہوں۔‘‘
ہل کاکا میں پرائمری اسکول کے استاد صدیق احمد صدیقی کہتے ہیں کہ ’’ہمارے اسکول میں پہلے تو ٹھیک سے بیٹھنے تک کا انتظام نہیں تھا، کسی کے یہاں سے کرسی تو کہیں سے پینے کا پانی منگوا کر کام چلاتے رہے، مگر افسو س ہوتا ہے کہ یہاں تعلیم حاصل کرنے والی لڑکیوں کے لیے بیت الخلاء کا بھی کوئی انتظام نہیں ہے۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے بہت سختی سے ملک کے تمام اسکولوں میں پینے کے پانی اور بیت الخلاء کا اہتمام کرنے کا حکم صادر کیا ہے، لیکن یہ سرحدی علاقے کی بدنصیبی ہی ہے کہ اب تک اس طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی ہے۔‘‘ ملک کی پرنٹ میڈیا کے ساتھ کام کرنے والی دہلی میں واقع غیر سرکاری تنظیم چرخہ ڈیولپمنٹ کمیونی کیشن نیٹ ورک کے اردو ایڈیٹر اور منیجر پروجیکٹس محمد انیس الرحمٰن خان کے مطابق ’’ہماری ایک ٹیم نے ماہ جنوری میںاس علاقے کا دورہ کرنے کے بعد اپنی ایک رپورٹ اس وقت ضلع پونچھ کے ڈی ڈی سی اجیت کمار ساہو کے سُپرد کرتے ہوئے علاقے کی فوری ضرورت کے مطابق تین طرح کی مانگ کی تھی: (الف) اہلِ علاقہ کے لیے ایک پل کا انتظام کردیا جائے، (ب) راشن پہاڑی کے اوپری حصہ تک پہنچا یا جائے، (ج) علاج کے لیے ڈسپینسری اور ڈاکٹر کا انتظام کرایا جائے۔ ڈی ڈی سی صاحب نے ان تینوں مانگوں کو قبول کرتے ہوئے اس وقت وعدہ کیا تھا کہ میں بہت جلد اس پر عمل کروں گا، مگر مقامی لوگوں کے مطابق اب تک ان کا وعدہ پورا نہیں ہوپایا ہے۔‘‘
واضح ہو کہ درج بالا ڈی ڈی سی کا پونچھ سے تو تبادلہ ہوچکا ہے، ان کی جگہ فی الحال اے ڈی ڈی سی سید انور حسین شاہ انچارج سنبھالے ہوئے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ اپنے ڈی ڈی سی کا وعدہ پورا کرپاتے ہیں یا نہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ان حکام کے وعدے بھی ہمارے سیاسی رہنمائوں کے وعدوں کی طرح ہی ہوں، جو آزادی کے اتنے برسوں بعدبھی پورے نہیں ہوپائے ہیں یا پھر اے ڈی ڈی سی، جن کے بارے میں علاقے کے عوام پُر اعتماد اور ان کے حسنِ اخلاق کے قائل ہیں، جو آلِ رسول ہونے کے علاوہ بے داغ دامن بھی رکھتے ہیں، وہ اس کام کو پورا کرکے اپنے عوام کی امیدوں کو یقین میں بدلیں گے یا وہ بھی دیگر سیاسی رہنمائوں کی طرح اپنے عوام کو تحفہ میں مایوسی ہی دیں گے ۔
(چرخہ فیچرس)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *