مسلمانوں کی جنگ ہندو لڑ رہا ہے

وسیم راشد
نہ جانے کیوں لفظ ہندو یا مسلمان لکھتے ہوئے میرا قلم  کانپنے لگتا ہے ۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ بچپن سے ہی ہمیں اپنے گھروں میں ہر مذہب کا احترام کرنا سکھایا گیا ہے، اسی لئے ہندو مسلم تفریق کا کبھی خیالتک نہیں آیا۔ ہم دلی والے ہمیشہ سے ہی گنگا جمنی تہذیب کے سائے میں پل کر بڑے ہوئے ہیں۔ ہم نے سب کو  ایک ساتھ مل کر سارے تہوار مناتے ہوئے دیکھا ہے۔ اسی لئے یہ لفظ ہندو یا مسلمان تازیانہ سا لگتا ہے، مگر جیسے جیسے شعور پختگی کی منزلیں طے کرتا گیا ،یہ بات سمجھ میں آتی گئی کہ عام انسان تو مذہب و ملت کی بندشوں سے دور مل جل کر رہنا چاہتے ہیں، لیکن کچھ فرقہ پرست عناصر، سیاست داں اور متعصب ذہنیت کے لوگ سماج میں فرقہ پرستی کا زہر پھیلارہے ہیں ۔کیونکہ میں برسوں سے دیکھ رہی ہوں کہ مسلمانوں کے لئے جتنی بھی کاوشیں ہو رہی ہیں ،ان کے حق کے لئے جتنی بھی لڑائیاں لڑی جارہی ہیں، ان میں اکادُکا کوچھوڑ کر سب کی سب ہندو مذہب کے سیکولر لوگ ہی  شامل  ہیں ۔چاہے گجرات فساد کے بعد مسلمانوں کا حق دلانے کی لڑائی ہو یا مسلم نوجوانوں کو جیلوں میں بند کرنے کا معاملہ ۔یہاں تک کہ مسلمانوں کی پسماندگی کومنظر عام پر لانے والے جسٹس راجندر سچر بھی ایک ہندو ہی ہیں۔
میری بات تلخ ضرور ہے ،مگر سنجیدگی سے دیکھا جائے تو بہت اہم ہے ۔ ہماری مسلم تنظیمیں ہمارے حق کے لئے کتنا لڑتی ہیں ؟کتنی جنگ کرتی ہیں ؟ یہ تو ہم سب جانتے ہیں۔ ہمارے مسلم لیڈران ،ہمارے حق کے لئے کتنا بولتے ہیں ؟یہ بھی ہم اور آپ سب جانتے ہیں۔بلکہ کبھی کبھی تو ایسا لگتا ہے کہ ہمارے یہ مسلم لیڈر، مسلمانوں کی نمائندگی کے نام پر مسلمانوں کے لئے ہی خسارے کا سودا کرتے ہیں ۔چنانچہکانگریس پارٹی کو ہی لے لیں۔ریزرویشن کو لے کر کانگریس مسلمانوں کے ساتھ کتنا بڑا دھوکہ کرتی رہی اورلیڈرس اس دھوکہ دہی پر اعتراض کرنے کے بجائے اس مسئلے کو مزید الجھا کر مسلمانوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ مسلمانوں کے ساتھ اتنا بڑا دھوکہ ہوجاتاہے کہ 4.5فیصد  ریزرویشن دیتے وقت یہ کہا جاتا ہے کہ یہ فیصد مسلمانوں کے لئے ہے، مگر حقیقت یہ تھی کہ اس میں دیگر اقلیتیں بھی شامل کردی گئی تھیں ،جس کے بعد اس ساڑھے چار فیصد میں مسلمانوں کا حصہ بہت کم یعنی 2.5 سے بھی کم رہ جاتا ہے ۔یہ دھوکہ کانگریس کی طرف سے مسلمانوں کو دیا جاتا رہا اور مسلم لیڈرس خاموشی سے یہ سب دیکھتے رہے۔ بلکہ ایک موقع پر توکانگریس کی طرف سے 9 فیصد ریزرویشن دینے کی بات کہی گئی، جبکہ کانگریسی ممبروں کو پتہ تھا کہ وہ جو کچھ بھی کہہ رہے ہیں ، ایک  دھوکہ ہے۔پارٹی میں کچھ لیڈر مسلمانوں کے سچے ہمدر داور بہی خواہ نظر آتے ہیں ،مگر کانگریس پارٹی میں رہ کر وہ کوئی بھی کام مسلمانوں کے حق کا نہیں کر ا پاتے ہیں۔اگر کانگریس میں کبھی کسی نے مسلمانوں کی بھلائی کے لئے کچھ بولا تو وہ بھی غیر مسلم رہنما دگ وجے سنگھ ہی ہیں،جنہوں نے بٹلہ ہائوس انکائونٹر کو غلط کہا اور آج تک غلط کہہ رہے ہیں اور مسلمانوں کو دہشت گردی میں جھوٹا پھنسائے جانے کی بات بار بار کہی، ورنہ مسلم ممبران پارلیمنٹ  میں سے اکثریت نے تو بالکل خاموشی اختیار کر رکھی تھی۔ دیگر پارٹیوں کے ممبروں کا بھی تقریباً وہی حال ہے۔ غرض مسلمانوں کے تعلق سے اب تک جتنے بھی سماجی ، سیاسی ایشو اٹھائے گئے،سب کے سب غیر مسلموں کی طرف سے اٹھائے گئے ہیں ۔ ہماری مسلم جماعتیں بڑے بڑے مسائل کے حل کرنے کے دعوے تو کرتی ہیں، لیکن یہ محض وعدے ہی رہ جاتے ہیں۔ گجرات فساد کی جنگتیستا سیتلوادنے لڑی ،سنجیو بھٹ نے لڑی۔ جیلوں سے رہا ہونے والے کچھ مسلم نوجوانوں کے وکیل بھی ہندو ہی ہیں، جنہوں نے دل و جان سے ان کو رہا کرانے کی کوشش کی۔ مسلم نوجوانوں کو جیلوں میں بند کرنے پر اصل لڑائی جسٹس کاٹجو ، مہیش بھٹ جیسے لوگ لڑ رہے ہیں۔یہی وہ لوگ ہیں جو مسلمانوں کے ساتھ ہورہی ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ جسٹس کاٹجو نے بار بار اس بات کو اٹھایا کہ جیسے ہی کوئی بم بلاسٹ ہوتا ہے، ویسے ہی پولیس کو انڈین مجاہدین، لشکر طیبہ کے سراغ کہاں سے ہاتھ لگ جاتے ہیں۔یہی نہیں ان لوگوں نے ایسے ایسے مسائل اٹھائے، جن کی طرف عام طور پر ذہن بھی نہیں جاتا ہے۔ چنانچہ جسٹس کاٹجو نے جہاں سربجیت کا معاملہ اٹھایا ، جہاں سنجے دت کا معاملہ اٹھایا، وہیں انہوں نے زیب النسا قاضی کا معاملہ بھی اٹھایا۔ اس سے پہلے زیب النساء قاضی کا نام تک کوئی نہیں جانتا تھا ۔ہم سپریم کورٹ کے فیصلے پر بالکل سوال نہیں اٹھارہے ہیں ،کیونکہ ہم ملک کی اس سب سے بڑی عدالت کا بے حد احترام کرتے ہیں، مگر پھر بھی ایک 70 سالہ بوڑھی بیمار عورت کے لئے رحم کی درخواست کرنے میں جسٹس کاٹجو ہی آگے آئے ہیں۔انہوں نے صدر جمہوریہ اور مہاراشٹر کے گورنر سے زیب النساء اور سنجے دت کو معاف کرنے کی اپیل کی۔
مسلم نوجوانوں کی گرفتاری کے معاملے کو مہیش بھٹ بے دھڑک اٹھارہے ہیں۔ ابھی ان کا ایک اسٹیج پلے بھی “The Trial of Error Begins” کے نام سے اسٹیج کیا گیا جس میں مسلمان نوجوان کس طرح دہشت گرد بنا دیے جاتے ہیں اور کس طرح اے ٹی ایس کے لوگ معصوموں کو پھنسا دیتے ہیں کو دکھایا گیا  ۔یہ بے حد جذباتی اور دردناک ڈرامہ تھا،جس کو دیکھ کر کھچا کھچ بھرے شری رام سینٹر کے ہال میں کوئی ایسا نہیں تھا جس کی آنکھیں نم نہ ہوئی ہوں۔اس ڈرامہ نے یہ پیغام دیا کہ سبھی مسلمان دہشت گرد نہیں ہیں۔
یہ وہ لوگ ہیں جو انسانیت پر یقین رکھتے ہیں  اور انسانیت کا  احترام ان کی زندگی کا مقصد ہے ،یہی وجہ ہے کہ وہ ذاتی مفاد سے اوپر اٹھ کر ہندو ہو یا مسلمان ،سکھ ہو یا عیسائی ،کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں ۔اگر وہ مظلوم ہے تو اس کی مدد کے لئے سامنے آتے ہیں۔
غرض سیکولر ہندو تو مسلمانوں کے لئے بہت کچھ کر رہے ہیں لیکن ہماری مسلم تنظیمیں نعرے بازیوں اوراخباروں میں بیان بازیوں کے سوا عملی طور پر کوئی خاص کام نہیں کررہی ہیں۔ اگر یہ تنظیمیں چاہتیں تو متحد ہوکر مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی  دور کرنے، مسلم ادارے کھولنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اورمسلمانوں کو آبادی کے حساب سے ریزرویشن دلانے میں میں اہم کردار ادا کرسکتی تھیں ،لیکن افسوس تو یہ ہے کہ یہ تنظیمیں عملی طور پر تو کچھ نہیں کررہی ہیں ،البتہ سرکاری و غیر سرکاری فنڈز  اکٹھا کرکے اپنی آسائش کے سامان خوب فراہم کرلیتی ہیں۔یہ سچ ہے کہ  ڈی اے وی یا رامجس جیسے ادارے ہمارے پاس نہیں ہیں۔ ہمارے بچوں کو یہ اسکول ایڈمیشن تو دیتے ہیں مگر یہ ہمارے بچوں کی پہنچ سے باہرہوتے ہیں۔
ایک اور بات جو مجھے بار بار جھنجھوڑتی ہے،وہ یہ کہ ملک کے سبھی اسکولوں میں ،دلی کے بھی تمام اسکولوں میں مسلم بچے ایڈمیشن لیتے ہیں، مگر مسلم اسکولوں میں ہندو یا دوسرے مذاہب کے بچے نہیں آتے یا پھر جان بوجھ کر اسکول انتظامیہ ان بچوں کو ایڈمیشن نہیں دیتی ہے، کیونکہ مسلم اسکولوں میں اساتذہ کا بے حد استحصال ہوتا ہے۔ اتنے کم پیسے دیے جاتے ہیں کہ اچھے اساتذہ ان میں آتے ہی نہیں ۔ انتظامیہ کے لوگ خود تو بڑے بڑے عہدے لیکر بیٹھ جاتے ہیں ۔مسلم اسکولوں کو قومی سطح پر نہیں لاتے ۔کچھ مسلم اسکول تو اس قدر اپنے اصول سخت کر لیتے ہیں اور ڈریس کوڈ بھی اتنے الگ کہ نیشنل اسٹریم سے ہی اپنے طلبا کو ہٹا دیتے ہیں۔این جی اوز بھی جو دوسرے مذاہب کی ہیں وہ ہمارے لئے بھی ہمارے نوجوانوں کی بازآبادکاری کے لئے بھی کام کر رہی ہیں ،مگر ہماری این جی اوز صرف  پیسہ کھا رہی ہیں اور قوم کو بھکاری بنارہی ہیں۔مسلم تنظیموں کے پاس پیسے کی کمی نہیں ہے ۔ یہ ان پیسوں سے حکیم عبد الحمید مرحوم جیسے افراد کو اپنا رول ماڈل بنا کرمسلم ادارے کھول سکتی ہیں،صنعتی ادارے قائم کرسکتی ہیں،طلباء کے لئے اسکالر شپ کا بندوبست کرسکتی ہیں، جس سے مسلمانوں کا بھلا ہو،لیکن یہ تب ہی ممکن ہے جب دل میں قوم کا درد ہو ۔
میری تحریر کا مقصد یہ نہیں ہے کہ ملک کی تمام تنظیمیں اپنے فرائض سے پہلو تہی کر رہی ہیں،  لیکن میری نظروں میں کئی ایسی تنظیمیں ہیں، جن سے بڑی بڑی توقعات وابستہ ہیں۔ان تنظیموں کے پاس وسائل کی بہتات ہے ۔اگر وہ چاہیں تو  اپنے وسائل کا استعمال کرکے سماج میں کمزور،مظلوم اور پسماندہ طبقے کی پسماندگی کو دور کرسکتی ہیں ۔ایسی تنظیموں کو آگے بڑھنا چاہئے اور ذات برادری، شخصی مفاد اور علاقائی تعصبوں سے اوپر اٹھ کر قوم و ملک کی خدمت  کرنی چاہئے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *