کوئلہ گھوٹالہ: سی بی آئی کا کردار نہایت شرمناک

وسیم راشد 
ملک غلام تھا تو ہم یہ سمجھتے تھے کہ گورے ہماری قومی دولت سے اپنے خزانے کو بھر رہے ہیں۔ ایسا سوچنا صحیح بھی تھا،وہ ہماری قومی دولت کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے تھے۔پھر ہم آزاد ہوئے۔ آزادی کے بعد امید کی کرن نمودار ہوئی۔ سونے کی چڑیا کہا جانے والا ہمارا ملک ہندوستان اب کسی کی غلامی میں نہیں تھا۔ اس کی معیشت آزاد تھی اور اس کی قومی دولت پر خود ہمارا اپنا قبضہ تھا۔ تب یہ سوچا گیا کہ بہت جلد ہم سونے کی اس چڑیا کا وقار واپس لے آئیںگے اور بہت جلد ترقی یافتہ ملکوں کی اگلی صف میں کھڑے ہوں گے،کیونکہ ہماری زمین قدرتی وسائل سے مالا مال ہے،لیکن ایسا ہوا نہیں ،آزادی ملے ہوئے چھ دہائیوں سے زیادہ بیت گئے، اس کے بعد بھی ہمارے سماج کی 80 فیصد آبادی غریبی کی سطح پر زندگی گزار رہی ہے اور ان میں سے 20 فیصد ایسے ہیں جن کو پیٹ بھر کر کھانا میسر نہیں ہے۔آخر ایسا کیوں ہو؟ کیا قدرتی وسائل کم ہوگئے ؟ان کو استعمال کرنے والے دماغ نہیں رہے یا پھر ان کو استعمال ہی نہیں کیا گیا۔ غور کریں تو ان میں سے کچھ بھی نہیں ہے۔ ہمارے ملک میں وسائل کی بہتات ہے، اعلیٰ قسم کے دماغ بھی پائے جاتے ہیں اور قدرتی وسائل کو استعمال بھی کیا گیا، لیکن اس کے باوجود ملک کی ترقی انتہائی سست رفتار رہی ،اقتصادی پسماندگی اور غریبی کی سطح میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ تمام تر وسائل کے باجود ان چھ دہائیوں میں بد عنوانی، کرپشن اور گھوٹالوں کی اتنی بہتات رہی کہ ان کے سامنے ہمارے ملک کی ترقی بونی ہوگئی۔ آزادی کے بعد ایک سے بڑھ کر ایک گھوٹالے سامنے آئے۔1948 میں جیپ گھوٹالہ،تو 1951 میں سائیکل امپورٹ گھوٹالہ،1956 میں بنارس ہندو یونیورسٹی میں گھوٹالہ،1960 میں تیجا لون اسکنڈل،1964 میں پرتاپ سنگھ کیرون گھوٹالہ،1956 میں کالنگ ٹیوب گھوٹالہ، 1974 میں ماروتی گھوٹالہ،1976 میں آئل اسکنڈل،1981 میں سمینٹ اسکنڈل،1990 میں ایئر بس اسکنڈل،1992 میں ہرشد مہتا سیکوریٹی اسکنڈل اورانڈین بینک اسکنڈل،1994 میں شوگر امپورٹ اسکنڈل،1995 میں میگھالیہ فوریسٹ اسکنڈل،1996 میں سکھ رام مواصلات گھوٹالہ،1997 میں کوبلر اسکیم،2001 میں کیتن پاریکھ سیکوریٹی اسکیم،2002 میںاسٹامپ پیپر اسکیم،2003 میں HUDCO اسکیم،2005 میں تاج کو آپریٹیو گروپ ہائوسنگ اسکیم،2006 میں آیورویدا اسکیم،2008 میںآرمی راشن اسکیم،2009 میں اڑیسہ مائننگ اسکیم،2010 میںآندھرا پردیش اِمار اسکیم،2011 میں ٹاٹرا اسکیم۔ غرض گھوٹالوں کی ایک طویل فہرست ہے جن میں سے چند کو بطور نمونہ پیش کیا گیا ہے۔ اور جب بھی کوئی گھوٹالہ ہوتا ہے تو کچھ دنوں تک اس پر واویلا مچایا جاتا ہے اور پھر خاموشی چھا جاتی ہے۔ ابھی حال ہی میں جب ٹو جی اسپیکٹرم کا گھوٹالہ سامنے آیا تھا تو اتنے بڑے گھوٹالے کو دیکھنے کے بعد ایسا محسوس کیا جارہا تھا کہ اب گھوٹالہ کرنے والوں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کے لئے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جائے گا ، لیکن ابھی اس گھوٹالے کی گرماہٹ کم بھی نہیں ہوئی تھی کہ اس سے بڑا گھوٹالہ یعنی کوئلہ گھوٹالہ سامنے آگیا۔ اس گھوٹالے میں تو ملک کا وقار ہی دائوں پر لگ گیا۔ وزارت عظمیٰ کے باوقار عہدے پر فائز منموہن سنگھ بھی شک کے دائرے میں آگئے۔ کیونکہ جس وقت یہ گھوٹالہ ہوا تھا، اس وقت منسٹری آف کول ان کے زیر قلم تھی۔ ان کی وزارت میں تمام گھوٹالے ہوتے رہے اور وہ خاموشی سے ملک کو لٹتے ہوئے دیکھتے رہے۔ظاہر ہے اتنا سب کچھ ہونے کے بعد انہیں شک کے دائرے سے بالا تر نہیں سمجھا جاسکتا ، یہی وجہ ہے کہ سی اے جی نے جب اپنی تحقیق شروع کی تو منموہن سنگھ کو بھی اپنے دائرۂ تحقیق میں رکھا اور تحقیق کے بعد انہیں اس کا قصور وار بھی پایا۔
منموہن سنگھ اس وقت ملک کے وزیر اعظم ہیں اور ایک وزیر اعظم کا کسی گھوٹالے میں ملوث ہونا بڑے شرم کی بات ہے۔ اس سے ملک کی شبیہ خراب ہوتی ہے اور اس پارٹی کی بھی جو بر سر اقتدار ہے۔ظاہر ہے منموہن سنگھ کا شک کے دائرے میں آنا کانگریس کے لئے ایک بری خبر تھی،اس سے نہ صرف پارٹی کی شبیہ خراب ہوئی بلکہ منموہن سنگھ کی ایمانداری کے جو راگ الاپے جارہے تھے ،اس کو بھی شدید دھچکا لگا۔کانگریس نے اس دلدل سے نکلنے کے لئے بڑی چالاکی سے اس رپورٹ پر سی بی آئی کو از سر نو جائزہ لینے کے لئے کہہ دیا ۔ از سر نو جائزے کے پیچھے کانگریس کا مقصد کیا تھا ،یہ تو کانگریس کے لوگ ہی جانیں، لیکن سی بی آئی ڈائریکٹر رنجیت سنہا نے مانا کہ PMO ،وزارت قانون اور وزیر برائے کوئلہ تینوں کو یہ رپورٹ دکھائی اس پر وزیر قانون نے غیر منطقی جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس رپورٹ میں کچھ گرامیٹک دقتیں تھیں ،جن کو دور کرنے کے لئے انہوں نے یہ رپورٹ منگوائی ہے۔ان کا جواب بڑا عجیب لگتا ہے۔ کیا وہ ٹیچر ہیں جو سی بی آئی کی رپورٹ کے جملوں کی اصلاح کے لئے اپنے پاس منگواتے ہیں اور پھر اس کے جملوں کی درستگی کرتے ہیں۔اور اس سے بھی زیادہ شرم کی بات یہ ہے کہ ملک کا سب سے بڑا انویسٹی گیٹیو ادارہ یعنی (سی بی آئی)انگریزی میں اتنا کمزور ہے کہ وہ ایک ڈرافٹ بھی تیار نہیں کر سکتا۔ ظاہر ہے یہ بچکانہ جواز صرف اور صرف اپنی شرمندگی اور الزامات سے بچنے کے لیے دیاگیا ہے۔ کانگریس کی اس چال کی وجہ سے اپوزیشن ناراض ہے ۔ ظاہر ہے اپوزیشن کو حکمراں پارٹی سے جواب مانگنے کا پورا حق ہے ۔ حکمراں جماعت کو بھی ایمانداری کے ساتھ جواب دینا چاہئے اور اپوزیشن کو مطمئن کرنا چاہئے کہ آخر ایسا کیوںہوا، غلطی کہاں پر اور کس سے ہوئی ہے۔ جس سے بھی غلطی ہوئی ہے ،وہ چاہے جو بھی ہو ،اس کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہئے۔ یوں تو ہمارے وزیر اعظم کو اس وقت کسی بات کا انتظار کرنا ہی نہیں چاہئے تھااور انہیں اخلاقی طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے کر اپنے اوپر عائد الزامات کا دفاع کرنا چاہئے تھا،خاص طور پر جب انہوں نے یہ کہا تھا کہ اگر ان کا نام گھوٹالے میں آتا ہے تو وہ نہ صرف اپنا عہدہ بلکہ سیاست بھی چھوڑ دیںگے تواب وقت آگیا ہے کہ وہ اپنے وعدے کو نبھائیںاور اخلاقی طور پر کنارہ کشی اختیار کرلیں،مگر شاید اب لیڈروں سے اخلاقی کردار معدوم ہوچکا ہے۔ انہیں عوام کے توقعات،جذبات اور امیدوں سے کہیں زیادہ عزیز ان کا اپنا عہدہ ہوتا ہے ،ورنہ منموہن سنگھ کو تو اسی وقت استعفیٰ دے دینا چاہئے تھا جب ،سی اے جی نے ان کو شک کے دائرے میں لیا تھا۔
یہ بھی بڑا سوال ہے کہ اوریجنل ڈرافٹ رپورٹ کیا تھی اور اس میں کیا کیا تبدیلیاں ہوئیں۔ہمارے لیڈروں کو لال بہادر شاستری کے کردار کو اپنے لئے رول ماڈل بنانا چاہئے جنہوں نے وزارت ریل سے صرف اس لئے استعفیٰ دے دیا تھا کہ ان کی وزارت میں ایک ریل حادثہ ہوگیا تھا ،مگر آج ہمارے لیڈروں کا یہ حال ہے کہ وزیر قانون پر سی بی آئی کی رپورٹ کو غیر قانونی طریقے سے منگوانے اور اس میں رد و بدل کرنے کا الزام لگ رہا ہے، مگر وہ بڑی ڈھٹائی سے یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنے عہدہ سے استعفیٰ نہیں دیں گے۔قانونی طور پر انہیں استعفیٰ دینا چاہئے یا نہیں ، مجھے اس سے کوئی بحث نہیں ہے لیکن اخلاقی تقاضہ تو یہی ہے کہ وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں اور جب یہ الزام غلط ثابت ہو، تو ڈنکے کی چوٹ پر عوام کے سامنے آئیں اور بتائیں کہ ان کا کردار صاف ستھرا ہے۔لیکن شاید ان میں یا ان جیسے لیڈروں میں اتنی اخلاقی جرأت نہیں ہے کہ ایسا قدم اٹھائیں ۔ آج چونکہ ہمارے ملک میں ایسے ہی لیڈروں کی تعداد زیادہ ہے جن میں اخلاق نام کی کوئی چیز نہیں رہ گئی ہے ، لہٰذا ایسے لیڈروں کی وجہ سے ہی گھوٹالوں اور بد عنوانیوں کو شہ ملتی ہے ،یہی وجہ ہے کہ ملک قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے، اعلیٰ دماغ اور ذرائع کے پائے جانے کے باوجود ملک کو جس رفتار سے ترقی کرنی چاہئے تھی اس سے کہیں بہت پیچھے ہے۔
شرم آتی ہے جب سی بی آئی ڈائریکٹر نے کورٹ میں یہ لکھ کر کہا کہ آئندہ اس طرح کی رپورٹ کسی کو نہیں دکھائی جائے گی۔ سی بی آئی ڈائریکٹر کی یہ پشیمانی دراصل ان کی نا اہلی کا ثبوت ہے۔ ڈائریکٹر کو ،وزیر اعظم کو، وزیر قانون کو، وزیر کوئلہ کو اورسبھی کو اخلاقی طور پر مستعفی ہو جانا چاہئے ،تبھی ہمارے جمہوری اقدار کی پاسبانی ہوگی۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *