دس سالہ یو پی اے سرکار کے 10بڑے گھوٹالے

ششی شیکھر

مرکز کی یو پی اے سرکار کے دس سال پورے ہونے کو ہیں۔ عام طور پر کسی سرکار کی مدتِ کار کا تجزیہ اس کی پالیسیوں، پروگراموں اور حصولیابیوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ لیکن مرکز میں برسر اقتدار کانگریس کی قیادت والی یو پی اے سرکار کے ساتھ ایسا نہیں ہوگا۔ اس کا تجزیہ رشوت، گھوٹالے اور بدعنوانی کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ یو پی اے سرکار کے دس سال کے دوران ہوئے دس بڑے گھوٹالوں پر ایک نظر
پچھلے دس سال کا وقت ہندوستانی جمہوریت کے لیے سب سے خراب وقت رہا ہے۔ اس دوران ایسے ایسے گھوٹالے سامنے آئے، جن کے نام اور دام تصور سے باہر ہیں۔ جل p-5(پانی)، جنگل، زمین، ہوا، پانی، ترنگ، آسمان، پاتال سب کچھ لوٹا گیا، بیچا گیا۔ غریب کسانوں کے حصے کا پیسہ، پانی، زمین اور جانور تک کی لوٹ ہوئی۔ قدرتی وسائل کو کوڑیوں کی قیمت پر رشوت اور دلالی لے کر بیچ دیا گیا۔ ممبرانِ پارلیمنٹ، نوکر شاہ، وزیر اعلیٰ، وزیر، بیٹا بیٹی، بھانجہ، داماد، کارپوریٹ گھرانے، دلال، بچولیے سب اس لوٹ کے کھیل میں شامل ہیں۔ اور تو اور، ایماندار مانے جانے والے وزیر اعظم تک پر الزام لگے۔ لیکن پارلیمانی روایت میں آئی گراوٹ کا اثر دیکھئے کہ ہر ایک گھوٹالے کے بعد پارلیمنٹ میں سرکار سینہ پھلائے کھڑی رہی اور اپوزیشن رسمی طور پر سوائے شور شرابے کے کچھ نہیں کر پایا، وہ بھی صرف پارلیمنٹ کے اندر۔ گھپلے گھوٹالے کے علاوہ اس سرکار کو ایک اور وجہ سے یاد رکھا جائے گا اور وہ یہ کہ آزادی کے بعد پہلی بار اس سرکار نے آئینی اداروں کا مذاق بنا کر رکھ دیا، چاہے وہ سی اے جی ہو یا عدالت۔ 64 سال کی ہندوستانی جمہوریت اور پارلیمانی روایات کا تانا بانا پچھلے دس سال میں تار تار ہوتا نظر آیا۔ اس دس سال کے دورِ حکومت نے سسٹم نام کی چیز کا وجود ہی ختم کر دیا۔ مقننہ اور عاملہ کو تو گویا لقوہ ہی مارگیا، لیکن عدلیہ کا اقبال بھی کئی بار خطرے میں پڑتا دکھائی دیا۔ بہرحال، ایک نظر ڈالتے ہیں پچھلے دس سال کے دس بڑے گھوٹالوں پر۔
کوئلہ گھوٹالہ
سب سے پہلے بات کرتے ہیں کوئلہ گھوٹالے کی۔ سب سے پہلے جب ’’چوتھی دنیا‘‘ نے بتایا کہ اس ملک میں 26 لاکھ کروڑ کا کوئلہ گھوٹالہ ہوا ہے، تب اس وقت کسی کو یقین نہیں ہوا۔ ’’چوتھی دنیا‘‘ میں شائع ہونے والی یہ رپورٹ کسی اندازے پر مبنی نہیں تھی، بلکہ پارلیمنٹ کی ایک اسٹینڈنگ کمیٹی کی رپورٹ پر مبنی تھی۔ بعد میں سی اے جی نے اپنی رپورٹ دی اور بتایا کہ کیسے کول بلاک کی تقسیم میں 1.86 لاکھ کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ سی اے جی نے سیدھے سیدھے یو پی اے سرکار کے اوپر سوال اٹھائے اور بتایا کہ کول بلاک کے بٹوارے میں سرکار نے من مانی کی ہے اور ایسے ایسے لوگوں کو کول بلاک تقسیم کر دیے ہیں، جنہیں اس فیلڈ کا کوئی تجربہ تک نہیں تھا۔ پارلیمنٹ میں پیش ہونے والی سی اے جی رپورٹ میں جولائی 2004 سے ہوئے 142 کوئلہ بلاک کے بٹوارے سے 1.86 لاکھ کروڑ روپے کے نقصان کا اندازہ لگایا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ 2004 سے 2009 کے بیچ کوئلے کی کانوں کے ٹھیکے دینے میں بے ضابطگیاں برتی گئیں۔ بہت ہی کم قیمت پر اور بغیر کسی نیلامی کے کوئلہ بلاک تقسیم کر دیے گئے۔ اس پورے معاملے میں سب سے اہم حقیقت یہ ہے کہ اس گھوٹالے میں وزیر اعظم کا بھی نام آیا۔ ان پر یہ الزام تھا کہ جب وہ وزارتِ کوئلہ سنبھال رہے تھے، تب بھی اس دوران کوئلہ بلاک تقسیم کیے گئے۔ ظاہر ہے، وزیر کوئلہ رہتے ہوئے ان کی بھی ذمہ داری اس واقعہ کو لے کر بنتی تھی۔بہرحال، جب سپریم کورٹ نے خود اس معاملے میں دلچسپی دکھائی اور معاملے کو اپنے ہاتھوں میں لیا، تب جا کر کارروائی شروع ہوئی۔ کچھ کول بلاک کی تقسیم ردّ کی گئی۔ فی الحال یہ معاملہ عدالت میں ہے اور آخری فیصلہ ابھی آنا باقی ہے، لیکن سیاسی طور پر ایک فیصلہ پہلے ہی ہو چکا ہے کہ چاہے جو ہو وزیر اعظم کی ان سب کے لیے کوئی ذمہ داری نہیں بنتی۔
ٹو جی گھوٹالہ
ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالہ اپنے آپ میں ایک انوکھا گھوٹالہ ہے۔ اس میں کیا بیچا گیا، کیا خریدا گیا، عام آدمی کو سمجھ میں نہیں آ سکتا۔ بھلا کوئی سوچ سکتا ہے کہ ہوا میں تیرتی ترنگوں میں بھی اربوں کا گھوٹالہ ہو سکتا ہے۔ لیکن ایسا ہی کارنامہ مرکز کی یو پی اے سرکار اور اس کے وزیر نے کر دکھایا۔ 2008 میں سی اے جی کی رپورٹ آئی۔ رپورٹ کے مطابق وزیر مواصلات اے راجا کے رہتے، بنا نیلامی کے ٹو جی اسپیکٹرم کی تقسیم میں ملک کو 1.76 لاکھ کروڑ کا نقصان ہوا۔ 2001 کی پرانی قیمت پر ہی اسپیکٹرم کی تقسیم کر دی گئی۔ نیلامی کی جگہ ’پہلے آؤ، پہلے پاؤ‘ کی پالیسی اپنائی گئی۔ 122 لائسنس جاری کیے گئے تھے، جس میں سے 85 لائسنس ایسی کمپنیوں کو دیے گئے تھے، جو اس کے لیے ضروری شرط بھی پوری نہیں کرتی تھیں۔ اس پورے معاملے میں وزیر مواصلات اے راجا، یونی ٹیک کے سنجے چندرا اور سوان کے شاہد بلوا، ونود گوینکا، ریلائنس اے ڈی اے جی کے ہری نائر، گوتم دوشی اور سریندر پیپارہ، ڈی ایم کے کی ایم پی کنی موئی، کریم مورانی، شرد کمار اور آصف بلوا کے نام سازش کرنے والے کے طور پر سامنے آئے۔ یہ سبھی گرفتار ہوئے، جیل میں رہے۔ راجا اور کنی موئی کو ضمانت بھی مل گئی۔ معاملہ عدالت میں ہے۔ حالانکہ بعد میں اے راجا نے خود بھی کہا اور آر ٹی آئی سے بھی یہ جانکاری سامنے آئی کہ ٹو جی اسپیکٹرم بٹوارے میں اکیلے اے راجا ہی قصوروار نہیں ہیں۔ آر ٹی آئی سے ملی جانکاری کے مطابق وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کو بھی اس بٹوارے کے بارے میں جانکاری تھی اور ان سے رائے لی گئی تھی۔ خود راجا نے بھی کہا ہے کہ وزیر اعظم منموہن سنگھ کو ان سب کے بارے میں بتایا جا چکا تھا۔ یہ ایک ایسا گھوٹالہ تھا، جس میں صحافیوں کے اوپر بھی آنچ آئی۔ کارپوریٹ لابسٹ نیرا راڈیا کا بھی اس پورے معاملے میں ایک اہم رول رہا، جس نے اپنے کام کے لیے کئی نامی گرامی صحافیوں کا استعمال کیا۔
ایس بینڈ اسپیکٹرم گھوٹالہ
ٹو جی اسپیکٹرم کے بعد ایک اور گھوٹالہ سامنے آیا۔ یہ تھا ایس بینڈ اسپیکٹرم۔ ملک کا سب سے اہم سرکاری ادارہ، جس کی دیکھ ریکھ کی سیدھی ذمہ داری وزیر اعظم کی ہوتی ہے، یعنی اِسرو میں یہ گھوٹالہ سامنے آیا۔ ایک اندازہ کے مطابق، اس گھوٹالے سے سرکار کو دو لاکھ کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ اِسرو نے دیواس ملٹی میڈیا کو کم قیمت پر ایس بینڈ اسپیکٹرم دینے کا سمجھوتہ کیا تھا۔ یہ تقسیم بھی بغیر کوئی نیلامی کیے کی گئی تھی۔ دیواس کمپنی اِسرو میں ہی اعلیٰ افسر رہ چکے ایم جی چندر شیکھر کی ہے۔ اِسرو سیدھے سیدھے وزیر اعظم کے ماتحت آتا ہے۔ سی اے جی نے 2005 میں ہوئے اس سمجھوتہ کی جانچ شروع کر دی ہے۔ اِسرو کی برانچ اینٹرکس لمیٹڈ نے دیواس ملٹی میڈیا کے ساتھ قریب 600 کروڑ روپے میں اسپیکٹرم کی تقسیم کا سمجھوتہ کیا تھا۔ اس قرار کے ذریعے ایس بینڈ کی تقسیم پہلی بار پرائیویٹ سیکٹر کے لیے کی گئی تھی۔ اس کے لیے نہ صرف اِسرو کے ضابطوں کی اندیکھی کی گئی، بلکہ وزیر اعظم کا دفتر بھی شک کے دائرے میں آیا۔ ہندوستانی سیاست میں جب بوفورس کا گھوٹالہ سامنے آیا تھا، تب کہرام مچ گیا تھا۔ آج کی نظر سے دیکھیں، تو محض 65 کروڑ کی دلالی، لیکن اس گھوٹالے کی گونج آج بھی ہندوستانی سیاست میں رہ رہ کر سنائی دیتی رہتی ہے۔ اس حساب سے آج کے گھوٹالے میں غبن رقم کے آگے اتنے صفر لگ چکے ہیں کہ اسے عام آدمی شاید ہی گن پائے۔
کامن ویلتھ گھوٹالہ
یو پی اے سرکار کے ذریعے لگاتار کیے جا رہے گھوٹالے میں ایسا ہی ایک گھوٹالہ ہے کامن ویلتھ گیمس گھوٹالہ۔ یہ گھوٹالہ، ایک اندازہ کے مطابق، قریب 80 ہزار کروڑ روپے کا ہے۔ اس گھوٹالے میں سی ڈبلیو جی کے صدر اور کانگریس کے سینئر لیڈر سریش کلماڑی اور ان کے ساتھیوں کے نام سامنے آئے۔ ساتھ ہی اس میں دہلی کی کانگریس سرکار کی حصہ داری بھی سامنے آئی۔ اس کھیل کے لیے ایسی ایسی خریداری ہوئی، جسے سن کر کوئی بھی حیران رہ جائے گا۔ سی اے جی کی رپورٹ کے مطابق 52 ہزار کروڑ روپے کے اس پروجیکٹ میں زبردست دھاندلی کی گئی تھی۔
آئی پی ایل گھوٹالہ
کھیل میں لوٹ کا کھیل یہیں نہیں رکتا۔ ایک اور کھیل گھوٹالہ ہے، آئی پی ایل گھوٹالہ۔ جینٹل مین کا کھیل مانے جانے والے کھیل کرکٹ میں بھی گھوٹالوں کا ایک نیا سلسلہ چل پڑا ہے۔ انڈین پریمیر لیگ اصل میں فکسنگ لیگ بن گیا ہے۔ آئی پی ایل – 3 کے دوران اس کھیل سے جڑے تنازعات سامنے آئے، جس میں ایک مرکزی وزیر ششی تھرور تک کو اپنے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑا۔ آئی پی ایل چیف للت مودی کو عہدہ تو چھوڑنا ہی پڑا، اس کے علاوہ وہ اب بھی ملک سے باہر ہی رہنے کو مجبور ہو گئے ہیں۔ معاملے کی جانچ ابھی بھی چل رہی ہے۔ اس کھیل میں کالا دھن لگے ہونے کی بات سامنے آئی۔ کوچی کی ٹیم پر مالکانہ حق کا تنازع اتنا گہرایا کہ مرکزی وزیر ششی تھرور کو استعفیٰ دینا پڑا اور اس معاملے میں ان کی دوست اور اب بیوی سنندا پشکر بھی سوالوں کے گھیرے میں آئیں۔آئی پی ایل میں قریب1500 کروڑ روپے سے بھی زیادہ کے گھوٹالے کا امکان ہے۔
کسان قرض معافی گھوٹالہ
کوئلہ، ترنگ، کھیل وغیرہ کی بات تو رہنے ہی دیجئے۔ سرکار کی بے حسی تو دیکھئے کہ اس نے ملک کے غریب کسانوں کے حصے میں بھی نقب زنی کرنے سے گریز نہیں کیا اور نتیجہ ہمارے سامنے ہے، کسان قرض معافی گھوٹالہ کی شکل میں۔ کانگریس کے موجودہ نائب صدر اور جانشین راہل گاندھی کی پہل پر شروع کی گئی کسان قرض معافی اسکیم کی رقم بھی گھوٹالے بازوں نے ہڑپ لی۔ سی اے جی کی رپورٹ کے مطابق، کسانوں کی قرض معافی اسکیم کے لیے جاری 52 ہزار کروڑ روپے کی رقم میں زبردست بے ضابطگی سامنے آئی ہے۔ قرض معافی کے لیے نہ تو اصل ضرورتمندوں کو ٹھیک سے تلاش کیا گیا اور نہ ہی ضرورت مند لوگوں کو اس اسکیم کا فائدہ ملا، الٹے نا اہل لوگوں کو فائدہ پہنچایا گیا۔ سی اے جی کے مطابق، 9 صوبوں میں قریب 13 فیصد صحیح کھاتوں کو فائدہ نہیں ملا اور جن 80 ہزار 277 کھاتوں کو فائدہ ملا، ان میں 8.5 فیصد اس کے لائق نہیں تھے۔ بائیس فیصد معاملوں میں اسکیم کو ٹھیک ڈھنگ سے نافذ نہیں کیا گیا۔ 34 فیصد معاملے میں کسانوں کو قرض معافی کا سرٹیفکیٹ ہی نہیں دیا گیا۔
مہاراشٹر سینچائی گھوٹالہ
ایک طرف جہاں وِدربھ میں آج بھی تاریخی سوکھا پڑا ہوا ہے، وہیں اس صوبہ میں سینچائی کی اسکیموں میں ہزاروں کروڑوں کا گھوٹالہ، مہاراشٹر سینچائی گھوٹالہ سامنے آ چکا ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کو استعفیٰ دینا پڑا اور پھر ڈرامائی انداز سے ان کی واپسی بھی ہو گئی۔ صوبائی حکومت کی سالانہ اقتصادی سروے رپورٹ کے مطابق، گزشتہ دس سالوں میں صوبے کے سینچائی والے علاقے میں محض 0.1 فیصد کا اضافہ ہوا، جب کہ اس دوران وزیر اعظم نے وِدربھ کے کسانوں کے لیے اسپیشل پیکیج دیا تھا، جس میں سینچائی اسکیمیں اہم تھیں۔ گزشتہ دس سالوں میں مہاراشٹر میں سینچائی مد میں 70 ہزار کروڑ روپے خرچ ہوئے تھے۔ باوجود اس کے، محض 0.1 فیصد سینچائی والی زمین اور وِدربھ کی آج کی خشک سالی تو یہی ثابت کرتی ہے کہ وہ 70 ہزار کروڑ روپے بھی گھوٹالے بازوں کی جیب میں ہی گئے۔ گزشتہ دس سالوں میں سینچائی کے لیے دیے گئے پانی میں سے قریب 189.6 کروڑ مربع میٹر پانی غیر سینچائی والے کاموں کے لیے دے دیے گئے۔ صوبائی حکومت کے ذریعے جاری کیے گئے وہائٹ پیپر کے مطابق، اس پانی سے 2.85 لاکھ ہیکٹیئر کھیت کی سینچائی ہو سکتی تھی۔ ظاہر ہے، یہ پانی صنعتوں کو دیا گیا۔ اس میں وِدربھ کے حصے کا پانی بھی شامل ہے، جو صنعتی شعبہ کے حصے میں چلا گیا۔ نتیجہ، آج سب دیکھ رہے ہیں کہ ودربھ کے کسانوں کی حالت کیا ہے۔ مہاراشٹر کی کانگریس – این سی پی اتحاد والی سرکار اور اس کے قد آور لیڈروں کو اس بات کی بالکل بھی فکر نہیں ہے کہ آخر ودربھ کے ان کسانوں کا کیا ہوگا۔ الٹے شرد پوار کے بھتیجے اور صوبے کے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار اس مسئلے پر قابل اعتراض تبصرہ کرتے ہیں کہ اگر نہر میں پانی نہیں ہے، تو کیا میں اس میں پیشاب کرکے پانی لے آؤں؟
این ٹی آر او گھوٹالہ
یو پی اے کی سرکار نے سیکورٹی سے متعلق معاملوں میں بھی گھوٹالوں کا ایک نیا ریکارڈ بنایا ہے، مثلاً این ٹی آر او گھوٹالہ۔ این ٹی آر او، یعنی نیشنل ٹیکنیکل ریسرچ آرگنائزیشن۔ یہ ایک سرکاری اور خفیہ سرکاری ادارہ ہے۔ اس ادارہ میں بھی ایک خریداری کو لے کر قریب ایک ہزار کروڑ روپے کی بے ضابطگی کا معاملہ سامنے آیا۔ یہ گھوٹالہ ایک دفاعی سودے میں ہوا تھا۔ سرکار نے این ٹی آر او کے لیے 8 ہزار کروڑ کا بجٹ بنایا تھا۔ اس بجٹ کے آڈٹ کا اختیار کسی کو بھی نہیں تھا۔ اور جب این ٹی آر او کا آڈٹ کروایا گیا، تو پتہ چلا کہ اس میں ایک ہزار کروڑ روپے کا گھوٹالہ ہو چکا ہے۔ یہ گھوٹالہ بغیر پائلٹ والے طیارہ (اَن مینڈ ایریل ویہیکل) کی خرید میں ہوا تھا۔ این ٹی آر او نے بغیر پائلٹ والا طیارہ خریدنے کے لیے 2006 میں اسرائیل سے ایک سودا کیا تھا۔ یہ سارے طیارے بغیر ٹیسٹ کے ہی خرید لیے گئے تھے اور جب ان طیاروں کا ہندوستان میں ٹیسٹ ہوا، تو یہ ٹیسٹ فیل ہو گیا۔
اسکارپین پن ڈُبّی اور ٹاٹرا ٹرک گھوٹالہ
ملک کے دفاعی نظام میں گھوٹالہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اس سرکار کو ملک کی سیکورٹی کی بھی فکر نہیں ہے۔اسکارپین پن ڈُبّی اور ٹاٹرا ٹرک میں دلالی لینے اور دلالوں کا رول یہ بتاتا ہے کہ اس ملک میں ہونے والا ہر دفاعی سودا بنا دلالوں کے نہیں ہوتا، یعنی اس ملک کی سیکورٹی دلالوں کے بھروسے ہے۔ پچھلے سال کچھ دستاویز سامنے آئیں، جن کے مطابق سال 2000 اور 2004 میں قریب 2000 کروڑ روپے کے دو معاہدے امریکی شہری ایلن اور ابھشیک ورما کے درمیان ہوئے۔ مبینہ طور پر یہ پیسہ ابھشیک ورما کا تھا، جس کے مینجمنٹ کی ذمہ داری ایلن کی تھی۔ ایلن امریکہ میں اٹارنی ہے۔ 2010 میں دونوں کے درمیان من مٹاؤ ہوگیا، تو ابھشیک ورما نے ایلن کو پیسے واپس کرنے کے لیے نوٹس بھجوایا۔ جب ایلن نے کوئی جواب نہیں دیا، تب ابھشیک ورما نے امریکہ میں ہی ایلن کے خلاف کیس درج کرایا۔ سوال ہے کہ ابھشیک ورما کے پاس یہ 2000 کروڑ روپے آئے کہاں سے؟ اتنی بڑی رقم کا ذریعہ کیا ہے؟ کیا ابھشیک ورما نے اس کی جانکاری کسی ٹیکس اتھارٹی کو دی ہے؟ اسکارپین سودے میں جو دستاویز سامنے آئی ہیں، ان سے صاف ہوتا ہے کہ ابھشیک ورما چار فیصد دلالی کی مانگ کر رہا تھا۔ دفاعی سودے کی دلالی میں ابھشیک ورما کا قد کتنا بڑا ہے، اس سے صاف ہوتا ہے کہ دنیا بھر کی کسی بھی دفاعی ساز و سامان بیچنے والی کمپنی کو مدد کی ضرورت ہوتی ہے، تو وہ ابھشیک ورما کو ہی ڈھونڈتی ہے، چاہے آگستا ویسٹ لینڈ کو ہیلی کاپٹر سودے میں مدد چاہیے یا جرمن کمپنی آر اے ڈی کو بلیک لسٹ سے نام ہٹوانا ہو یا پھر اسرائیلی ٹیلی کام کمپنی ای سی آئی کو اینٹی ڈمپنگ رقم واپس کرانی ہو۔ ان سارے غیر قانونی کاموں کے لیے کمپنیاں ابھشیک ورما کو ہی تلاش کرتی ہیں۔ نیوی وار روم لیک معاملے میں کئی ای میل سامنے آئے ہیں، جن میں اسکارپین ڈیل کے 18 ہزار کروڑ روپے میں سے چار فیصد کمیشن کی بات سامنے آئی ہے۔ تھیلس کمپنی کے سامنے ابھشیک ورما نے خود کو کانگریس کا نمائندہ بتایا تھا۔ اس کے علاوہ، ٹاٹرا ٹرک کی خریداری میں تو کئی سابق فوجی افسران کا نام بھی سامنے آیا۔ سی بی آئی نے کئی سینئر ریٹائرڈ فوجی افسروں سے پوچھ گچھ بھی کی۔
بہرحال، یو پی اے سرکار کے دس سالوں کا تجزیہ یہی بتاتا ہے کہ اس ملک میں اب عوامی فلاح والی سرکار کی جگہ دلالوں، رشوت خوروں، بچولیوں نے لے لی ہے۔ کوئی بھی قانون ملک کے عام لوگوں کے مفاد کا خیال رکھتے ہوئے نہیں، بلکہ کارپوریٹ گھرانوں کی تجوریاں بھرنے کے لیے بنایا جاتا ہے۔ چاہے وہ قانون جل (پانی)، جنگل، زمین سے جڑا ہو یا آسمان اور پاتال سے۔ سرکار خود پراپرٹی ڈیلر بن چکی ہے اور عوام بے بس اور لاچار بنے ہوئے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *