!سنجے دت کو سزا کیوں نہیں جناب

ڈاکٹر منیش کمار

ایک صحافی نے بڑے ہی تیکھے انداز میں یہ خبر شائع کی تھی کہ سنجے دت کی گرفتاری کے بعد سنیل دت صاحب پر کیا گزری۔ اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پہلے تو سنیل دت کو اس بات پر یقین ہی نہیں ہو رہا تھا کہ سنجے دھماکوں کی سازش کا حصہ بھی ہو سکتا ہے۔لہٰذا ، جب سنیل دت، سنجے دت سے ملے تو انھوں نے بتایا کہ انھوں نے انیس ابراہیم سے رائفل اور کارتوس لئے تھے۔ سنیل دت نے پوچھا کہ بیٹے تم نے ایسا کیوں کیا، تو سنجے دت کا جواب تھا کہ میری رگوں میں ایک مسلمان کا خون دوڑ رہا ہے، شہر میں جو بھی ہوا ، اسے میں برداشت نہیں کر سکتا۔ سنیل دت پر گویا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ وہ خاموشی سے پولس ہیڈکوارٹر سے باہر چلے آئے۔

 

سنجے دت کو سزا کیا ملی گویا ملک میں ایک ایسا ماحول بنانے کی کوشش کی گئی کہ اس کی سزا معاف ہو جانی چاہئے۔ انٹرنیٹ اور میڈیا میں ایک مہم سی چھڑ گئی۔ گورنر اور صدر جمہوریہ کو لوگ خط لکھنے لگے۔ وفد بنا کر لیڈر گورنر سے ملنے لگ گئے۔ فلم انڈسٹری کے لوگوں نے گویا اتحاد کا ایسا پاٹھ پڑھ لیا کہ صحیح غلط کا ہوش ہی کھو بیٹھے۔ویسے ہوش کھو نے والوں میں سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کے ساتھ ساتھ کئی وزیر اور لیڈر بھی شامل ہو گئے۔ یہ لوگ طرح طرح کی عجیب وغریب دلیلیں دینے لگے ۔ کسی نے کہا کہ بیس سال سے سنجے یہ سب برداشت کر رہے ہیں ، یہ کوئی کم سزا ہے۔لیکن ان سے پوچھنا چاہئے کہ ملک میں کون سے کیس میں آخری فیصلہ اس سے کم وقت میں آتا ہے۔ملک کے تمام مجرموں کو اس سے زیادہ وقت تک انصاف کے لئے منتظر رہنا پڑتا ہے۔ سنجے دت تو جیل میں بھی نہیں ہیں، کئی لوگ تو بے قصور ہوتے ہوئے بھی اتنے دنوں تک جیل میں قید رہتے ہیں۔ کسی کا کہنا ہے کہ اب وہ شادی شدہ ہیں، ان کے بچے ہیں اور کسی کا کہنا ہے کہ یہ سزا تو سنجے دت سے زیادہ ان کے پریوار کو مل رہی ہے۔ تو کیا کسی دوسرے مجرم کا پریوار نہیں ہوتا۔ کیا جسٹس کاٹجو جیسے لوگ ایسے ہر مجرم کے لئے مضطرب ہو جاتے ہیں ، جن کا پریوار ہوتا ہے یا بچے ہوتے ہیں۔ کسی نے یہ بھی دلیل دی کہ جس وقت انھوں نے یہ جرم کیا، اس وقت سنجے دت نادان تھے۔ ان  کی عمر اس وقت 33سال کی تھی۔ کیا یہ عمر نادانی کی ہے، تو کسی نے یہاں تک کہہ دیا کہ وہ 20سال سے سماجی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ تو حد ہی ہو گئی۔ فلم بنا کر کروڑوں کمانا ،اگر سماجی خدمت ہے ، تو ملک کا ہر شہری اس طرح کی سماجی خدمت کرے گا۔ پھر کسی کو جیل بھی نہیں ہوگی۔ خواہ وہ انڈر ورلڈ کے خطرناک دہشت گردوں سے دوستی کرے اور اپنے گھر میں اے کے 56اور ہینڈ گرینیڈ رکھے۔آخر سنجے میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ انہیں سزا ملتے ہی کچھ لوگوں کاکلیجہ پھٹنے لگا ہے ،جذبات میں بہہ کر بے تکی دلیلیں دینے لگے ہیں۔ کیا یہ لوگ شہرت کے لئے سنجے دت کی طرفداری کر رہے ہیں یا پھر ملک میں فلم اسٹاروں کی چمک دمک ہی کچھ ایسی ہے کہ لوگ اپنی عقل و خرد کھو بیٹھتے ہیں یا پھر یہ معاملہ کچھ اور ہے۔ سنجے دت نے کیا کیا اور ممبئی دھماکوں میں ان کا کردار اور رویہ کیا تھا ، اس کا ذکر بعد میں کریں گے ، لیکن اس سے پہلے عقل و شعور کو کھو دینے والی ذہنیت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
بلیک فرائیڈے یعنی 12مارچ 1993کو ممبئی میںایک کے بعد ایک 13بم دھماکے ہوئے۔ ایسے سلسلہ وار دھماکے ہندوستان میں پہلی بار ہوئے تھے۔ اس دھماکے کے پیچھے انڈر ورلڈ سرغنہ دائود ابراہیم کا ہاتھ تھا، جس نے پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ساتھ مل کر اس بزدلانہ حملے کو انجام دیا تھا۔ حملہ آوروں کو پاکستان میں بم بنانے کی تربیت دی گئی تھی۔ اس حملے کا مقصد ملک میں دہشت پھیلانا تھا ، لیکن کئی لوگ اسے بابری مسجد انہدام کے ردعمل کی شکل میں بھی دیکھتے ہیں۔ ان دھماکوں میں257لوگ جاںبحق ہوئے تھے اور ایک ہزار سے زائد لوگ زخمی ہوئے تھے۔ پولس نے کچھ ہی دنوں میں سینکڑوں لوگوں کو گرفتار کر لیا ۔ اس میں کئی ایسے بھی تھے ،جو بے گناہ تھے، غریب تھے، مسلمان تھے۔ لیکن تب کسی نے آواز نہیں اٹھائی ۔ کئی بے گناہ لوگوں کو ٹارچر کیا گیا۔ بعد میں عدالت نے انہیں بری کر دیا،  لیکن ان پر چسپاں دہشت گرد کے لیول کو کسی نے بھی مٹانے کی کوشش نہیں کی۔ ممبئی میں ایک ریسٹورینٹ چلانے والے راجکمار کھورانہ کو پولس صرف اس لئے پکڑ کر لے گئی ،کیونکہ وہ ایک مجرم کا دوست تھا ۔ اس پر دہشت گرد ہونے کا داغ لگ گیا، تو اس نے اپنے ہاتھوں سے اپنے چھوٹے چھوٹے  بچوں اور بیوی کا قتل کر کے خود کو بھی گولی مار لی۔ تب کسی  نے انصاف کے لئے فریاد کیوں نہیں کی۔البتہ اگر شاہ رخ خان کو کسی امریکی ایئر پورٹ پر صرف روکا جاتا ہے، تو ملک میں ماتمچھا جاتا ہے اور میڈیا ہائے توبہ مچانے لگ جاتا ہے۔ وزیروں کے بیان آنے لگتے ہیں۔ لیڈر، فلم اسٹار، کرکٹر ، صنعت کاروں، امیروں اور رسوخ داروں کی عزت،  عزت ہے اور غریب بے سہارا عوام کی عزت کی کوئی قیمت نہیں ہے۔یہی ذہنیت ہے ،جس کا نتیجہ ہم اس شکل میں دیکھ رہے ہیں کہ سنجے دت کو معاف کرنے کی آواز ملک کے کئی بڑے لوگ اٹھا رہے ہیں۔ سنجے دت فلم اسٹار ہے، امیر ہے ، ایک وزیر کا بیٹا ہے، ایک ممبر پارلیمنٹ کا بھائی ہے۔ اس کے رشتے ملک کی سیاسی جماعتوں اور لیڈروں سے ہیں، جن لوگوں نے یہ مان لیا ہے کہ امیرزادوں سے جرم نہیں، نادانی ہوتی ہے ، وہ لوگ سنجے دت کے لئے معافی کی فریادکر رہے ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا سنجے دت معافی کے لائق ہیں؟ ان کا جرم کیا ہے؟ انھوں نے کیا کیا؟ ان سوالوں کے جواب کے بعد یہ پتہ چل سکتا ہے کہ سنجے دت کے ساتھ انصاف ہوا ہے یا نا انصافی ۔ جن لوگوں نے ممبئی دھماکے کی تیاری کی تھی، ان کی تیاری پختہ تھی ۔ وہ آر ڈی ایکس جیسے دھماکہ خیز مادے تو پاکستان سے لا ئے ہی تھے، لیکن ساتھ میں اس کی بھی تیاری کر رکھی تھی کہ اگر بم دھماکے کے بعد فساد بھڑکتے ہیں، تو ہتھیاروں کی کمی نہ ہو۔ اس لئے بڑی مقدار میں اسائولٹ رائفل، پسٹل، ہینڈ گرینیڈ پاکستان سے منگوائے گئے ۔ اس کام کو بھی دائود ابراہیم گینگ کے لوگوں نے پورا کیا۔ یہ ہتھیار سمندری راستے سے دو ٹھکانوں پر لائے گئے۔ اس کے لئے پولس والوں کو رشوت بھی دی گئی۔ ان پولس والوں کو بھی سزا مل چکی ہے۔
انہیں ہتھیاروں کو لے کر انڈر ورلڈ ڈان ابو سلیم ممبئی پہنچا تھا۔ یہ ہتھیار بڑے بڑے بکسوں میں بند تھے، اس لئے ایسی کوئی جگہ چاہئے تھی، جہاں سے ان بکسوں سے ہتھیار نکالے جا سکیں۔ اس کے لئے حنیف کاڈاوالا اور سمیر ہنگورا کا دفتر چنا گیا۔ ان دونوں کو دائود ابراہیم کے بھائی انیس نے فون کیا کہ اس کام کے لئے وہ اپنے دفتر کے احاطہ کو استعمال کرنے دیں۔لیکن اس نے انکار کر دیا اور سنجے دت کا نام سجھا دیا۔ انیس نے سنجے دت سے بات کی۔ سب کچھ جانتے ہوئے کہ انیس اور ابو سلیم کون ہیں، وہ ساتھ میں خطرناک ہتھیار لا رہے ہیںاور ان کے گھر کا استعمال کرنا چاہتے ہیں ۔ اس کے باوجود اگر سنجے دت نے اپنے گھر کا استعمال ہونے دیا ، تو دہشت گردوں کے ساتھ ساز باز کا پہلا گناہبنتا ہے۔اس کے بعد انہیں اس بات کا ڈر تھا کہ سنجے دت کے گھر پر تعینات گارڈس کو کوئی شک نہ ہو جائے، کیونکہ ممبئی پولس کے ذریعہ ملے سنیل دت کے گارڈس ایسی جگہ پر کھڑے ہوکر پہرا دیتے تھے ،جہاں سے گیراج سیدھا دکھائی دیتا تھا۔ سنجے دت نے ابو سلیم سے کہا کہ گاڑی کو دوسرے گیٹ سے آنے کو کہو اور اس کے بعد ہتھیار نکالے گئے۔ سنجے دت نے ان میں سے کچھ اپنے پاس رکھ لئے، جس میں اے کے 56اور کچھ ہینڈ گرینیڈ شامل تھے۔ سنجے دت نے ابو سلیم کو کپڑوں کا بیگ بھی مہیا کرایا ،جس میں یہ ہتھیار چھپا کر وہ لے گیا۔
کیااسے نادانی کہا جا سکتا ہے۔کیا کوئی نادانی میں انڈرورلڈ کے خونخوار لوگوں سے دوستی کرتا ہے، گھر میں ہتھیار رکھتا ہے۔ بعد میں یہ دلیل دی گئی کہ سنجے دت نے یہ رائفل اپنی حفاظت کے لئے لی تھی۔کیا اس ملک میں ایک ممبر پارلیمنٹ اور اس کے پریوارکو پولستحفظ نہیں دے سکتی ۔ جب ابو سلیم ہتھیار لے کر چلاگیا تو سنجے دت نے انیس کو فون کیا اور بتایا کہ ہینڈ گرینیڈ کو گھر پر رکھنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد منصور احمد کو سنجے دت کے گھر بھیجا گیا۔ اس نے ہینڈ گرینیڈ سنجے دت سے واپس لے لئے۔ بس اسی جرم کے لئے منصور احمد کو نو سال کی سزا ملی ہے۔ سنجے دت کے گناہ اور منصور احمد کے گناہ کا موازنہ کریں تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ منصور احمد کو زیادہ سزا ملی ہے۔لیکن اس کے لئے کون آواز اٹھا رہا ہے؟ ابو سلیم نے ان ہتھیاروں کوزیب النساء  کے گھر میں رکھا۔زیب النساء کی بیٹی کے مطابق ان کی ماں کو ہتھیار رکھے جانے کا علم نہیں تھا۔ شاید علم ہوتا بھی تو ابو سلیم جیسے خطرناک شخص کو انکار کرنے کی وہ ہمت نہ کر پاتی   اوروہ بھی ایک اکیلی عورت۔زیب النساء کو ٹاڈا کے تحت پانچ سال کی سزا ملی ہے، لیکن اس بیوہ کے لئے آواز اٹھانے والا کوئی نہیں ہے۔ کاٹجو صاحب نے سنجے دت کو بچانے کا بیڑا اٹھایا،  تو میڈیا میں زیب النساء کی کہانی آ گئی ، انہیں شایدتب اس غلطی کا احساس ہوااور انھوں نے سنجے دت کے ساتھ ان کا بھی نام جوڑا ہے۔
پولس کو سنجے دت کے کارناموں کے بارے میں ہنگورا اور کاڈاوالا نے بتایا تھا۔ اس وقت سنجے دت ماریشس میں شوٹنگ کر رہے تھے۔ سنجے دت کو جب یہ پتہ چلا تو انھوں نے اپنے دوست یوسف نولوالا سے ہتھیاروں کو ضائع کرنے کو کہا۔ اس نے ہتھیاروں کو مرین لائنس میں ضائع کرنے کی کوشش کی۔ سب کچھ ضائع ہو گیا لیکن اے کے 56کی نلی اور پسٹل ضائع نہیں ہو پائی۔ نولوالا نے پسٹل سنجے دت کو واپس کر دی اور اے کے 56کی نلی کو اپنے گھر میں چھپا دیا۔ یہی پولس کے ہاتھ لگ گئی۔ نول والا گرفتار ہو گیا۔ ایک دوست کی مدد کرنے کے جرم میں اسے پانچ سال کی سزا ملی۔
حیرانی کی بات یہ ہے کہ ممبئی دھماکے میں ان ہتھیاروں سے جڑے جتنے بھی لوگ تھے سب پر ٹاڈا لگا۔ جس کسٹم آفیسر نے ان ہتھیاروں کو آنے دیا ،اسے ٹاڈا کے تحت سزا ملی۔ جس نے سنجے دت کے گھر سے لائے گئے تین میں سے دو ہتھیاروں کو اپنے گھر میں رکھنے دیا، اسے بھی ٹاڈا کے تحت سزا ملی۔ منظور احمد، سمیر ہنگورا، بابا موسیٰ چوہان کسی کو ٹاڈا کے تحت سزا ملی۔ اب اس بات کو کون بتا سکتا ہے اور اس کی دلیل دے سکتا ہے کہ ایک ہی طرح کے جرم کے لئے سبھی لوگوں کو تو ٹاڈا کے تحت مجرم بنا کر دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے ، لیکن سنجے دت پر ٹاڈا کی جگہ صرف آرمس ایکٹ لاگو ہوتا ہے۔ کورٹ کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے ، اس لئے سنجے دت اور ان کی سزا معاف کرانے والوں کو خدا کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ کورٹ نے پہلے ہی سنجے دت کے ساتھ رعایت برتی ہے۔ اسی میگزین نے یہ بھی بتایا کہ اس طرح کے فیصلے کے بعد سنجے دت کے وکیل نے کہا کہ جب مجھ سے کوئی یہ پوچھے گا کہ صرف ان کے ہی موکل کو کیوں چھوڑ دیا گیا، تو میرے پاس کوئی جواب نہیں ہوگا۔ واقعی ، اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔ سنجے دت اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں۔ شاید اسی لئے انھوں نے کہا کہ وہ سزا کی معافی کے لئے کوئی اپیل نہیں کریں گے۔ وہ جیل جائیں گے اور سزا کاٹ کر آئیں گے۔ سنجے دت دہشت گرد نہیں ہیں جیسے کہ ٹاڈا کے تحت ممبئی میں دھماکے کے لئے گرفتار سینکڑوں لوگ دہشت گرد نہیں تھے۔ ان میں کچھ روزگار تلاش کر رہے نوجوان تھے، کچھ لوگوں کی ان کے گروہ میں کام کرنے والے لوگوں کے ساتھ دوستی تھی ،کچھ کی ان سے جان پہچان تھی۔ گرفتار ہوئے لوگوں میں کئی لوگوں کی اس حملے میں کوئی شراکت نہیں تھی، لیکن ان پر پولس کا قہر نازل ہوا اور یہ بھی صحیح ہے کہ جنہیں سزا مل گئی ہے ، ان میں بھی کئی ایسے لوگ ہیں جو سازش کا شکار ہوئے ہیں۔ کہہ سکتے ہیں کہ وہ پھنس گئے۔ جو ماسٹر مائنڈ ہیں وہ بیرونی ممالک میں عیش و آرام کی زندگی بسر کر رہے ہیں اور جو پیادے تھے وہ جیل میں چکی پیس رہے ہیں۔ اسے پوری طرح انصاف تو نہیں کہا جا سکتا ہے، لیکن کورٹ کا فیصلہ ہے ، اس لئے اس فیصلے کا  احترام کرنا ہم پر فرض ہے ۔
جو لوگ سنجے دت کے لئے معافی کا مطالبہ کر رہے ہیں وہ سماج میں خلیج پیدا کر رہے ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ناانصافی کے  خلاف لڑنا اچھا کام ہے، لیکن اس کے لئے آنکھوں سے پٹی اتارنے کی ضرورت ہے۔اس میں یکسانیت ہونی چاہئے۔ جو درد سنجے دت کے لئے ان کے دلوں میں امنڈ رہا ہے ، وہ ممبئی دھماکوں میں پھنسے ہوئے کنبوں کے لئے بھی سامنے آنا چاہئے۔ غریب ، بے سہارا ، بے روزگار لوگ اگر کسی سازش کا شکار ہو جاتے ہیں ، تو ان کے لئے بھی آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوا، تو ملک کے کثیر التعداد غریب طبقہ کا بھروسہ سرکاری مشینری اور انصاف سے اٹھ جائے گا۔ انہیں لگے گا کہ پیسے والوں کے لئے ملک کا قانون الگ ہے اور غریبوں کے لئے الگ۔اگر سنجے دت کی سزا معاف ہو جاتی ہے، تو مسلمانوں کو تو یہی لگے گا کہ ملک میں دہشت گردی سے جڑے قانون صرف انہی پر نافذ ہوتے ہیں۔ ملک چلانے والوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ اس مدعے پر کورٹ کے حکم پر احترام کے ساتھ عمل ہو تاکہ ملک کے غریبوں اور اقلیتوں کا بھروسہ قائم رہے۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

2 thoughts on “!سنجے دت کو سزا کیوں نہیں جناب

  • October 21, 2013 at 6:33 pm
    Permalink

    اگر آپ کسی قرض کی ضرورت ہے؟ یہاں سوئٹزرلینڈ میں قرض کی ہماری رسائی اب آپ اب <boardofdirective@gmail.com پر ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں باہر ہے….

    Reply
  • October 21, 2013 at 6:31 pm
    Permalink

    اگر آپ کسی قرض کی ضرورت ہے؟ یہاں سوئٹزرلینڈ میں قرض کی ہماری رسائی اب آپ اب <boardofdirective@gmail.com پر ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں باہر ہے

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *