انّا ، میڈیا، سیاسی پارٹیاں اور عوام

خصوصی نامہ نگار

ملک میں ایک نئی صبح لائیں گے جیسا عزم کرنے والے انا ہزارے جب سڑکوں پر نکلے، تو ان کے لیے امنڈی بے انتہا عوامی حمایت کو دیکھ کر سیاسی پارٹیوں پر خوف طاری ہوگیا اور انہوں نے میڈیا کے توسط سے اس 75 سالہ سنت، محب وطن اور سماجی کارکن کے حوصلے پر حملے کی سازش رچ ڈالی، لیکن کیا کہیں کوئی اس مشعل کو بھی پھونک مارکر بجھا پایا ہے، جو ایمانداری جیسی ایندھن کے سہارے جل رہی ہو! کیا کہتی ہے، یہ تجزیاتی رپورٹ …
انا ہزارے کے آرام کے دن اب ختم ہو گئے ہیں۔ 2011 کا اگست ان کے لیے نعمت کا مہینہ تھا۔ انا ہزارے نے دہلی کے رام لیلا میدان میںmast بدعنوانی کے خلاف اَنشن شروع کیا اور پورا ملک ان کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔ ایسا لگا، گویا سارا ہندوستان ان کی جان بچانا چاہتا ہے۔ بچے، عورتیں اور
اَنشن بھی کر رہے تھے اور جلوس بھی نکال رہے تھے۔
اب دیکھئے ٹیلی ویژن چینلوں کا کھیل۔ ٹیلی ویژن چینل اس انشن کو ایک سیریل کی طرح نشر کرنے لگے۔ ان دنوں ٹیلی ویژن چینلوں کے پاس کوئی دوسرا موضوع نہیں تھا، اس لیے انہوں نے انا ہزارے کے انشن کو اپنا موضوع بنا لیا۔ دوسری طرف لوگوں کو لگا کہ یہ ایک اچھا موقع ہے کہ ہم اپنی پریشانیوں، دقتوں اور سرکار سے اپنی ناراضگی کو انا ہزارے کی حمایت کرکے ظاہر کر سکتے ہیں۔ اس میں وہ سارے لوگ بھی شامل ہوئے، جو اکثر سرکار کی مخالفت تو کرنا چاہتے ہیں، لیکن ڈر یا بزدلی کی وجہ سے کچھ بھی کر نہیں پاتے۔ وہ سارے لوگ اس میں شامل ہو گئے اور انہوں نے انا ہزارے کا نام، ترنگا جھنڈا اپنی بھڑاس نکالنے کے لیے علامت کی طرح استعمال کیا۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ میڈیا کے ذریعے شروع میں انا ہزارے کو دی گئی حمایت بعد میں میڈیا کے گلے کی ہڈی بن گئی، کیوں کہ عوامی سیلاب اتنا زیادہ بڑھ گیا کہ میڈیا چاہ کر بھی اس انشن کو ڈاؤن پلے نہیں کر پایا۔ اور جب ڈاؤن پلے نہیں کر پایا، تو سارے ٹیلی ویژن چینل ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے میں لگ گئے۔ نتیجہ کے طور پر انا ہزارے ملک گیر غصے کے عکاس بن گئے۔

ہندوستان کی تمام سیاسی پارٹیاں انا ہزارے سے ڈری ہوئی ہیں۔ ڈرنے کی وجہ بھی ہے۔ تقریباً ہر جگہ انا ہزارے کی مجلسوں نے یہ بتایا کہ وہ بدعنوانی، مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم اور صحت کے ٹوٹے ہوئے ڈھانچہ کے خلاف ایک سنجیدہ مہم چھیڑنے والے ہیں۔ ان کی مجلسوں میں سیاسی پارٹیوں کو نام لے کر وارننگ بھی دی گئی۔ انا ہزارے نے خود کہا کہ ہندوستان کی پارلیمنٹ نے انہیں دھوکہ دیا۔ 120 کروڑ لوگوں کی نمائندگی کرنے والے وزیر اعظم نے انہیں لکھ کر وعدہ کیا اور پھر اسے توڑ دیا۔ انا ہزارے سیاسی پارٹیوں کے خلاف عوامی امیدوار کے حق میں بولے اور اشاروں میں یہ صاف کر دیا کہ عوام اپنے امیدواروں کا خود انتخاب کریں اور سیاسی پارٹیوں کے امیدواروں کے خلاف انہیں کھڑا کریں۔ سیاسی پارٹیوں کو یہیں پر انا ہزارے سب سے زیادہ کھٹکے۔

انا کی وہ آسمان چھوتی ہوئی ساکھ اتنی زیادہ خطرناک تھی کہ پارلیمنٹ کو ایک زبان میں اتفاق رائے سے بل پاس کرنا ہی پڑا، کیوں کہ پارلیمنٹ اور پوری سرکار کو تب یہ لگا کہ اگر بل پاس نہیں ہوا، تو اس ملک میں بری طرح تشدد شروع ہو جائے گا اور لوگ سڑکوں پر اتر کر قانون اپنے ہاتھوں میں لے لیں گے۔ حالانکہ انا ہزارے نے لگاتار عدم تشدد کی وکالت کی اور بار بار گاندھی جی اور ان کی تحریک کی مثال لوگوں کے سامنے رکھی اور اس کا انوکھا نتیجہ بھی نکلا۔ اتنی بڑی ملک گیر تحریک میں ایک بھی ٹھیلا نہیں لٹا، نہ تو کوئی خونچے والا رویا اور نہ ہی کہیں پر کرمنلس نے اس تحریک کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی۔ انا کی اس تحریک کی کامیابی کی اس سے بڑی مثال اور کوئی نہیں دی جاسکتی۔ دیکھتے ہی دیکھتے انا 120 کروڑ لوگوں کی امیدوں کی روشن کرن بن گئے۔
31مارچ 2013 میں انا دوبارہ اپنی یاترا پر نکلے۔ انا سے سب سے بڑی چوک یہ ہوئی کہ وہ انشن کے فوراً بعد ملک میں نہیں نکلے۔ ایک طرف انا کی طبیعت انشن کی وجہ سے بہت گری ہوئی تھی، تو دوسری طرف ان کے ساتھیوں کے سامنے ایک تذبذب کی حالت پیدا ہو گئی تھی۔ دراصل، انہیں لگا کہ عوام ان کے ساتھ کھڑے ہوگئے ہیں اور یہ ساری عوامی حمایت انہیں اپنے لیے نظر آئی، جب کہ عوامی حمایت تھی ضروری، لیکن وہ انا کے بہانے اپنی ساری تکلیفوں کے خلاف غصے کا اظہار تھا۔ انا کے ساتھیوں کے سامنے کوئی روڈ میپ نہیں تھا کہ اس عوامی سیلاب کو کس طرح متحد کرنا ہے اور لوگوں کے سامنے نظریاتی سمت کیا اور کس روپ میں رکھنی ہے۔ نتیجہ کے طور پر دو سال اسی ادھیڑ بن میں گزر گئے۔ باہمی تضادات اتنے بڑھے کہ اروِند کجریوال اور ان کے ساتھی انا سے الگ ہو گئے۔ وہ سسٹم کے اندر جاکر سسٹم کو صاف کرنا چاہتے تھے، جب کہ انا ایکسٹرا پارلیمنٹری اپوزیشن کرئیٹ کرنا چاہتے تھے، جو کہ جے پرکاش نارائن یا گاندھی کا خواب تھا۔ اس کا مطلب یہ کہ عوام کا دباؤ اور عوام کی تنظیم اتنی زیادہ اہم ہو جائے کہ وہ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کو ہدایت دے سکے اور جہاں اسے لگے کہ پارلیمنٹ اس کی خواہشوں اور تمناؤں کے مطابق قانون نہیں بنا رہی ہے، وہاں پر وہ پارلیمنٹ کو اپنی مرضی کے مطابق قانون بنانے کے لیے مجبور کر دے۔
دراصل، یہ نظریاتی اختلاف تھا اور اس نے انا ہزارے کو ناکارہ کر دیا۔ انا ہزارے رالیگن سدھی میں بغیر کسی تحریک کے غیر فعال ہوگئے۔ حالانکہ وہ اس درمیان مہاراشٹر میں گھومے، کئی میٹنگوں میں بھی گئے، لیکن دو سال کا وہ وقت، جب لوگ انا کو اپنے درمیان چاہتے تھے، اس وقت وہ لوگوں کے پاس نہیں جا سکے۔ اس دوران لوگوں کے درمیان افواہیں پھیلیں کہ انا اب ملک میں نہیں گھومیں گے۔ حالانکہ دوسری طرف انا لگاتار یہ کوشش کر رہے تھےاور اعلان کر رہے تھے کہ وہ ملک میں گھومیں گے، پر لوگ اعلان نہیں، انا کا ایکشن دیکھنا چاہتے تھے۔ اور انا اپنے ساتھیوں کے جارحانہ رویہ سے نہ تو تحریک کی شروعات کر پائے اور نہ ہی اپنی یاترا کی۔
انا پٹنہ کے گاندھی میدان میں 30جنوری کو ایک ریلی کرنا چاہتے تھے، اس لیے انہوں نے ساتھیوں سے اپنی یہ خواہش ظاہر کی۔ ان کے ساتھیوں اور معاونین نے گاندھی میدان کی میٹنگ کی تیاری کا فیصلہ لینے میں خاصی دیر لگائی اور انا سے یہ کہا کہ نہ تو لوگ تیار ہیں اور نہ ہی سرکار تیار ہے کہ آپ کی وہ کچھ مدد کرے۔ شاید انا کے لیے یہ دوسرا جھٹکا تھا، جب انہیں لگا کہ ان کے پاس ایسے لوگ نہیں ہیں، جو ان کی خواہش کے مطابق نظام میں تبدیلی کی ان کی بات لوگوں کے درمیان لے جا سکیں۔ ایسے میں وہ خاموش ہوکر بیٹھ گئے۔ حالات ایسے بنے کہ 30 جنوری کو انا نے گاندھی میدان میں میٹنگ کی۔ بالکل نئی ٹیم کھڑی ہوگئی اور اس نے 15 دنوں کے اندر انا کی خواہش کو بہار کے لوگوں کے درمیان پہنچا دیا۔
یہیں پر ایک عوامی لیڈر کے کرشمے کی تصویر دیکھنے کو ملتی ہے۔ صرف انا کی خواہش پوسٹروں، پرچوں اور ٹیلی ویژن کے ذریعے لوگوں کے پاس پہنچی اور لوگ گاندھی میدان میں آ گئے۔ گاندھی میدان پٹنہ کا تاریخی میدان ہے، جہاں گاندھی جی، جے پرکاش جی اور بہار کے تمام لیڈر اپنی ریلیاں کرتے رہے ہیں، لیکن لوگوں کے بیچ جے پرکاش نارائن کی تحریک کی یاد ابھی بھی تازہ ہے۔ انا کی ریلی سے لگ بھگ ایک ماہ قبل 60 کروڑ روپے خرچ کرکے ایک ریلی ہوئی، جس میں صرف ڈھائی لاکھ لوگ جمع ہوسکے۔ وہیں دوسری جانب 30 جنوری کو انا کی ریلی میں بغیر ایک کپ چائے پلائے پونے دو لاکھ لوگ اکٹھا ہوئے۔ انا کے ساتھیوں نے گاندھی میدان کو بک کرانے کا، اسٹیج اور لائٹ لگانے کا پیسہ خرچ کیا۔ باقی پیسہ لوگوں نے اپنے آپ خرچ کیا۔ اگر دونوں ریلیوں کا موازنہ کریں، تو انا کی ریلی بغیر کسی خرچے کے لوگوں کی حصہ داری کا ثبوت تھی، جب کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اس سے پہلے گاندھی میدان میں ہونے والی تمام ریلیاں وسائل کے بل پر بلائی گئی بھیڑ کاصرف مظاہرہ تھیں۔
انا 31 مارچ سے ملک گیر جن تنتر یاترا پر نکلے۔ ان کے ساتھ سابق آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ، صوفی جیلانی، ’’چوتھی دنیا ‘‘کے چیف ایڈیٹر سنتوش بھارتیہ اور عام لوگوں کا ایک قافلہ تھا۔ ان کی یاترا امرتسر سے شروع ہوئی، لیکن اس بار وہ میڈیا کے ڈارلنگ نہیں بن پائے۔ ان کی یاترا کو میڈیا نے نیشنل ایونٹ نہیں بنایا۔ انا ہزارے کی یاترا کو کچھ اس طرح نشر کیا گیا، گویا کوئی ایک شخص زبردستی کچھ کر رہا ہے، لیکن چونکہ کچھ بھیڑ آ گئی ہے، اس لیے اس کا دکھایا جانا ضروری ہے۔ حالانکہ لوکل ٹی وی چینلوں، جن میں علاقائی زبان کے چینل اور کیبل ٹی وی اہم ہیں، نے اس یاترا کو بہت ہی اہم مان کر دکھایا۔ مقامی اخباروں نے اس کے اوپر ایک، ڈیڑھ، دو تین، تین پیج تک دیے، لیکن نام نہاد قومی اخبار اور نام نہاد نیشنل چینل انا کی اس یاترا سے دور ہی رہے۔ ٹیلی ویژن چینل نہیں چاہتے تھے کہ انا کی یہ یاترا ہو۔ اس لیے ٹیلی ویژن چینلوں اور اخباروں میں، باقاعدہ تقریباً ہر صوبے میں یہ خبر شائع- نشر کی گئی کہ انا نے یاترا کینسل کر دی ہے، وہ فلاں شہر میں نہیں آنے والے ہیں، ان کی طبیعت خراب ہو گئی ہے، وہ واپس جانے والے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ جب اس طرح کی خبروں کو پرنٹ ایک بار چھاپے اور ٹیلی ویژن دن میں کئی کئی بار دکھائے، تو اسے انا کے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش ہی کہی جائے گی ۔ انا ہزارے سے ٹیلی ویژن یا پرنٹ کے صحافی ملتے تھے اور سوالوں کے نام پر ان سے ان کے ٹوٹتے جادو، اروِند کجریوال سے اختلاف اور کرن بیدی کی غیر حاضری کے بارے میں پوچھتے تھے۔ میڈیا ان سے ہر جگہ پوچھتا تھا کہ آپ کو سننے لاکھوں کی بھیڑ کیوں نہیں آ رہی ہے؟ اور یہیں پر میڈیا کے دماغی دیوالیہ پن کا پتہ چلتا ہے۔ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ میڈیا کو یاترا اور ریلی میں فرق کرنا نہیں آیا۔ یاترا سڑک سے دائیں بائیں واقع بستیوں کے لوگوں کو پیغام دینے کے لیے ہوتی ہے اور ریلی چاروں طرف سے لوگوں کو جمع کرکے ایک خاص پیغام دینے کے لیے ہوتی ہے۔ انا ریلی نہیں، یاترا کر رہے تھے اور اسی لیے سارا میڈیا ان کی اس یاترا کو سپر فلاپ شو کے روپ میں پیش کرنے لگا۔ میڈیا کی اندیکھی کی مثال یہ ہے کہ کہیں کسی نے نہیں لکھا کہ کس طرح سینکڑوں یا ہزاروں لوگ چھ چھ گھنٹے انتظار کرکے انا کا استقبال کرتے تھے اور کس طرح وہ آخری میٹنگ میں پہنچتے تھے، تو سات ساڑھے سات گھنٹے تک انتظار کر رہے لوگوں سے معافی مانگتے تھے۔ باوجود اس کے لوگ ان کی تقریر سننے کے لیے بیٹھے رہتے تھے اور انا ان کے درمیان بھرپور بولتے تھے۔ الیکٹرانک میڈیا کو یہ ساری چیزیں نظر ہی نہیں آئیں یا پھر نظر آئیں، تو اس نے ایک سازش کے تحت انہیں لوگوں کے سامنے نہیں آنے دیا۔
اب دیکھئے، میڈیا نے کیا کیا! اس نے ہر اس جگہ کے واقعہ کو کور کیا، جہاں پر کم بھیڑ تھی یا جہاں پر انا تین گھنٹے کے بعد پہنچنے والے تھے۔ وہاں کی خالی جگہوں کو اس نے اپنا موضوع بنایا۔ کچھ چینلوں نے تو بے شرمی کی حد ہی پار کر دی۔ ان کا کیمرہ مین وہاں تھا، کھانے کی جگہ تھی، میٹنگ وہاں نہیں ہونی تھی، لیکن انہوں نے وہاں دکھایا کہ انا ہزارے کی تقریر والی جگہ پر کوئی آدمی نہیں ہے، ایک بھی آدمی نہیں ہے۔ اور اس چیز کو بھی انہوں نے گرافکس کے ذریعے سے دکھایا۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر کوئی آدمی وہاں نہیں تھا، تو اس کی فوٹیج دکھائی جا سکتی تھی، لیکن ایسی جگہ جہاں کھانے کے لیے دو گھنٹے کے بعد انا آنے والے ہوں، اس خالی پنڈال کی تصویر ٹیلی ویژن پر یہ کہتے ہوئے دکھائی گئی کہ اب انا کا جادو ختم ہو گیا ہے۔ لوکل چینل اس سے بالکل الٹ برتاؤ کر رہے تھے۔ وہ انا کی بھیڑ اور ریلی دونوں ہی دکھا رہے تھے۔ جب انا کی یاترا دہرہ دون میں ختم ہوئی، اس کے اگلے دن آئی بی این -7 نے ایک پروگرام دکھایا، جس میں اس نے لکھا، انا : ایک سپنے کی موت۔ دراصل، یہ پورا پروگرام اروِند کجریوال کے فیور میں تھا اور ٹیلی ویژن چینل کا نامہ نگار یہ ثابت کرنے میں مصروف تھا کہ چونکہ اروِند کجریوال انا سے الگ ہو گئے ہیں، اسی لیے انا نامی خواب کی موت ہوگئی ہے۔ یہ ٹیلی ویژن چینل اور اس کا نامہ نگار اتنے جانکار بیوقوف تھے کہ انہوں نے دکھایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے حامی ایک سرمایہ دار کے گھر پر انا کی بابا رام دیو اور جنرل وی کے سنگھ سے ملاقات ہوئی۔ اس گھر کی تصویر بھی اس ٹیلی ویژن چینل نے دکھائی، جب کہ اس ٹیلی ویژن چینل کے اس مہان رپورٹر کو یہ پتہ تھا کہ جہاں یہ میٹنگ ہوئی، وہ ایک اخبار کا جنوبی دہلی کا دفتر ہے۔ اس کے باوجود یہ جھوٹ آئی بی این – 7 کے رپورٹر نے بولا۔ اور یہیں پر سوال کھڑا ہوتا ہے کہ اگر رپورٹر اپنی خواہش کے حساب سے صحیح صورتِ حال کو درکنار کرکے رپورٹ کرے، تو کیا ہم یہ نتیجہ نکالیں کہ راجدیپ سردیسائی اور آشوتوش اسی طرح کی رپورٹنگ کرانا چاہتے ہیں یا دونوں خود کو بڑا جانکار سمجھتے ہیں اور ایڈیٹر کا زعم اوڑھے ہوئے صحافی ہیں۔ ان کے چینل میں کس طرح کی رپورٹنگ ہو رہی ہے، اس پر بنا دھیان دیے یہ غیر ذمہ دارانہ رپورٹ کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ ایسا ہے نہیں۔ لیکن جس طرح کا نتیجہ ان کے صحافی نکال رہے ہیں، اگر ویسا ہی نتیجہ ان دونوں صحافیوں کے بارے میں نکالا جانے لگے، تو شاید ان کے ساتھ نا انصافی ہوگی۔ لیکن نتیجہ نکالنا اس لیے ضروری ہے، کیوں کہ یہ اپنے چینل میں ہونے والی غیر ذمہ دارانہ صحافت کو بڑھاوا دیتے نظر آتے ہیں۔ ٹھیک یہی بات دوسرے ٹیلی ویژن چینلوں، جنہیں نیشنل ٹیلی ویژن چینل کہتے ہیں، میں بھی دکھائی دی۔ ان سارے واقعات سے یہ ماننا چاہیے یا پھر شک کرنا چاہیے کہ کہیں نہ کہیں بڑے سرمایہ داروں اور سرکار کے درمیان کے اشارے کا نتیجہ انا ہزارے کی یاترا کو برباد کرنے کا ایک سوچا سمجھا فیصلہ تھا لیکن عوام نے ٹیلی ویژن چینلوں کی اس سازش کا جواب دیا۔ انا کو سڑک چلتے ہوئے ہر جگہ استقبال کرتے لوگ ملے۔ ان کا انتظار چھ چھ، سات سات گھنٹے کرتے لوگوں کی بھیڑ ملی۔ انہیں ہزاروں لوگوں نے اپنا ایک سال دینے کا وعدہ کیا۔ انا کی میٹنگوں میں لوگوں کا جوش اپنے عروج پر تھا۔ سیاسی پارٹیوں کی میٹنگوں میں عام طور پر پارٹی میں کام کرنے والے لوگوں کے علاوہ کوئی نہیں جاتا، صرف کرایے کی بھیڑ جاتی ہے، لیکن انا کی میٹنگوں میں عام گھروں کی عورتیں، بچے، نوجوان اور بزرگ دکھائی دیے۔ 98 سال کی عمر کا آدمی انا کی میٹنگ میں یہ قسم کھاتا دکھائی دیا کہ وہ ملک کے لیے اپنی جان دے دے گا، اسے صرف حکم چاہیے۔ پنجاب ہو یا ہریانہ یا پھر مغربی اتر پردیش، ہر جگہ بڑی بڑی مجلسیں ہوئیں اور ان مجلسوں میں انا ہزارے کو لوگوں میں وہی جنون دیکھنے کو ملا، جو 2011 کی بھوک ہڑتال کے وقت تھا۔ شاید انا ہزارے کو بھی تب پتہ چلا کہ جو لوگ ان کی مجلسوں میں آتے تھے، یعنی 2011 کے دوران کس طرح اَنشن کے لیے لوگوں کو منظم کیا گیا اور کس طرح آج بھی وہ لوگ ایک بڑی لڑائی لڑنے کے لیے تیار ہیں۔ لوگوں پر اخباروں اور ٹیلی ویژن کی خبروں کا اثر پڑتا تھا کہ انا ہزارے ان کے یہاں نہیں آنے والے، جب کہ وہ اگلے دن ان کے یہاں پہنچتے تھے، لیکن جو بھیڑ آتی تھی، وہ اس بھیڑ کے مقابلے کم ہوتی تھی، جتنی ہونی چاہیے تھی۔ یہ راز کا موضوع ہے کہ بغیر کسی سورس کے ٹیلی ویژن چینلوں اور دیگر اخباروں میں یہ خبریں کیسے شائع – نشر ہوتی تھیں کہ انا ہزارے کا دورہ کینسل ہوگیا ہے یا ان کی طبیعت خراب ہو گئی ہے اور اسی لیے وہ واپس چلے گئے۔ لیکن جب میٹنگ ہو جاتی تھی، تو مقامی اخباروں کی یہ مجبوری بن جاتی تھی کہ وہ انا کی خبروں کو کوریج دیں۔ لیکن یہیں ایک دوسرا کھیل ہوتا تھا۔ انا کی اس یاترا کی خبر ایک ضلع سے دوسرے ضلع تک نہیں پہنچتی تھی، کیوں کہ وہ پیج اسی ضلع میں رہ جاتا تھا، جس میں انا جاتے تھے۔ اسی لیے انا کی یاترا کو میڈیا کی طرف سے چیلنج جھیلنا پڑا۔ انا نے اس کا بخوبی جواب دیا۔ ہاپوڑ،بلند شہر،پلکھوا، علی گڑھ، بھیوانی، بھٹنڈہ، مونگا تقریباً ہر جگہ ہزاروں لوگ انا کا استقبال کرتے دکھائی دیے۔ کہیں کہیں پر انا کی میٹنگ چار گھنٹے دیر سے شروع ہوئی، لیکن پھر بھی لوگوں نے ڈھائی گھنٹے تک ان کی میٹنگ میں پن ڈراپ سائلینس کے ساتھ اپنی موجودگی بنائے رکھی۔
ہندوستان کی تمام سیاسی پارٹیاں انا ہزارے سے ڈری ہوئی ہیں۔ ڈرنے کی وجہ بھی ہے۔ تقریباً ہر جگہ انا ہزارے کی مجلسوں نے یہ بتایا کہ وہ بدعنوانی، مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم اور صحت کے ٹوٹے ہوئے ڈھانچہ کے خلاف ایک سنجیدہ مہم چھیڑنے والے ہیں۔ ان کی مجلسوں میں سیاسی پارٹیوں کو نام لے کر وارننگ بھی دی گئی۔ انا ہزارے نے خود کہا کہ ہندوستان کی پارلیمنٹ نے انہیں دھوکہ دیا۔ 120 کروڑ لوگوں کی نمائندگی کرنے والے وزیر اعظم نے انہیں لکھ کر وعدہ کیا اور پھر اسے توڑ دیا۔ انا ہزارے سیاسی پارٹیوں کے خلاف عوامی امیدوار کے حق میں بولے اور اشاروں میں یہ صاف کر دیا کہ عوام اپنے امیدواروں کا خود انتخاب کریں اور سیاسی پارٹیوں کے امیدواروں کے خلاف انہیں کھڑا کریں۔ سیاسی پارٹیوں کو یہیں پر انا ہزارے سب سے زیادہ کھٹکے۔ پہلے انہیں لگتا تھا کہ انا صرف ایک اخلاقی طاقت ہیں اور وہ کبھی بھی سسٹم جیسی چیز یا سرکار پر نہیں بولیں گے۔ لیکن اپنے اس رخ پر کہ نئی پارلیمنٹ بننی چاہیے، وہاں ایسے لوگوں کو بھیجنا چاہیے، جو اس ملک میں تبدیلی کی شروعات کر سکیں اور خاص کر گاؤوں کو بنیادی اکائی مان کر اسکیمیں بنانے کا قانون پاس کر سکیں، انا سیاسی پارٹیوں کی آنکھوں کی کرکری بن گئے اور اسی لیے انہوں نے میڈیا کے ساتھ مل کر انا کو بلیک آؤٹ کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے اپنے رابطہ کے صحافیوں کے ذریعے انا ہزارے سے کمال کے سوال پچھوائے، جن میں نریندر مودی اور راہل گاندھی میں سے کون بہتر وزیر اعظم ثابت ہو سکتا ہے یا وہ کس کی حمایت کرتے ہیں، جیسے سوال تھے۔ دراصل، سیاسی پارٹیاں یہ چاہتی ہیں کہ انا ہزارے نریندر مودی یا راہل گاندھی کی حمایت کریں۔ لیکن انا نے دونوں کی ہی مخالفت کی اور کہا کہ یہ دونوںہندوستان کے وزیر اعظم بننے کے  لائق نہیں ہیں۔
انا کی جن تنتر یاترا کا بنیادی نچوڑ ایک نئی سیاست کا آغاز کرنا تھا، اسی لیے انہوں نے یہ اعلان کیا کہ وہ ستمبر کے پہلے ہفتہ میں جن سنسد (عوامی پارلیمنٹ) بلائیں گے۔ جن سنسد سے ان کا مطلب اس ملک کے لوگوں کو جگانا اور یہ بتانا ہے کہ وہ اہم ہیں، پارلیمنٹ اہم نہیں ہے۔ انا کی مجلسوں سے بات بھی نکلی کہ یہ پارلیمنٹ عوام کے مفادات کے خلاف کھڑی ہے۔ انا نے یہ کہنے میں کوئی گریز یا حیلہ حوالی نہیں کی کہ اس پارلیمنٹ کو بدلنا ہی چاہیے اور اس پارلیمنٹ میں وہ لوگ جانے چاہئیں، جو عام لوگوں کے تئیں وفادار ہوں، اچھے کردار والے ہوں، بدعنوانی کے خلاف ہوں، جو مہنگائی، بے روزگاری سے لڑنے کے منصوبے بنا سکیں۔ انا کی اس یاترا میں جنرل وی کے سنگھ نے صاف کہا کہ ایسے لوگ چاہئیں، جو عوام کے مفاد کے لے چھ مہینے کے اندر قانون بنا سکیں۔ جنرل وی کے سنگھ نے یہ بھی کہا کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ ان کے ہاتھ میں کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہے، وہ جھوٹ بولتے ہیں۔ ان کا اشارہ وزیر اعظم کی طرف تھا۔ جنرل وی کے سنگھ نے انا ہزارے کی طرف سے یہ بھی کہا کہ وہ سارے کام چھ ماہ کے اندر شروع کیے جا سکتے ہیں، جنہیں کرنے سے سیاسی پارٹیاں اس لیے ڈرتی ہیں، کیوں کہ وہ عوام کے مفاد کے لیے کچھ کرنا ہی نہیں چاہتیں۔ انا کی یاترا میں مولانا صوفی جیلانی قتال ایک بڑی شخصیت کے روپ میں ابھرے۔ ان کی تقریروں کو پورے ملک میں پسند کیا گیا، ان کی زبان نے عام عوام کو جوش و ولولہ عطا کیا۔ صوفی جیلانی نے ملک کے لوگوں اور تمام سیاسی پارٹیوں کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچی اور کہا کہ ملک کے لوگ اور سیاسی پارٹیاں آمنے سامنے کھڑی ہیں۔
میڈیا اور سیاسی پارٹیوں کا ماننا ہے کہ انا ہزارے ایک 75 سال کے بزرگ ہیں اور اب ان کی زبان میں وہ طاقت نہیں ہے کہ وہ کھڑے ہو سکیں۔ مشہور صحافی اور فلم ساز پرتیش نندی کا ماننا ہے کہ جو لوگ انا ہزارے کے روپ میں تبدیلی کا ایک موقع دیکھ رہے تھے، انہیں لگ رہا ہے کہ انا تبدیلی کا وقت 10-25 سال بتا کر ناامید کر رہے ہیں۔ انا کو ایسے بہت سے لوگ ملے، جنہوں نے کہا کہ انا، آخری لڑائی لڑنے کا وقت اب آ گیا ہے۔ انا ہزارے اس یاترا میں سنت کی طرح دیکھے گئے اور لوگ اسی احترام اور اعتماد کے ساتھ انہیں سنتے بھی دیکھے گئے۔ انا ہزارے کے دہلی میں جن سنسد بلانے کے اعلان کی ہر جگہ لوگوں نے حمایت کی اور وعدہ کیا کہ اگر انا انہیں دہلی بلائیں گے، تو وہ ضرور آئیں گے۔ اب جن سنسد میں کیا ہوگا، کیسا فیصلہ ہوگا اور جن سنسد کس طرح کا ملک چلانے کی ہدایت سیاسی پارٹیوں کو دے گی، اس کا فیصلہ تو ستمبر کے پہلے ہفتہ میں دہلی کے رام لیلا میدان میں ہی ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *