بوئے گل ایک سی ہے بوئے وفا ایک سی

وسیم راشد
ملک تقسیم ہوا اور اس تقسیم نے رشتے ناطے سبھی کو بانٹ دیا، لیکن سرحدیں دلوں کو تقسیم نہیں کر پائیں۔تقسیم کے نتیجے میں کتنے خاندان اپنوں سے بچھڑ گئے، جو لوگ ایک ساتھ رات دن بیٹھ کر اپنے صبح و شام گزارا کرتے تھے ،ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے تھے، سرحدوں نے ان سب کو پل بھر میں جدا کردیا،لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج بھی ہندوستانیوں کے دلوں میں پاکستان اور پاکستانیوںکے دلوں میں ہندوستان بستا ہے۔ سیاست نے جو نفرت کا بیج بویا ہے، اس کی وجہ سے تو شاید اب پاکستان ہم ہندوستانیوں کے لئے قصہ پارینہ بن جائے، مگر ایک بات ضرور ہے کہ ادیبوں ، شاعروں کو ملک کی تقسیم الگ نہیں کرسکتی ۔سچ جانئے تو مجھے کبھی بھی لاہور پاکستان کا حصہ نہیں لگا۔ کئی بار وہاں جانا ہوا ہے ،فلائٹ سے جائو تو مشکل سے سوا گھنٹہ ، بس سے جائو تو 10 گھنٹے ،صبح 6 بجے یہاں سے بس چلتی ہے اور شام کو لاہور اتار دیتی ہے۔ لاہور میں داخل ہوتے ہی جو سب سے پہلی چیز پر نظر پڑتی ہے وہ وہاں کے اردو میں لکھے ہوئے سائن بورڈ ہیں، جو ہماری نگاہوں کو اچھے لگتے ہیں ۔کیونکہ ہمارے ملک میں گنگا جمنی تہذیب اور مختلف زبانوں کی وجہ سے صرف اردو کے سائن بورڈ بہت ہی کم نظر آتے ہیں۔ بے حد پر تپاک استقبال ہوا لاہور میں۔ سب اجنبی لوگ تھے، جنہوں نے کانفرنس کے لئے بلایا تھا اور سب سے پہلی بار ملاقات ہو رہی تھی، لیکن ایسا لگ رہا تھا نہ جانے کب سے ہم ایک دوسرے کو جانتے ہیں ۔ لاہور کی سرزمین داتا کی سرزمین کہی جاتی ہے۔ کہتے ہیں کہ داتا گنج لاہور کے وہ بزرگ ہیں، جن کے دربار میں ہمیشہ 24 گھنٹے لنگر چلتا ہے اور لاہور میں کوئی بھوکا نہیں سوتا ہے۔ ننکانہ صاحب بھی اسی لاہور کے پاس ہے ۔بے شمار سکھ رات دن وہاں جاتے ہیں۔اگر نفرت کی سیاست اپنا کام کرپاتی تو شاید ہندوستان میں خواجہ معین الدین چشتی اور پاکستان میں ننکانہ صاحب اور داتا دربار میں جانے کے لئے بھی دونوں ملکوں کے لوگ ترستے رہتے، لیکن ابھی بھی شکر ہے کہ سرحدیں تو قائم ہوئیں،  لیکن لوگوں کے دلوں میں کوئی فاصلہ نہیں بڑھا ۔ دونوں ملکوں کے درمیان ابھی بھی ایک طبقہ ایسا ہے جو دلوں کو جوڑنے کا کام کررہا ہے ۔یہ ادیبوں،شاعروں اور آرٹسٹوں کا طبقہ ہے۔یہ وہ طبقہ ہے جو سرحد پار سے آنے والوں کے لئے اپنی آنکھیں بچھاتا ہے۔اس کا عملی نمونہ دیکھنا ہو تو کسی دن لاہور اور کراچی کے بازار میں چلے جائیں، وہاں آپ کو محسوس ہوگا کہ وہ ہندوستان سے جانے والوں کی کس قدر پذیرائی کرتے ہیں،کتنی محبت کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ کسی ادبی محفل میںچلے جائیں اور پھر جائزہ لیجئے اور پھر فیصلہ کیجئے کہ جب کبھی کوئی ہندوستانی ادیب،شاعر ، آرٹسٹ یا فنکار پاکستان کی زمین پر قدم رکھتا ہے ،تو کس طرح اس کے لئے آنکھیں بچھائی جاتی ہیں، اس کے فن کو احترام اور محبت کے ساتھ اپنا یاجاتا ہے۔یہی صورت حال ہندوستان میں بھی ہے۔جب یہاں پاکستان کا کوئی ادیب ،شاعر، نقاد،صحافی ، فنکار آتاہے تو اس کے اعزاز میں نشستیں کی جاتی ہیں، محفلیں منعقد ہوتی ہیں اور دونوں ملکوں کے بیچ خیر سگالی کے پیغام کا تبادلہ کیا جاتاہے۔غرض یہی وہ طبقہ ہے جو تقسیم سے لے کر آج تک خیر سگالی کے لئے انتھک کوششیں کرتاہے اور چاہتا ہے کہ سرحدیں تو بٹ گئیں، مگر دل نہ بٹنے پائے ،لیکن ان کی ان کوششوں میں ہمارے ملک کے کچھ سیاست داں اپنا زہر گھول کر کبھی کبھی پیچیدگیاں پیدا کردیتے ہیں،ویزا کی راہ میں حائل ہوجاتے ہیں اور کبھی کبھی ان کی کوششوں کو شر پسند عناصر کی نظر لگ جاتی ہے، جس کی وجہ سے سرحدوں پر توپ و ٹینک کی قطاریں کھڑی کردی جاتی ہیں،ایسے وقت میں دونوں طرف کے عوام کی بے چینی اور تڑپ کو بخوبی دیکھا جاسکتا ہے۔
ابھی حال ہی میں مجھے پاکستان کی ایک کانفرنس میں شرکت کرنی تھی ،وہاںہمارے ایک کالم نگار اعجاز حفیظ کی کتاب کا رسم اجراء تھا ،جس میں میں بحیثیت مہمان خصوصی مدعو تھی۔ اس سفر میں مجھے وہاں کی کئی ادبی نشستوں میں شامل ہونے کا موقع ملا،اسپتال میں ڈاکٹروں سے بھی ملنے کی ضرورت پیش آئی، کچھ عام لوگوں سے بھی ہم نے ملاقات کی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ وہ پاکستان میں رہ کر ہندوستانی عوام کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ ہر جگہ مجھے وہی تڑپ ،وہی بے تابی اورویسا ہی تأثر جو اپنوں سے بچھڑنے کے بعد ہوتاہے ،دیکھنے کو ملا۔ہر ایک کی زبان پر بس یہی تھا کہ سرحد کے اس پار رہنے والے بھی ہمارے اپنے ہیں،کاش سرحد کی لکیریں ہمارے بیچ فاصلے نہ پیدا کریں۔پاکستان میں جتنے دن بھی مجھے رہنے کا موقع ملا ،کبھی احساس ہی نہیں ہوا کہ میں دیارِ غیر میں ہوں۔جہاں جاتی اپنے جیسی تہذیب ، اپنے جیسا ماحول، اپنوں کی طرح لوگوں کے ملنے کا انداز،ان سب کو دیکھنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ آخر ایک فنکار ،ادیب ، صحافی یا شاعر آخر کیوں دونوں ملک کے سماج کو قریب کرنے کے لئے اس طرح کی انتھک کوشش کرتاہے۔ دراصل وہ انسان کے جذبوں کو سمجھتا ہے ،اپنوں سے بچھڑنے کے درد کو محسوس کرتا ہے ، وہ سمجھتا ہے کہ اپنوں سے بچھڑنے کی ٹیس کیسی ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ جب سے ملک بٹا ہے تب سے ہی دونوں طرف کے ادباء ، شعراء اور فنکار اس کوشش میں لگے ہوئے ہیںکہ سرحدیں تو بٹ گئی ہیں لیکن دل نہ بٹنے پائیں۔
جو احساس ایک فنکار کرتا ہے اگر وہی احساس ہمارے ملک کے لیڈر بھی کرنے لگیں، تو شاید دونوں طرف کبھی کسی کو کوئی شکایت ہی نہ ہو، کبھی کسی کو سرحدی فاصلوںکا احساس ہی نہ ہو اور وہ خاموش آنسو جو میں نے اپنے دورے کے دوران ایک ہندوستانی عورت کی آنکھوں میں دیکھے وہ آنسو کبھی نظر نہ آئیں۔ میری ملاقات لاہور میں ایک عورت سے ہوئی ،وہ ہندوستان کی ہی تھی، اس نے مجھے بتایا کہ وہ انڈیا کی ہے ۔وہ اس قدر خلوص سے ملی اور اس قدر روئی  جیسے اپنے مائیکہ کو یاد کرکے کوئی روتی ہو،اس وقت مجھے اپنا ہی وہ شعر بے ساختہ یاد آیا :
مائیکے جائوں تو اب تک میری چوکھٹ پہ وسیم
میری ہی شکل کی ایک لڑکی کھڑی ملتی ہے
اس کی تڑپ ، اس کی لگن ، اس کی چاہت اس کا خلوص اس قدر جذباتی تھا کہ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ ہم سب کے لئے کیا نہ کرے۔یہ تو ایک مثال ہے۔ ورنہ وہاں جس طرف چلے جائیے ہر جگہ اپنائیت ملتی ہے۔کوئی کہتا ہے میرے والدین انڈیا کے تھے ، کوئی کہتا ہے کہ میرا گھر جامع مسجد کے پاس تھا ۔کوئی اپنے شہر کو یاد کرتا ہے تو کوئی اپنے گائوں کو۔اسی طرح پاکستان سے جو مریض ہندوستان آتے ہیں ۔یہاں کے ڈاکٹرس اور یہاں کے لوگ  ان کی بے تحاشہ مدد کرتے ہیں اور وہ خوشی خوشی واپس جاتے ہیں ۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ لوگوں کے  دل میں تو بے انتہا پیار ہے ، مگر یہ سیاست ان کو ملنے نہیں دیتی۔
میںکئی مرتبہ پاکستان  ادبی محفلوںمیں شرکت کے لئے جا چکی ہوں۔ہر مرتبہ مجھے ایسا لگا ، جیسے اپنوں کے بیچ ہوں، یہ تأثر صرف میرا ہی نہیں ہے بلکہ مجھ جیسے جتنے بھی لوگ پاکستان جاچکے ہیں یا کسی پاکستانی سے ان کی ہندوستان کی سرزمین پر ملاقات ہوئی ہے ،ان کا تأثر تقریباً ایسا ہی ہوتا ہے ۔میں نے اپنے سفر کے دوران کئی پاکستانیوں کے دل میں یہ تمنا محسوس کی کہ وہ ہندوستان آنا چاہتے ہیں ،خاص طور پر جن  کے رشتہ دار یہاں ہیں، ان کا دل تو رات دن بس یہ تمنا لئے  بے چین رہتا ہے کہ وہ یہاں آئیں،رشتہ داروں سے ملیں اور اپنی پرانی یادوں کو تازہ کرکے لوٹ جائیں،لیکن سیاسی نفرت کی وجہ سے جو دوریاںبنی ہوئی ہیں ،اس میں کمی نہیں آپارہی ہے۔ ہندوستان سے پاکستان جانے کے لئے  یا پھر وہاں سے ہندوستان آنے کے لئے جو کاغذی کارروائیاںہیں ،ان کی خانہ پری کرتے کرتے ہی کتنوں کی آرزوئیں دم توڑ دیتی ہیں۔
شرم اور افسوس کی بات تو یہ ہے کہ جو آرٹ اور کلچر دو ملکوں کے درمیان محبت پھیلانے کا کام کرتا ہے، جو آرٹسٹ ، ادیب ، شاعر دونوں ملکوں میں نفرت کی اس آگ کو بجھانے کا کام کرتے ہیں ، انہی کے خلاف ہمارے ملک کے اندر کچھ لوگ نفرت پھیلاتے ہیں۔ابھی حال ہی میں جشن بہار کے مشاعرہ میں ایک زعفرانی کپڑے پہنے شخص نے نفرت کی تمام حدوں کو پار کردیا۔ وہ اسٹیج پر چڑھ گیا اور اس نے پاکستانی شعراء کو واپس جانے کے لئے کہا ۔شاعر ، ادیب کسی ملک کے نہیں ہوتے ۔ ان کے ادب، ان کی شاعری کی خوشبو کو قید نہیں کیا جاسکتا۔ ادب سرحدوں کی تقسیم سے کہیں اوپر  ہوتاہے ۔ اس حرکت  سے بہت دکھ ہوا۔ پاکستان سے کشور ناہید ، فہمیدہ ریاض،ذکیہ غزل تشریف لائی تھیں جیسے کہ ہم یہاں سے وہاں کانفرنس اور مشاعرہ میں شرکت کے لئے گئے تھے۔ اس نفرت نے تو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس وقت یہ حال ہے کہ بچہ بچہ پاکستان جانے سے ڈر رہا ہے۔ ہر کوئی کہتا ہے ارے آپ پاکستان جا رہی ہیںکیوں؟میں نے لاہور کانفرنس میں کہا تھا کہ جس طرح آپ ادب کو فروغ دے رہے ہیں، اسی طرح  ہمارے ملک ہندوستان میںبھی  اردو کا کام ہو رہاہے۔ ہم ہندوستانی ہیں ،ہمیں فخر ہے اپنے ملک پر ۔ہم عشق کرتے ہیں  اپنے وطن عزیز سے اور یہی چاہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں  ہمیشہ  امن و امان رہے لیکن پڑوسی ملک کے لوگ بھی ہمارے اپنے ہیں۔انہیں بھی ہم اس نفرت کی سیاست سے دور  رکھنا چاہتے ہیں۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *