!فرقہ وارانہ فسادات مخالف قانون: ایک اہم قانون ہوگا

تیستا سیتلواڑ
انیس سو اٹھانوے  میں ’’کمیونلزم کومبیٹ‘‘ جاری کرنے کے پانچ سال بعد ہم نے عدالتی فیصلے اور فرقہ وارانہ تشدد‘‘ پر غالباً پہلی تحقیقاتی رپورٹ پیش کی تھی کہ آزاد ہندوستان کے اولین فرقہ وارانہ فسادات (جبل پور 1961) سے لے کر بعد کی دہائیوں میں جاری رہنے والے باقاعدہ، منظم اور وسیع تر فرقہ وارانہ فسادات تک، دو رجحانات نمایاں طور پر سامنے آتے ہیں اور جن کے سبب ناقابل تلافی جانی اور مالی نقصان ہوتا ہے۔ (کمیونلزم کومبیٹ ، مارچ 1998ء ، ذمہ دار کون؟) ۔ آج جب ہم پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ وہی دو رجحانات اب بھی غالب اور حاوی ہیں۔ ایک ہے دائیں بازو کی جماعتوں اور تنظیموں کی مہمیں، جو کسی بھی فساد کے کئی ماہ پہلے شروع ہوجاتی ہیں اور جن میں نفرت انگیز تقریروں اور تحریروں کا سہارا لیا جاتا ہے۔ ہر چند کہ ان مہموں کے ذریعہ ہمیشہ ہی تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کی خلاف ورزی کی جاتی ہے لیکن اس جانب نہ تو توجہ دی جاتی ہے نہ ہی ان مہموں میں حصہ لینے والوں کو سزا دی جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ فرقہ وارانہ فساد کا پورا پورا ماحول تیار ہوجاتا ہے۔ دوسری قابل ذکر بات اور رجحان ہندوستانی عدلیہ سے وابستہ ہیں۔ متعدد شخصیات اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ فساد برپا ہوجانے کے بعد انتظامیہ اور پولس فورس کا ایک بڑا حصہ حالات پر قابو پانے اور قانون کی بالادستی کو محفوظ رکھنے میں ناکام ہوجاتا ہے۔

 بی جے پی نے ارون جیٹلی کے ذریعہ یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ فساد محض ’’نظم و نسق‘‘ کا مسئلہ ہوتا ہے۔ بی جے پی دراصل اُس خاص محرک کو مسترد کرتی ہے جو فساد کا سبب بنتا ہے، فساد کو ہوا دیتا ہے اور انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔ بی جے پی سے وابستہ ارباب اختیار کو اس بات سے بھی شدید الجھن ہے کہ اس بل میں نیشنل اتھاریٹی کے سات ممبران میں سے چار کا اقلیتی فرقے سے ہونا ضروری ہے کی سفارش کی گئی ہے۔

جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لاء اینڈ آرڈر پوری طرح غیر مؤثر ہوکر رہ جاتا ہے جس سے دانستہ کارروائی نہ کرنے اور خاطیوں سے سازباز رکھنے کے شبہ کو کافی تقویت ملتی ہے۔
ہر فساد میں یہی دو محرکات (رجحانات) سامنے آتے ہیں۔ وہ چاہے 1961 کا جبل پور ہو یا 1967 کا رانچی، 1969کا احمد آباد ہو یا 1970 کا بھیونڈی، جل گائوں اور مہاڈ، 1971 کا ٹیلی چیری ہو یا 1987 کا ہاشم پورہ یا 1989 کا بھاگلپور۔ یہ محرکات اور رجحانات اقلیتوں کے بُری طرح نشانہ بننے اور پھر انصاف نیز ہرجانہ سے اُن کی محرومی پر منتج ہوتے ہیں۔ 1984کا دہلی فساد، 1992-93 کا ممبئی فساد یا 2002 کا گجرات فساد، ان فسادات نے کیا کچھ غضب نہیں ڈھایا۔ مختصر یہ کہ آزادی کے بعد سے اب تک کے فسادات پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوگا کہ جہاں تک انصاف کی فراہمی اور ہرجانہ یا معاوضہ دینے یا باز آبادکاری کا معاملہ ہے، ہمارا رپورٹ کارڈ کافی کمزور ہے۔ بدقسمتی سے فسادات کے متاثرین کی درجنوں مثالیں ہمارے سامنے ہیں جن میں مسلم بھی ہیں، سکھ بھی اور عیسائی بھی جو اب تک انصاف کا چہرہ نہیں دیکھ سکے ہیں کیونکہ تفتیش اب بھی ابتدائی مراحل میں ہے اور فسادات کے برسوں بعد بھی خاطیوں کے خلاف مقدمہ شروع نہیں ہوسکا ہے۔
نیا مسودۂ قانون برائے فرقہ وارانہ فسادات (انصاف اور ہرجانے کی حصولیابی) 2011 جسے عام طور پر ’’کمیونل اینڈ ٹارگیٹیڈ وائلنس بل‘‘ کہا جاتا ہے، فسادات کے متاثرین کو انصاف دلانے اور اُن کے مفادات کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اس بل کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کے لیے کابینہ کی منظوری درکار ہے۔ اس بل میں ’’کسی بھی متاثر یا متاثرہ‘‘ کا ذکر کیا گیا ہے یعنی فسادات سے متاثر،چاہے وہ اکثریتی فرقے کا شخص ہو یا اقلیتی فرقے کا رکن، اُسے معاوضہ دینے کا جامع منصوبہ تیا رکیا گیا ہے۔ یہ بل گویا انصاف کی فراہمی میں امتیازات برتے جانے کا سرکاری اعتراف ہے۔ بالفاظ دیگر یہ بل اس بات کو مان کر چل رہا ہے کہ جب بھی فسادات پھوٹ پڑتے ہیں ، قانون کانفاذ کرنے اور عوام کو تحفظ فراہم کرنے والی ایجنسیاں غیر فعال اور غیر مؤثر ہوجاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس بل کا مقصد مذہبی اور لسانی اقلیتوں کو خواہ وہ ملک کی کسی ریاست سے تعلق رکھتی ہوں، تحفظ فراہم کرنا ہے اور صرف اقلیتیں ہی نہیں بلکہ شیڈول کاسٹ اور شیڈول ٹرائبس کو بھی اس کے دائرے میں لایا گیا ہے۔ ایک اور خصوصیت اس بل کی یہ ہے کہ تشدد کے معنی میں منظم تشدد کو بھی شامل کیا گیا ہے اور فرقہ وارانہ تشدد کو بھی۔ بل میں دیگر جرائم کے علاوہ ’’جنسی دست درازی یا جنسی حملہ‘‘ کی تعریف میں تمام جنسی جرائم کو شامل کرلیا گیا ہے۔ چنانچہ اس میں صرف عصمت دری کو شمار نہیں کیا گیا بلکہ فسادات کے دوران خواتین کو نشانہ بنانے کے دیگر پہلوئوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
ایک اہم بات اس مسودۂ قانون کی یہ بھی ہے کہ اس میں ’’فرض سے کوتاہی‘‘ کو بھی شامل رکھا گیا ہے جو تعزیرات ہند کے تحت پہلے ہی سے جرم ہے چنانچہ وطن عزیز میں پہلی بار یہ ہوگا کہ اس قانون کے دائرے میں وہ سرکاری افسران اور افسران بالا بھی آئیں گے جو اپنے فرائض اور ذمہ داریوں سے چشم پوشی یا پہلو تہی کرتے ہیں۔ بل میں یہ بھی درج ہے کہ اگر سرکاری افسران کی جانب سے بے توجہی اور غفلت برتی جاتی ہے تو ’’اس کا مطلب یہ ہوگا اور یہ تسلیم کیا جائے گا کہ متعلقہ سرکاری افسر جس کی ذمہ داری فساد کو روکنا تھا، ناکام ہوا، اُس نے اپنے ماتحتوں پر اپنے اختیارات کا استعمال نہیں کیا۔ لہٰذا اُسے اختیارات کے استعمال سے غفلت برتنے کا مرتکب قرار دیا جائے گا۔‘‘ اگر اس قانون کو منظوری مل جاتی ہے تو ایسے افسران کو 10سال قید کی سزا کاٹنی ہوگی جس سے یہ اُمید پیدا ہوتی ہے کہ 1984 کے دہلی، 1992-93 کے ممبئی اور 2002 کے گجرات جیسے فسادات دوبارہ نہیں ہوں گے۔ مجوزہ قانون اس قسم کے بھیانک تشدد کو روکنے اور سرکاری افسران کی سازباز کے تدارک میں اہم رول ادا کرنے کے ساتھ ساتھ متاثرین کو مناسب معاوضہ دلوانے میں بھی کافی مددگار ثابت ہوسکے گا۔

فسادات مخالف اس بل کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے!
اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے والا قانون مرکز کو حاصل اُن اختیارات سے اپنی طاقت سے اپنی طاقت حاصل کرتا ہے جو آئین ہند کی دفعہ 355میں دیئے گئے ہیں اور جن کا براہ راست تعلق ’’بیرونی خطرات اور اندرونی انتشار سے ملک کو محفوظ رکھنے کی مرکز کی ذمہ داری‘‘ سے ہے۔ اسی دفعہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’’یہ مرکز کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ ہر ریاست کو بیرونی خطرات اور اندرونی انتشار سے محفوظ رکھے اور اس بات کی ضمانت دے کہ ہر ریاست کی حکومت اپنا کام کاج آئین کی متعدد دفعات کے تحت ہی جاری رکھے گی۔‘‘ فساد مخالف بل کے اس دفعہ سے جوڑے جانے کی وجہ سے کافی بحث و مباحثہ پہلے سے جاری ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اس بل کے پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی کے پہنچنے تک بھی یہ بحث و مباحثہ جاری رہے گا ،لیکن جس نکتے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ ہندوستان کے وفاقی ڈھانچے کی باتیں کرنے والے اُسے وقت مزاحمت کرنے لگتے ہیں جب کئی دن ، کئی ماہ اور کئی ہفتے جاری رہنے والے فرقہ وارانہ فسادات ہوتے ہیں اور مرکز کوئی اقدام کرے تو وہ چیخنے لگتے ہیں۔گزشتہ کئی دہائیوں میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں اور ماہرین قانون نے بار بار یہ مطالبہ کیا ہے کہ جب بھی کوئی فرقہ وارانہ فساد رونما ہو، نظم و نسق کی ذمہ داری فوج کو سونپ دی جانی چاہیے۔ یہ ایک عارضی نظم ہوگا اور اس سے ریاستی حکومت کے اختیارات متاثر نہیں ہوں گے بلکہ عوام کے جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے گا لیکن اب سے پہلے ہمیشہ یہی دیکھا گیا کہ ریاستیں اس کے خلاف مزاحمت کرنے لگتی ہیں، لیکن’ مجوزہ فساد مخالف قانون‘ ’’باب چہارم‘‘ میں ایک ایسی اتھارٹی (نیشنل اتھاریٹی فار کمیونل ہارمونی، جسٹس اینڈ ریپارٹیشن) کی وکالت کرتا ہے جس کا رول ’’تبدیلی کے محرک‘‘ کے بطور ہوگا اور جو (اتھارٹی) فسادات کی روک تھام میں نئے قانون کے نفاذ کی ذمہ داری ہوگی۔ اس اتھارٹی کو یہ اختیاربھی حاصل ہوگا کہ وہ فسادات کے تعلق سے عوام کی شکایات وصول کرے، اُن کی تفتیش کرے، جہاں کہیں بھی فرائض سے چشم پوشی کی گئی ہو اُن پر توجہ دے اور ایسے کسی ماحول کو پیش نظر رکھے جس سے تشدد کا خطرہ پیدا ہوتا ہو۔ یہ اتھارٹی کسی ریاستی حکومت کو کارروائی کرنے پر مجبور نہیںکرسکتی کیونکہ ملک کے وفاقی ڈھانچے کو بھی ملحوظ رکھنا ہے لیکن وہ عدالتوں سے فوری طور پر رجوع کرکے ریاستی حکومتوں کے لیے مناسب اور ضروری احکامات حاصل کرسکتی ہے۔ اس اتھارٹی کی ریاستی شاخیں بھی ہوں گی جس کا اپنا اسٹاف ہوگا تاکہ ریاست کی برسراقتدار حکومت اُس کے کام کاج میں مداخلت نہ کرسکے۔ آگے بڑھنے سے قبل یہ جان لینا ضروری ہے کہ اس اتھارٹی کی ذمہ داریوں میں یہ بھی شامل ہوگا کہ وہ فسادزدگان کی راحت رسانی اور اُن کی بازآبادکاری کے عمل کا معائنہ کرے۔
اس اتھارٹی کے قیام کے نکتے پر کافی غور و خوض کیا گیا تب بل میں اسے شامل کیا گیا۔ غور و خوض کرنے والوں میں سابق جج حضرات بھی تھے جن کا کہنا تھا کہ ایک ادارہ ضروری ہے جو خاص طور پر فسادات کے خلاف حفظ ماتقدم ، فسادات ہوجانے پر اس کی روک تھام اور جن علاقوں میں بار بار فساد ہوتا ہو اُن پر کڑی نظر رکھنے پر مامور ہو۔ یہ اس لیے ضروری تھا کہ ریاستی حکومتیں اکثر غفلت اور لاپروائی کا ثبوت دیتی ہیں جیسا کہ بہار (فوربس گنج، جون)، راجستھان (بھرت پور، ستمبر) اور اترا ُکھنڈ (رُدرا پور، اکتوبر2011 میں دیکھا گیا۔ اس بات کا خاص طور پر خیال رکھا گیا ہے کہ اس ادارے کے اختیارات کسی بھی صورت میں ریاستوں کے اختیارات سے متصادم نہ ہوں یعنی ملک کا وفاقی ڈھانچہ کسی صورت میں متاثر نہ ہو۔ یہی نہیں بلکہ ریاستی سطح کی ایسی ہی اتھارٹی کا قیام بھی ضروری سمجھا گیا تاکہ وہ اضلاع پر نظر رکھ سکے اور فسادات کے برپا ہونے سے پہلے اُن کی روک تھام کی جاسکے اور اگر فساد سے عوامی جان و مال متاثر ہوتو انصاف کی فراہمی کو ممکن اور آسان بنایا جاسکے۔ اگر کوئی ریاست اس ادارے یعنی اتھارٹی کی سفارشات اور اطلاعات سے بے اعتنائی برتتی ہے یا اختلاف کرتی ہے تو اُسے اس کا اختیار ہوگا لیکن وہ چھوٹ نہیں جائے گی بلکہ جن باتوں پر اُسے اختلاف ہوگا اور جس نوعیت کا اختلاف ہوگا اس کا اندراج کرنا پڑے گا۔ بی جے پی نے ارون جیٹلی کے ذریعہ یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ فساد محض ’’نظم و نسق‘‘ کا مسئلہ ہوتا ہے۔ بی جے پی دراصل اُس خاص محرک کو مسترد کرتی ہے جو فساد کا سبب بنتا ہے، فساد کو ہوا دیتا ہے اور انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔ بی جے پی سے وابستہ ارباب اختیار کو اس بات سے بھی شدید الجھن ہے کہ اس بل میں نیشنل اتھاریٹی کے سات ممبران میں سے چار کا اقلیتی فرقے سے ہونا ضروری ہے کی سفارش کی گئی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *