عوام ایک ذمہ دار پارلیمنٹ کی تعمیر کریں

سنتوش بھارتیہ 
عظیم ملک کی عظیم پارلیمنٹ نہایت عظیم مثال آنے والی نسلوں کے لیے چھوڑ رہی ہے۔ پارلیمنٹ کو نہ اپنے وقار کا خیال ہے، نہ وہ لوگوں کی زندگی میں آ رہی مشکلوں سے واسطہ رکھتی ہے اور نہ ہی وہ ان سوالوں کو اٹھاتی ہے، جن کا رشتہ اس ملک کے غریب سے ہے۔ پارلیمنٹ میں یہ بھی مدعا نہیں اٹھتا کہ مکیش امبانی کو زیڈ پلس سیکورٹی کیوں دی گئی؟ وزیر داخلہ کو یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا کہ اس سیکورٹی کے بدلے امبانی پیسہ دیں گے۔ تو کیا وزیر داخلہ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ اس ملک کا ہر پیسے والا کچھ لاکھ روپے دے کر ہندوستانی سرکار کی زیڈ پلس سیکورٹی حاصل کر سکتا ہے؟ افسوس! پارلیمنٹ میں اس کے اوپر سوال تک نہیں اٹھا، کسی ضابطہ کے تحت ذکر تک نہیں ہوا۔ اس کا مطلب یہی ہوا کہ پارلیمنٹ مکیش امبانی کے آگے سر جھکا رہی ہے۔
ایک وقت تھا، جب کانگریس کے وزیر ریل لال بہادر شاسترینے ایک ٹرین حادثہ کی اخلاقی ذمہ داری لی اور وزیر ریل کے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔ جواہر لال نہرو نے انہیں استعفیٰ دینے سے نہیں روکا، بلکہ انہوں نے ان کے اس قدم کی تعریف کی۔ اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی بھی راجیہ سبھا کے رکن رہ کر وزیر اعظم بنے رہ سکتے تھے، لیکن اندرا گاندھی نے اپنے والد کے ذریعے شروع کی گئی جمہوری روایت پر عمل کیا اور وزیر اعظم بنتے وقت حلف انہوں نے ضرور لے لیا، لیکن جلدی سے جلدی انہوں نے راجیہ سبھا سے استعفیٰ دیا اور لوک سبھا کی رکن بنیں۔ اس کے بعد وہ کبھی بھی راجیہ سبھا کی رکن رہتے وزیر اعظم نہیں بنیں۔ راجیو گاندھی نے الیکشن لڑا اور وہ لوک سبھا کے رکن بنے۔ ہندوستانی جمہوریت کی تاریخ کی یہ پہلی مثال ہے کہ جب اس ملک کے وزیر اعظم اپنا پورا وقت راجیہ کا رکن رہتے ہوئے گزار گئے۔ اس کے پہلے انہوں نے جب جب لوک سبھا کا الیکشن لڑا، وہ ہار گئے۔ وزیر اعظم رہتے ہوئے جو آدمی لوک سبھا کا الیکشن لڑنے کی ہمت نہ کرے اور 120 کروڑ لوگوں کا لیڈر ہونے کا دعویٰ کرے، تو شاید یہ اس ملک کی جمہوریت کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ اس سوال کو کسی بھی لیڈر نے مدعا نہیں بنایا، کیوں کہ اگر یہ مدعا بنتا، تو پھر یہ سوال بھی کھڑا ہوتا کہ کیا واقعی وزیر اعظم اخلاقی طور سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان کے آسام کے گھر کا پتہ، سچ مچ ان کے گھر کا پتہ ہے؟کیا اس گھر میں وہ کبھی ایک مہینہ بھی رہے؟ کیا ان کی بیوی کبھی وہاں رہیں؟ کیا ان کی بیٹیاں یا بہنیں وہاں کبھی رہیں؟ نہیں رہیں۔ ہر آدمی جانتا ہے کہ جو اخلاقی روایتیں پنڈت جواہر لال نہرو، لال بہادر شاستری اور اندرا گاندھی نے شروع کیں، ان کی دھجیاں ایوان کے اندر وزیر اعظم کے روپ میں بیٹھنے والے آدمی نے اڑا دیں۔

ایک وقت تھا، جب کانگریس کے وزیر ریل لال بہادر شاسترینے ایک ٹرین حادثہ کی اخلاقی ذمہ داری لی اور وزیر ریل کے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔ جواہر لال نہرو نے انہیں استعفیٰ دینے سے نہیں روکا، بلکہ انہوں نے ان کے اس قدم کی تعریف کی۔ اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی بھی راجیہ سبھا کے رکن رہ کر وزیر اعظم بنے رہ سکتے تھے، لیکن اندرا گاندھی نے اپنے والد کے ذریعے شروع کی گئی جمہوری روایت پر عمل کیا اور وزیر اعظم بنتے وقت حلف انہوں نے ضرور لے لیا، لیکن جلدی سے جلدی انہوں نے راجیہ سبھا سے استعفیٰ دیا اور لوک سبھا کی رکن بنیں۔ اس کے بعد وہ کبھی بھی راجیہ سبھا کی رکن رہتے وزیر اعظم نہیں بنیں۔ راجیو گاندھی نے الیکشن لڑا اور وہ لوک سبھا کے رکن بنے۔

وزیر اعظم رہتے ہوئے منموہن سنگھ نے جو بھی فیصلہ لیا، وہ اس ملک کے غریب کے خلاف اور امیر کے حق میں گیا، کیوں کہ وزیر اعظم نے بلا جھجک امریکی اقتصادی ایجنڈہ اس ملک میں بے رحمی سے نافذ کیا، لیکن حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ پارلیمنٹ اس کے اوپر بوکھلائی نہیں اور ایک بھی رکن پارلیمنٹ نے اس ہٹ دھرمی کے خلاف استعفیٰ دینے کی دھمکی بھی نہیں دی۔ وزیر اعظم نے یہ کہا کہ ان کے اوپر اگر کبھی بھی چھینٹ آئے گی، تو وہ نہ صرف وزیر اعظم کے عہدہ سے استعفیٰ دے دیں گے، بلکہ عوامی زندگی سے سنیاس بھی لے لیں گے۔ اب دیکھئے، ہندوستان کا سب سے بڑا گھوٹالہ کول بلاک کی تقسیم میں ہوا، جسے سب سے پہلے چوتھی دنیا نے اہمیت کے ساتھ شائع کیا اور ہم نے سرکاری کاغذوں کی تفصیلات کے ساتھ یہ لکھا کہ یہ گھوٹالہ 26 لاکھ کروڑ کا ہے، لیکن سی اے جی نے سرکاری دباؤ میں اسے ایک لاکھ 76 ہزار کروڑ کا گھوٹالہ کہا۔ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ وزیر اعظم نے کچھ بھی نہیں کہا، بلکہ خاموش بیٹھے رہے۔ حالانکہ جس وقت گھوٹالہ ہوا، اس وقت وہ ملک کے وزیر کوئلہ تھے۔ سارے فیصلے ان کے دستخط کے ساتھ نافذ ہوئے اور یہ گھوٹالے وزیر اعظم کے دستخط سے ہی ہوئے۔
سپریم کورٹ نے ابھی دو مہینے پہلے اپنا آبزرویشن دیا ہے کہ کوئلہ گھوٹالہ سرکار یا وزارت کی گڑبڑی کی وجہ سے ہی ہوا ہے۔ وہی وزارت، جس کے وزیر خود منموہن سنگھ ان دنوں تھے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کے بعد بھی وزیر اعظم منموہن سنگھ خاموش رہے، لیکن اس دوران ایک کارروائی ضرور شروع ہو گئی اور وہ تھی سی بی آئی کی رپورٹ بدلوانے کی کوشش۔ سی بی آئی نے کوشش کی اور وزیر قانون نے اس پر یہ دباؤ ڈالا کہ وہ اپنی رپورٹ میں سے وزیر اعظم کا نام ہٹا دے۔ اور سی بی آئی نے ایسا ہی کیا۔ اب سی بی آئی وہ رپورٹ سپریم کورٹ میں رکھنے جا رہی ہے اور کہہ یہ رہی ہے کہ سپریم کورٹ کو فیصلہ کرنا ہے۔ دوسری طرف وزارتِ کوئلہ بھی بار بار یہ کہہ رہا ہے کہ اس مسئلے پر سپریم کورٹ کو فیصلہ کرنا ہے، اس کے اوپر پارلیمنٹ میں کیوں بحث ہو۔ اس کا مطلب وزیر اعظم سپریم کورٹ کے آبزرویشن یا تبصرہ کو بھی اس لائق نہیں مانتے کہ وہ اپنے کیے ہوئے وعدے کے اوپر کچھ قدم اٹھائیں۔ آخر میں پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے کوئلہ گھوٹالے کے اوپر اپنی رپورٹ پیش کردی اور اس میں صاف صاف کہا کہ وزارتِ کوئلہ میں گڑبڑی ہوئی ہے اور وزارتِ کوئلہ ان دنوں وزیر اعظم کے ماتحت تھی۔ یہ چاروں مثالیں یہ بتاتی ہیں کہ ہندوستانی وزیر اعظم نہ تو پارلیمنٹ کی کوئی پرواہ کرتے ہیں، نہ سپریم کورٹ کو کوئی بھاؤ دیتے ہیں اور نہ ہی پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کو تبصرہ کے لائق مانتے ہیں۔
پارلیمنٹ کے اندر کوئلہ گھوٹالے کے سوال پر بھارتیہ جنتا پارٹی نے وزیر اعظم کا استعفیٰ مانگا اور پارلیمنٹ کی کارروائی میں خلل پڑا، لیکن یہاں ایک سوال یہ اٹھتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے سارے ممبرانِ پارلیمنٹ لوک سبھا سے مشترکہ طور پر استعفیٰ کیوں نہیں دے دیتے؟ جس پارلیمنٹ میں وہ نہ کوئی آواز اٹھا سکتے ہیں، نہ کوئی مباحثہ کر سکتے ہیں اور جہاں ان کی کسی بھی مانگ کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا، اس پارلیمنٹ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے لوگ آخر بیٹھے کیوں ہیں؟یہ سوال صرف بھارتیہ جنتا پارٹی پر نہیں ہے، بلکہ یہ ترنمول کانگریس، جنتا دل یونائٹیڈ، شو سینا اور شرومنی اکالی دل پر بھی ہے۔ دراصل، یہ سارے لوگ اس پارلیمنٹ کو خود سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ اسی لیے پارلیمنٹ میں جب بھی عام جنتا سے جڑے سوالوں پر بحث ہوتی ہے، اس وقت یہ سارے لوگ ایوان میں ہوتے ہی نہیں ہیں۔ لوک سبھا ٹی وی کی ساری کارروائی اس کی گواہ ہے۔
کسی بھی موضوع کے اوپر بحث ہو رہی ہو، لیکن سبھی اراکین کو پورے ایوان میں بیٹھے دیکھنا لوگوں کی حسرت ہی رہ گئی ہے۔ صرف زیرو آور کے دوران ایک ایسا وقت ہوتا ہے، جب ممبرانِ پارلیمنٹ ایوان میں رہتے ہیں، ورنہ ایوان، خاص کر 12-1 بجے کے بعد خالی ہی دکھائی دیتا ہے۔ ہمارے جیسے لوگ پارلیمنٹ سے بہت امید رکھتے ہیں، لیکن اس امید کا کوئی مطلب ہی نہیں رہ جاتا، کیوں کہ وزیر اعظم، حزبِ اختلاف کا لیڈر، سرکار کی حمایت کر رہی پارٹیاں اور اپوزیشن کا ساتھ دے رہی سیاسی پارٹیاں اس پارلیمنٹ کو سنجیدہ بنانا ہی نہیں چاہتیں اور اس پارلیمنٹ کی طرف سے اچھی مثالیں پیش ہی نہیں ہونے دینا چاہتیں۔ اب یہ سوچنا کہ اس پارلیمنٹ میں کوئی ناتھ پے، مدھولیمے ہوگا، جارج فرنانڈیز، بھوپیش گپتا، راج نارائن یا کشن پٹنائک ہوگا، دن میں خواب دیکھنے جیسا ہی ہے۔ چندر شیکھر، وشوناتھ پرتاپ سنگھ اور اٹل بہاری واجپئی تو بہت دور کی چیز ہیں۔ یہ سارے لوگ اب خواب ہوگئے، کیوں کہ ایسے ہی لوگوں نے روایتیں قائم کی تھیں۔ خود کانگریس میں پنڈت جواہر لال نہرو، گووند ولبھ پنت، لال بہادر شاستری اور خود اندرا گاندھی جیسے لوگوں نے روایتیں قائم کی تھیں، لیکن اب اس پارلیمنٹ میں کوئی بھی روایتوں کی پرواہ ہی نہیں کرتا، اسی لیے یہ پارلیمنٹ ہندوستان کے لوگوں کے لیے اِرّیلیونٹ ہوگئی ہے۔
پارلیمنٹ کی موقع پرستی کی سب سے بڑی مثال اگست 2011 میں ہوئی خصوصی میٹنگ سے دیکھی جا سکتی ہے۔ انا ہزارے کی غیر معینہ بھوک ہڑتال سے بنے ملک کے دباؤ کی وجہ سے پارلیمنٹ بیٹھی اور اس میں سارے لوگ موجود تھے۔ خود وزیر اعظم منموہن سنگھ تھے۔ سونیا گاندھی، راہل گاندھی، ملائم سنگھ، مایاوتی، اڈوانی جی، سشما سوراج کے علاوہ لیفٹ پارٹیوں کے لیڈر بھی تھے۔ سبھی نے ایک آواز میں تجویز پاس کی تھی کہ مضبوط جن لوک پال بل لائیں گے اور اسی تجویز کی نقل کے ساتھ وزیر اعظم نے اپنا خط انا ہزارے کے پاس بھیجا تھا۔ اس لیے انا ہزارے نے پارلیمنٹ پر بھروسہ کرکے اپنا اَنشن توڑا۔ لیکن دو سال گزر گئے، پارلیمنٹ کو اپنی اس تجویز کی یاد ہی نہیں ہے۔ آج بھی پارلیمنٹ اس تجویز کو بھولی ہوئی ہے یا کہیے کہ بے شرمی کے ساتھ اپنی اس تجویز کو یاد ہی نہیں کرنا چاہتی۔ کسی بھی ممبر پارلیمنٹ، جتنے لیڈروں کے نام میں نے لیے، ان میں سے کسی نے بھی پارلیمنٹ میں یہ بات نہیں کہی کہ ہم نے ہی وہ تجویز پاس کی تھی، لیکن ہم اس تجویز کی عزت برقرار نہیں رکھ پا رہے ہیں۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا یہ پارلیمنٹ یا پارلیمنٹ نامی ادارہ اور ملک کے آئین کی بے عزتی نہیں ہے؟
ہمارے لکھنے سے یہ پارلیمنٹ بدلنے والی نہیں ہے۔ اس پارلیمنٹ کو بدلنے اور ایک ذمہ دار پارلیمنٹ بنانے کا ہتھیاراس ملک کے عوام کے پاس ہے۔ اگر عوام اپنے اس ہتھیار کا استعمال نہیں کرتے، تو وہ اپنے اوپر ایک بے لگام پارلیمنٹ لادیں گے، جس سے ان کا مستقبل سو فیصد مایوس کن ہونے والا ہے۔ امید کرنی چاہیے کہ آنے والے الیکشن میں گزشتہ 65 سالوں میں پہلی بار اس ملک کے عوام جاگیں گے اور تب وہ ایک ایسی پارلیمنٹ کی تعمیر کریں گے، جو ان کی تکلیفوں کو دور کرنے کا کام کرے، نہ کہ تکلیفیں بڑھانے کا۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *