خدا کے لئے متحد ہو کر ان بے گناہ نوجوانوں کے لئے لڑو

وسیم راشد
آزادی کو 65سال گزر چکے ہیں۔یہ عرصہ کسی بھی قوم یا طبقے کو منظم ہونے کے لئے کافی ہوتا ہے،مگر افسوس کی بات ہے کہ اس طویل عرصے میں مسلم تنظیمیں متحد و منظم نہیں ہوسکیں،جس کا فائدہ متعصب سیاسی پارٹیاں،ادارے اور پولیس میں مسلم دشمن ذہنیت کے حامل افسران اٹھا رہے ہیں ۔اگر مسلم تنظیمیںایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر آواز اٹھائی ہوتیںتوبے قصور مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے الزام میں پھنسائے جانے کے سلسلے کو روکا جاسکتا تھا،لیکن اب تک ان تنظیموں نے جذباتی نعروں اور سیاسی فائدہ اٹھانے کے سوا قوم کو متحد کرنے میں کوئی بڑا کارنامہ انجام نہیں دیا ہے۔اب تک سینکڑوں مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی سمیت مختلف الزامات لگا کر سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا ہے۔ ان میں سے کچھ پر الزامات ثابت ہوئے اور ان کے خلاف چارج شیٹ جمع کی گئی تو بہت سے ایسے بھی ہیں جن پر پولیس الزامات طے کرنے میں ناکام رہی اور کورٹ نے انہیں مہینوں جیل میں رہنے کے بعد بری کردیا، مگر بری ہونے کے بعد بھی وہ ذہنی دبائو سے باہر نہیں نکل سکے ہیں۔ ابھی چند دنوں پہلے کی بات ہے کہ کرناٹک پولیس نے گزشتہ سال 15 مسلم نوجوانوں کو دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں مختلف مقامات سے گرفتار کیا تھا۔ ان نوجوانوں میں ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کا ایک 26 سالہ جونیئرسائنٹسٹ اعجاز محمد مرزا اور ایک مقامی انگریزی روزنامہ کا 27 سالہ رپورٹر صدیقی اور سید یوسف بھی شامل تھا۔ ان پر یہ الزام تھا کہ وہ مقامی سیاست داں اور مقامی سنگھی صحافیوں کوقتل کرنا چاہتے تھے ۔اس کے علاوہ ان کے نشانے پر جنوبی ہند کے اہم ڈیفنس ادارے تھے ،مگر جب معاملہ کرناٹک پولیس سے اے این آئی کی طرف منتقل ہوا تو ساری سنگین دفعات کو حذف کرکے 12 افراد کے خلاف نئی چارج شیٹ داخل کی گئی۔اس نئی چارج شیٹ میں اے این آئی نے صدیقی، سید یوسف اور مرزا کا نام خارج کردیا۔کیونکہ ان کے خلاف کسی طرح کے واقعاتی ثبوت اے این آئی کو نہیں ملے۔ثبوت موجود نہ ہونے کی وجہ سے این آئی اے کی خصوصی عدالت نے اعجاز مرزا کو گزشتہ ہفتہ ضمانت پر رہا کردیا ۔6 ماہ تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند رہنے کے بعد مرزا ضمانت پر باہر آیا تو اس کی آنکھوں کاکرب اور شکن آلود پیشانی اس کے اندر کے درد کو بیان کر رہی تھی۔ دراصل مرزا کی گرفتاری کے بعد ہی ڈی آر ڈی او نے انہیں ملازمت سے بر طرف کردیا تھا۔ وہ کچھ دنوں پہلے ہی اس ادارے کے لیب میں جونیئر سائنٹسٹ کے طور پر شامل ہوا تھا۔الزام ثابت ہونے سے پہلے ہی اسے ملازمت سے برطرف کردینے سے یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ ہمارے ملک میں کچھ ایسے ذہن کام کر رہے ہیں جو ذات برادری کی تفریق پر یقین رکھتے ہیں اور مسلمانوں کو ایک الگ نظریے سے دیکھتے ہیں۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ ایک طرف کرنل پروہت ، جو سالوں سے جیل میں بند ہے اور اس پر کئی طرح کے دہشت گردانہ الزامات بھی ہیں، اس کے باوجود آج تک اس کے اکائونٹ میں تنخواہ جمع کی جارہی ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ وہ جیل میں بند ہے پھر بھی اس کی نوکری بر قرار ہے اور اس کی تنخواہ بھی جمع ہورہی ہے، جبکہ دوسری طرف اعجاز مرزا پر کسی طرح کا کوئی الزام ثابت بھی نہیں ہوا ،کورٹ نے اسے ضمانت پر رہا بھی کردیا ہے، اس کے باوجود اس کی ملازمت ختم کردی گئی۔ بغیر کسی گناہ کے نوکری جانے کا مرزا کو بے حد افسوس ہے ۔

دہشت گردی کی ہر واردات کے بعد شک کی سوئی مسلمانوں پر ہی اٹھتی ہے۔ ان رہا ہونے والے نوجوانوں کی بازآبادکاری کی ذمہ داری ان ہی ایجنسیوں پر ڈالنی چاہئے، جنہوں نے انہیں اس صورتحال سے دوچار کیا ہے۔ ممبئی کے ممتاز قانون داں یوسف مچھالہ کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے الزامات سے بری ہونے والے نوجوانوں کی باز آبادکاری ہونی چاہئے، ان کو معاوضہ ملنا چاہئے۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے ملک میں اس طرح کے معاملات میں معاوضہ کا التزام تو ہے، مگر موجودہ قانونی راستہ طویل طلب ہے۔ اس لئے اس قانون کو سہل بنایا جائے۔ اس کے علاوہ بلاوجہ گرفتار کرنے والے افسروں اور تفتیشی اداروں کو جوابدہ بنایا جائے۔ ممتاز سماجی کارکن شبنم ہاشمی کا کہنا ہے کہ بنگلور میں 2اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی باعزت رہائی کوئی نیا واقعہ نہیں۔ ارباب اقتدار کو اپنی تفتیشی ایجنسیوں ، خاص کر مختلف ریاستوں میں دہشت گرد مخالف ایجنسیوں پر نظر رکھنی ہو گی۔

وہ ڈیفنس میں رہ کر ملک کے لئے کوئی عظیم کارنامہ انجام دینا چاہتاہے ۔اس کی خواہش ہے کہ وہ ڈی آر ڈی او میں دوبارہ بحال ہوکر سائنس کی دنیا میں کوئی اہم کام کرے۔مگر شاید وہ ایسا نہ کر پائے گا، کیونکہ وہ مسلمان ہے اور اس ملک میں مسلمان کے ساتھ کسی نہ کسی شکل میں تعصب برتا جاتا ہے۔اس تعصب کے پیچھے جہاں ہماری کچھ سیاسی پارٹیاں ذمہ دار ہیں، وہیں یہ مسلم تنظیمیں بھی ذمہ دارہیں، جو قوم کے مفاد پر اپنے مفاد کو ترجیح دیتی ہیں اور ان دونوں کے بیچ میں پس رہا ہے بیچارہ مسلمان۔ اگر مسلم تنظیمیں مخلص ہوتیں ، تو مسلمانوں کے مسائل کو متحد ہوکر اٹھاتیں اور حکومت کو مجبور کرتیں کہ وہ ان پر ہورہے مظالم پر روک لگانے کے لئے قانون بنائے،لیکن ایسا ہونہیں رہا ہے۔ہر تنظیم الگ الگ دکان سجا کر اپنا سودا بیچنا چاہتی ہے۔ چاہے وہ جامع مسجد کے منبر سے سید احمد بخاری ہوں یا فتحپوری شاہی مسجد کے منبر سے مفتی مکرم ،جمعیت علماء ہند کے پلیٹ فارم سے سید ارشد مدنی ہوں یا محمود مدنی یا جماعت اسلامی کی طرف سے بلند ہونے والی آواز۔ان کی آوازوں میں دم نہیں ہوتا ،کیونکہ یہ جماعتیں الگ الگ رہ کر اپنا وجود منوانا چاہتی ہیں ۔حالانکہ سب کا نعرہ ایک ہے اور مطالبہ بھی ایک ہے۔ اگر یہ تمام مسلم تنظیمیں متحد ہوکر حکومت پر دبائو بنائیں ، تو اس کا خاطر خواہ فائدہ سامنے آسکتا ہے اور حکومت ملک کی دوسری سب سے بڑی اکثریت کے لئے سوچنے پر مجبور ہوسکتی ہے، پولیس بھی اس کے خلاف سازش رچتے وقت سو بار سوچے گی ۔
اعجاز مرزا ہو یا مطیع الرحمن صدیقی یا ان جیسے سینکڑوں مسلم نوجوان ،جن کو بلا جواز پولیس نے گرفتار کیا اور الزام ثابت نہ ہونے کی وجہ سے انہیںرہا کردیا گیا۔ وہ رہا تو ہوگئے لیکن رہا ہونے کے بعد ان کا مستقبل کس طرح دائوپر لگ جاتا ہے ،سماج میں انہیں کس طرح اچھوت بنا دیا جاتاہے، یہاں تک کہ کمپنیاں بھی انہیں ملازمت دینے سے کتراتی ہیں۔اس درد کو صرف وہی سمجھ سکتا ہے، جس کے ساتھ ایسا ہوا ہے۔یہی نہیں بہت سے نوجوان تو ایسے بھی ہیں، جن سے گناہ قبول کرانے کے لئے پولیس نے ان پر تھرڈ ڈگری کا استعمال کیا،جس کی وجہ سے باہر آنے کے بعد بھی ان کا جسم محنت و مزدوری کرنے کے قابل نہیں رہا ۔پولیس کا یہ رویہ قانون کے حساب سے سراسر غلط ہے۔خود اعجاز مرزا اس بات کا اعتراف کررہے ہیں کہ ان سے طرح طرح کے سوالات کیے جاتے تھے ، ان سے پوچھا جاتا کہ وہ دہشت گردی کی تربیت کے لئے پاکستان گئے تھے اور ڈی آر ڈی او میں جوائن کرنے کا ان کا مقصد کیا تھا۔ انہوں نے ان تمام الزامات سے انکار کیا، تو ان پر یقین نہیں کیا گیااور مزید سختی کی گئی۔
بہر کیف جو نوجوان رہائی پاکر جیل سے باہر آچکے ہیں ، ان کے سامنے پوری زندگی پڑی ہوئی ہے۔ اب وہ اپنی بقیہ زندگی کا سامنا کس طرح کر سکیں گے؟پولیس اور انتظامیہ کا یہ رویہ ملک کے روشن خیال اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان کیلئے ایک بڑا دھکہ ہے۔جب حکومت کی توجہ اس طرف دلائی جاتی ہے تو انتہائی غیر ذمہ دارانہ جواب دیا جاتا ہے۔لوک سبھا میں کچھ ممبروں نے بے قصور مسلمانوں کی گرفتاری کی طرف حکومت کی توجہ دلائی تو اس کے جواب میں جو کہا گیا ،اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حکومت مسلمانوں کے بارے میں کتنا سنجیدہ ہے۔وزیر مملکت آر پی این سنگھ نے کہا کہ ’’ قانون اپنا کام کررہا ہے‘‘۔یہاں پر سوال قانون کا نہیں ہے بلکہ قانون کے طریقۂ نفاذکا ہے،جس میں مسلم اور غیر مسلموں میں تفریق برتی جاتی ہے۔اس تفریق پر ملک کے دانشور بارہا اپنی تشویش کا اظہار کرچکے ہیں۔ چنانچہ سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کے سینئر لیڈر جعفرشریف کہتے ہیں کہ این آئی اے نے تو کلین چٹ دیدی ہے ، مگر ان نوجوانوں پر لگے داغ کو کون مٹائے گا۔ دہشت گردی کی ہر واردات کے بعد شک کی سوئی مسلمانوں پر ہی اٹھتی ہے۔ ان رہا ہونے والے نوجوانوں کی بازآبادکاری کی ذمہ داری ان ہی ایجنسیوں پر ڈالنی چاہئے، جنہوں نے انہیں اس صورتحال سے دوچار کیا ہے۔ ممبئی کے ممتاز قانون داں یوسف مچھالہ کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے الزامات سے بری ہونے والے نوجوانوں کی باز آبادکاری ہونی چاہئے، ان کو معاوضہ ملنا چاہئے۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے ملک میں اس طرح کے معاملات میں معاوضہ کا التزام تو ہے، مگر موجودہ قانونی راستہ طویل طلب ہے۔ اس لئے اس قانون کو سہل بنایا جائے۔ اس کے علاوہ بلاوجہ گرفتار کرنے والے افسروں اور تفتیشی اداروں کو جوابدہ بنایا جائے۔ ممتاز سماجی کارکن شبنم ہاشمی کا کہنا ہے کہ بنگلور میں 2اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی باعزت رہائی کوئی نیا واقعہ نہیں۔ ارباب اقتدار کو اپنی تفتیشی ایجنسیوں ، خاص کر مختلف ریاستوں میں دہشت گرد مخالف ایجنسیوں پر نظر رکھنی ہو گی۔ کیونکہ خفیہ ایجنسیوں میں کچھ لوگ منظم طریقے سے مسلمانوں خصوصاً اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں‘۔اگر یہ صورت حال رہی تو ایسے لوگ نہ صرف مسلمانوں کو نقصان پہنچائیںگے، بلکہ ان کی وجہ سے ملک کا امن و سکون بھی دائو پر لگ جائے گا۔حکومت اور انتظامیہ کو ایسے امن مخالف اور منفی سوچ رکھنے والے اداروں، پارٹیوں اور تنظیموں پر لگام کسنی چاہئے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *