یو پی میں مسلم ووٹوں کو لے کر محاذ آرائی

اجے کمار
اتر پردیش کی یہ بدقسمتی ہے کہ آزادی کے 65 سالوں کے بعد بھی یہاں کے عوام بیدار نہیں ہوئے ہیں۔ ذات پات پر مبنی سیاست یہاں لگاتار حاوی ہے، لیکن عوام اس سے باہر نکلنے کو تیار نہیں ہیں۔ یو پی کے ووٹروں نے اپنی سوچ کو مذہب کے نام پر قید کر رکھا ہے، یہی وجہ ہے کہ مختلف پارٹیوں کے لیڈر اس کا فائدہ اٹھا کر اپنی سیاسی روٹیاں سینکنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اسی بات کا احساس گزشتہ دنوں لکھنؤ کی مسلم سیاست میں ہوا، جب مختلف پارٹیوں کے لیڈر الگ الگ منچوں پر، لیکن ایک سُر میں مسلم ووٹوں کے لیے جدوجہد کرتے دکھائی دیے۔ کانگریس اور سماجوادی لیڈروں نے خوب ناک رگڑی۔ ایک طرف ایس پی سپریمو اور سابق وزیر اعلیٰ ملائم سنگھ یادو نے مسلمانوں کو لبھاتے ہوئے کہا کہ مسلم مفادات کے لیے وہ سرکار تک کی پرواہ نہیں کرتے، تو دوسری طرف ٹھیک اسی وقت لکھنؤ میں موجود کانگریسی لیڈر اور مرکزی وزیر سلمان خورشید ایک دوسرے منچ پر مسلمانوں کو سمجھا رہے تھے کہ مسلمان سوچ سمجھ کر اپنا ووٹ ڈالیں، نہ کہ جلد بازی میں۔ ان کا اشارہ ان ووٹروں کی طرف تھا، جنہوں نے اسمبلی انتخاب میں سماجوادی پارٹی کے حق میں بڑی تعداد میں یک مشت ووٹنگ کی تھی۔ مختلف پارٹیوں کے لیڈر مسلمانوں کے سامنے سجدہ کر رہے تھے، تو مسلمانوں کے رہنما وارننگ دے رہے تھے کہ سرکار چلانی ہے، تو مسلمانوں کی مدد کرنی ہی ہوگی۔ مسلمانوں کو ان کا حق نہیں ملا، تو ملک زندہ نہیں بچے گا۔

 کانگریس اور سماجوادی پارٹی مسلمانوں کو لبھانے میں کوئی کوتاہی نہیں برت رہی ہے، تو دوسری طرف بی ایس پی ابھی خاموش ہے اور بی جے پی کو کانگریس اور سماجوادی پارٹی کی مسلمانوں سے محبت راس نہیں آ رہی ہے۔ اتر پردیش بی جے پی کے ترجمان وجے بہادر پاٹھک کہتے ہیں کہ دونوں ہی پارٹیاں ملک اور سماج کو توڑنے میں لگی ہوئی ہیں، انہیں اس بات کی فکر نہیں ہے کہ مسلمان کیسے پڑھ لکھ کر ترقی کرے، بلکہ وہ اسے ووٹ بینک کی طرح استعمال کرتی ہیں

سماجوادی پارٹی کے لیے جمعیت علمائے ہند کا اجلاس میل کا پتھر ثابت ہوا۔ گزشتہ 3 مارچ کو راجدھانی کے جس رفاہِ عام گراؤنڈ پر مسلمانوں کی ایک ریلی میں شرکت کرنے پہنچے سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر اور لکھنؤ سے پارٹی کے امیدوار اشوک واجپئی کو مخالفت کی وجہ سے منچ چھوڑنا پڑا تھا، اسی گراؤنڈ پر مسلمانوں کی ہی ایک ریلی میں ملائم سنگھ یادو کا پرجوش استقبال کیا گیا اور ان پر اعتماد ظاہر کیا گیا۔ موقع کا فائدہ اٹھا کر ملائم سنگھ نے بھی مسلمانوں سے اپنے مضبوط رشتے کی دُہائی دے کر ایک تیر سے کئی نشانے سادھے۔ ایس پی سپریمو نے مولانا بخاری کو آئینہ دکھایا، تو اعظم خاں کو بھی یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ مسلمان کس کے نام پر سماجوادی پارٹی کے ساتھ جڑے ہیں۔ انہوں نے اسی اسٹیج سے بینی پرساد کو بھی سبق سکھایا۔
ملائم سنگھ یادو نے 45 منٹ میں سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔ جب وہ اس ریلی میں شرکت کرنے پہنچے، تو ان کے چہرے پر تناؤ صاف جھلک رہا تھا۔ اس کی وجہ تھی صوبہ کے وہ حالات، جن سے لگتا تھا کہ مسلمانوں کے ساتھ نا انصافی ہو رہی ہیہ۔ فرقہ وارانہ فسادات، دہشت گردی کے نام پر مسلم نوجوانوں کو پھنسانے کی چل رہی سازش، 18 فیصد ریزرویشن کا وعدہ، یہ سارے مدعے سماجوادی سرکار کے لیے چنوتی بنے ہوئے تھے۔ ان موضوعات کو لے کر اسٹیج پر خوب مباحثہ بھی چل رہا تھا، لیکن ملائم جب بولنے کے لیے کھڑے ہوئے، تو مسلمانو ںکی ناراضگی اور ملائم کا تناؤ کم ہوتے دیر نہیں لگی۔ انہوں نے مسلمانوں سے وعدہ کیا کہ دہشت گردی کے نام پر جیلوں میں بند بے گناہ مسلمانوں کو جلد رہا کیا جائے گا اور ساتھ میں یہ بھی جوڑ دیا کہ مسلمانوں کو بھی اس بات کو دھیان میں رکھنا ہوگا کہ یہ بے گناہ کس سرکار کے دور میں جیل میں ڈالے گئے تھے۔ واپس لوٹتے وقت میدان مار لینے کی خوشی ان کے چہرے پر صاف جھلک رہی تھی۔ یہ خوشی اس لیے اور بھی بڑھ گئی تھی، کیوں کہ انہوں نے ایک طرف رکن پارلیمنٹ محمد ادیب کی 3 مارچ کو ہونے والی ریلی میں اٹھے سوالوں پر روک لگا دی تھی، تو دوسری طرف شاہی امام احمد بخاری کو بھی یہ بتانے کی کوشش میں کامیاب رہے کہ مسلمان ان سے جدا نہیں ہو سکتا ہے۔ ایس پی سپریمو پوری سنجیدگی کے ساتھ مقررین کی باتوں کو سنتے رہے اور جب ان کی باری آئی، تو سلسلے وار تمام باتوں کا جواب دیا۔ ملائم نے جمعیت علمائے ہند کے سربراہ مولانا ارشد مدنی کی تقریر غور سے سنی اور پھر ان کی تعریف کے لیے دوبارہ مائک پر آئے، تو مرکزی وزیر بینی پرساد ورما کے الزامات کا جواب دینے سے بھی نہیں چوکے۔ سیمینار میں جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی ہوں، اشہد رشیدی ہوں یا اسجد مدنی، سبھی اس بات کے لیے فکرمند نظر آئے کہ کہیں سے کوئی ایسا واقعہ نہ رونما ہو جائے، جو نیتا جی کی شان کے خلاف ہو۔ اسی لیے ملائم کے آنے سے پہلے سے ہی وہ بھیڑ کو ہوشیار اور محتاط کرتے رہے۔ بھیڑ نے بھی اپنے لیڈروں کا پورا لحاظ رکھا۔ ایک بار راجا بھیا کی گرفتاری کی مانگ کو لے کر شور اٹھا، تو ملائم نے خود ہی بھیڑ کو سنبھال لیا اور بولے کہ اتنے بڑے جلسے میں پورے صوبہ سے آپ لوگ آئے ہیں، لہٰذا یہاں اپنے مدعوں پر ہی بات کیجئے، راجا بھیا کی گرفتاری کے مدعے کا یہاں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ وہیں ساتھ میں انہوں نے یہ بھی جوڑ دیا کہ اس بارے میں آپ اپنی رائے پرچی کے ذریعے بھیج دینا، اس پر غور کیا جائے گا۔
ملائم نے کچھ سوال بھی مسلمانوں سے کیے۔ انہوں نے جب یہ کہا کہ آپ کی جماعت کے 11 وزیر صوبائی حکومت میں ہیں، لہٰذا ان پر بھی تو ذمہ داری ڈالیے، اس پر لوگوں نے زوردار قہقہہ لگایا۔ نیتا جی نے صاف کیا کہ اس سے پہلے کبھی کسی سرکار میں اتنے مسلم وزیر نہیں تھے۔ ان سے بھی پوچھئے کہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ چٹکی لیتے ہوئے ملائم بولے کہ ایک مسلم وزیر سے نہ جانے آپ کیوں ڈرتے ہیں، جب کہ وہ سرکار میں اہم رول میں ہیں۔ اس پر بھیڑ سے آواز آنے لگی کہ وزیر کا نام بھی لیجئے، اس پر ملائم ہنسے اور بولے، اچھا بھائی نام بتا دیتے ہیں، ان کا نام ہے اعظم خاں۔ اس کے ساتھ ہی ملائم یہ بتانا بھی نہیں بھولے کہ انتظامیہ کا سب سے بڑا افسر بھی آپ کی ہی جماعت کا ہے اور سرکار بھی وہی چلا رہا ہے، ایسے میں مسلمانوں کے مفادات کی اندیکھی کیسے ہو سکتی ہے؟
ایس پی سپریمو نے چند منٹ کی موجودگی میں سب کچھ اپنے فیور میں کر لیا۔ اس کے ساتھ ہی گزشتہ 3 مارچ کو لکھنؤ میں سماجوادی پارٹی کے ساتھ مسلمانوں نے جو بے رخی دکھائی تھی، وہ بھی تاریخ کے صفحات میں سمٹ کر رہ گئی۔ 3 مارچ کو رفاہِ عام گراؤنڈ پر راجیہ سبھا کے ممبر محمد ادیب، مذہبی رہنما سلمان حسین ندوی اور مولانا خالد رشید فرنگی محلی جیسے قد آور لوگوں نے بے قصور مسلمانوں کی رہائی کے مدعے پر سماجوادی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیا، تو پوری بھیڑ ان کے غصے میں شامل تھی۔ تب یہ کہا گیا تھا کہ صوبہ کا مسلمان سماجوادی پارٹی سے بے حد ناراض ہے۔ لیکن 15 دنوں کے اندر ہی جمعیت علمائے ہند کے ان سے کئی گنا بڑے جلسے میں پہنچے ملائم نے جتا دیا کہ صوبہ کے مسلمان اب بھی ان کے اوپر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔ ملائم نے بھروسے کا رشتہ جوڑ کر اپنے کاموں کی گنتی شروع کی، تو بھیڑ نے تالیاں بجا کر ان کا خیر مقدم کیا۔ ملائم نے بھیڑ کی نبض پہنچانتے ہوئے کہا کہ آپ نے تو مجھے وزیر اعلیٰ بنانے کے لیے ووٹ دیا تھا، لیکن میں نے اکھلیش کو اس لیے وزیر اعلیٰ بنوا دیا، تاکہ میں آپ کے درمیان رہ سکوں۔ جب بھی آپ کے مسائل کو لے کر کوئی میرے پاس آیا، تو میں اس کی بات سننے کے لیے ہمیشہ حاضر رہا۔ یہ بھیڑ سے جڑنے کی ان کی ادا تھی اور انہوں نے مولانا ارشد مدنی کی طرف اشارہ کرکے اپنی بات بھی پکی کروا لی۔ ملائم جلسے میں پہنچنے سے ایک دن قبل مسلمانوں کی ایک بڑی مانگ کو پورا کراکے کافی حد تک ان کا دل بھی جیت چکے تھے۔ قابل ذکر ہے کہ جمعیت علمائے ہند فسادات کے لیے ڈی ایم اور ایس پی کو ذمہ دار ٹھہرانے کی مانگ کافی دنوں سے کر رہی تھی، لہٰذا اس جلسے سے ایک دن پہلے ہی سماجوادی سرکار نے ہدایت جاری کر دی کہ فسادات ہوئے، تو اس کے لیے ڈی ایم اور ایس پی ذمہ دار ہوں گے۔
ایک طرف جمعیت علمائے ہند کے جلسے میں ملائم مسلمانوں پر ڈورے ڈال رہے تھے، تو دوسری طرف لکھنؤ کے ہی ایک دوسرے مقام پر منعقدہ ایک سیمینار میں مرکزی وزیر سلمان خورشید اور ایم ایم پلم راجو وغیرہ کانگریس کو مسلمانوں کی سب سے زیادہ ہمدرد پارٹی بتانے میں مصروف تھے۔ لوک سبھا الیکشن کی آہٹ کے مدنظر اقلیتوں کو لبھانے کی پوٹلی کانگریس نے بھی کھول رکھی ہے۔ سلمان خورشید نے بارہویں پنج سالہ منصوبہ میں اقلیتوں کی ترقی کے لیے 26 لاکھ کروڑ روپے کا انتظام ہونے کی جانکاری دی اور مسلمانوں کو آگاہ کیا کہ وہ عام انتخابات کے دوران جلد بازی میں نہیں، بلکہ اپنے مفادات کے بارے میں سوچ سمجھ کر ووٹ دیں اور کسی کھونٹے میں نہ بندھیں۔ انہوں نے کہا کہ پچھڑے مسلمانوں کو ریزرویشن ملنا چاہیے۔ سچر کمیٹی اور رنگناتھ مشرا کمیشن رپورٹ کی سفارشیں جلد نافذ کیے جانے کی بات بھی سلمان نے کہی، وہیں وزیر برائے فروغِ انسانی وسائل ایم ایم پلم راجو نے مسلم اکثریتی ضلعوں میں واقع کستوربا گاندھی گرلس اسکولوں میں ہاسٹل بنوانے کا اعلان کیا اور یہ بھی کہا کہ ملک کے مسلم اکثریتی ضلعوں میں ٹیچروں کی کمی نہیں ہونے دی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مرکزی حکومت نے مدرسوں اور مسلمانوں کے لیے کئی اسکیمیں بنائی ہیں۔
بہرحال، کانگریس اور سماجوادی پارٹی مسلمانوں کو لبھانے میں کوئی کوتاہی نہیں برت رہی ہے، تو دوسری طرف بی ایس پی ابھی خاموش ہے اور بی جے پی کو کانگریس اور سماجوادی پارٹی کی مسلمانوں سے محبت راس نہیں آ رہی ہے۔ اتر پردیش بی جے پی کے ترجمان وجے بہادر پاٹھک کہتے ہیں کہ دونوں ہی پارٹیاں ملک اور سماج کو توڑنے میں لگی ہوئی ہیں، انہیں اس بات کی فکر نہیں ہے کہ مسلمان کیسے پڑھ لکھ کر ترقی کرے، بلکہ وہ اسے ووٹ بینک کی طرح استعمال کرتی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *