سربجیت سنگھ کی موت: نفرت کی سیاست میں نقصان صرف معصوم عوام کا

وسیم راشد 
یہ ہندوستان ہے میرا وطنِ عزیز،وہ ملک جس کی خاک میں ہمارے آباء و اجداد سوئے ہوئے ہیں،جس کی آزادی کے لئے ہمارے بزرگوں نے لا تعداد قربانیاں دیں اور جس وقت اس ملک کے دو ٹکڑے ہوئے ،اس وقت ہمارے بزرگ جان پر کھیل کر یہیں رہے اور پاکستان جاکر بسنا انہوں نے اپنی توہین سمجھا۔ وہ اسی مٹی سے پیدا ہوئے تھے، اسی مٹی میں مل جانا چاہتے تھے، لیکن اسی تقسیم نے پھر بھی ہزاروں کروڑوں کو ایک دوسرے سے جدا کردیا۔ خاندان کے خاندان ہجرت کا کرب سہہ کر پاکستان پہنچے اور مہاجر کہلائے ، لیکن جانے کون سی بد دعا لگ گئی پاکستان کو کہ تقسیم کے بعد سے اب تک کبھی اس کو صحیح رہنما میسر ہی نہیں ہوا اور آج اس ملک پر دہشت گردی کا ایسا لیبل لگا ہوا ہے ، جس کو ہٹانا مشکل نظر آرہا ہے۔کتنا قریب ہے پاکستان ہم سے،امرتسر سے تقریباً 40کلو میٹر کی دوری پر لاہور ہے۔فاصلہ بہت کم ہے ،مگر اس معمولی فاصلے کو سربجیت 23 سال کے لمبے عرصے میں بھی طے نہیں کرپایا۔ ایک معمولی سی تو غلطی ہوئی تھی اس سے، انجانے میں وہ پاکستان کی سرحد میں داخل ہوگیا تھا۔ 28اگست1990 کا وہ دن اس کے لئے سیاہ ترین دن تھا، جب نشے کی حالت میں بھٹک کر وہ سرحد پارچلاگیا ۔وہ غریب یہ جان ہی نہیں سکا کہ ایک قدم کے بعد دوسرا قدم وہ موت کی وادی میں رکھ رہا ہے۔اسی ایک قدم نے اس کی زندگی کے پورے 23 سال برباد کردیے۔23سالوں میں اس کی دنیا ہی بدل گئی۔اس کی دو معصوم بیٹیوں ،اس کی بیوی اور اس کی بہن کی زندگی ان 23 برسوں میں صرف اور صرف اذیت میں گزری ۔ 30اگست1990 کے لاہور اور فیصل آباد بم دھماکہ کا مجرم قراردے کر اسے جیل میں ڈال دیا گیا۔تب سے آج تک کی کہانی بیان کرنے کی یہاں پر گنجائش نہیں ہے ۔ویسے بھی کمل پرکاشن ’چوتھی دنیا‘ کے تعاون سے سربجیت کی پوری داستان کو کتاب کی شکل میں شائع کرچکا ہے،جس میں تمام پہلوئوں پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے ۔اس دوران سربجیت کا کنبہ کس کس طرح اس کی رہائی کے لئے کوششیں کرتا رہا اور سربجیت زندگی و موت کی کشمکش میں جھولتا رہا اس کو ہم اور آپ سب جانتے ہیں۔دونوں ملکوں کی حکومتیں اس کے لئے کتنی ذمہ دار ہیں ،ہم اس پر بحث نہیں کرنا چاہتے ۔ ہماری منشا صرف اتنی ہے کہ ہم یہ بتا سکیں کہ اس طرح کے حادثوں سے دونوں ملکوں کے عوام کس قدر سہم جاتے ہیں۔ویسے ہی آنا جانا اور ویزا ملنا آسان نہیں رہا،بیچ بیچ میں پاکستان برابر اپنی نفرت کی سیاست کھیلتا رہا۔ کبھی ہندوستانی فوجیوں کی ہلاکت کا معاملہ آجاتا ہے۔کبھی کہیں بم بلاسٹ میں اسے ہندوستانیوں کا ہاتھ نظر آجاتا ہے،لیکن ان سب کے بعددل دہل جاتا ہے ،یہ سوچ کر کہ اب دونوں ملکوں کے حالات اور بگڑ جائیں گے اور اس نفرت کی سیاست میں دونوں ملکوں کے معصوم عوام اپنے رشتہ داروں سے ملنے سے محروم رہ جائیں گے۔
ابھی کچھ دن قبل لاہور میں ایک کانفرنس میں میرا جانا ہوا تھا۔وہ بس جو لاہور جانے کے لئے کھچا کھچ بھری رہتی تھی ، اس بس میں مجھ سمیت کوئی دس یا بارہ افراد تھے۔ میں نے جب ٹکٹ کائونٹر سے اس کی وجہ پوچھی تو جواب ملا کہ افضل گرو کی پھانسی کے بعد سے دونوں ملکوں میں آنا جانا کم ہورہا ہے۔ویزا حاصل کرنے میں بھی لوگوں کو دشواریاں ہو رہی ہیں،اسی لئے بسیں خالی جارہی ہیں اور وہاں سے بھی خالی آتی ہیں۔یہی حال واپسی میں تھا کہ تقریباً 15 لوگ بس میں تھے ۔وہاں جاکر بھی ایسا لگا کہ پاکستانیوں کے دل میںہندوستانیوں کے لئے جو محبت اور گنجائش تھی ، وہ اب بھی ہے ،مگر اس میں خوف شامل ہوگیا ہے۔ کیونکہ آنے جانے والوں کو دونوں ملکوں میں شک و شبہ کی نظروں سے دیکھا جارہا ہے۔ ہمارا اسلام آباد جانے کا بھی پروگرام تھا اور میرے پاس ویزا بھی تھا،مگر نہ جانے کیوں بے شمار محبتوں اور خلوص کے باوجود بھی دل گھبراتا رہا اور میرے اسلام آباد نہ جانے کی وجہ بھی یہی بنی۔اس دوران کتنے ہی ایسے لوگوں سے ملاقات ہوئی جنہوں نے رو رو کر یہ بتایا کہ وہ اپنے رشتے داوں کے پاس جانا چاہتے ہیں ،لیکن ویزا نہیں ملا۔اور تو اور خود اتنے مشہور و معروف شاعر اور فلم میکر گلزار بھی شاید میری ہی طرح گھبرا کر لوٹ آئے تھے، لیکن ایسےماحول کے باوجود عام لوگ آج بھی ٹوٹ کر ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ پاکستان سے آنے والوں کا ہندوستان میں اور ہندوستان سے جانے والوں کا پاکستان میں دل سے خیر مقدم کیا جاتاہے ۔ نفرت کی یہ آگ عام لوگوں کے دل میں نہیں ہے،لیکن سربجیت کے معاملے نے نفرت کی سیاست کو پھر سے گرما دیا ہے۔ کیونکہ دونوں ملکوں کے معصوم عوام جانتے ہیں کہ اس کا اثر ان ہی پر پڑے گا اور انہیں اپنے عزیزوں کی شکلیں دیکھنا مشکل ہو جائے گا۔
جس طرح ہندوستان میں جموں کی جیل میں ثناء اللہ نام کے قیدی پر حملہ ہوا ، وہ اس بات کی علامت ہے کہ نفرت کی سیاست اپنا کام کرگئی ہے۔ پاکستانی حکومت جتنی سربجیت کے معاملے میں ذمہ دار ہے ،ہندوستانی حکومت بھی برابر کی شریک ہے۔23 برسوں میں سربجیت کے لئے کچھ نہیں کیا گیا۔ بار بار سربجیت اپنے اہل خانہ کو خط لکھ کر یہ بتارہا تھا کہ اس پرحملے کا خطرہ ہے، تو ہندوستانی سرکار نے اس کو سنجیدگی سے کیوں نہیں لیا۔ عام میڈیا کے ذریعہ بھی یہ بات بار بار سامنے آرہی تھی کہ قصاب اور افضل گرو کی پھانسی کے بعد سربجیت کی جان کو خطرہ تھا، لیکن نہ تو وزیر داخلہ اور نہ ہی وزیر اعظم کے کانوں پر جوں رینگی۔جس دوران ہم نے سربجیت کی کہانی اس کی زبانی ’چوتھی دنیا‘ میں شائع کی تھی ،ہم نے بتایا تھا کہ سربجیت نے کہا تھا کہ جیل میں داخل ہونے کے بعد اس کو منجیت سنگھ ثابت کرنے کے لئے بار بار مارا گیا اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ہماری جیلوں میں اقبال جرم کس طرح سے کرائے جاتے ہیں۔ سربجیت کو بھی مار مار کر دہشت گرد بنادیا گیا۔19 سال بعد سربجیت کو پتہ چلا کہ اس کو کس جرم میں پکڑا گیا ہے۔ایسے میں ہماری سرکار سوالوں کے گھیرے میں آجاتی ہے کہ جب بار بار Mistaken Identity کی بات سامنے آرہی تھی تو حکومت نے اس کی صحیح شناخت کرانے کے لئے اقدامات کیوں نہیں کئے۔ سربجیت نے اپنی کہانی میں بتایا تھا کہ اسے زبردستی منجیت سنگھ بنایا گیا اور ججوں نے اس کی ایک نہ سنی ،کیونکہ وہاں کے جج پولیس کی رپورٹ پرفیصلہ سناتے ہیں۔ ایسے میں ہماری عدالتیں یقینا قابل تعریف ہیں، لیکن سربجیت کے معاملے میں ہماری حکومت نے انصاف نہیں کیا۔ ہم یہ سب اس لئے بتا رہے ہیں کہ ’چوتھی دنیا‘ پوری کہانی شائع کرچکا ہے اور ہم پوری طرح سربجیت کی کہانی سے واقف ہیں، لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ اس کے باوجود بھی اس کو بچایا نہیں جا سکا۔ ہماری حکومت نے جب مئی 2012 میں پاکستانی سائنسداں خلیل چشتی کو رہا کیا تھا، تبھی ہندوستان کو سربجیت کی رہائی کی بات کرنی تھی تاکہ پاکستان بھی مجبور ہوجاتا، لیکن یہ نہیں ہوسکا۔ ان 22-23 سالوں میں سرکاریں بدلتی رہیں ،کئی وزیر اعظم ہوئے جن میں وی پی سنگھ، نرسمہا رائو، چندر شیکھر، اندر کمار گجرال ، اٹل جی اور اب منموہن سنگھ ،لیکن سربجیت کے معاملے پر کہیں سے بھی پیش قدمی نہیں ہوئی۔ آج جب وہ زندگی سے ہاتھ دھونے کے بعد وطن واپس لوٹا ہے تو شہید کا درجہ دیا جارہا ہے،کتنے افسوس کی بات ہے کہ زندگی میں تو اس کی رہائی کے لئے مناسب قدم نہیں اٹھایا گیا اور مرنے کے بعد اسے اعزاز سے نوازا جارہا ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سربجیت سنگھ کو اس اعزاز سے نوازنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ مجرم نہیں تھا اور اگر وہ مجرم نہیں تھا تو پھر اس کی رہائی کے لئے سبھی پارٹیوں کے لوگوں نے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر اس کی رہائی کے لئے کوششیں کیوں نہیں کیں۔سربجیت کی بہن ایک عورت ہوکر اپنے بھائی کے لئے 22 سالوں تک بہادری کے ساتھ لڑتی رہیں ،مگر مردوں کی اس دنیا میں آخر کار وہ ہار گئیں۔
سربجیت کی موت کا بدلہ لینے کے لئے ہی شاید جموں کی جیل میں پاکستانی قیدی پر حملہ کیا گیا اور اس کے بعد پاکستان کا بیان کہ ہمارا قیدی ہمیں سونپ دو ،ہم اس کا پاکستان میں علاج کرائیں گے۔آج سب کچھ ویسا ہی ہے جیسا سربجیت کے کیس میں ہوا تھا، صرف نام بدلے ہیں،لیکن پاکستان یہ جوابی حملہ جو کررہا ہے،وہ یہ بھول گیا ہے کہ وہاں سے علاج کے لئے لوگ ہندوستان آتے ہیں،خود میری بس میں لاہور سے کئی مریض آئے تھے جو یہاں علاج کرانے کے خواہشمند تھے۔ سربجیت کے معاملے میں ہندوستان کی مانگ جائز تھی ،لیکن ثناء اللہ کے معاملے میں پاکستان کی مانگ صرف اور صرف ایک بدلے کا جذبہ ہے ۔ ہندوستان سے بہتر علاج وہاں ہو ہی نہیں سکتا۔ آج سربجیت کی موت نے دونوں ممالک کی سیاست کو گرما دیا ہے۔ ہندوستان کے تمام میڈیا پاکستان کو اور پاکستان کے تمام میڈیا ہندوستان کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں، لیکن دل دہل رہا ہے دونوں ممالک کے معصوم عوام کا۔ وہ دل مسوس کر یہ سوچ رہے ہیں کہ بس اب شاید اپنوں کی شکلیں دیکھنا شاید نصیب نہ ہو۔ کتنی لڑکیاں ہندوستان سے پاکستان شادیاں کرکے گئی ہیں اور پاکستان سے ہندوستان آئی ہیں، اس حادثہ کے بعد سب ملنے کو ترس جائیںگے۔ دونوں ملک یہ بھول جاتے ہیں کہ دونوں ہی طرف کئی دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔ مائیکے میں بیٹھی لڑکی سسرال کے لئے ترستی ہے، غریب بوڑھی ماں اپنے بیٹے کے لئے ترستی ہے،بہن بھائی ایک دوسرے کے لئے ترستے ہیں اور ان سب کے بیچ نفرت کی سیاست اپنا کھیل کھیلتی رہتی ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *