مسلمانوں کے لئے کانگریس سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والی پارٹی

وسیم راشد
ایک کہاوت مشہور ہے ’’ پہاڑ اپنی جگہ بدل سکتا ہے مگرکسی کی فطرت نہیں بدل سکتی‘‘۔شاید یہ کہاوت کانگریس پارٹی پر فٹ آتی ہے۔کانگریس نے بار بار جھوٹے وعدوں ،دلاسوں سے مسلمانوں کو بہلانے کی کوشش کی اور مسلمانوں نے بار بار کانگریس کو نکارا، لیکن پھر بھی کانگریس کو یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی ہے کہ اب مسلمانوں نے اس پر بھروسہ کرنا چھوڑ دیا ہے ۔

سچر کمیٹی کی رپورٹ نے دنیا کو یہ بتا دیا کہ مسلمان 65 برس پہلے جس پوزیشن میں تھا آج اس سے بھی  بد تر حالت میں ہے ۔ آج دلتوں سے بھی نیچے کی سطح پر زندگی گزارنے والا مسلمان آخر اس نچلی پائدان پر پہنچا تو کیسے؟60-70 سال پہلے مسلمانوں میں نہ توزمانے کے حساب سے تعلیم کی کمی تھی اور نہ ہی ان میں ہنر مندوں اور فنکاروںکا فقدان تھا۔اقتصادی اعتبار سے بھی یہ برادران وطن کے کندھوں سے کندھا ملا کر چل رہے تھے۔جب آزادی کی لڑائی لڑی گئی،  تو اس وقت بھی  وہ برادران وطن کے ساتھ اگلی صف میں کھڑے تھے، مگر آزادی ملنے کے بعد آخر ان کے فن پر گہن کیوں لگ گیا ؟

ابھی گزشتہ سال کی بات ہے جب پانچ ریاستوں میں اسمبلی الیکشن ہورہے تھے ،تو اس وقت مسلمانوں کو لبھانے کے لئے ایک کانگریسی وزیر نے مسلمانوں کو9فیصد ریزرویشن دینے کاوعدہ کیا تھا۔مسلمان کانگریس کی فطرت سے واقف تھے ، وہ جانتے تھے کہ یہ سب الیکشن اسٹنٹ کے طور پر ہورہاہے ، الیکشن کے بعد کانگریس کا اپنے وعدوں سے مکر جانا، اس کی فطرت میں شامل ہے ۔یہی وجہ تھی کہ ان وعدوں کے باوجود اترپردیش کے مسلمانوں نے سماجوادی پارٹی کے ہاتھوں میں ریاست کی باگ ڈور تھما دی۔کانگریس یوپی میں اپنی درگت سے سبق حاصل کر سکتی تھی، مگر اس نے اپنی اس ہار سے کوئی سبق نہیں لیا اور اب بھی مسلمانوں کو جھوٹے دلاسے دینے اور سبز باغ دکھانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔جیسے جیسے  2014 کا الیکشن قریب آرہا ہے، کانگریس اپنی فطرت پر لوٹتی جارہی ہے اور مسلمانوں کو قریب کرنے کے لئے نت نئے طریقے اختیار کر رہی ہے۔بس فرق یہ ہے کہ مسلمانوں کو سبز باغ دکھانے والے کا چہرہ بد ل دیا جاتا ہے۔ گزشتہ اسمبلی کے الیکشن کے موقع پر یہ  ذمہ داری سلمان خورشید پر ڈالی گئی تھی،  لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس مرتبہ یہ ذمہ داری فروغ انسانی وسائل کے وزیر مملکت ششی تھرور کوسونپی گئی ہے۔چنانچہ اب تھرور مسلمانوں سے متعلق کئی طرح کی اسکیمیں او ر منصوبوں کو گنوا کر یہ بتانا چاہتے ہیں کہ کانگریس مسلمانوں کے لئے مخلصہے۔تھرور نے حالیہ لوک سبھا اجلاس میں اپنے بیان میں مسلمانوں پر کانگریس کی کرم فرمائی گنواتے ہوئے کہا کہ’’ سرو شکشا ابھیان کے تحت مسلم اکثریت والے اضلاع کو نشان زد کیا گیا ہے تاکہ ان کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنایا جاسکے۔انہوں نے اقلیتوں کو لبھانے کے لئے یہ بھی کہا کہ درج فہرست ذات و قبائل،دیگر پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کے طالبات کے لئے پرائمری سطح پر اقامتی اسکول کے طور پر 3609 کستوربا گاندھی بالیکا ودیالوں میں سے544 ودیالے اقلیتی اضلاع میں منظور کیے گئے ہیں،اسی طرح دس ہزار 821 مسلم طالبات کا احاطہ کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اقلیتی تعلیمی اداروں سے متعلق قومی کمیشن نے 31جنوری تک ملک کے 7292 تعلیمی اداروں کی اقلیتی حیثیت کو منظور کیا ہے‘‘۔
لوک سبھا میں دیا گیا یہ بیان یقینا غلط نہیں ہوگا ،ہم ششی تھرور کے بیان پر کسی طرح کا کوئی شک نہیں کرتے، مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان اسکیموں پر عمل درآمد کرنے کے لئے کانگریس مخلص ہے؟کیا ان اسکیموں سے مسلم بچوں کو کوئی فائدہ پہنچایا جاسکے گا؟اسکیمیں تو بہت بنتی ہیں، منصوبے تیار کئے جاتے ہیں مگر جب عمل کا وقت آتا ہے تو تمام اسکیمیں گھوٹالوں کی نذر ہوجاتی ہیں۔ اگر کانگریس کی نیت واقعی صاف ہوتی تو حالیہ عام بجٹ میں مسلمانوںکی پسماندگی دور کرنے کیلئے اتنی رقم مختص کی جاتی، جس سے مسلمانوں کی پسماندگی کو دور کیا جاسکے، مگر جو رقم مختص کی گئی ہے، اس سے مسلمانوں کا کتنا بھلا ہوسکے گا، اس کا اندازہ اقلیتی کمیشن کے چیئرمین وجاہت حبیب اللہ کے اس بیان سے لگایا جاسکتاہے، جو انہوں نے بجٹ پیش کیے جانے کے فورا ًبعد دیا ہے۔انہوں نے کہا ’’اقلیتوں کی کمیشن کے پاس پیسے کی قلت ہے جس کی وجہ سے یہ ادارہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے سے قاصر ہے۔اقلیتی کمیشن کو جو پیسہ ملتا ہے یہ رقم اتنی قلیل ہوتی ہے کہ ضروری اخراجات بھی پورے نہیں ہوتے‘‘۔ایسی صورت میں اگر کانگریس کی طرف سے اقلیتوں کے لئے کسی منصوبے کا اعلان کیا جاتاہے ، تو اس کا صاف مطلب  ہے کہ آنے والے عام انتخاب کو نظر میں رکھتے ہوئے یہ سب ہورہا ہے،جس کو الیکشن کے بعد گزشتہ کے دیگر منصوبوں کی طرح سرد خانے میں ڈال دیا جائے گا۔
سچر کمیٹی کی رپورٹ نے دنیا کو یہ بتا دیا کہ مسلمان 65 برس پہلے جس پوزیشن میں تھا آج اس سے بھی  بد تر حالت میں ہے ۔ آج دلتوں سے بھی نیچے کی سطح پر زندگی گزارنے والا مسلمان آخر اس نچلی پائدان پر پہنچا تو کیسے؟60-70 سال پہلے مسلمانوں میں نہ توزمانے کے حساب سے تعلیم کی کمی تھی اور نہ ہی ان میں ہنر مندوں اور فنکاروںکا فقدان تھا۔اقتصادی اعتبار سے بھی یہ برادران وطن کے کندھوں سے کندھا ملا کر چل رہے تھے۔جب آزادی کی لڑائی لڑی گئی،  تو اس وقت بھی  وہ برادران وطن کے ساتھ اگلی صف میں کھڑے تھے، مگر آزادی ملنے کے بعد آخر ان کے فن پر گہن کیوں لگ گیا ؟کیوں ان کی تعلیم کا معیار گر گیا ؟کیوں انکی معاشی حالت دلتوں سے بھی بد تر ہوگئی ؟جبکہ آزادی  سے پہلے اور آزادی کے بعدتک دلتوں کی یہ حالت تھی کہ وہ وہ جانوروں کے ساتھ جھونپڑیوں میں رہا کرتے تھے۔ موچی گری، سپیرا بازی، مزدوری ،بھیک مانگنا ان کا پیشہ تھا۔ لیکن جوں جوں آزادی کا وقت دور ہوتا گیا ،ان کی حالت بہتر ہوتی چلی گئی،جھونپٹری کی جگہ پختہ مکانات نے لے لئے،ملازمتوں میں انہیں رعایتیں ملنے لگیں،انہیں غیر سودی قرض دیا جانے لگا،کم نمبروں میں انہیں ملازمتیں ملنے لگیں، عمر بھی رعایت دی جانے لگی۔اہم عہدوں پر انہیں فائز کیا جانے لگا۔یہ کوئی غلط بات نہیںہے،  ملک کے ہر شہری کو سائنسی و معاشی ترقی سے استفادہ کرنے کا پورا پورا حق حاصل ہے ،مگر سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ جس طرح دلتوں کو اوپر اٹھانے کے لئے کوششیں کی گئیں ،جس طرح انہیں ریزرویشن اور رعایتیں دیکر معاشی پسماندگی سے باہر نکالاگیا اور نکا لاجارہا ہے ،آخر مسلمانوں کو اس سیمحروم کیوں رکھا گیا اور رکھا جارہا ہے۔ مسلمانوں کو پسماندہ رکھنے کے لئے منظم طریقے سے کیوں منصوبہ بندی کی گئی؟ جس کا انجام آج 65 برس بعد سچر کمیٹی کی رپورٹ میں نظر آرہا ہے۔
ظاہر ہے مسلمانوں کی اس پسماندگی کی وجہ کانگریس کی مسلم مخالف پالیسی ہی ہوسکتی ہے۔اسی پارٹی نے سب سے زیادہ ملک پر حکومت کی ہے اور اس کے دور اقتدار میں ہی مسلمانوں کو محرومیوں کا سامنا زیادہ کرنا پڑاہے۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ وہ پارٹیاں جن کو مسلم مخالف سمجھا جاتا ہے ،الیکشن کے زمانے میں ان پارٹیوں کے منشور کو اجاگر کرکے دوسری پارٹیاں مسلمانوں کو خوفزدہ کرتی ہیں ،مگر سچائی یہ ہے کہ ان مسلم مخالف پارٹیوں سے بھی زیادہ مسلمانوں کو نقصان کانگریس پارٹی نے پہنچایا ہے۔ مسلمانوں کو انصاف دلانے میں ہر موقع پر کانگریس ٹال مٹول سے کام لیتی رہی ہے ،معاملہ چاہے ریزرویشن کا ہو یا اقلیتی کمیشنکو فنڈ فراہم کرنے کا ۔چنانچہ کانگریس کی اسی ٹال مٹول والی پالیسی کی وجہ سے جنوری 2011 میں سپریم کورٹ نے کانگریس کو کافی لتاڑا تھا اور یہ سوال پوچھا تھا کہ سکھ اور بدھوں کی طرح دفعہ 341 میں حکومت عیسائیوں اور مسلمانوں کو شامل کرنا کیوں نہیںچاہتی۔ حکومت کو فروری 2011 تک جواب داخل کرنا تھا۔ اس موقع پر بھی حکومت نے گول مٹول جواب دے کر سپریم کورٹ کی سرزنش سے خود کو بچا لیا ۔اسی طرح جب گزشتہ عام بجٹ میں اقلیتی کمیشن کے چیئر مین نے کمیشن کے پاس پیسے نہ ہونے کی شکایت کی تو یہ کہہ کر تسلی دے دی گئی کہ سپلیمنٹری دے کر کمیشن کی ضرورتوں کو پوراکیا جائے گا۔ ظاہر ہے یہ رویہ صرف اس لئے اپنا یا جارہا ہے کہ حکومت مسلمانوں کے تئیں مخلص نہیں ہے۔ وہ صرف ان کو ووٹ بینک کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ کچھ نہ کرنے کے باوجود وہ ششی تھرور کی طرف سے بیان دلوا کر مسلمانوں کے ووٹ کو آنے والے الیکشن میں اپنے حق میں کرنا چاہتی ہے۔ مگر کانگریس کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ اب مسلمان جذباتی نعروں اور دلکش وعدوں پر ووٹ نہیں دیتے ہیں ، وہ ایسی پارٹی یا لیڈر کو ہی اپنا نمائندہ بناتے ہیں جن سے عملی اقدام کی امید ہو

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *