قومی اسکول کا وجود خطرے میں

فیروز بخت احمد
ابھی حال ہی میں یہ خبرآئی کہ پرانی دہلی کے علاقہ میں واقع عیدگاہ میں چل رہے قومی سینئرسیکنڈری اِسکول کاوجود خطرے میں ہے۔ p-2واقعہ دراصل یہ ہے کہ یہ اِدارہ تقریباً 36 برسوں سے عیدگاہ کی عمارت اور اُس کی زمین پر چل رہا ہے۔ اب عیدگاہ اِنتظامیہ نے حکومت دہلی اور دہلی سرکارکے شعبۂ تعلیم سے کہاہے کہ اب آگے سے وہ اِس اِسکول کو عیدگاہ کی زمین پر چلنے کی اِجازت نہیں دیں گے۔ نتیجہ کے طورپر حالات کافی سنگین ہوچکے ہیں۔
دراصل، 30 جون 1976، یعنی دورانِ ایمرجنسی اِسکول کی عمارت کوزمین بوس کر دیا گیا تھا۔ اُس وقت حکومتی عملہ اورسربراہان کی جانب سے یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ اِس کامتبادل مہیا کرادیاجائے گا، لیکن آج تک اِس کی جانب مرکزی سرکار تو کیا، دہلی کی سرکار تک نے بھی کوئی توجہ نہیں دی۔ یہ اِسکول یتامی و مساکین کی طرح بے یارومددگار پڑا ہوا ہے۔ حالانکہ دِلّی سرکار، جو اقلیتوں کی فلاح و بہبود کا دم بھرتی ہے اور اُن کے ووٹوں سے الیکشن میں میدان مارتی ہے، اِس بات سے بالکل بے نیاز وبے پرواہ ہے کہ قومی سینئرسیکنڈری اِسکول کے ساتھ کیا نااِنصافی ہورہی ہے۔
جس دن اِسکول کی عمارت کو زمین بوس کیا جانا تھا، اُس دن علاقہ کے لوگوںکو کانوں کان خبر بھی نہیں ہوئی تھی۔ جب مسماری کے سارے سامان کرلیے گئے، تب علاقہ کے لوگوں کو پتہ چلا۔ اُس دن شام 6 بجے تک اِسکول کی تین منزلہ اور 23 کمروں والی عمارت کو زمین بوس کردیا گیا تھا۔ حالانکہ اُسی دن رات کو علاقہ کے کچھ سربر آوردہ لوگوں نے ڈی ڈی اے کے بی آر ٹمٹا اور جگ موہن سے بھی ملاقاتیں کیں۔ ملاقات کے دوران بات چیت میں بتایا گیا کہ اِسکول کی عمارت والی زمین پر فلیٹ کی تعمیرات ہوںگی اور عنقریب ہی پاس میں قومی اِسکول کو عمارت کے لیے جگہ بھی دی جائے گی اور حکومت اُس کی خود تعمیر کرے گی۔ اُس وقت جگ موہن صاحب کانگریس پارٹی میں ہواکرتے تھے۔ حالانکہ اب جگ موہن صاحب کانگریس پارٹی میں نہیں رہے اور اب وہ بھارتیہ جنتاپارٹی میں جاچکے ہیں، لیکن ایسا معلوم ہوتاہے کہ اُنھیں اپنے ذریعہ کیاگیا وعدہ بھی یاد نہیں ہے اور نہ ہی وہ اپنی محدود فکر کے نتیجہ میں کوئی عملی قدم اُٹھانے کی سوچ رہے ہیں اور نہ ہی ایسا کرنے کا کوئی اِرادہ ہی رکھتے ہیں۔ البتہ اِسکول کی بربادی میں اُن کا پورا پورا ہاتھ تھا۔ اگر اب اُن سے اِس ضمن میں کوئی بات کی جائے، تو وہ ایسی باتیں کریں گے، جیسے اُنھیں کسی چیز کی کوئی خبر ہی نہیں ہے۔
بہرحال، جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، علاقہ کے سربرآوردہ لوگوں کی ایک جماعت نے جناب گیانی ذیل سنگھ، اِندرا گاندھی، مورارجی ڈِیسائی، چندرشیکھر، راجیو گاندھی، وِشوناتھ پرتاپ سنگھ، سکندربخت، تارا چند کھنڈیلوال، بھیکو رام جین، جے پرکاش اگروال، وجے گوئل وغیرہ سے قومی اِسکول کے ضمن میں ملاقاتیں کیں اور اُنھیں یاد دہانی کرائی۔ یاد دہانی کرانے کے ساتھ ہی اُنھوں نے اِسکول کی فائلیں بھی مہیا کرائیں، لیکن نتیجہ وہی نکلا، جس کی عام طورسے اُردو اِسکولوں کے معاملہ میں اُمید کی جاتی ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ اِسکول کی عمارت کو تعمیر کرنے کے لیے منع توکسی نے نہیں کیا، مگر اقدامات بھی کسی نے نہیں کیے۔ دراصل، سرکار کا اِس قسم کا رویہ ہمیشہ سے ہی مسلمانوں کے تئیں رہاہے اور 1947 سے لے کر موجودہ سرکار تک کسی نے بھی اُن کے تعلیمی مسائل پر صحیح معنوں میں کوئی توجہ نہیں دی ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ پرانی دہلی کے ضرورتمند اور پچھڑے طبقات کے بچوں کا مستقبل اندھیرے میں پڑگیا ہے۔
ہمیں شرم آتی ہے کہ دہلی وقف بورڈ نے بھی اِس جانب کوئی توجہ نہیں دی۔ ایک وقت تھا کہ دہلی کی 77 فیصد زمین وقف بورڈ کی ملکیت تھی، جسے بدقسمتی سے وقف بورڈ کے آفیسران کے گھپلوں کی وجہ سے خردبرد کر دیا گیا۔ اب تو حالت یہ ہے کہ سوائے چند مزاروں کی بازیابی کے، وقف بورڈ کے پاس اِتنا وقت ہی نہیں ہے کہ وہ اِن اِسکولوں کی خبر لے۔ وقف بورڈ بھی کیا ہی بیہودہ فیصلے لیتی ہے کہ اُسے زِندوں کی زندگی کی چنداں فکر نہیں ہے اور مردوں کی البتہ اُسے بڑی فکر کھائے جارہی ہے۔ چونکہ یہ اِدارہ ایک اُردو میڈیم اِسکول ہے، لہٰذا اُردو میڈیم اِسکولوں کے تئیں حکومت کے رویہ کا اندازہ اِسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ پچھلی تقریباً تین دہائیوں سے یہ اِدارہ عیدگاہ میں چل رہا تھا اور حکومت کی یاددہانی کے باوجود اُسے ایک مستقل عمارت نصیب نہ ہوسکی۔
بہرحال، آئے دن ہم اُردو میڈیم اِسکولوں کی حالت زار کے بارے میں خبریں اور تبصرے پڑھتے ہی رہتے ہیں اورحکومت پر نکتہ چینیاں ہوتی ہی رہتی ہیں، لیکن حکومت ہے کہ جیسے اُس نے حالات کو بہترنہ کرنے کاحلف اُٹھارکھا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت محض مسلمانوں کے ووٹوں کی ضرورت ہے، اُسے اُن کی فلاح وبہبود سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ اگر اُسے مسلم سماج سے ذرا سی بھی دِلچسپی ہوتی، تووہ ایسا نہ کرتی، بلکہ اپنے ذریعہ ہی کیے گئے وعدے کو ضرور پورا کرتی، لیکن ایسا کرنا بھی اُسے جب گوارہ نہیں ہے، تو وہ اور مزید اقدامات کیا کرے گی۔ اب جواِسکول ہیں،اُن کی بھی حالت ایسی ہی ہے کہ کسی اِسکول میں غیر اُردو داں پرنسپل کو متعین کردیاجاتا ہے، تو کسی اِدارہ میں سارے اساتذہ ہی نہیں ہیں۔ حالانکہ ریاست دہلی میں اُردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے، لیکن ایسا لگتا نہیں ہے کہ حکومت نے اِس زبان کو دوسری سرکاری زبان کادرجہ دے رکھا ہے۔ اگر ہم تاریخی پس منظر میں دیکھیں، تو اندازہ ہوگا کہ دہلی اور نواحِ دہلی ہی سے اُردو زبان پیداہوئی اور یہیں پھلی پھولی ہے، لیکن اب حالات ایسے ہوچلے ہیں کہ جس جگہ سے یہ زبان پیداہوئی ہے، آج وہیں کی حکومت اُس کے ساتھ نا اِنصا فیاں کرنے میں ذرا بھی ہچک محسوس نہیں کررہی ہے۔
اِن حالات میں سب سے بڑی غلطی تویہی ہے کہ اُردو زبان وادب کو محض ایک خاص طبقہ کے ساتھ جوڑدیاگیا ہے، لیکن تاریخ گواہی دیتی ہے کہ ایام ماضی میں ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ جتنے مسلمان اُردو جانتے تھے، اُتنے ہی ہندو اور دوسری جماعتوں کے لوگ اُردو زبان وادب میں دِلچسپی رکھتے تھے اوربولتے چالتے تھے۔ اُردو زبان و ادب کا ایک دور وہ بھی تھا، جب اِسے دربار کی اور حکومت کی سرپرستی حاصل تھی اور چہارجانب اُردو کا بول بالا تھا، لیکن حالات بدلے اور ایک بساط سمٹ گئی اور دوسری بچھ گئی، تو اُردو کے بھی دِن بدل گئے اور اُس کی ترقی اور فروغ کی راہیں مسدود ہوگئیں۔ بہرحال، اب اُردو زبان وادب کی تدریس کا ایک اور اِدارہ اپنی آخری سانسیں لینے پر مجبور ہے۔ اگر کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی، تو وہ دِن دورنہیں ہے، جب حالات بالکل مخالف ہو جائیں گے۔
قومی اِسکول کی بحالی کے ضمن میں ایک مقدمہ برائے فلاحِ عامہ بھی دائر کیاگیا تھا، جس کا فیصلہ یہ ہوا کہ اگر اِسکول کی اِنتظامیہ ڈی ڈی اے کو چالیس لاکھ روپے ادا کر دیتی ہے، تو اُسے اِسکول کی زمین الاٹ کردی جائے گی۔ افسوس کہ نہ تو غریب اِنتظامیہ کمیٹی کے پاس پیسے تھے اور نہ ہی قوم کے اہل خیر حضرات نے اِس جانب کوئی توجہ دی۔ افسوس تو اِس بات پر بھی ہے کہ دہلی وقف بورڈ نے بھی اِس جانب کوئی توجہ نہیں دی۔ ایک وقت تھا کہ دہلی کی 77 فیصد زمین وقف بورڈ کی ملکیت تھی، جسے بدقسمتی سے وقف بورڈ کے آفیسران کے گھپلوں کی وجہ سے خرد برد کر دیا گیا۔ اب تو حالت یہ ہے کہ سوائے چند مزاروں کی بازیابی کے، وقف بورڈ کے پاس اِتنا وقت ہی نہیں ہے کہ وہ اِن اِسکولوں کی خبر لے۔ وقف بورڈ بھی کیا ہی بیہودہ فیصلے لیتی ہے کہ اُسے زِندوں کی زندگی کی چنداں فکر نہیں ہے اور مردوں کی البتہ اُسے بڑی فکر کھائے جارہی ہے۔
آج 36 سال گزرنے کے بعد بھی دلّی کا قومی سینئر سیکنڈری اسکول اپنی نا مراد حالت پر شکوہ سنج ہے کہ آخر اس کا ایسا کیا قصور تھا کہ اس کی پائیدار عمارت کو پاش پاش کر دیا گیا! ’’قومی سینئر سیکنڈری اسکول‘‘ گزشتہ 36سا ل سے چند خیموں میں دلّی کی عیدگاہ کے میدان کے مغربی کونے میں چل رہا ہے ۔ اس زمانہ میں، جس زمانہ میںاِس عمارت کو مسمار کیاگیا تھا، تقریباً 40 لاکھ کی مالیت سے تعمیر شدہ اِسکول کی بلڈنگ میں تقریباً 800 طالب علم زیرِ تعلیم تھے۔ بقول قومی اسکول کے سابق طالب علم اورسماجی کارکن شاہد خاں مرحوم، جب اسکول کی عمارت ڈھائی گئی اور سامان سڑک پر آ گیا، تو آدھا تو چوری ہی ہو گیاتھا۔ کچھ خیموں میں بسے اس اسکول میں نہ توڈھنگ کی سائنس کی تجربہ گاہ ہے اور نہ ہی کھیل کود کا سامان تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے بیشتر ریکارڈ کو دیمک چاٹ چکے ہیں، جب کہ فرنیچر کو گھن کھا رہا ہے۔ تیز گرمی میں آندھی و لُوکے گرم تھپیڑوں میں بچے اکثر خیموں میں پڑے دکھا ئی دیتے ہیں۔ سردیوں میں اگر وہ ٹھنڈ سے ٹھٹھرتے ہیں، تو برسات میں پانی سے اپنا بچاؤ نہیں کر پاتے، کیوںکہ پورا اسکول تالاب سا بن جاتا ہے۔
بات 1997 کی ہے کہ دہلی ہا ئی کورٹ نے ایک فیصلہ سنا یا تھا کہ شہر دہلی میں کوئی بھی اسکول خیموں میں نہیں چلے گا۔ راقم قومی اسکول کی ٹوٹی پھوٹی، کٹی چھنٹی سی فائل لے کر اُس وقت کے دہلی کے تعلیمی اُمور کے وزیر جناب ہرش وردھن کے پاس گزارش لے کر گیا، تو اُنھوں نے وعدہ کیا کہ بہت جلد وہ خود آگے بڑھ کر اس مسئلہ کا اُمید افزا حل نکالیں گے، مگر اُس کے لیے اُنھیں مزید فائلیں در کار ہیں۔ اُن کاغذات و فائلوں کی فراہمی کے لیے راقم قومی اسکول سے متعلق اِنتظامیہ سے لے کر ’’قومی اسکول اولڈ بوائز ایسو سی ایشن‘‘ کے مختلف افراد کے پاس گیا، مگر اُسے تعاون حاصل نہ ہوا۔ اسکول کو اُس کا حق دلانے کے معاملہ میں وزیر اعظم سے لے کر دہلی کے مختلف لیفٹیننٹ گورنروں تک، ڈی ڈی اے سے لے کر وقف بورڈ تک اور محکمہ تعلیم سے لے کر اسکول کے پرنسپل تک سب کے سب بے دست وپا نظر آتے ہیں۔ کچھ سرکاری حوالوں سے پتہ چلا کہ 2002 میں ہماری و دیگر لوگوں کی کاوشوں سے ڈی ڈی اے نے ایک خط اسکول کے منیجر کو لکھا کہ وہ اسکول کو قریب میں زمین دینے کو تیار ہے، بشر طیکہ اُس کو ایک کروڑ کے آس پاس رقم دے دی جا ئے۔ یہ بات علاقہ کے لوگوں سے کہی گئی، مگر حالات کچھ ایسے نکلے کہ ایک کروڑ تو کیا، چند ہزار روپیہ بھی جمع نہ ہو پایا۔ یہ مسئلہ اگر پارسی، سکھ، جین یا یہودی طبقات کے سامنے لا یا جا تا، تو یقینا یہ رقم فوراً سے پیشتر جمع کر لی جاتی۔ یہاں ہماری مراد مسلم طبقہ کے پچھڑے ہو ئے لوگوں سے نہیں ہے، بلکہ اُن صاحب خیر حضرات سے ہے، جن کے بزنس اتنے اچھے چل رہے ہیں کہ محض ایک شخص ہی رقم فراہم کرسکتا ہے۔
راقم ایک مرتبہ دہلی کی سب سے بڑی پرچون مارکیٹ، کھاری باؤلی کچھ چھوٹا موٹا سامان لینے گیا، تو دوکان پر بیٹھے لالا جی نے کہا ’’میاں جی، ا بھی ایک اور میاں جی آئے تھے، وہ کئی لاکھ روپے کا سامان لے گئے اور ہاں، یہ بھی کہہ رہے تھے کہ اُن کی بیٹی کی شادی ہے، بڑی دھوم دھام سے کریں گے۔ اب تک 37 لاکھ کا خرچہ ہو چکا ہے ۔‘‘ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ یہ حضرت اُسی علاقہ کے رہنے والے ہیں، جہاں قومی اسکول بے یارو مدد گار دہلی کی عید گاہ کے اندرخیموں میں کھلے آسمان کے تلے چل رہا ہے۔ ویسے اس علاقہ میں گوشت وچمڑے کے تاجر حضرات ہیں، جو بڑی آسانی کے ساتھ اس اسکو ل کے لیے یہ رقم دے سکتے ہیں۔ غالباً اِس کام کو کرنے کے ذہن اور نظم کی کمی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *