آخر اس دوہری پالیسی کا مقصد کیا ہے ؟

وسیم راشد 
ان دنوں ملائم سنگھ کی سیاست کا انداز کچھ بدلا بدلا سا لگتا ہے۔ ان کے قول و عمل میں تضاد دکھائی دے رہاہے۔ وہ جوکچھ بھی کہہ رہے ہیں ،کر اُس کے خلاف رہے ہیں۔وہ مرکز میں سرکار کے ساتھ ہیں، مگر عوام میں اسی سرکار کے خلاف بیان دیتے ہیں۔ وہ آخر ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ ان کی کون سی ایسی مجبوری ہے جس کی وجہ سے وہ کانگریس کا ساتھ دینے پر مجبور ہیں؟ان کا کہنا ہے کہ کانگریس جب چاہتی ہے سی بی آئی کو پیچھے لگا دیتی ہے۔ سوال یہ پیداہوتا ہے کہ آخر ملائم سنگھ یادو کو سی بی آئی سے اتنا ڈر کیوں لگ رہا ہے؟ سی بی آئی تو صرف غیر قانونی کردار کو ہدف بناتی ہے۔ اگر ان کا کردار صاف ستھرا ہے، تو کانگریس یا سی بی آئی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی اور اگر واقعی ان کے دامن پر کوئی ایسا داغ ہے، جو ملک کے قانون کے خلاف ہے، تو سی بی آئی کے خوف سے نہیں، بلکہ ضمیر کی آواز پر اپنے اس گناہ کا اعتراف کر لینا چاہیے۔
ملائم سنگھ یادو کی پارٹی، یعنی سماجوادی پارٹی کی حکومت ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں قائم ہے۔ وہاں کے عوام نے ان پر اعتماد کرکے ریاست کی باگ ڈور ان کے ہاتھ میں دی ہے اور اب وہ وزیر اعظم بننے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ ایک قومی سطح کے لیڈر کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی قانونی محکمے سے اتنا ڈرا ، سہما ہوا رہے کہ( ان کی نظر میں) ایک ناقابل بھروسہ پارٹی کے ہاتھوں میں ملک کی باگ ڈور سنبھالنے میں اس کی مدد کریں۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں، تو گویا عوام کے اعتماد کے ساتھ نا انصافی کر رہے ہیں۔ ایک قومی سطح کے لیڈر کی سوچ، اس کا عمل اور فیصلہ ذاتی مفاد سے اوپر اٹھ کر انتہائی خودداری،اصول پسندی اور بیباکی پر مبنی ہونا چاہیے۔ انہیں اپنا رول ماڈل ایسے لیڈروں کو بنانا چاہیے، جنہوں نے ضمیر کی آواز پر ملک و قوم کے حق میں فیصلہ کیا ۔لال بہادر شاستری کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ 1956 میں، جب وزیر برائے ریلوے تھے، تو ایک ریل حادثے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے انہوں نے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ان کا ماننا تھا کہ ان کے دورِ کار میں حادثہ ہوجانے کے باوجود عہدے سے چپکے رہنا غیرت کے منافی ہے۔ ان کے ضمیر نے انہیں ایسا کرنے پر اکسایا۔ اسی طرح آنجہانی چندر شیکھر جی کا کردار آج کے لیڈروں کے لیے بہترین رول ماڈل ثابت ہوسکتا ہے۔ 1991 میں کانگریس پارٹی نے ان پرآنجہانی راجیو گاندھی کی فون ٹیپنگ کا الزام لگایا اور پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کردیا۔ ان کے پاس ممبروں کی لازمی تعداد کم پڑگئی۔ اس صورت حال کو دیکھنے کے بعد انہوں نے اپنی حکومت کو بچانے کے لیے کانگریس سے کوئی سودا نہیں کیا۔ وہ کانگریسی صدر کو منانے کے لیے نہیں گئے۔ وہاں سے اٹھے اور ایک نیشنل چینل پر جاکر اپنا استعفیٰ پیش کردیا۔ وہ ایک اصول پسند لیڈر تھے اور عہدے کی قیمت پر بلیک میل ہونا ان کے ضمیر کے خلاف تھا۔ آج کے لیڈروں کو ان کے عمل سے سبق لینا چاہیے۔ ملائم سنگھ 2014 کے الیکشن میں تیسرے مورچہ کی تیاری میں ہیں۔ تیسرے مورچے کی قیادت وہ خود کرنا چاہتے ہیں۔ کسی بھی پارٹی کے لیڈر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس کی خواہش کرے۔ یہ ان کا آئینی حق ہے، مگر وزیر اعظم کا عہدہ ملک کا انتہائی با وقار عہدہ ہوتاہے اور اس عہدے پر فائز ہونے والے کی سوچ میں خوف، ڈر نہیں ہونا چاہیے۔ اگر ملائم سنگھ خود کو اس عہدے کے لیے اہل سمجھتے ہیں، تو انہیں سی بی آئی کا ڈر اپنے دل سے نکال دینا چاہیے اور ملک و قوم کے فائدے میںجو بہتر لگتا ہے، اس پر فوراً عمل کرلینا چاہیے، چاہے اس کے بدلے میں انہیں کانگریس کی ناراضگی ہی کیوں نہ مول لینی پڑے۔
ملائم سنگھ یادو عوامی جلسوں میں کانگریس کو کوستے ہیں۔ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ اس سے ان کا مقصد کیا ہے۔ دھمکی یا کچھ اور؟ ان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اس طرح کے عمل سے ان کا ہی دوہرا نقصان ہوسکتا ہے۔ اس سے عوام میں ان کے تئیں منفی پیغام جائے گا کہ وہ اپنی کسی بڑی غلطی پر پردہ ڈالنے کے لیے کانگریس کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ عوام میں اس طرح کے پیغام کا جانا، ان کے وزیر اعظم بننے کی خواہش کو نقصان پہنچا سکتاہے۔ اس کا دوسرا نقصان یہ ہے کہ ملائم سنگھ کانگریس کو بار بار کوستے ہیں، حمایت واپس لینے کی دھمکی دیتے ہیں اور پھر مان جاتے ہیں۔ اس طرح کانگریس ان کی دھمکی کو گیدڑ بھپکی سمجھ کر ان سے بے خوف ہوجائے گی، جبکہ اس وقت مرکز میںان کی حیثیت عمارت میں بنیاد کی طرح ہے۔ ’ ڈی ایم کے ‘ کی حمایت واپس لے لینے کے بعد کانگریس کے پاس صرف 277 سیٹیں باقی رہ جاتی ہیں، یعنی ملائم کی 22 سیٹیں کانگریس کی حکومت کے لیے بنیاد کی اینٹ بنی ہوئی ہیں۔ یہ وقت ملائم سنگھ کے لیے بڑا نازک ہے۔ انہیں نہایت سوچ سمجھ کر اور دور اندیشی کے ساتھ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کیا کرنے جارہے ہیں۔
ویسے کانگریس کو بار بار آنکھیں دکھانے کے پیچھے شاید یہ وجہ ہو کہ ملائم سنگھ یادو کے لیے تیسرا مورچہ بنانے کی خواہش کی راہ میں کانگریس سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے، کیونکہ کانگریس سے الائنس کی صورت میں ان کے لیے علیحدہ مورچہ قائم کرنا ممکن نہیں ہے، لہٰذا کانگریس کے لیے بار بار دھمکی آمیز انداز اپنا کر شاید وہ عوام کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ حالات کے پیش نظر نہ چاہتے ہوئے بھی وہ کانگریس کی حمایت کررہے ہیں، لیکن جیسے ہی حالات سازگار ہوں گے، وہ اپنی حمایت واپس لے لیںگے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اس سال کے نومبر تک عام انتخاب ہونے کا اشارہ دیا ہے۔ خیر وجہ جو بھی ہو، اگر انہیں تیسرا مورچہ بنانا ہے، تو انہیں کسی ایک موقف پر بیباکی کے ساتھ قائم رہنا چاہیے، متزلزل ارادے اور بار بار بدلتے بیان سے بچنا چاہیے۔ حالانکہ ابھی تیسرے مورچے کی کامیابی کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ یہ ہوبھی سکے گا یا نہیں۔ اگر تیسرا مورچہ بن بھی گیا، تو آزاد ہندوستان کی تاریخ میں تیسرا مورچہ اب تک کامیاب نہیں ہوا ہے۔ ماضی میں جب بھی تیسرے مورچے کی حکومت قائم ہوئی ہے، تو مدت مکمل کرنے سے پہلے ہی وہ ناکام ہوگئی ہے، چنانچہ 1990 سے 1998 تک چار مرتبہ تیسرے مورچہ کے وزیر اعظم بنے، مگر سب کی حکومت مدت پوری ہونے سے پہلے ہی گر گئی۔ وی پی سنگھ 2 دسمبر 1989 سے 10 نومبر 1990 تک، چندر شیکھر 10 نومبر 1990 سے 21 جون 1991 تک، ایچ ڈی دیویگوڑا 21 جون 1996 سے 21 اپریل 1997 تک اور آئی کے گجرال 21 اپریل 1997 سے 21 مارچ 1998 تک ہی حکومت کرسکے۔ ان میں سے کسی نے بھی پانچ سال کی مدت پوری نہیں کی۔ ماضی کی تاریخ تیسرے مورچے کے تئیں بہت خوش آئند نہیں ہے۔ اس کے باوجود ملائم سنگھ تیسرے مورچہ کے قیام کی تیاری میں ہیں۔ ہم ان کے ارادے کو شک کی نظر سے نہیں دیکھ رہے ہیں۔ وہ ایک منجھے ہوئے لیڈر ہیں۔ ہوسکتا ہے ماضی سے سبق لیتے ہوئے انہوں نے کوئی ایسا لائحہ عمل تیار کیا ہو، جس سے وہ تیسرے مورچہ کو مدت کار پوری کرنے کے لائق بنا سکیں، لیکن اس کے ساتھ ہی انہیں اس بات کا بھی احساس ہے کہ وہ صرف علاقائی پارٹیوں سے مل کر وزارت عظمیٰ تک نہیں پہنچ سکتے ہیں۔ انہیں کسی نہ کسی قومی سطح کی پارٹی کی حمایت کی بہر صورت ضرورت پڑے گی اور ان کی یہ ضرورت صرف بی جے پی سے پوری ہوسکتی ہے۔ غالباً اسی لیے وہ نہ صرف اڈوانی کے حق میں تعریفی الفاظ کہہ رہے ہیں، بلکہ جن سنگھ کے بانی شیاما پرساد کی بھی سراہنا کر رہے ہیں۔ حالانکہ انہیں اس بیان کی وجہ سے فائدہ ہو یا نہ ہو، لیکن نقصان تو ہو ہی رہا ہے، کیونکہ لال کرشن اڈوانی کے لیے یہ کہنا کہ ’’ وہ کبھی جھوٹ نہیں بولتے ہیں‘‘ مسلمانوں کے حلق سے یہ بات نہیں اتررہی ہے، خاص طور پر سومناتھ سے نکالی گئی ان کی رتھ یاترا، 2004 میں باجپئی حکومت کے دوران ان کی اشتعال انگیز تقریریں، بابری مسجد انہدام کے ملزموں میں ان کی شمولیت نے ان کی شبیہ کو سیکولر محاذ میں کافی خراب کیا ہے۔ ایسے میں اگر وہ اڈوانی کے قصیدے پڑھتے ہیں، تو نہ صرف مسلم ووٹ ان کے ہاتھ سے نکل جائیں گے، بلکہ ملک کا سیکولر طبقہ بھی ان سے دور ہوسکتا ہے۔ اگر مسلمانوں کا ووٹ ان سے کھسک جاتا ہے، تو ایسی صورت میں تیسرا مورچہ تشکیل کردینے اور بی جے پی کو ان کی حمایت کے لیے راضی ہوجانے کے باوجود وزیراعظم بننے کا ان کا خواب ادھورا رہ جائے گا، کیونکہ وہ اب تک مسلمانوں کے ووٹوں کے بل پر ہی سیاسی دنیا میں جگمگاتے رہے ہیں، لیکن اڈوانی و جن سنگھ کے بانی کی سراہنا کرکے انہوں نے اپنی بنیاد کھودنے کا کام کردیا۔ اگر وہ واقعی تیسرے مورچہ کے لیے سنجیدہ ہیں، تو انہیں بے خوف ہوکر کانگریس کے تئیں کوئی حتمی فیصلہ کرنا چاہیے، ساتھ ہی کسی بھی ایسے بیان یا عمل سے گریز کرنا چاہیے، جس کی وجہ سے سیکولر ووٹ ان سے دور ہو جائے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *