چین کی موجودگی سے سرحدیں غیر محفوظ

محمد ہارون
لداخ کے دولت بیگ اولڈی سیکٹر میں چینی فوج نے قبضہ تو ختم کرلیا ہے، لیکن واپس جانے سے پہلے چینی فوج نے بغیر لڑے ہی ہندوستانی فوجیوں کو ان کی ہی سر زمین پر p-3bپیچھے دھکیلنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔ سیکٹر میں چینی فوج کی در اندازی اور قبضہ جمانے کے 20 دن بعد حکومت ہند نے اعلان کیا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تنازعہ ٹل گیا ہے اور دونوں فوجیں لداخ کے دولت بیگ اولڈی سیکٹر سے واپس چلی گئی ہیں۔ اس سے پہلے حکومت ہند نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ 15 اور 16 اپریل کی درمیانی شب چینی فوج نے ہندوستان کے خطے میں 19 کلومیٹر اندر تک داخل ہونے کے بعد ڈیرہ جمالیا ہے۔ 30 سے 35 چینی فوجی جیپوں میں سوا ر ہوکر آئے تھے۔ ابتدائی ایک دو دن کے لیے وہ اپنا راشن ساتھ لے کر آئے تھے اور چند دن بعد ان کی راشن سپلائی چینی فوجی ٹرکوں کے ذریعے آنے لگی۔ 19 کلو میٹر لداخ کے اندر داخل ہوجانے کے بعد قابض فوجیوں نے دراصل 750 مربع کلو میٹر زمین کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ انہوں نے لداخ کے دولت بیگ سیکٹر میں ایک بینر بھی لگوا دیا، جس میں انگریزی زبان میں لکھا گیا تھا کہ ’’ آپ چینی حدود میں ہیں۔‘‘ ہندوستانی فوج اس ساری جارحیت کو ٹھنڈے پیٹوں 20 دن تک برداشت کرتی رہی، جبکہ دلی سرکار یہ تاثر دینے کی کوشش کررہی تھی کہ معاملہ زیادہ پیچیدہ نہیں ہے۔ 5 مئی کو حکومت ہند نے دونوں افواج کے اپنی اپنی جگہ سے واپس ہٹنے کی بات کہی۔ تاہم ناقدین نے اس اعلان کو ہندوستان کی عملی ہار قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ اگر چین واقعی ہندوستان کی سرزمین کے اندر 750 مربع کلو میٹر کے خطے پر قابض ہوگیا تھا، تو واپس جانے سے پہلے اس نے ہندوستانی فوج کو اپنے ہی علاقے میں پیچھے ہٹنے پر مجبور کیوں کیا؟
لیہہ میں بی جے پی کے ضلع صدر نذیر احمد نے ’’چوتھی دنیا‘‘ کے ساتھ ایک بات چیت میں کہا کہ’’ ایسا لگتا ہے کہ چینی فوج بغیر لڑے ہی ہندوستانی فوج کو اپنی ہی سر زمین میں پیچھے لے جانے میں کامیاب ہوگئی ہے اور ہندوستانی فوج نے اس معاملے میں کمپرومائز کر لیا ہے۔‘‘ نذیر احمد کا کہنا ہے کہ چین کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ وہ ہندوستانی فوج کو اپنے ہی خطے میں پیچھے دھکیلنے کی حکمت عملی پر گامزن رہی ہے۔ انہوں نے یاد دلاتے ہوئے کہا کہ تین سال پہلے بھی لداخ میں 14 چینی فوجیوں نے ہیلی کاپٹر میں آکر چمور گائوں میں ہندوستانی فوج کی ایک پکٹ تہس نہس کردی تھی۔ اسی طرح چینی فوج نے ایک دو سال قبل دمچوک گائوں میں ہندوستان کو تعمیراتی کام کرنے سے روک دیا اور ایک زیر تعمیر کمیونٹی ہال کی تعمیر رکوادی تھی۔ انہوں نے کہا کہ چین وقفے وقفے سے ہندوستان کی سرزمین میں داخل ہوکر ہندوستانی فوج کو پیچھے دھکیلنے میں کامیاب ہوجا تا ہے۔
ہندوستانی فوج کی جانب سے اپنی ہی سر زمین پر پیچھے ہٹنے پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی تنقید کا نشانہ بنا یا ہے۔ عمر عبداللہ 5 مئی کو سرینگر میں ایک پر یس کانفرنس سے خطاب کرر ہے تھے، جب انہوں نے ہندوستانی وزارت دفاع پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزارت دفاع اس بات کا مطلب سمجھا دے کہ ہندوستانی فوجیوں کے پیچھے ہٹنے کا مقصد کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے پوچھا کہ آخر ہندوستان لائن آف ایکچول کنٹرول سے پیچھے کیوں ہٹ گیا؟ انہوں نے ہندوستانی فوجیوں کے پیچھے ہٹنے پر حیرت کا اظہار کیا۔ لداخ کے سیاسی حلقوں میں اس بات پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا جارہا ہے کہ چینی فوج نے واپس جانے سے پہلے ہندوستانی فوج کو ہی اس کی اپنی سرزمین پر پیچھے ہٹنے کے لیے مجبور کردیا اور اس طرح سے ہندوستان مستقبل میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ لداخ میں واقع دولت بیگ اوڈلی سیکٹر ایک ہندوستانی علاقہ ہے۔
لداخ کے دمچوک علاقے کے سیاسی طور پر ایک متحرک سرپنچ  رگزنگ ٹنگے نے ’’چوتھی دنیا‘‘ کے ساتھ ایک بات چیت میں بتایا کہ’’ چین سرحدی تنازعے کے بہانے بار بار لداخ میں در اندازی کرتے ہوئے، وہاں تعینات ہندوستانی فوجیوں کو دبائو میں رکھے ہوئے ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’میں حیران ہوں کہ ہماری قوم جشن کیوں منارہی ہے۔ چینی فوج دولت بیگ سیکٹر سے واپس تو چلی گئی تھی، انہیں جانا ہی تھا، کیونکہ انہوں نے ہماری زمین پر قبضہ کرلیا تھا، لیکن جانے سے پہلے انہوں نے ہمیں اپنی ہی سر زمین سے بے دخل کردیا ہے۔ کیا یہ ہماری جیت ہے یا ہار؟‘‘ رگزنگ نے وزیر خارجہ سلمان خورشید کے اس بیان کو بھی طنز کا نشانہ بنایا یا کہ ’’ہمارے سخت موقف نے چینی فوج کو واپس جانے پر مجبور کر دیا۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ’’ہمارے سخت موقف نے تو انہیں واپس جانے پر مجبور کیا یا نہیں، یہ الگ بات ہے، لیکن ان کے نرم موقف نے ہمیں اپنی ہی زمین چھوڑنے پر ضرور مجبور کردیا ہے۔‘‘ واضح رہے کہ رگزنگ ٹنگے لیہہ کے ایک با اثر سیاسی کارکن ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ لداخ میں چینی فوج کی وقفے وقفے سے در اندازی پر صدائے احتجاج بلند کی ہے۔ ان کی اسی دیش بھگتی کو دیکھ کر ہندوستانی فوج نے اب تک کئی بار رگزنگ کو یوم جمہوریہ اور یوم آزادی کی تقاریب میں سلامی دی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ دراصل چین کی پالیسی یہ ہے کہ وہ رک رک کر اور سست رفتاری سے ہماری زمین ہتھیا رہے۔ اب تک وہ یہی کرتا آیا ہے۔
لداخ میں چینی فوج کی دراندازی کے حالیہ واقعہ کے بارے میں باو ثوق ذرائع نے ’’ چوتھی دنیا‘‘ کو بتا یا کہ چین کی اس حرکت کی بنیادی وجہ لداخ میں تعینات ہندوستانی فوج کے پاس چینی فوجیوں کے مقابلے میں جدید اسلحے اور بنیادی ڈھانچے کا فقدان ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندوستانی فوج کے برعکس چینی افواج کے پاس ہر سہولت دستیاب ہے، بلکہ چینی فوج کی جغرافیائی پوزیشن بھی ہندوستانی سپاہیوں کے مقابلے میں زیادہ مستحکم ہے۔ چین نے ہندوستان کے ساتھ لگنے والی سرحد کے قریب لپی لیکھ میں تمام موسموں کے لیے کار آمد شاہراہ تعمیر کی ہے، جس کی وجہ سے چینی فوج سخت ترین سردی اور بھاری برفباری میں بھی سرحد تک پہنچ سکتی ہے۔ چین نے دمچوک سیکٹر میں چینی سائڈ میں ایک پختہ سڑک تعمیر کررکھی ہے۔ اس کے علاوہ چینی فوج کے پاس بہترین مواصلاتی نظام ہے، جبکہ لداخ میں ہندوستانی سائڈ میں موبائل فون بھی نہیں چلتا ہے۔ چوشول سیکٹر میں واقع ایک بڑی پینگانگ جھیل کا 70 فیصد حصہ چین کا ہے، جبکہ صرف 30 فیصد ہندوستان کا ہے، لیکن چینی افواج جب چاہیں جھیل میں ہندوستانی حصے میں کشتیاں چلاتی نظر آتی ہیں۔ اس جھیل کے قریب دونوں افواج کے درمیان سہولیات کے عدم توازن کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جھیل کا جو حصہ چین کے علاقے میں آتا ہے، وہ روشنیوں سے جگمگاتا رہتا ہے، جبکہ اس کے برعکس ہندوستانی سائڈ میں سولر لائٹنگ سسٹم سے کام چلایا جارہا ہے۔ واضح رہے کہ لداخ میں فوج کے لیے بہتر ڈھانچہ تشکیل دینے کے لیے جون 2012 میں مرکزی سرکار نے 1934 کروڑ روپے واگزار کرتے ہوئے انڈو تبتن سرحد پر 894 کلومیٹر سڑک بنانے کی منظوری دی تھی، لیکن چین اس سڑک کی تعمیر میں روڑے اٹکا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جب بھی سڑک کی تعمیر کا کام شروع کیا جاتا ہے، چینی فوج ہندوستانی حدود میں داخل ہوکر کام کو رکوا دیتی ہے۔ ہندوستان اب تک لداخ میں چین کی دراندازی کی کارروائیوں کو ظاہری طور پر بہت کم اہمیت دے رہا ہے۔ چینی دراندازی اور دولت بیگ سیکٹر میں قبضہ جمانے کے حالیہ واقعہ کے بارے میں بھی مرکزی حکومت نے یہی تاثر دینے کی کوشش کی کہ یہ ایک معمولی نوعیت کا معاملہ ہے، جسے بہت جلد حل کر لیا جائے گا۔ قابل ذکر ہے کہ چین ہندوستان سرحدی تنازعہ 50 سال پرانا ہے۔ ہندوستان جسے حقیقی لائن مانتا ہے، چین اسے کوئی اہمیت نہیں دے رہا ہے، بلکہ چین ہندوستان کی دو ریاستوں، اروناچل پر دیش اور سکم کے علاقوں پر بھی اپنا دعویٰ جتاتا ہے۔ چین نے تین سال قبل، یعنی 2010 میں ہندوستانی فوج کی شمالی کمان کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل بی ایس جسوال کو بیجنگ جانے کے لیے یہ کہہ کر ویزا فراہم کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ وہ جموں و کشمیر میں تعینات ہیں، جہاں فوج  انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کررہی ہے۔ چین نے 2011 میں بھی اس وقت کے ہندوستانی فضائیہ کے کیپٹن ایم پانگنگ کو ویزا دینے سے انکار کردیا تھا، کیوں کہ وہ اروناچل پردیش کے تھے، جس پر چین اپناعلاقہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔
چین کی ان ساری حرکتوں کے باوجود یہ بات حقیقت پر مبنی ہے کہ دونوں ملکو ں کے درمیان طاقت کے توازن میں بہت زیادہ فرق ہونے کی وجہ سے چین کے ساتھ کوئی بھی مخاصمت ہندوستان کے حق میں نہیں ہوسکتی ہے، لیکن یہ بات طے ہے کہ موجودہ صورت حال اس بات کا ایک ناقابل تردید ثبوت ہے کہ ہندوستان گزشتہ 51 سال کے دوران چین کے ساتھ سرحدی تنازعات سفارتی طریقے سے حل کرنے میں بری طرح ناکام ہوا ہے اور یہ ایک بہت بڑی ناکامی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہندوستان مزید وقت ضائع کیے بغیر ملک میں رائے عامہ ہموار کرتے ہوئے، چین کے ساتھ مسائل حل کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *