شندے کا اظہار ندامتِ، مصلحت یا سمجھوتہ؟

وسیم راشد
ہمارے ملک کے میڈیا کا مزاج بھی عجیب ہے کہ وہ کسی بھی خبر کی تہہ تک پہنچنے کے بجائے اڑتی ہوئی خبروں کو بنیاد بنا کر بریکنگ نیوز کے طور پر پیش کردیتا ہے۔اس کی اس خبر کا اثر عوام کے ذہن و دماغ پر کیا پڑتا ہے ، اس سے ہمارا میڈیا بے خبرہے یا جان بوجھ کر نظر انداز کررہا ہے۔ ہم نے بارہا کئی چینلوں کو دیکھا ہے کہ جب بھی دہشت گردی کے شبہ میں کسی مسلمان کو پکڑا جاتا ہے تو اس وقت یہ میڈیا جرم ثابت ہونے سے پہلے ہی اسے مجرم قرار دیدیتا ہے اور اینکر گرفتار نوجوان کو انڈین مجاہد کہہ کر عوام کو گمراہ کرتا ہے۔لیکن یہی صورت حال جب کسی غیر مسلم کے ساتھ پیش آتی ہے تو اس وقت میڈیا کا رویہ اتنہائی محتاط اور ملزم کے ساتھ ہمدردی والا ہوتا ہے۔یہ صورت حال الیکٹرانک اور پرنٹ دونوں میڈیا کے ساتھ ہے۔ ابھی حال ہی میں سشیل کمارشندے نے اپنے اس بیان پر، جو انہوں نے جے پور کے ’’ چنتن شیور ‘‘ میں دیا تھا، اس بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس دہشت گردی کے کیمپ چلارہی ہے۔ان کے اس بیان کو مزید پختگی اس وقت ملی جب ہوم سکریٹری نے شندے کی تائید کرتے ہوئے ایک پریس کانفرنس میں یہ کہہ دیاکہ ان کے پاس تقریباً دس ایسے دہشت گردوں کے نام ہیں، جن کی تربیت ان کیمپوں میں ہوئی ہے۔ ان کے اس بیان نے بی جے پی کے خیمے میں بھونچال پیدا کردیا اور شندے سے استعفیٰ کا مطالبہ ہونے لگا۔بی جے پی نے پورے ملک میں احتجاج کرنے کا اور حالیہ پارلیمنٹ سیشن کو نہ چلنے دینے کا بھی فیصلہ کیا۔ ظاہر ہے یہ صورت حال ملک کے لئے بہتر نہیں تھی۔بی جے پی نے شندے کے اس بیان کو مذہب سے جوڑ کر ہندوئوں کے جذبات کو بھڑکانے کا بھی کام شروع کردیا تھا ، مگر شندے نے پارلیمنٹ سیشن سے ٹھیک ایک دن پہلے اپنے بیان میں ہندو دہشت گرد لفظ کے استعمال کرنے پر افسوس کا اظہار کرکے بی جے پی کے غصے کو ٹھنڈا کردیا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ جے پور کے’ چنتن شیور‘میں دہشت گردوں پر تبصرہ کرنے کے دوران انہوں نے جو لفظ ہندو دہشت گرد استعمال کیا تھا، اس پر انہیں افسوس ہے۔ ان کے اس بیان کا بی جے پی کے صدر راجناتھ سنگھ نے استقبال کیا اور کہا کہ اب ان کے اظہارِ ندامت کے بعد پارلیمنٹ سیشن کو نہ چلنے دینے کا فیصلہ بے معنی ہے۔ مگر آر ایس ایس کے ترجمان رام مادھو نے اپنے ٹویٹ پر لکھا ہے کہ صرف افسوس کرنے سے کام نہیں چلے گا بلکہ انہیں اپنے بیان پر معافی مانگنی پڑے گی۔

پارلیمنٹ سیشن میں بہت سے اہم فیصلے لئے جاتے ہیں، جو عوام کے لئے بڑی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ اگر پارلیمنٹ سیشن ہنگامہ کی نذر ہوجاتا تو ایسی صورت میں اس کا نقصان بھی بالواسطہ طور پرعوام کو ہی بھگتنا پڑتا ہے۔ اس لئے شندے کے اظہار ندامت کو بروقت فیصلہ کہا جائے تو بہتر ہے۔مگر افسوس ہوتا ہے ہمارے میڈیا پر ، خاص طور پر اردو میڈیا پر، جس نے خبر کی گہرائی میں اترنے کے بجائے ان کے اظہار ندامت کو ایک ایسا ایشو بنا دیا کہ جیسے شندے نے بی جے پی کو دہشت گردی سے بری ہونے کا پروانہ دے دیا ہو۔جبکہ بات صرف اتنی ہے کہ شندے نے دہشت گردی کو کسی مذہب سے جوڑنے پراظہار ندامت کیا ہے۔ اس موقع پر ہمیں مولانا ارشد مدنی صاحب کی باتوں میں بڑی گہرائی نظر آتی ہے جو انہوں نے ایک سوال کے جوۭاب میں کہی تھی کہ’’ شندے نے معافی نہیں مانگی بلکہ انہوںنے لفظ ہندو کے استعمال کئے جانے پر اظہار ندامت کیا ہے۔

 

اگر دیکھا جائے تو شندے نے پارلیمنٹ سیشن شروع ہونے سے پہلے جو افسوس کا اظہار کرکے معاملے کو ٹھنڈا کیا ہے، یہ ایک دانشمدانہ عمل ہے۔اگر وہ ایسا نہ کرتے تو بی جے پی پارلیمنٹ کو چلنے نہ دیتی اوراس کا جو نقصان ہوتا وہ جگ ظاہر ہے۔ پارلیمنٹ سیشن میں بہت سے اہم فیصلے لئے جاتے ہیں، جو عوام کے لئے بڑی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ اگر پارلیمنٹ سیشن ہنگامہ کی نذر ہوجاتا تو ایسی صورت میں اس کا نقصان بھی بالواسطہ طور پرعوام کو ہی بھگتنا پڑتا ۔ اس لئے شندے کے اظہار ندامت کو بروقت فیصلہ کہا جائے تو بہتر ہے۔مگر افسوس ہوتا ہے ہمارے میڈیا پر ، خاص طور پر اردو میڈیا پر، جس نے خبر کی گہرائی میں اترنے کے بجائے ان کے اظہار ندامت کو ایک ایسا ایشو بنا دیا کہ جیسے شندے نے بی جے پی کو دہشت گردی سے بری ہونے کا پروانہ دے دیا ہو۔جبکہ بات صرف اتنی ہے کہ شندے نے دہشت گردی کو کسی مذہب سے جوڑنے پراظہار ندامت کیا ہے۔ اس موقع پر ہمیں مولانا ارشد مدنی صاحب کی باتوں میں بڑی گہرائی نظر آتی ہے جو انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہی تھی کہ’’ شندے نے معافی نہیں مانگی بلکہ انہوںنے لفظ ہندو کے استعمال کئے جانے پر اظہار ندامت کیا ہے۔ ‘‘انہوں نے یہ بھی کہا کہ’’ ہندو دہشت گردی جیسے الفاظ کے استعمال سے جتنی تکلیف ہندو بھائیوں کو ہوئی ہوگی اس سے کہیں زیادہ تکلیف ہمیں ہوئی ہے کیونکہ ہندو یا مسلم دہشت گردی کوئی چیز نہیں ہے‘‘۔
مذہب کوئی بھی ہو، دہشت گردی کی تعلیم نہیں دیتا ہے۔ لہٰذا شندے کے بیان پر بی جے پی کا چراغ پا ہونا فطری تھا اور ہم بھی اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ دہشت گردی کے کیمپ کو مذہب سے نہیں جوڑا جانا چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ شندے نے اپنے بیان پر اظہار ندامت کے بعدکمل ناتھ کے ساتھ بی جے پی کی تیز طرار لیڈر سشما سوراج سے ملاقات کرکے پارلیمنٹ میں رخنہ نہ ڈالنے پر راضی کیا۔اگرچہ اس ملاقات کو بھی کچھ اخباروں نے منفی نقطۂ نظر سے لیا اور یہ کہا جانے لگا کہ شندے کا اظہار ندامت بی جے پی کے ساتھ ایک سمجھوتہ تھا کہ شندے بیان واپس لیں ،بدلے میں پارلیمنٹ کا سیشن جاری رکھیں۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ شندے نے اس خوف سے اپنے بیان پر ندامت کا اظہار کیا کہ کہیں بی جے پی کے دبائو میں انہیں اپنے عہدے سے استعفیٰ نہ دینا پڑے۔اس نظریے کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ اگر شندے کو واقعی اپنے بیان پر ندامت کا احساس تھا تو پھر اظہار کرنے میں ایک مہینے کا عرصہ کیوں لگا۔بی جے پی تو ان سے پہلے دن سے ہی اپنا بیان بدلنے کی بات کہتی آرہی تھی مگر انہوں نے اس مطالبے پر دھیان اس وقت دیا جب پارلیمنٹ کو نہ چلنے دینے کی دھمکی ملی اور پارلیمنٹ سیشن شروع ہونے میں صرف ایک دن باقی رہ گیا تھا۔ اس سے تو کوئی بھی آدمی یہی سمجھے گا کہ اس ندامت کے پیچھے ضمیر کی آواز نہیں بلکہ مصلحت یا سمجھوتہ ہی ہے۔اگر ایسا ہی ہے تو پھر اس کا مطلب تو یہی نکلتا ہے کہ موجودہ حکومت دبائو میں کام کررہی ہے جو ملک کے لئے ٹھیک نہیں ہے،کیونکہ اگر سرکار کسی پارٹی کے دبائو میں کام کرے گی تو ایسی صورت میں اپوزیشن دبائو بنا کر کچھ بھی کروا سکتی ہے۔
وجہ جو بھی ہو لیکن اتنا تو طے ہے کہ دہشت گردی کو کسی بھی مذہب سے جوڑنا غیر ذمہ دارانہ بیان ہے اور ایک وزیر داخلہ کو اس بات کا بھرپور خیال رکھنا چاہئے کہ وہ کب کہاں اور کیا بول رہے ہیں۔اس کے ساتھ ہی بی جے پی کو بھی اپنی حیثیت کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔یہ ایک قومی پارٹی ہے جس کو ذات برادری سے اوپر اٹھ کر ملک و قوم کے مفاد کے بارے میں سوچنا چاہئے۔ اگر ہندو دہشت گرد کہنے پر پارٹی ناراض ہوتی ہے تو اسے اس وقت بھی ناراضگی کا اظہار کرنا چاہئے جب دھڑلے سے لفظ ’’ مسلم دہشت گرد‘‘ کا استعمال کیا جاتا ہے۔جب اس پر اعتراض کیا گیا تو بی جے پی کے ہی ایک معروف لیڈر نے لفظوں کی ہیرا پھیری کا سہارا لے کر یہ کہنا شروع کیا کہ ہر مسلمان تو دہشت گرد نہیں ہوتا ہے مگر ہر دہشت گرد مسلمان ہی ہوتا ہے۔جب آر ایس ایس سے جڑے کچھ لوگوں کی گرفتاری اے ٹی ایس کے ہاتھوں عمل میں آئی تب جاکر بی جے پی نے اس طرح کے دل آزاری والے لفظوں کو بولنا چھوڑا۔
بہر کیف ہمارے ملک میں تقریباً ہر پارٹی میں ایسے لیڈر موجود ہیں، جن کو اس بات کا لحاظ نہیں ہے کہ عوام ان سے کیا توقعات رکھتے ہیں۔ ایک عام آدمی اپنے لیڈر سے بس یہی چاہتا ہے کہ وہ ذات برادری کی سیاست اورذاتی مفاد سے اوپر اٹھ کر اپنے ملک کے مفاد کے لئے سوچے۔خاص طور پر بر سر اقتدار پارٹی کے لئے یہ ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ وہ ہر اس سیاسی پارٹی یا تنظیم کے خلاف سخت کارروائی کرے جو دہشت گردی کی سرپرستی کرتی ہے۔اس میں ذات برادری کی تفریق یا کسی طاقت کے دبائو میں نہیں آنا چاہئے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *