خوب منائیے جشن ! مسلمانوں کے لئے تو آپ نے کچھ نہیں کیا

وسیم راشد
ابھی کچھ دنوں پہلے دہلی میں شیلا سرکار کے چودہ سال مکمل ہونے پر سکریٹریٹ میں ایک شاندار تقریب منعقد کی گئی۔ اس تقریب میں کانگریس کے لیڈروں نے شیلا سرکار کی خوب تعریف کی۔خود شیلا دیکشت نے گزرے ہوئے چودہ برسوں میں اپنی بہترین کارکردگی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’وہ دہلی کو انتظامی معاملوں میں رول ماڈل بنانے کا عزم رکھتی ہیں‘‘۔شیلا دیکشت کے اس بیان پر بھلا کسی کو کیا اعتراض ہوسکتاہے۔ہر وزیر اعلیٰ کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اپنی ریاست کو رول ماڈل بنانے کے بارے میں سوچے اور اس سوچ کو حقیقت میں بدلنے کے لئے مناسب حکمت عملی تیار کرے۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف تقریب منعقد کرلینے، اپنوں کی طرف سے تعریفی الفاظ سن لینے اور لفظی بیان بازی کرلینے سے کسی خواب کو شرمندۂ تعبیر کیا جاسکتا ہے ؟ نہیں ! بلکہ اس کے لئے ضرورت ہوتی ہے عملی اقدام کی۔

 گزشتہ چودہ برسوں میں راجدھانی میں مسلمانوں کے لئے بے شمار اعلانات ہوئے۔ جیسے اردو اساتذہ کی بحالی، مدرسہ بورڈ کی تشکیل، مئی 2012 کے بجٹ میں مسلم بے روزگاروں کے لئے خصوصی اسکیموں کا اعلان،کم سود پر قرضوں کی فراہمی وغیرہ ، مگر اس پر عمل نہیں ہوا۔اگر کچھ اقدام ہوئے بھی تو اس میںاتنی سخت شرطیں رکھ دی گئیں، جن کو پورا کرنا ایک عام آدمی کے بس کی بات نہیں تھی۔شیلا سرکار کی حکومت میں نہ صرف مسلمانوں کو معاشی اعتبار سے کمزور کرنے کی کوشش کی گئی بلکہ ذہنی اذیت کے لئے بھی انہیں طرح طرح سے آزمایا گیا ۔ چنانچہ مہرولی مسجد کا تازہ واقعہ اور اکبری مسجد پر شیلا سرکار کی پر اسرار خاموشی بھی مسلمانوں کے تئیں شیلا سرکار کی سوچ کا پتہ دے رہی ہے۔

گزشتہ چودہ برسوں میں شیلا دیکشت کی قیادت میں دہلی میں ترقیاتی کام تو ہوئے ہیں،اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے، مگر ان ترقیاتی کاموں کی فہرست میں ملک کا ایک پسماندہ طبقہ جس کو دلتوں سے بھی پچھڑا ہوا کہا گیا ہے،کیااس کے لئے بھی خصوصی طور پر کچھہوا؟سچائی تو یہ ہے کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ان چودہ برسوں میں شیلا کی ترقیاتی اسکیموں میں مسلمان کہیں بھی نظر نہیں آرہے ہیں ۔اگر نظر آ بھی رہے ہیں تو بالکل پچھلی صف میں ۔ سرکاری اعدا دو شمار کے مطابق دہلی میں تقریباً 3 فیصد مسلمان ہیں،جو ریاست کے مختلف حصوں میں بسے ہوئے ہیں، مگر صورت حال یہ ہے کہ ان مسلمانوں کی کالونیوں میں داخل ہوتے ہی محسوس ہونے لگتا ہے کہ سرکار نے ان کی ترقی  کے لئے کیا کام کیا ہے۔ ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، کھلی ہوئی نالیاں،گھر کے سامنے کوڑوں کا ڈھیر اور سب سے بڑی بات یہ کہ مسلم محلوں میں اسکولوں کا قحط۔ اگر اسکول ہے بھی تو اس کی بوسیدہ عمارتیں اور لنگڑی لولی کرسیاں اور ٹیبل جواپنی بے بسی کی داستان سناتے ہیں۔یہی نہیں جو اسکول ہیں،ان میں اساتذہ نہیں،اگر ہیں بھی تو اس سبجیکٹ کے لئے نہیں جس کو مسلم بچے پڑھنا چاہتے ہیں۔ مسلم محلوں میں بچے کم سے کم ایک سبجیکٹ اردو کا رکھنا پسند کرتے ہیں مگر بے شمار ایسے اسکول ہیں جس میں اردو استاذ نہیں ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ کئی ایسے بھی اردو میڈیم اسکول ہیں جہاں پرنسپل کے عہدے کو ہندی میڈیم کے ٹیچر سے پُر کیا گیا ہے۔ جو دیگر میڈیم کے اسکول ہیں وہاں بھی مسلم بچے بڑی تعداد میں پڑھتے ہیں اور یہ بچے ایک سبجیکٹ اردو رکھنا چاہتے ہیں، مگر ان اسکولوں میں اردو سے انتظامیہ کو ایسا بیر ہے کہ وہاں اردو ٹیچرکا عہدہ رکھا ہی نہیں گیا۔حالانکہ حکومت ایسے معاملوں کو عوام سے خاص طور پر مسلمانوں سے خفیہ رکھنا چاہتی ہے،مگر آر ٹی آئی ایک ایسا قانون ہے جس کی وجہ سے حکومت کی یہ سازش طشت از بام کر دی جاتی ہے ۔ چنانچہ ابھی حال ہی میں ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر قاسم رسول الیاس کی جانب سے ایک آر ٹی آئی داخل کی گئی ،جب اس کا جواب آیا تو انتہائی چونکانے والا تھا۔ اس جواب سے معلوم ہوا کہ قومی راجدھانی دہلی جہاں کی دوسری سرکاری زبان اردو ہے، کے این ڈی ایم سی کے گیارہ سرکاری اسکولوں میں اردو ٹیچر کا کوئی عہدہ ہی نہیں رکھا گیا ہے۔ جبکہ بارہا شیلا دیکشت اس بات کا اعتراف کرچکی ہیں کہ اردو ایک کلچرل لنگویج ہے اور اردو سے دلی کی تہذیب زندہ ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اس ثقافتی زبان کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا ہے۔ شاید اس لئے کہ اس زبان سے جڑنے والے زیادہ تر مسلمان ہیں اور مسلمانوں کو معاشی اعتبار سے کمزور کرنا شیلا سرکار یا دوسرے لفظوں میں کانگریس سرکار کی پالیسی ہے۔یہی وجہ تو ہے کہ گزشتہ چودہ برسوں میں راجدھانی میں مسلمانوں کے لئے بے شمار اعلانات ہوئے ۔جیسے اردو اساتذہ کی بحالی، مدرسہ بورڈ کی تشکیل، مئی 2012 کے بجٹ میں مسلم بے روزگاروں کے لئے خصوصی اسکیموں کا اعلان،کم سود پر قرضوں کی فراہمی وغیرہ ، مگر اس پر عمل نہیں ہوا۔اگر کچھ اقدام ہوئے بھی تو اس میںاتنی سخت شرطیں رکھ دی گئیں، جن کو پورا کرنا ایک عام آدمی کے بس کی بات نہیں تھی۔شیلا سرکار کی حکومت میں نہ صرف مسلمانوں کو معاشی اعتبار سے کمزور کرنے کی کوشش کی گئی بلکہ ذہنی اذیت کے لئے بھی انہیں طرح طرح سے آزمایا گیا ۔ چنانچہ مہرولی مسجد کا تازہ واقعہ اور اکبری مسجد پر شیلا سرکار کی پر اسرار خاموشی بھی مسلمانوں کے تئیں شیلا سرکار کی سوچ کا پتہ دے رہی ہے۔ اگر غور کیا جائے تو یہ بات بالکل صاف ہے کہ ریاست میں ترقی کے جو ڈھنڈورے پیٹے جارہے ہیں اور ترقی کے لئے جو بھی کام ہوئے ہیں، ان میں مسلمان کو بہت کم حصہ دیا گیا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ یہ صورت حال صرف قومی راجدھانی دہلی یا کانگریسی سرکاروں میں ہی نہیں ہے، بلکہ ایسی ریاستوں کا بھی وہی حال ہے ،جہاں حکومت سازی میں مسلمانوں کے ووٹ کا اہم رول رہتا ہے۔ اس کی مثال ہم اتر پردیش سے دے سکتے ہیں ،جہاں سماجوادی پارٹی کو اقتدار تک لانے میں مسلمانوں نے اہم کردار ادا کیا ہے ،جس کا اعتراف خود ملائم سنگھ یادو کرچکے ہیں ۔ مسلمانوں کے بل پر ہی بڑی کامیابی حاصل کرنے کے بعد ریاست کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے اپنی حکومت کا ایک سال مکمل کرلیا ہے ۔ اس ایک سال کے مکمل کرلینے پر ان کے ارد گرد جمع پارٹی کارکنان ان کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملارہے ہیں لیکن سچائی یہ ہے کہ انہوں نے بھی ریاست میں مسلمانوں کے لئے اب تک کوئی ترقیاتی کام نہیں کیا ہے۔بلکہ دیکھا جائے تو اس ایک سال کے عرصہ میں اس حکومت نے مسلمانوں کو کئی گہرے زخم دیے ہیں،خاص طور پر بے شمار فرقہ وارانہ فساد کی شکل میں مسلمانوں کی جان و مال کا زبردست خسارہ ہوا ہے، لہٰذا یہ کہنا بجا ہوگا کہ جس طرح دہلی میں شیلا سرکار اپنے چودہ سال مکمل کرلینے پر خود ہی تالیاں بجا کر خوش ہو رہی ہے اور یہ سمجھتی ہے کہ عوام بیوقوف ہے اور وہ جیسا کہہ رہی ہے، عوام ویسا ہی سمجھ رہے ہیں،یہی حال یوپی میں اکھلیش سرکار کا بھی ہے۔ ایک سال مکمل ہونے پر کارکنان اخباروں میں اکھلیش کی ترقیاتی کاموں کو بڑھ چڑھ کر گنوا رہے ہیں ،مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ پوری ریاست میں لا ء اینڈ اڑڈر کی صورت حال افسوسناک بنی ہوئی ہے۔مسلمانوں کا اعتماد ان پر سے اٹھتا جارہا ہے۔
کیسا عجیب اتفاق ہے کہ ایک طرف قومی راجدھانی دہلی میں شیلا سرکار اپنے چودہ سال مکمل کرنے پر تقریب منعقد کررہی ہیں۔ یو پی میں اکھلیش یادو اپنی سرکار کے ایک سال پوراہونے پر مبارکباد وصول کر رہے ہیں۔ مرکز میں سونیا گاندھی کے بطور صدر پندرہ سال مکمل کرلینے پر خوشیاں منائی جارہی ہیں لیکن دوسری طرف بیچارے مسلمان ہیں جن کو آزادی حاصل کئے ہوئے 65 سال گزر چکے ہیں، مگر انہیں جشن منانے کا کوئی موقع ہاتھ نہیں لگ رہا ہے کیونکہ  ان 65 برسوں میں ان کی معاشی پسماندگی بد سے بد تر یہاں تک کہ دلتوں سے بھی بد تر ہوچکی ہے۔ جان و مال کا تحفظ ان کے لئے ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔ان کا تعلیمی نظام بکھرا ہوا ہے اور ان کے بچے بے روزگاری کی زد میں ہیں۔ ایسے میں ملک کا مسلمان صرف یہ سوچ کر پریشان ہے کہ آخر سونیا پندرہ سال مکمل ہونے پر کیوں خوش ہیں ۔انہیں کس بات کی مبارکباد دی جارہی ہے۔ شیلا دیکشت چودہ سال مکمل ہونے پر کیوں جشن منارہی ہیں اور اکھلیش یادو کس بنیاد پر خود کو مسلم نواز کہہ رہے ہیں۔کیا انہوں نے اپنیوعدے پورے کر لئے۔کیا مسلمانوں کی معاشی اور تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کے لئے اور انہیں روزگار فراہم کرنے کے لئے ریاستی اور مرکزی سطح پر مخلصانہ عملی اقدام کیا گیا ہے۔اگر عملی اقدام ہوا ہے تو پھر مسلمانوں کی حالت اب تک بد حال کیوں ہے اور اگر انہوں نے اپنے وعدے پورے نہیں کئے ہیں اور ملک کی دوسری سب سے بڑی اکثریت کی پسماندگی کو دور کرنے میں ناکام ہیں تو پھر سال و ماہ کے مکمل کرلینے پر کیسا جشن، کیسی خوشی اور کس طرح کی مبارکباد۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *