غیر یقینی کے بھنور میں ہندوستانی سیاست

سنتوش بھارتیہ
نریندر مودی کو بھارتیہ جنتا پارٹی وزیر اعظم کے عہدہ کے امیدوار ہونے کا اعلان کرے گی یا انہیں امیدوار بنانے کا اعلان کیے بغیر ہی وزیر اعظم کے عہدہ کے لیے آگے کرے گی، یہ اس بات پر منحصر کرتا ہے کہ نتیش کمار اخیر میں کیا فیصلہ لیتے ہیں۔ اگر نتیش کمار این ڈی اے سے الگ ہو جاتے ہیں، تو بھارتیہ جنتا پارٹی بلا جھجک نریندر مودی کے وزیر اعظم کے عہدہ کے امیدوار ہونے کا اعلان کرے گی یا ان کی قیادت میں الیکشن لڑے گی اور اگر نتیش کمار بنے رہتے ہیں، تو ایسی حالت میں بھی الیکشن کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی ہی بنیں گے، لیکن اس وقت جنتا دل یونائٹیڈ کا کوئی وزن نریندر مودی کی ہاں یا نہ میں نہیں رہے گا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اس بات کے لیے تیار ہے، کیوں کہ الیکشن کے بعد اگر جنتا دل یونائٹیڈ الگ ہونا چاہتا ہے، تو یہ خطرہ اٹھانے کے لیے وہ تیار ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی میں راجناتھ سنگھ شروع میں پوری طرح سے نریندر مودی کا ساتھ دیں گے، لیکن جیسے ہی الیکشن نزدیک آئے گا، ویسے ہی راجناتھ سنگھ پہلے اڈوانی جی کے نام پر اور پھر خود کو سامنے لاکر نریندر مودی کی راہ میں رکاوٹ بنیں گے۔ پھر ان سب سے الگ بھارتیہ جنتا پارٹی الیکشن کی ساری حکمت عملی نریندر مودی کو سامنے رکھ کر بنائے گی، چاہے وہ کیمپین ہو یا پھر امیدواروں کا سلیکشن یا پھر ریاستوں کے اوپر زور دینا ہو، یعنی سارے فیصلے پارٹی کے مطابق نہیں، بلکہ نریندر مودی کے مطابق ہی ہوں گے۔
کانگریس راہل گاندھی کو سامنے رکھ کر الیکشن لڑے گی، یہ لگ بھگ اب صاف ہے۔ لیکن جو نہ بھارتیہ جنتا پارٹی میں ہیں اور نہ کانگریس میں، سب سے زیادہ پریشانی ان کے ساتھ ہے، جیسے کہ ملائم سنگھ یادو، مایاوتی، نتیش کمار، چندر بابو نائڈو، ممتا بنرجی، جیہ للتا اور کروناندھی۔ دراصل، ہندوستانی سیاست کے یہ ایسے افراد ہیں، جن میں سے ہر آدمی وزیر اعظم بننا چاہتا ہے اور وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ اس کی قیادت باقی سارے ساتھی مان لیں۔ ان میں لالو یادو اور رام ولاس پاسوان بھی شامل ہیں، جنہیں یہ بھروسہ ہے کہ کسی کے نام پر اتفاقِ رائے نہ ہونے کی حالت میں انہیں وزیر اعظم کے عہدہ کے لیے سامنے آنے میں کوئی دقت ہی نہیں ہوگی۔ حالانکہ ملائم سنگھ یادو سمیت سارے ناموں کے ساتھ ایک دقت ہے، وہ یہ کہ ان میں سے کوئی بھی آدمی باقی ساتھیوں سے بات چیت نہیں کرنا چاہتا، کیوں کہ اگر ان میں سے کوئی بھی آدمی باقی سارے ناموں سے بات چیت کرے، تو شاید تیسرے مورچہ کی شکل میں کوئی تصویر بنے، پر سچائی یہی ہے کہ تیسرے مورچہ کے ممکنہ حلیفوں میں ریاستوں میں ابھرے باہمی اختلافات رکاوٹ کا کام کر رہے ہیں۔ اتر پردیش میں مایاوتی، ملائم سنگھ اور بہار میں لالو پرساد یادو، نتیش کمار اور رام ولاس پاسوان۔ یہ دونوں ریاستیں ایسی ہیں، جہاں پر ان تینوں میں سے کوئی بھی ایک دوسرے کو آگے بڑھتے ہوئے دیکھنا نہیں چاہتا اور اسی لیے تیسرے مورچہ کے امکانات نہ کے برابر نظر آ رہے ہیں۔
تیسرے مورچہ کی دو تصویریں بن سکتی ہیں۔ پہلی تصویر میں ملائم سنگھ یادو، نتیش کمار، چندر بابو نائڈو، نوین پٹنائک اور ممتا بنرجی آپس میں مل کر کوئی سمجھوتہ کر لیں، تو یہ کانگریس اور بی جے پی کے مقابلے ایک مضبوط مخالفت بن سکتی ہے۔ دوسری تصویر میں ملائم سنگھ ہٹ جاتے ہیں اور مایاوتی، ممتا بنرجی، نتیش کمار، نوین پٹنائک، چندر بابو نائڈو اور جیہ للتا مل کر ایک مضبوط مخالفت بن سکتے ہیں۔ لالو یادو نے کم و بیش اپنی تصویر صاف کر دی ہے۔ وہ اگلا الیکشن کانگریس کے ساتھ مل کر لڑنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ بہار کے کانگریسی لیڈر کسی بھی قیمت پر لالو پرساد یادو کے ساتھ مل کر الیکشن نہیں لڑنا چاہتے، جن میں شکیل احمد اہم ہیں۔ شکیل احمد اس وقت راہل گاندھی کے مسلم معاملوں کے قومی سطح کے صلاح کار ہیں اور بہار کے مسئلے میں اس وقت ان کی بات ہی سنی جاتی ہے۔
تیسرے مورچہ کے امکانات اسی لیے چرچہ میں ہیں، کیوں کہ راہل گاندھی کانگریس کے اندر ہی اپنی قیادت قائم نہیں کر پا رہے ہیں اور اپنے لیے اعتماد بھی پیدا نہیں کر پا رہے ہیں۔ ایسے میں، کانگریس کو باقی پارٹیوں میں سے کتنوں کا ساتھ ملے گا، یہ بہت بڑا شک کا سوال ہے۔ راہل گاندھی کی سمجھ کے اوپر ممتا بنرجی، ملائم سنگھ یادو یا پھر مایاوتی سمیت کروناندھی کو بھی بھروسہ نہیں ہے۔ اسی لیے راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس کا الیکشن لڑنا اور اپنے لیے ایک مضبوط اتحاد کی تعمیر کرنا ممکن ہی نہیں دکھائی دیتا۔ حالانکہ الیکشن کے بعد کی تصویر الگ ہے، کیوں کہ اگر کانگریس 200 کے آس پاس سیٹیں لے کر آتی ہے، تو پھر چاہے راہل گاندھی وزیر اعظم ہوں یا سونیا گاندھی کا کوئی چپراسی، باقی پارٹیوں کی حمایت حاصل کرنا اس کے لیے مشکل نہیں ہوگا۔
دوسری طرف بھارتیہ جنتا پارٹی تذبذب کی حالت میں ہے۔ دراصل، اسے مسلمانوں کے 20 فیصد ووٹوں میں سے بھی ایک حصہ چاہیے۔ اسے ہندو ووٹوں کے سخت گیر حصے کے علاوہ عام ہندوؤں کا بھی ووٹ چاہیے۔ اسے نوجوانوں کا بھی ووٹ چاہیے اور ان کی مدد سے ہی اس کی سرکار بھی بننی چاہیے۔ نریندر مودی کے حق میں، جسے ہم نظم و نسق کہتے ہیں یا انگریزی میں گورننس، یہ نعرہ متوسط طبقہ یا اعلیٰ متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے شمالی ہند کے نوجوانوں میں مقبول ہو رہا ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ نریندر مودی کا نظریاتی موقف چاہے کتنا بھی غلط ہو، لیکن وہ ایک اچھے ایڈمنسٹریٹر ہیں اور ہندوستان کو ایک اچھے ایڈمنسٹریٹر کی ضرورت ہے۔ یہ دلیل بھلے ہی جمہوریت کے خلاف جاتی ہو، لیکن یہ دلیل متوسط طبقہ اور اعلیٰ متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں میں گھوم رہی ہے۔ دراصل، نوجوان یہ چاہتے ہیں کہ مودی جیسا آدمی اقتدار میں آئے اور ہماری لولی لنگڑی سرکاری مشینری کو ٹھیک کرے۔ اس لیے انہیں نریندر مودی سب سے زیادہ مناسب آدمی لگتے ہیں۔
دوسری طرف نریندر مودی اپنا قد پوری بھارتیہ جنتا پارٹی میں سارے لیڈروں کے اوپر دیکھناچاہتے ہیں۔ اگر نریندر مودی کو وزیر اعظم کے عہدہ پر نامزد کرنے کا مشورہ بھارتیہ جنتا پارٹی میں آیا، تو یہ طے ہے کہ ان کی عمر اور طریق کار کو دیکھتے ہوئے نہ کبھی مستقبل میں راجناتھ سنگھ، نہ سشما سوراج اور نہ ہی ارون جیٹلی وزیر اعظم کے عہدہ پر جانے کا خواب دیکھ پائیں گے۔ اور ایسی حالت میں اڈوانی جی کے من کی خواہش من میں ہی رہ جائے گی، کیوں کہ جب دہلی کے بی جے پی کے صوبائی صدر وجے گوئل نے اڈوانی جی کا نام وزیر اعظم کے عہدہ کے لیے سب کے سامنے رکھا، تو نہ صرف یشونت سنہا، بلکہ جسونت سنگھ اور شتروگھن سنہا نے بھی ان کے نام کی حمایت کی۔ اس کے بعد ایک حیرت انگیز حقیقت سامنے آئی اور وہ یہ ہے کہ خود لال کرشن اڈوانی نے اس کی مذمت نہیں کی۔ ان کے پاس نریندر مودی کے ایلچی گئے اور انہوں نے کہا کہ اڈوانی جی، آپ اس کی مذمت کر دیجئے، لیکن اڈوانی جی  نے ان سے صاف لفظوں میں کہا، میں مذمت کیوں کروں؟ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ایک تذبذب کی سی حالت میں ہے۔
تذبذب کا دوسرا پہلو ایک کہاوت کے روپ میں آتا ہے کہ پس و پیش کی حالت میں دونوں گئے، مایا ملی نہ رام۔ اگر بی جے پی سارے اگر مگر چھوڑ کر نریندر مودی کو وزیر اعظم کے عہدہ کے امیدوار ہونے کا اعلان کرکے ملک میں ایک جارحانہ پرچار مہم چلاتی ہے، تو وہ اس ملک میں کم از کم اس بات کی صفائی پیش کرے گی کہ 120 کروڑ لوگوں کا ملک کیا فرقہ وارانہ بنیاد پر تقسیم ہو سکتا ہے یا نہیں۔ اگر فرقہ وارانہ بنیاد پر یہ ملک تقسیم ہو گیا اور نریندر مودی کو 300 کے آس پاس سیٹیں مل گئیں، تو یہ مان لینا چاہیے کہ ملک میں آگے آنے والے 15-20 سالوں کے لیے ایک نیا فیصلہ سبھی کے لیے قابل قبول مانا جائے گا اور تب ملک پوری طرح سے ہندو وادی قاعدے قوانین کے اوپر چلے گا۔ اور اگر بھارتیہ جنتا پارٹی اس کام کو ڈھکے چھپے طور پر کرنا چاہے گی، تو شاید اسے اس سے کافی نقصان ہوگا، لیکن لوگوں کے من میں یہ بات آ جائے گی کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے باقی لیڈر، جن میں لال کرشن اڈوانی، راجناتھ سنگھ، ارون جیٹلی اور سشما سوراج شامل ہیں، یہ سب مل کر نریندر مودی کو وزیر اعظم نہیں بننے دیں گے۔ اسی لیے کوئی نریندر مودی کو وزیر اعظم مان کر بھارتیہ جنتا پارٹی کو ووٹ کیوں دے گا؟
بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس کی ان حکمت عملیوں کے مقابلے تیسرے مورچہ کی حکمت عملی ابھی بہت دھندلی دکھائی دیتی ہے اس کا ابھرنا بھی بہت مشکل دکھائی دیتا ہے، لیکن اگر غیر کانگریسی اور غیر بھاجپائی پارٹیوں کو یہ احساس ہو جائے کہ ان کے ملنے سے ان کی تعداد کانگریس اتحاد اور بی جے پی اتحاد کے مقابلے ہو سکتی ہے، تو شاید تیسرا مورچہ زیادہ وجود میں آ جائے۔ دونوں ہی صورتِ حال میں، چاہے اس مورچہ میں ملائم سنگھ رہیں یا مایاوتی، بایاں محاذ اس کا حصہ بننے میں ہچکچائے گا نہیں۔ حالانکہ لیفٹ پارٹیوں کی حالت کافی کمزور ہے۔ جس طرح سے وہ مغربی بنگال میں ہاری ہیں، اس سے لوک سبھا الیکشن میں انہیں کتنی بڑھت ملے گی، یہ دیکھنے کی بات ہے، کیوں کہ وہاں بھی کانگریس اور ممتا بنرجی کا آپس میں ووٹوں کا بٹوارہ لیفٹسٹوں کے لیے مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ کیرالہ میں لیفٹسٹ تیزی سے اپنا اثر دکھائیں گے، پر جو سب سے افسوس ناک بات ہے لیفٹسٹوں کے ساتھ، وہ یہ ہے کہ کیرالہ اور بنگال کے علاوہ، وہ ابھی تک کسی بھی صوبہ میں اپنی بڑھت 65 سالوں میں نہیں بنا پائے۔ ان کے پاس تنظیم تو ہے، لیکن وہ ایک طریقے سے اثردار نہیں ہیں اور جب تک ان کے پاس بنگال میں دو تہائی سیٹیں نہیں آتی ہیں، کیرالہ میں دو تہائی سیٹیں نہیں آتی ہیں، تب تک ان کا قومی سیاست میں بہت فیصلہ کن بول بالا نہیں ہوگا۔
یہ ہندوستانی سیاست کا المیہ ہے، جس نے ہندوستان کے عام عوام کو پریشان حال کر رکھا ہے۔ لوگوں کے پاس صحیح جانکاریاں نہ ٹیلی ویژن پہنچاتا ہے اور نہ اخبار۔ وہ اپنے علاقہ کے مسائل کو سامنے رکھ کر فیصلہ لیتے ہیں اور یہی فیصلے انہیں ایک فریکچرڈ ڈسیزن کی طرف لے جاتے ہیں۔ 2014 کے انتخابات تک ہندوستان کا عام ووٹر ان باہمی تضادات کو سمجھ سکے، یہ امید کرنی چاہیے، کیوں کہ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب بہت سارے بھرم سامنے آتے ہیں، تو آدمی ان میں سے حقیقت کو پہچان لیتا ہے۔ اسی لیے ہندوستانی ووٹر کے لیے آنے والا الیکشن اور سیاسی پارٹیوں کے کام کاج  کے امتحان کے روپ میں سامنے آئیگا۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *