لہولہان ہوئی جا رہی ہے ہر تتلی، ہوس پرستوں نے کیسے یہ گل کھلائے ہیں

وسیم راشد
آج اپنے اس شعر کے ساتھ اس لیے بات کرنے کو جی چاہا کہ 5سال کی معصوم تتلی کےہوس پرستوں نے پر نوچ ڈالے۔ اسے اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔
دلدار دلّی، یہی ٹیگ لائن دی گئی ہے دلّی کو۔لیکن یہ میری دلدار دلّی کو کس کی بد دعا لگ گئی، رات دن عصمت دری کی وارداتیں کسی بھی عمر کی صنف نازک محفوظ نہیں۔ 5سال سے لیکر75سال تک کی عورت کو ہوس پرستوں نے اپنا نشانہ بنا رکھا ہے۔ پے درپے عصمت دری کی وارداتوں سے دہلی دہل گئی ہے۔ کتنا بڑا حادثہ تھا پیرا میڈیکل کی طالبہ کا، جس کی گو نج امریکہ کے ایوان تک میں سنی گئی، جس کی آواز برطانیہ کے ایوان میں گونجی اور کس قدر شرمسار ہوا ہندوستان اور شرمندگی ہوئی ہندوستانیوں کو، لیکن یہ واقعات رُکنے کا نام ہی نہیں لے رہے ہیں۔ کیا ہوا ہے اچانک یہ کہ لگاتار عصمت دری کاگراف بڑھتا ہی جارہا ہے۔ دراصل واقعات تو پہلے بھی ہوتے تھے گاؤں،قصبوں، دیہاتوں ، شہروں میں عورت کی عصمت تو کہیں بھی کبھی بھی محفوظ نہیں رہی، لیکن اب میڈیا نے چونکہ مثبت کردار ادا کرنا شروع کردیا ہے اور کم سے کم وہ جو مردوں کی دنیا کا ٹائٹل تھا ،اس سے باہر نکل کر خواتین کو بھی جگہ دینا شروع کردی ہے۔ اس نے کم سے کم عورتوں پر ہونے والی زیادتیوں کو دکھانا شروع کردیا ہے اور پھرچاروں طرف میڈیا کا پھیلا ہوا جال اس قدر وسیع ہے کہ اب کوئی بھی خبر میڈیا کی نظر سے نہیں بچ پاتی ہے ۔یہ دوسری بات ہے کہ اس خبر پر رات دن TRPکی وجہ سے خوب کھیل کھیلا جاتاہے، لیکن اس منفی بات میں بھی یقینا فائدہ ہی ہوتا ہے کہ کم سے کم اصل مجرم سامنے آجاتا ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ وارداتیں کیوں بڑھتی جارہی ہیں۔
میرے خیال میں اس کی سب سے بڑی وجہ مجرموں کے دل سے خوف کا ختم ہونا ہے۔ ایسا نہ ہوتا تو پیرا میڈکل کی طالبہ کے حادثے کے بعد یقینا اس طرح کے واقعات پر روک لگ جاتی، لیکن ہوا اس کے برعکس۔ اگرتبھی فوری طورپر سبھی 6مجرموں کو پھانسی دیدی جاتی یا کوئی اور سخت سزا، تو یقین جانئے اس کا اثر ضرور پڑتا۔ 6میں سے 5 مجرم رہ گئے، ایک نے اپنے ضمیر کی آواز پر خود کشی کرلی ،لیکن ابھی بھی مقدمہ چل رہا ہے، ارے یہ کیسا انصاف ہے ۔ ظالم سامنے ، مظلوم سامنے، شواہد بھی سامنے اورمجرم اپنی عمر جی رہے ہیں۔ ایک بار صرف ایک بار اگر عصمت دری کے ملزمین کو سر عام پھانسی پر چڑھا دیا جاتا ،توآج یہ حادثے رک سکتے تھے۔  انھیںانڈیا گیٹ پر لٹکا دیا جاتا پھانسی پر ،باقاعدہ اعلان کیا جاتا، فلاں وقت ،فلاں دن پھانسی دی جائے گی۔ سر عام پھانسی ہوتی ،سارا ہندوستان دیکھتا، اس سے باقی لوگوں کو عبرت حاصل ہوتی۔ لیکن اب ہو یہ رہا ہے کہ سب کو یقین ہے کچھ دن مقدمہ چلے گا اور آخر میںسب چھوٹ ہی جائیں گے۔ غضب خدا کا 5سا ل کی معصوم بچی کی عصمت دری کرتے ہیں، حیوا نوں نے پتھر کے دور کے انسانوں کو بھی مات کر دیاہے۔ ایسے حیوانوں کو ایسے جنگلیوں کو تو نامرد بنا دیا جائے، تو ہی انصاف ہو سکے گا۔
ایک غریب گھر گھر کام کرنے والی 19سالہ صرف 2ماہ کی شادی شدہ نیپالی عورت کو اغوا کر کے، اس کی عصمت دری کر کے اسے نیم برہنہ حالت میں چھوڑ دیا جاتا ہے اور چاروں طرف سے گزر تے لوگ بس اس کا تماشہ بناتے ہوئے گزر جاتے ہیں ۔شرم اس بات کی ہے کہ جس آٹو ڈرائیور سے اس نے پناہ مانگی اس نے بھی اسکی عصمت دری کی کوشش کی۔ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے اتنا frustrationنوجوان نسل  میںہی کیوں ہے؟ اتنی بے رحمی سے عصمت دری کے بعد 5سال کی معصوم کو2دن قید میں رکھ کر اس کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرنا اور پھراس کو زخمی حالت میں چھوڑ دینا اوراس کو مزید اذیت دینا، آخر انسان اتنا وحشی کب سے اور کیوں ہوگیا ہے؟
اس کی دوسری وجہ شاید ہندوستان جیسے ترقی پذیر ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی اوربیروزگاری ہے۔بے شک سائنس اور ٹیکنالوجی میں ہمار ا ملک بے پناہ ترقی کر رہا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ بیروز گاری بھی بڑھتی جارہی ہے اور اسی بڑھتی ہوئی بے روزگاری نے شادی کی عمر 22،23سے بڑھا کر 30،32سا ل کردی ہے۔ انسان کا جسم سردی ،گرمی کی شدت جھیل سکتا ہے، بارش اور ہوائوں کے تھپیڑے سہہ سکتا ہے، مگر فطرت نے جو اس کے جسم کی کچھ ضرورتیں رکھی ہیں ،وہ ان سے نہیں بچ سکتا۔ اس وقت نوجوان چاہے وہ لڑکا ہو یا لڑکی، اس کی خواہش رہتی ہے کہ وہ پوری طرح زندگی میں سیٹل ہو کر ہی شادی کرے اور اس بیچ اس کے اندر کا جانو ر کبھی کبھی جاگ جاتاہے ۔ لیکن اس میں بھی ایک بات بڑی اہم ہے اور وہ یہ ہے کہ اس طرح کی گھنائونی حرکتیں کم پڑھے لکھے لوگ ہی کرتے ہیں۔ ایک تو ان کو جیل ،سزا سے زیادہ ڈر نہیں لگتا، دوسرے وہ پوری طرح قانون سے واقف بھی نہیں ہوتے۔ اس کے علاوہ سیدھی سی بات ہے کہ اگر اند ر کا حیوان جاگ جائے تو پڑھا لکھا انسان بھی ان پڑھ ہو جاتاہے۔ ایسے میں صرف اور صرف گھریلو valuesکام کرتی ہیں۔ پہلے جوائنٹ فیملی سسٹم تھا ،ہرگھر کا بچہ دادا ،نانا، چاچا، بزرگوں کی نگرانی میں چل کر جوان ہوتا تھا اوراسے ہر قدم پر روکنے ٹوکنے والے لوگ موجود ہوتے تھے، مگر نیو کلیئر فیملی نے بچوں کی آزاد چھوڑدیا ہے۔ سارا سارا دن گھرمیں اکیلیرہنا اور انٹر نیٹ کے ذریعے جذبات پر برانگیختہ کرنے والے ویڈیو  دیکھنا، اس نے بھی نوجوان نسل کو  بہت زیادہ جذباتی اور جانور بنادیا ہے اور پھر آ ج کی فلموںنے بھی اس معاشرہ کو بگاڑ نے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔
پہلے لڑکیاں گھروں سے آزادنہ  طور پر باہر نہیں نکل سکتی تھیں اوراگر جاتی تھیں تو باپ ،بھائی ، شوہرکے ساتھ، مگر بے پناہ بڑھتی مہنگائی اور ضرورتوں نے خواتین کو باہر نکلنے پر مجبور کر دیا ہے اوراسی مجبوری نے ان کو دیر سے گھر آنے پر بھی آمادہ کیاہے۔ ظاہر ہے اکیلی لڑکی رات کو نظرآئے گی، تواس کی مجبوری کو کوئی نہیں سمجھے گا ،بس اپنی ہوس کا سامان سمجھ کر اسکی عصمت دری پرآمادہ ہو جائیں گے۔
دلّی کی بات کریں تو شیلا گورنمنٹ نے دلدار دلّی کا ٹیگ تو لگا لیا، لیکن اسکے ساتھ داغدار دلّی کا بھی ٹیگ لگوادیا ہے ۔ دہلی پولیس سب سے زیادہ لا اعتباراور دہلی سرکارسب سے زیادہ لا پرواہ ہے ۔اب عام انسانوں کی حفاظت ہوگی کیسے؟ لاکھ پی سی آر وین لگالیجئے ، لاکھ ہیلپ لائن نمبر دیدیجئے، لیکن جب تک پولیس الرٹ نہیں ہوگی تب تک آپ اتنے بڑے حادثوں کو رو ک ہی نہیں سکتے۔
شرم آتی ہے میڈیا کے رول پر بھی کہ جب بھی کوئی بڑاحادثہ ہوتا ہے، سارے ہندوستان کی نامور خواتین کو چینلز  پر اکٹھاکر لیا جاتا ہے۔ وہ بڑے بڑے بیان دیتی ہیں ۔ برنداکرات کہتی ہیں’’ عورتوں کے لیے دہلی محفوظ نہیں‘‘۔ ممتا شرما ہر بار لمبے چوڑے بیانات دے کر رہ جاتی ہیں اور شرمناک کہہ کر دامن چھڑالیتی ہیں۔ رینوکا چودھری اپنے تیکھے تیور کے ساتھ مردوں کو برابھلا کہہ کر پیچھے ہٹ جاتی ہیں،کرن بیدی دہلی پولیس کو الزام دیتی ہیں۔ لیکن نہ تو دلی سدھر تی ہے، نہ دلّی پولیس اورنہ ہی عصمت دری کے واقعات رکتے ہیں۔ شرم کی بات تو یہ ہے کہ کیس دبانے کے لیے پولیس الٹی رشوت دیتی ہے۔سشما سوراج کہتی ہیں کہ’’ میںنے ایک پولیس والے کو مظاہرہ کرنے والی خاتون کو تھپڑ مارتے ہوئے دیکھا، یہ پولیس والے توان کو بچانے لائق ہی نہیں ‘‘۔سشما سوراج سے کوئی یہ پوچھے کہ آپ اپوزیشن کی سب سے قدآور خاتون ہیں ،کیا آپ نے کبھی صرف اکیلے دم پر عصمت دری کے واقعات پرآواز اٹھائی ہے، سب کو اکٹھا کرکے کبھی حکومت سے سوال کیا ہے ۔ پارلیمنٹ میں بیٹھ کر سوال کرنا عام بات ہے  اور سڑک پر آکر مظاہر ہ کرنا، ہمت کی بات ہے۔ شرم اور افسوس کی بات تو یہ ہے کہ جو بچیاں ،5سالہ بچی کی عصمت دری پر مظاہرہ کر رہی تھیں، پولیس نے ان کو تھپڑ مارے، ان کوسڑک پر گھسیٹا، جس پر وزیر اعظم نے ٹویٹ بھی کیا ،لیکن وزیر اعظم جوملک کا سب سے طاقتور شخص ہے، کیا اس کی ذمہ داری صرف ٹویٹ کرنے سے ختم ہوجاتی ہےپرجس وزیر اعظم نے اربوں کھربوں کے لاتعداد گھوٹالے خاموشی سے ہضم کر لیے، اس وزیراعظم سے اور امید بھی کیا کی جاسکتی ہے۔
مجھے شرم آتی ہے اس سیاست پر بھی جو اس دردناک سانحہ کے بعد ہوئی۔ عام آدمی پارٹی کے کارکنان اسپتال میں گھس گئے وارڈ کھٹکھٹا کر اس بچی کو ڈھونڈتے رہےاور دوسری طرف بی جے پی کو جب یہ احساس ہوا کہ کہیں عام آدمی پارٹی بازی نہ مارلے تو وجے گویل کے قیادت میں کچھ کارکنان بھی اسپتال میں گھس گئے کسی نے دوسرے مریضوں کے آرام کا خیال نہیں کیا۔
مظاہرہ کرنے والی لڑکی جس کو ACPنے تھپڑ مارا، اسی نے شیلا دیکشت سے ایک سوال کیا ’’کہ کیا جب میں سڑک پر چلوں، تواپنے ساتھ 10باڈی گارڈ لیکر چلوں؟ شیلا جی کہتی ہیں کہ دہلی پولیس آپ کے لیے ہے، کیا دہلی پولیس اس لیے ہے کہ وہ نا انصافی کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو تھپڑ مارے،‘‘مجھے نہایت افسوس ہے یہ کہتے ہوئے کہ خواتین عام آدمیوں سے اتنی غیر محفوظ نہیں، جتنی کہ پولیس والوں سے ہیں، شرم آتی ہے یہ کہتے ہوئے ۔
نہ تو دلّی بدلی ہے ،نہ پولیس بدلی ہے ،نہ سماج کی سوچ بدلی ہے اور اس سب کا شکار ہے صرف اور صرف عورت۔ 5سال کی معصوم بچی ،جو خود سے اپنے کپڑے نہیں بدل سکتی ،خود سے نہا نہیں سکتی، خود سے بال نہیں بنا سکتی ،اس معصوم کے پرائیویٹ حصوں میں موم بتّی ڈالی گئی اس معصوم کے اندر آملہ تیل کی بوتل ڈالی گئی جو ڈاکٹروں نے آپریشن کر کے نکالی۔میرا دل چاہتا ہے کہ ایسی حیوانیت پر خود کشی کرلوں ، ایسی حیوانیت ،ایسی بربریت اُف خدا یہ کیسا اشرف المخلوق ہے، یہ تو حیوان کہلانےکے لائق بھی نہیں۔ایسے درندوں کو یاتو سر عام پھانسی دو یا پھر ان کو نامرد بنا کر اسی طرح پھینک دو ،جیسے اس ذلیل انسان نے اس معصوم کلی کو پھینک دیا ۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *