کانگریس کا وقار بچائیں گے راہل گاندھی ؟

سنتوش بھارتیہ

پورے ملک کی نظریں کانگریس پر ہیں، لیکن خود کانگریس کی سرکردہ قیادت پارٹی کی لگاتار بگڑتی حالت کے تئیں قطعی فکرمند نہیں ہے۔ ایماندار زمینی کارکنوں، تجربہ کار لیڈروں کی کوئی پوچھ نہیں ہے۔ پارٹی کی تنظیم کی باگ ڈور ایسے چند لوگوں کے ہاتھوں میں آ گئی ہے، جو نہ صرف عمر، سمجھ اور تجربہ میں کچے ہیں، بلکہ وہ پبلک فیگر بھی نہیں ہیں۔ ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ جن لوگوں پر پارٹی آنکھ موند کر بھروسہ کر رہی ہے، کیا وہ اس کے لیے واقعی مسیحاثابت ہوں گے یا پھر خطرۂ جاں؟
ہمیں پتہ نہیں کہ راہل گاندھی کو یہ سب معلوم ہے یا نہیں۔ اگر تھوڑا ہمدردانہ طریقے سے سوچیں، تو مانا جانا چاہیے کہ mastانہیں یہ سب پتہ ہوگا ہی۔ لیکن جس طرح کی خبریں پوری کانگریس سے آ رہی ہیں، ان سے لگتا ہے کہ راہل گاندھی کو بہت کچھ پتہ نہیں ہے۔ ان کے بارے میں کانگریس کا کارکن کیا سوچتا ہے، کانگریس کے لیڈر کیا سوچتے ہیں، ریاستوں کے لیڈر کیا سوچتے ہیں اور خاص کر دہلی میں بیٹھے لوگ کیا سوچتے ہیں، اس کا احساس راہل گاندھی کو بالکل نہیں ہے اور سچائی یہی ہے کہ انہیں کچھ پتہ نہیں ہے۔
شریمتی سونیا گاندھی بیمار ہیں اور انہیں اپنی بیماری کے چیک اَپ کے لیے ملک سے باہر جانا پڑتا ہے۔ اس وقت بھی وہ ملک سے باہر ہیں۔ شاید اسی لیے، کچھ مہینوں پہلے انہوں نے پارٹی کی کمان اپنے واحد بیٹے راہل گاندھی کو سونپ دی۔ اس وقت انہوں نے یہ امید ظاہر کی تھی کہ راہل گاندھی پارٹی کے لوگوں کی خواہش کے مطابق اپنی ذمہ داری پوری کریں گے اور ان سب کی صلاح سے پارٹی کو چلائیں گے، لیکن راہل گاندھی نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد کوئی ایسا کام نہیں کیا، جس سے یہ پتہ چل سکے کہ کانگریس میں  سی نئی سوچ یا نئے طریق کار کی شروعات ہوئی ہے، بلکہ ہوا اس کے برخلاف۔ راہل گاندھی سے ایک کانگریسی کارکن ملنے گیا اور اس نے ان سے کہا، میں 25 سالوں سے کانگریس کی خدمت کر رہا ہوں۔ میرے والد، والد صاحب کے والد، یعنی ہم کئی نسلوں سے کانگریس کے ساتھ ہیں۔ راہل گاندھی نے اس کی طرف دیکھا اور کہا، تو اسی لیے 25 سالوں سے کانگریس کی حالت خراب ہے۔ راہل گاندھی کا یہ جملہ وہاں کھڑے کانگریس کے ایماندار اراکین کے دل میں تیر کی طرح چبھ گیا۔ ویسے، راہل گاندھی نے یہ جملہ انجانے میں نہیں کہا۔ ان کا واقعی میں یہ ماننا ہے کہ گزشتہ 25 سالوں میں کانگریس کی حالت ان نام نہاد ایماندار کانگریسیوں کی وجہ سے خراب ہوئی ہے، جو صرف چاپلوسی کرتے ہیں اور عوام کے درمیان کوئی کام نہیں کرتے۔ راہل گاندھی کا یہ ماننا ہے اور جس کے لیے وہ لگاتار کام کر رہے ہیں کہ آج کے کارکن یا لیڈر کانگریس کو 2014 کے الیکشن میں جیت نہیں دلا سکتے۔ اگر کانگریس کو جیت دلانی ہے، تو انہیں پوری طرح نئے لوگ چاہئیں، جو سوچ کے تئیں ایماندار ہوں یا نہ ہوں، انہوں نے جواہر لعل نہرو کی کوئی کتاب پڑھی ہو یا نہ پڑھی ہو، انہیں اندرا گاندھی کے سیاسی طرزِ عمل کے بارے میں علم ہو یا نہ ہو، لیکن وہ کچھ ٹکنالوجی ضرور جانتے ہوں، کچھ تجزیہ کر سکتے ہوں اور ان کا بائیں محاذ یا جنوبی محاذ سے کوئی لینا دینا نہ ہو۔ اعلانیہ طور پر ایسے لوگ تلاش کیے جائیں اور ان کے سہارے کانگریس کو دوبارہ کھڑا کیا جائے۔ دراصل، راہل گاندھی کی سوچ اس حقیقت پر مبنی ہے کہ کانگریس میں ووٹ ان کی فیملی کے نام پر ملتے ہیں۔ ان کی دادی، ان کے والد، ان کی ماں، وہ خود ووٹ دلواتے ہیں اور لوگ ان کے نام پر ووٹ لیتے ہیں اور کانگریس کو برباد کرتے ہیں۔ لہٰذا انہیں ایسے ایماندار لوگ چاہئیں، جو ان پرانے ایماندار کانگریسیوں کی جگہ لے سکیں۔

کانگریس کے حکمت ساز الگ پریشان ہیں۔ راہل گاندھی کسی سے بات نہیں کرتے۔ شریمتی سونیا گاندھی کے زمانے میں جو لوگ لگاتار ان سے ملتے تھے، سیاسی سمت کا اشارہ لیتے تھے، وہ سارے اس وقت پریشان ہیں۔ جناردن دویدی، موتی لال ووہرا، احمد پٹیل جیسے لوگ راہل گاندھی کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔ احمد پٹیل سونیا گاندھی کے پاس جاتے تھے، سونیا گاندھی انہیں سیاسی سمت عطا کر دیتی تھیں اور پھر احمد پٹیل اسی حساب سے کانگریس کی دکان سجاتے تھے، اٹھا پٹک کرتے تھے، اکھاڑ پچھاڑ کرتے تھے۔

اس کے لیے انہوں نے تمل ناڈو، کرناٹک، آندھرا پردیش اور کیرالہ کے کچھ نوجوانوں کی ٹیمیں بنائی ہیں۔ یہ ٹیمیں مختلف ریاستوں میں جا رہی ہیں اور وہاں کے لوگوں سے بات چیت کرکے ایسے پانچ ناموں کی فہرست پر کانسٹیٹیونسیاں (حلقہ انتخاب) بنا رہی ہیں، جنہیں راہل گاندھی ٹکٹ دیتے وقت پرکھ سکیں۔ ان پانچ ناموں میں پرانے کانگریسیوں کے نام کہیں نہیں ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ راہل کے یہ کیرالہ، تمل ناڈو، کرناٹک اور آندھرا پردیش کے نام نہاد ایلچی مقامی زبان نہیں سمجھتے۔ یہ وہاں کس سے بات کرتے ہیں، کس سے تصدیق کراتے ہیں اور کیسے نام منتخب کرتے ہیں، یہ ابھی تک راز ہے، لیکن اس کا ڈر پرانے کانگریسیوں کے من میں بخوبی بیٹھ گیا ہے۔
شمالی ہندوستان میں کانگریس کی حالت بہت خستہ ہے۔ کانگریس تنظیم پوری طرح بکھر چکی ہے اور راہل گاندھی کے یہاں سے یہ پیغام ہر جگہ گیا ہے کہ وہ ریاستوں کی تنظیموں میں پھیر بدل کریں گے۔ نتیجہ کے طور پر نہ اتر پردیش میں کام ہو رہا ہے اور نہ بہار، مدھیہ پردیش اور راجستھان میں۔ سب سے پہلے اتر پردیش کو لیں۔ اتر پردیش میں جتنی بے عزتی پرمود تیواری اور سنجے سنگھ کو جھیلنی پڑ رہی ہے، اس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ دونوں شاید جلد ہی اپنے لیے نیا گھر تلاش کر لیں۔ اتر پردیش کے ممبرانِ پارلیمنٹ، ممبرانِ اسمبلی یا کانگریسی صدور کو راہل گاندھی کی طرف سے کوئی ہدایت نہیں ہے اور نہ انہیں تنظیم میں لگانے کے لیے کبھی راہل گاندھی نے بلاکر ان سے بات کی۔ اتر پردیش میں الیکشن کیسے لڑا جانا ہے، اس کے بارے میں بھی راہل گاندھی نے کبھی کانگریس کے اُن لوگوں سے بات چیت نہیں کی، جو ابھی جیتے ہوئے ہیں۔ سارے لوگ گھبرائے ہوئے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ شاید ان کو اگلی بار ٹکٹ نہیں ملے گا۔ بہار میں تنظیم تقریباً مر چکی ہے اور اس بات کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ تنظیم میں کوئی کورامن کا انجکشن لگا سکے۔ بنگال میں ممتا بنرجی کانگریس کی جگہ دھیرے دھیرے لیتی جا رہی ہیں۔ اڑیسہ میں کانگریس تقریباً صفر ہے اور جن شری کانت جینا کا استعمال کانگریس کو کرنا چاہیے، ان کا استعمال وہ نہیں کر رہی ہے۔ مدھیہ پردیش میں کانگریس اس بار الیکشن پھر ہارنے والی ہے۔ اگر کانگریس نے جیوترادتیہ سندھیا کو صو بہ میں ذمہ داری دی یا انہیں صوبہ کا لیڈر بنایا، تو شاید اسے کچھ فائدہ ہو جائے۔ ویسے بھی دکھائی نہیں دیتا کہ جیوترادتیہ سندھیا کو کانگریس مدھیہ پردیش میں کوئی ذمہ داری دے گی۔ راجستھان کی دیواروں پر لکھا ہے کہ کانگریس الیکشن ہار رہی ہے۔ اشوک گہلوت پوری طرح نان اسٹارٹر چیف منسٹر ثابت ہوئے۔ انہوں نے کوئی سیاسی مہارت نہیں دکھائی، صوبہ میں کوئی کمال نہیں کیا۔ ہاں، پچھلے سال بھر میں انہوں نے راجستھان کی ہیلتھ سروسز کو کچھ ٹھیک کرنے کی کوشش کی، جس کا فائدہ شاید انہیں مل جائے، لیکن دیکھنے پر لگتا ہے کہ اشوک گہلوت کے مقابلے بھارتیہ جنتا پارٹی سبقت لیے ہوئے ہے۔ کرناٹک میں کانگریس کی حالت اچھی ہوگی، کیوں کہ یدیو رپا نہ تو کھائیں گے اور نہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو کھانے دیں گے۔ وہ بی جے پی کا کھیل بگاڑنے میں پوری طرح لگے ہوئے ہیں۔ آخر میں ہو سکتا ہے کہ یدیو رپا اور کانگریس مل کر یا پھر یدیو رپا، کانگریس اور دیوگوڑا مل کر کوئی سرکار بنا لیں۔ آندھرا پردیش کا کھیل سب سے مزیدار ہے۔ جگن موہن ریڈی سے بات کی جاسکتی تھی، انہیں لایا جاسکتا تھا اور ان کی ناراضگی دور کی جاسکتی تھی، لیکن دہلی میں بیٹھے کانگریس کے حکمت ساز اس وقت جگن موہن ریڈی کی بے عزتی کرنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑ رہے تھے اور آج آندھرا میں کانگریس کے لیے سب سے بڑا خطرہ جگن موہن ریڈی ہیں۔ حالانکہ، جگن موہن ریڈی پر بدعنوانی کے بہت سے الزامات ہیں۔ سی بی آئی نے انہیں جیل میں ڈال رکھا ہے۔ اس کے جواب میں کانگریس کے لوگ کہتے ہیں کہ جگن موہن ریڈی کو باہر ہونا چاہیے تھا اور جن کے خلاف آمدنی سے زیادہ ملکیت کے مقدمے چل رہے ہیں، وہ باہر گھوم رہے ہیں۔
کانگریس کے حکمت ساز الگ پریشان ہیں۔ راہل گاندھی کسی سے بات نہیں کرتے۔ شریمتی سونیا گاندھی کے زمانے میں جو لوگ لگاتار ان سے ملتے تھے، سیاسی سمت کا اشارہ لیتے تھے، وہ سارے اس وقت پریشان ہیں۔ جناردن دویدی، موتی لال ووہرا، احمد پٹیل جیسے لوگ راہل گاندھی کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔ احمد پٹیل سونیا گاندھی کے پاس جاتے تھے، سونیا گاندھی انہیں سیاسی سمت عطا کر دیتی تھیں اور پھر احمد پٹیل اسی حساب سے کانگریس کی دکان سجاتے تھے، اٹھا پٹک کرتے تھے، اکھاڑ پچھاڑ کرتے تھے۔ اب یہ سارے لوگ خاموش ہیں۔ دگ وجے سنگھ کی تو راہل گاندھی کے ساتھیوں کے ذریعے بے عزتی کرنے کا کوئی موقع چھوڑا ہی نہیں جاتا۔ دگ وجے سنگھ کانگریس میں اپنی عزت بچائے ہوئے بیٹھے ہیں اور سیاسی طور پر خود کو زندہ رکھنے کے لیے وقت وقت پر ویجیٹیرین یا نان ویجیٹیرین بیان دے دیتے ہیں۔
راہل گاندھی جماعتوں کے حساب سے کانگریس کو نہیں دیکھتے۔ اسی لیے شاید مسلم سماج سے جڑے موضوعات پر ان کے صلاح کار شکیل احمد ہیں، جو بہار سے آتے ہیں۔ شکیل احمد پہلے وزیر مملکت برائے امورِ داخلہ تھے، خود بھی الیکشن ہار گئے ہیں اور بہار میں کانگریس بھی الیکشن ہار گئی ہے، وہ راہل گاندھی کے مسلم موضوعات کے سب سے بڑے صلاح کار ہیں۔ غلام نبی آزاد، سلمان خورشید یا پھر اتر پردیش میں سب سے کارگر رول نبھانے والے پرویز ہاشمی مسلم موضوعات پر راہل گاندھی کے آس پاس بھی نظر نہیں آتے۔ راہل گاندھی ان سے صلاح لینا ہی نہیں چاہتے۔ راہل گاندھی کے صلاح کاروں میں کنشک سنگھ، بھنور، جتیندر سنگھ اور موہن پرکاش ہیں۔ ان کے علاوہ راہل گاندھی کچھ ایسے لوگوں سے رائے لیتے ہیں، جو لوگ میڈیا کمپنیوں کو چلانے والے ہیں یا ایکسپرٹ مانے جاتے ہیں۔ راہل گاندھی سے نہ کانگریس کا کوئی کارکن خوش ہے اور نہ کوئی لیڈر۔ ہر آدمی اس وقت کانگریس میں اپنا وقت گزار رہا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ اگر اس نے زیادہ ہاتھ پیر مارے، تو کانگریس میں وہ بالکل نظرانداز کر دیا جائے گا۔
میں یہ بات دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ شریمتی سونیا گاندھی اس بار رائے بریلی سے الیکشن نہیں لڑیں گی، بلکہ ان کی جگہ رائے بریلی سے الیکشن پرینکا گاندھی لڑیں گی۔ راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی میں، ماں کی نظر میں چھوٹائی بڑائی ہے۔ ماں چاہتی ہے کہ راہل گاندھی وزیر اعظم بنیں اور ملک پر راج کریں، جب کہ کارکن چاہتے ہیں کہ پرینکا گاندھی وزیر اعظم بنیں اور ملک پر راج کریں۔ دونوں بھائی بہن میں ایک بنیادی فرق ہے۔ بیس بار کا ملا ہوا کارکن یا لیڈر اگر اکیسویں بار راہل گاندھی سے ملتا ہے، تو راہل گاندھی اسے اس طرح دیکھتے ہیں، گویا اسے جانتے نہیں جب وہ اپنا نام بتاتا ہے، تو کہتے ہیں، ہاں ہاں، یس یس۔ دوسری بار پرینکا گاندھی سے کبھی بھی کوئی ملا ہو، وہ اسے یہ امپریشن دیتی ہیں، جیسے اسے وہ بہت دنوں سے جانتی ہوں۔ اگر پرینکا گاندھی رائے بریلی سے الیکشن لڑتی ہیں، تو وہ الیکشن جیتیں گی۔ راہل گاندھی اگر امیٹھی سے الیکشن لڑتے ہیں، تو شاید جیت جائیں، لیکن جیتنے کے بعد کارکنوں کی بھیڑ پرینکا گاندھی کے گھر کی طرف زیادہ جائے گی، راہل گاندھی کے گھر کی طرف نہیں۔
پوری کانگریس تنظیم کو اس وقت لقوہ مار گیا ہے۔ کسی کو نہیں معلوم کہ اسے کیا کرنا ہے۔ لوک سبھا الیکشن سر پر ہیں۔ کانگریس کے بڑے لیڈر خود یہ کہتے ہیں کہ اکتوبر یا نومبر میں الیکشن ہو سکتے ہیں۔ منموہن سنگھ راہل گاندھی کی انہی کمزوریوں کو دیکھتے ہوئے تیسری بار وزیر اعظم کے عہدہ کے امیدوار بن چکے ہیں۔ سونیا گاندھی کی ایک بڑی طاقت ان کی خاموشی تھی۔ وہ عوام کے درمیان کبھی زیادہ نہ تو آتی تھیں، نہ بولتی تھیں۔ جو لوگ جاتے تھے، ان کی باتیں سنتی تھیں اور نمستے کرکے اٹھ جاتی تھیں۔ لوگوں کو لگتا تھا کہ سونیا گاندھی سمجھدار ہیںاور وہ تاثر بھی یہی دیتی تھیں کہ جو کارکن ان سے ملتا ہے، اپنی بات کہتا ہے، اس پر وہ سنجیدگی کے ساتھ غور و فکر اور عمل کرتی ہیں۔ راہل گاندھی کے پاس سنجیدگی نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ راہل گاندھی سے جو بھی کارکن ملتا ہے، وہ ایسا تاثر لے کر باہر آتا ہے، جیسے اس نے اپنا وقت برباد کیا ہو۔ اب کانگریس میں یہ لگ بھگ صاف ہے کہ آنے والا الیکشن راہل گاندھی اپنے نئے منتخب کردہ امیدواروں کے سہارے لڑیں گے۔ جتنا پیسہ کبھی کانگریس نے خرچ نہیں کیا، اس بار خرچ کیا جائے گا۔ پیسہ جمع ہونا شروع ہو چکا ہے۔ کمان براہِ راست کنشک، بھنور، جتیندر اور موہن پرکاش سنبھالیں گے۔ راہل گاندھی 320 سیٹ لانے کے ارادے سے انتخاب میں اتریں گے اور انہیں بھروسہ ہے کہ نالائق کانگریسیوں کی جگہ وہ اپنے ایماندار نئے اصولوں کو کانگریس میں لا کر زیادہ کارگر رول نبھا پائیں گے۔ راہل گاندھی کی یہ سوچ اور حکمت عملی بتاتی ہے کہ کانگریس کے اندر ابھی ایک اور اتھل پتھل کا دور آنے والا ہے، کیوں کہ کانگریس کے حلیف، خاص کر شرد پوار اس ساری صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے الیکشن سے پہلے اپنا کوئی نیا ٹھکانہ تلاش کریں گے، ایسا لگتا ہے اور وہ ٹھکانہ کہاں ہوگا، یہ نہیں معلوم۔ لیکن شرد پوار شاید پہلے آدمی ہوں گے، جو راہل گاندھی کی قیادت میں لڑے جانے والے الیکشن کی جگہ کسی دوسرے کی قیادت میں لڑے جانے والے الیکشن میں شامل ہونا زیادہ پسند کریں گے۔
پھر سے کانگریس کی بنیادی تنظیم کی طرف آتے ہیں۔ ہر صوبے کا لیڈر راہل گاندھی سے بات کرنا چاہتا ہے، لیکن ان کے پاس بات کرنے کا وقت نہیں ہے یا شاید وہ بات کرنا نہیں چاہتے۔ اس کی دو وجہ ہو سکتی ہے۔ پہلی، راہل گاندھی کو لگتا ہے کہ یہ سب بیوقوف ہیں اور انہوں نے ان کی ماں کو بیوقوف بنا کر اپنا گھر بھرا ہے۔ دوسری، راہل گاندھی کے من میں خود کوئی چور بیٹھا ہوا ہے کہ وہ سیاسی فطرت نہیں جانتے، سیاسی مہارت نہیں جانتے، سیاسی علم نہیں رکھتے اور دوسری پارٹیوں کی کمزوریاں اور طاقت نہیں جانتے۔ اسی لیے اگر وہ بات چیت کریں گے، تو کہیں وہ ایکسپوژ نہ ہو جائیں۔ کانگریس کے سارے بڑے لیڈر، جو سونیا گاندھی کی کور کمیٹی کے ممبر کہلاتے تھے، وہ ان کے نہ رہنے پر یتیم ہو چکے ہیں۔ سونیا گاندھی کی خواہش کو ایک کنارے ڈال راہل گاندھی ان سے نہ کوئی بات چیت کرنا چاہتے ہیں اور نہ شاید مستقبل میں کبھی کریں گے۔
جو سب سے عجیب جانکاری ہمارے پاس آئی ہے کہ راہل گاندھی کا برتاؤ اپنی ماں کے ساتھ بھی سیاسی نہیں ہے۔ وہ جب اپنی ماں کے گھر جاتے ہیں، تو ان کے ساتھ کم بیٹھتے ہیں، ٹیلی ویژن زیادہ دیکھتے ہیں، دوسرے کمرے میں کام زیادہ کرتے ہیں اور ماں کے ساتھ کم سے کم وقت گزارنا چاہتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ یہ کوری افواہ ہو، لیکن یہ افواہیں بھی کانگریس کی اعلیٰ سطحوں سے نکلی ہوئی ہیں اور یہ بغیر بنیاد کے نہیں ہوتیں۔ اگر راہل گاندھی ایسا کرتے ہیں، تو وہ اپنی بیمار ماں کے ساتھ بہت ظلم کریں گے۔ انہیں چاہیے کہ وہ اپنی ماں کا سہارا بنیں، کانگریس کا سہارا بنیں، نہ کہ کانگریس میں حقارت پیدا کرنے والے ایسے لیڈر بنیں، جسے عام کانگریسی کبھی معاف نہ کر پائے۔ اور ایسے میں راہل گاندھی کو کبھی بھی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے یا کسی سیمینار میں بغیر لکھی ہوئی تقریر کرتے دیکھنا ہندوستان کے لوگوں کے لیے خواب ہی رہ جائے گا۔ راہل گاندھی کتنے بھی اہم لوگوں کے درمیان ہوں، ان کا موبائل ایس ایم ایس رسیو بھی کرتا ہے اور ان کی انگلیاں بھی ایس ایم ایس کرتی رہتی ہیں۔ اس سے وہ لوگ کافی ذلت محسوس کرتے ہیں، جو کانگریس سے جڑی ہوئی سنجیدہ گفتگو کرنے ان کے پاس جاتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ راہل گاندھی کانگریس کے لیے کچھ اچھا کرنے میں کامیاب ہوں گے یا پھر کانگریس کے لیے خطرۂ جاں ثابت ہوں گے۔
اچانک راہل گاندھی کے ہاتھ میں ایک کامیابی لگ گئی۔ نریندر مودی اور پوری بھارتیہ جنتا پارٹی پہلے کانگریس کے اوپر بدعنوانی، چاہے وہ ٹو جی ہو، کوئلہ گھوٹالہ ہو، مہنگائی ہو، کو اپنا مدعا بناتے تھے، لیکن اب اچانک نریندر مودی نے راہل گاندھی اور اپنے بیچ کے مدعوں کو اہم بنا لیا ہے۔ راہل گاندھی کی کانگریس یا ان کے صلاح کار اس صورتِ حال سے بہت خوش ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ عمر، پیسہ اور عورتوں میں دلچسپی راہل گاندھی کو نریندر مودی سے وزیر اعظم کے عہدہ کا بہتر دعویدار ثابت کرے گی۔ راہل گاندھی اور ان کے صلاح کاروں کے لیے ایک سکون کی بات یہ ہے کہ وہ اس بات پر یقین کر چکے ہیں کہ نریندر مودی کے ساتھی، جن پر انہیں بھروسہ ہے کہ وہ ان کا ساتھ دیں گے، سارے الیکشن سے پہلے ہی ان کا ساتھ چھوڑ جائیں گے۔ کانگریس کو یہ پختہ یقین ہے کہ ممتا بنرجی، جیہ للتا اور چندر بابو نائڈو ان کا ساتھ نہیں دیں گے اور نتیش کمار ان کا ساتھ پہلے ہی چھوڑ دیں گے۔ اس وقت راہل گاندھی کی طرف سے نتیش کمار سے رابطہ بنایا جا چکا ہے اور کانگریس ایک فارمولہ کی تلاش کر رہی ہے، جس سے نتیش کمار بی جے پی سے نکلنے کا مناسب بہانہ تلاش کر سکیں۔ یہ صورتِ حال راہل گاندھی کے لیے بہت فائدہ مند ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے تھوڑی نقصاندہ۔ کانگریس اس اندرونی خلفشار سے ہی اپنی زمین بنانے کی کوشش کرے گی۔ ہاں، کانگریس کے لیے ایک اور سہارا ملک کا مسلم ووٹ ہے، جو نریندر مودی کے بھارتیہ جنتا پارٹی کا امیدوار ہونے کی صورت میں سیدھے کانگریس کو ووٹ کرے گا اور 16 یا 18 فیصد ووٹ لوک سبھا کے الیکشن میں بہت بڑا رول ادا کرتا ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *