یہ حکومت مزدور مخالف ہے

ابھیشیک رنجن سنگھ
ٹریڈ  یونینوں کی دو رزہ ہڑتال کے بارے میں مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ خود وزیر اعظم نے ہڑتال نہ کرنے کی اپیل کی تھی،  اس کے باوجود ٹریڈ یونینوں نے ہڑتال پر جانے کا فیصلہ لیا۔ حکومت کی دلیلوں پر اب کسی کو بھروسہ نہیں رہ گیا ہے۔ جہاں تک ٹریڈ یونینوں کی ہڑتال کا سوال ہے ، تو اس بارے میں کہنا غلط نہیں ہوگا کہ انہیں ہڑتال پر جانے کے لئے خود یو پی اے حکومت نے مجبور کیا۔ جبکہ سبھی جانتے ہیں کہ ٹریڈ یونینوں کے مطالبات تین سال پرانے ہیں۔ گزشتہ سال بھی ٹریڈ یونینوں نے بند کا اعلان کیا تھا۔ مانیسر میں واقع ماروتی سزوکی پلانٹ میں مزدوروں کے مفادات کو نظر انداز کیا گیا اور اس کے پر تشدد نتائجبھی  سامنے آئے، جس سے سبھی واقف ہیں۔ اس کے باوجود مرکزی حکومت خاموش تماشائی بنی رہی۔حکومت کی اس خاموشی کو دیکھ کر تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ حکومت نے مزدوروں کے مفادات کے لئے قانون وضع کرنا تو دور، اب ان کے بارے میں سوچنا بھی بند کر دیا ہے۔اگر ایسا نہ ہوتا، تو ہڑتال سے عین پہلے وزیر اعظم، وزیر خزانہ اور وزیر محنت ٹریڈ یونینوں کے لیڈروں سے بات کرتے ۔ حکومت کو کروڑوں کسانوں اور مزدوروں کی فکر نہیں ہے، حکومت کو تو صرف ملکی، غیر ملکی کارپوریٹ گھرانوں کی فکر ہے۔
بڑھتی مہنگائی،قلیل تنخواہ دئے جانے سمیت مختلف مطالبات کی حمایت میں دو روزہ ملک گیر ہڑتال کا اثر راجدھانی دہلی سمیت پورے ملک میں دیکھا گیا۔ تمام بڑے اور چھوٹے شہروں میں20-21فروری کو تمام سرکاری بینک، پوسٹ آفس، انشورنس دفتر، آرمی کینٹین، مواصلاتی دفتر اور مائنس پوری طرح بند رہے ۔ کئی ریاستوں کی ٹرانسپورٹ یونینوں نے بھی چکا جام کیا۔ ٹریڈ یونین کے لیڈروں کے مطابق، یہ صرف ایک شروعات ہے اور اگر حکومت ان کے مطالبات پر غور نہیں کرتی ہے ، تو وہ اس سے بھی بڑی تحریک کریں گے۔ ہڑتال کے آخری دن 11ٹریڈ یونینوں کے لیڈروں نے دہلی میں واقع بھارتیہ مزدور سنگھ (بی ایم ایس) کے صدر دفتر پر مشترکہ کانفرنس کو خطاب کیا۔ آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگریس (اے ٹی سی) کے جنرل سکریٹری گروداس گپتا نے کہا کہ ہڑتال سے بات ختم نہیں ہو جاتی، یہ تو ایک شروعات ہے۔اگرسرکار ہمارے مطالبات پر غور نہیں کرتی ہے، تو ہم اس سے بھی بڑی تحریک شروع کریں گے۔ ان کے ،طابق، یہ لڑائی کسی خاص طبقہ یا پارٹی کی نہیں ہے، بلکہ یہ پورے ملک کی تحریک ہے، جسے ہر طبقہ کے لوگوں کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
نوئیڈا کی ایک فیکٹری میںکام کرنے والے رتن کمار نے بتایا کہ ٹریڈ یونینوں کی اس ہڑتال سے انہیں کافی امیدیں ہیں۔ رتن بتاتے ہیں کہ پرائیویٹ نوکری کرنے والے لوگوں کی حالت بے حد خراب ہے۔ 5ہزار سے 8ہزار روپے کی تنخواہ سے پریوار کا گزارا بے حد مشکل ہو رہا ہے۔ آخر جمہوریت میں یہ کیا ہو رہا ہے۔ کیا عام آدمی لیڈروں کی نظر میں صرف ووٹر ہیں یا پھر ٹیکس پیئر(Tax Payer)۔جنتر منتر پر مظاہرہ کر رہے بھارتیہ پرائیویٹ ٹرانسپورٹ مزدور سنگھ کے قومی صدر راجیندر سونی نے بتایا کہ یو پی اے حکومت مزدور مخالف ہے، اس لئے سنگھ نے فیصلہ لیا ہے کہ اس سال دلی میں ہونے والے اسمبلی انتخابات اور آئندہ سال ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں کانگریس پارٹی کے خلاف ووٹ دیا جائے گا، کیونکہ دہلی کی شیلا حکومت سے یہاں کے ہزاروں آٹو ڈرائیور تباہ و برباد ہو چکے ہیں۔ بھارتیہ مزدور سنگھ کے لیڈربی این رائے کے مطابق، ٹریڈ یونینوں کے مطالبات نئے نہیں ہیں بلکہ یہ سال 2009سے کئے جا رہے ہیں، لیکن ہمارے مطالبات پر حکومت ذرا بھی سنجیدہ نہیںہے۔ تاہم ٹریڈ یونینوں نے ہڑتال پر جانے کا فیصلہ کیا۔ غور طلب ہے کہ 20اور 21فروری کو ہوئی ہڑتال میں بھارتیہ مزدور سنگھ (بی ایم ایس)، انڈین نیشنل ٹریڈ یونین کانگریس ، آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگریس، ہند مزدور سبھا، سینٹر فار انڈین ٹریڈ یونین (سیٹو)، آل انڈیا یونائیٹڈ ٹریڈ یونین سینٹر، انڈپنڈنٹ فیڈریشن آف ورکرس اینڈ امپلائز ، تمام بینکوں کی یونینس،آٹو، ٹیکسی اور پرائیویٹ بسوں کی یونینس بھی شامل تھیں۔

 ملکی ، غیر ملکی کارپوریٹ گھرانوں نے حکومت کے ساتھ مل کر مزدوروں پر حملہ تیز کر دیا ہے۔ کچھ سالوں میں ملک کی صنعتی ترقی ہوئی ہے۔ یہاں تک کہکساد بازاری  کے دور میں بھی کارپوریٹ گھرانوں کو کافی فائدہ ہوا ہے، لیکن مزدوروں کو اس کا فائدہ نہیں ہوا۔ حکومت کہتی ہے کہ ملک میں کسانوں کی حالت بہتر ہوئی ہے، لیکن کسانوں کے ذریعہ خودکشی کرنے جیسے واقعات حکومت کے اس دعوے کو پوری طرح سے کھوکھلا ثابت کرتے ہیں۔

 

وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کا کہنا ہے کہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور عوام کی غیر اطمینانی میں کمی آئی ہے، لیکن حقیقت اس سے کوسوں دور ہے۔ سال 1990کے بعد نافذ کی گئیں نئی اقتصادی پالیسیوں نے صرف کچھ سرمایہ کاروں کو فائدہ پہنچایا ہے۔ ملک کے کروڑوں کسانوں، زراعتی مزدوروں اور محنت کشوں کو اس نظام نے سوائے استحصال کے اور کچھ نہیں دیا ہے۔ 90کی دہائی میں شروع ہوئی نیو لبرلزم کی پالیسی کے بعد نہ صرف کسانوں کی زمینیں ضبط کی گئیں، بلکہ ان کے روایتی زراعتی پیشے میں بھی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی مداخلت مسلسل بڑھتی گئی۔ اس وقت کے وزیر خزانہ اور موجودہ وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے 23سال پہلے ان نئی اقتصادی پالیسیوں کی جم کر وکالت کی تھی۔ انھوں نے کہا تھا کہ اس سے ملک کے عام آدمی کو فائدہ ہوگا، لیکن افسوس! دو دہائی گزر جانے کے بعد بھی محنت کشوں کی زندگی پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا۔ اتفاقاً اسی کانگریس کی قیادت والی حکومت نے گزشتہ سال اپوزیشن پارٹیوں، مزدور تنظیموں اور کاروباریوں کی مخالفت کے باوجود ملک کے خردہ  بازار میں راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کو منظور دے دی۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں یو پی اے حکومت بے شک اکثریت کے ذریعہ اسے پاس کرانے میں کامیاب رہی، لیکن رائے عامہ کی بنیاد پر وہ ناکام ہی رہی۔ اسے ہماری جمہوریت کا سیاہ باب ہی کہا جائے گا کہ عوامی جذبات کو بھی حکومتیں اکثریت کی بنیاد پر دیکھتی اور پرکھتی ہیں۔
فی الحال ملک میں بڑا بحران شروع ہو چکا ہے، جس نے کروڑوں لوگوں کو دکھی کر دیا ہے۔ چاروں جانب سیاسی اور اقتصادی بحران چھایا ہے۔ موجودہ یو پی اے حکومت اپنی معتربیت کھو چکی ہے۔ حکومت میں شامل وزیروں اور ارکان پارلیمنٹ پر بدعنوانی کے سنگین الزامات عائد ہو رہے ہیں ۔ سیاسی نظام ملک کے عوام کو زندگی رہنے کا حق دینے میں پوری طرح ناکام ہو گیا ہے، جو کہ انتہائی شرمناک ہے۔خوردنی اشیاء کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیںاور ملک میں بدعنوانی کے نئے نئے معاملوں کا انکشاف ہو رہا ہے۔ملک حکومت کی اس گھٹیا اقتصادی پالیسی سے دو چار ہے۔ مزدوروں کی قوت خرید گزشتہ کچھ سالوں میں کم ہوئی ہے۔ مزدوروں کو منیمم مزدوری نہیں دی جا رہی ہے۔ مزدوروں کو ٹریڈ یونین بنانے کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ پورے ملک میں مزدوروں کی مخالفت کو دبایا جا رہا ہے۔ ملکی ، غیر ملکی کارپوریٹ گھرانوں نے حکومت کے ساتھ مل کر مزدوروں پر حملہ تیز کر دیا ہے۔ کچھ سالوں میں ملک کی صنعتی ترقی ہوئی ہے۔ یہاں تک کہکساد بازاری  کے دور میں بھی کارپوریٹ گھرانوں کو کافی فائدہ ہوا ہے، لیکن مزدوروں کو اس کا فائدہ نہیں ہوا۔ حکومت کہتی ہے کہ ملک میں کسانوں کی حالت بہتر ہوئی ہے، لیکن کسانوں کے ذریعہ خودکشی کرنے جیسے واقعات حکومت کے اس دعوے کو پوری طرح سے کھوکھلا ثابت کرتے ہیں۔

ٹریڈ یونینوں کے اہم مطالبات
انجینئرنگ اور عام صنعتوں کا ویج رویزن جلد کیا جائے اور مزدوروں کیکم سے کم تنخواہ  10000روپے ماہانہ کی جائے ۔
مہنگائی کے لئے ذمہ دار سرکاری پالیسیاں بدلی جائیں۔
بونس اور پروویڈنٹ فنڈ پر نافذ حدود اور پابندیاں ہٹائی جائیں اور گریچویٹی میں اضافہ کر کے سبھی پنشن اور دیگر سہولیات دی جائیں۔
محنت قوانین کو سختی سے نافذ کیا جائے۔
کارخانوں میں ٹھیکیداری کا رواج بند کیا جائے۔
سرکاری دفتروں میں معاوضہ کی بنیاد پر نوکریاں دی جائیں۔
ٹریڈ نوینوں کا رجسٹریشن 45دنوں کے اندر لازمی طور پر یقینی کیا جائے۔
ریہڑی ، پٹری ، خونچہ اور یومیہ بازار لگانے والوں اور رکشہ -آٹو رکشہ ڈرائیوروں کا رجسٹریشن کیا جائے۔ ان سے پولس کے ذریعہ کی جانے والی جبراً وصولی پر روک لگائی جائے۔
سرکاری کمپنیوں کی شراکت پرائیویٹ کمپنیوں کو فروخت نہ کی جائے۔
مرکزی ملازمین کے لئے بھی ہر پانچ سال میں تنخواہ میں ترمیم کا بندوبستہو۔
سرکاری بینکوں کے انضمام کی پالیسی نافذ نہ کی جائے۔

 

ابھیشیک رنجن سنگھ

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونکیشن (آئی آئی ایم سی) نئی دہلی سے صحافت کی تعلیم حاصل کرنے والے ابھیشیک رنجن سنگھنے اپنے صحافی کریئر کا آغاز سکال میڈیا گروپ سے کیا۔ اس کے بعد تقریباً سال بھر تک ایک کاروباری جریدہ میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دیں۔ سال 2009 میں دہلی سے شائع ہونے والے ایک روزنامہ میں کام کرنے کے بعد یو این آئی ٹی وی سروس میں اسسٹنٹ پروڈیوسر کے عہدہ پر فائز رہے۔ اس کے علاوہ ابھیشیک رنجن سنگھ آل انڈیا ریڈیو میں بھی مذاکرات کار کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ملککے کئی اہم اخبارات میں آپ کے مضامین مسلسل شائع ہوتے رہتے ہیں۔ آپ کو ہندی میں نظمیں لکھنے کے علاوہ غزلوں کے بے حد شوق ہے۔ فی الحال ہفت روزہ چوتھی دنیا میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
Share Article

ابھیشیک رنجن سنگھ

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونکیشن (آئی آئی ایم سی) نئی دہلی سے صحافت کی تعلیم حاصل کرنے والے ابھیشیک رنجن سنگھ نے اپنے صحافی کریئر کا آغاز سکال میڈیا گروپ سے کیا۔ اس کے بعد تقریباً سال بھر تک ایک کاروباری جریدہ میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دیں۔ سال 2009 میں دہلی سے شائع ہونے والے ایک روزنامہ میں کام کرنے کے بعد یو این آئی ٹی وی سروس میں اسسٹنٹ پروڈیوسر کے عہدہ پر فائز رہے۔ اس کے علاوہ ابھیشیک رنجن سنگھ آل انڈیا ریڈیو میں بھی مذاکرات کار کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کے کئی اہم اخبارات میں آپ کے مضامین مسلسل شائع ہوتے رہتے ہیں۔ آپ کو ہندی میں نظمیں لکھنے کے علاوہ غزلوں کے بے حد شوق ہے۔ فی الحال ہفت روزہ چوتھی دنیا میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *