غریب کسان خودکشی نہ کریں تو کیا کریں

وسیم راشد
فروری2008 میں یو پی اے حکومت نے کسانوں کے قرضوں کی معافی کا اعلان کیا تھا۔ اس اسکیم نے کسانوں کو جیسے نئی زندگی دے دی تھی اور ظاہر ہے، اس فیصلہ سے کسانوں کو پہلی بار بڑی راحت ملنے والی تھی۔ اس اسکیم کا فائدہ ان کسانوں کو ہونا تھا، جنھوں نے بینکوں سے کھیتی کے لیے قرض لیے تھے۔ 52000 کروڑ سے بڑھا کر یہ رقم 60416 کروڑ روپے کر دی گئی تھی۔ یہ اسکیم صرف 30 دن کے لیے تھی۔ 30 جون، 2008 تک یہ اسکیم بند کر دی گئی۔ 2008 میں جب پی چدمبرم نے اس کا اعلان کیا، تب انھوں نے فخریہ کہا تھا کہ اس کا فائدہ سیدھے طور پر کسانوں کو ملے گا، مگر ہوا ٹھیک اس کے برعکس۔ یو پی اے حکومت نے کسانوں کو کوئی راحت نہیں پہنچائی۔ منموہن سنگھ ماہر اقتصادیات ہونے کے باوجود کسانوں کے لیے کوئی بہتر اسکیم بنا ہی نہیں پائے اور نہ اس سسٹم کو سمجھ پائے کہ غریب کسان بینک سے لون لینے کے بجائے مہاجنوں سے قرضہ لینا بہتر سمجھتے ہیں، کیونکہ ان کو نہ تو بینک کے سسٹم کا پتہ ہے اور نہ ہی ان کو لکھنا پڑھنا آتا ہے کہ وہ تمام ضروری ہدایات کو پورا کریں۔ اگر پلاننگ کمیشن کے اعداد و شمار پر جائیں، تو پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان کے تقریباً 8 کروڑ کسان اب بھی لون لینے کے سسٹم کو نہیں سمجھ پائے ہیں اور نہ ہی اس کا فائدہ اٹھا پاتے ہیں، صرف بڑے کسان ہی بینکوں سے قرض لیتے ہیں اور اس کا استعمال وہ زراعت سے زیادہ دوسرے کاموں پر کرتے ہیں۔ وہ اس پیسے کو فکسڈ ڈپوزٹ کر کے یا اسی پیسے کو دوسرے چھوٹے کسانوں کو قرضہ دے کر، اس کا زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ یو پی اے حکومت کو ان تمام باتوں کا پتہ نہیں ہے یا منموہن سنگھ ان تمام الٹ پھیر اور گھوٹالوں کو نہیں جانتے۔ ہاں، وہ ووٹ لینے کی سیاست سے خوب واقف ہیں۔ اس اسکیم کا اصل مقصد غریب کسانوں کو فائدہ پہنچانا کم اور سیاسی فائدہ اٹھانا زیادہ تھا۔ CAG کی رپورٹ سامنے نہ آتی، تو کبھی بھی ملک کے معصوم عوام کو یو پی اے حکومت کی منشا سمجھ میں نہیں آتی،  جس میں اس زرعی قرضہ معاف اسکیم کو پوری طرح سیاسی فائدہ کے لیے استعمال کیا گیا۔ یہ ایک ایسا گھوٹالہ ہے، جس میں سرکاری خزانے کا پیسہ غریب کسانوں کے نام پر پوری طرح سیاست کی چال کے بڑے مہروں نے اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا اور ایسا نہیں ہے کہ اس اسکیم کا سیاسی فائدہ نہیں ہوا۔ اس اسکیم کے تحت حکومت نے تمل ناڈو میں قرض معاف کیا۔ اس کے بعد آندھرا پردیش اور مہاراشٹر میں اس اسکیم کا پیسہ خرچ ہوا۔

’’سرکار کسان مخالف کام نہیں کر ے گی۔ ‘‘یہ بیان وزیر اعظم منموہن سنگھ کا ہے۔ کسان مخالف کام اس سے زیادہ اور کیا ہوگا کہ 52000کروڑ روپیہ جو کسانوں کے قرضے معافی کے لیے مختص کیا گیا تھا، وہ کسانوں تک پہنچا ہی نہیں اور جن کو پہنچا وہ اس کے حقدار ہی نہیں تھے۔ چوتھی دنیا نے اکتوبر 2012 میں ہی اس گھوٹالہ کا انکشاف کیا تھا۔ میرے ساتھی صحافی ڈاکٹر منیش کمار نے اس گھوٹالہ کے تمام پہلوئوں کو پیش کیا تھا، جس میں انھوں نے صاف طور پر بتایا تھا کہ اس گھوٹالے میں غریب کسانوں کے نام پر روپیوں کی بندربانٹ ہوئی ہے اور کسانوں کی قرض معافی اسکیم میں گڑبڑی پائی گئی ہے۔ ظاہر ہے، اس اسکیم کا فائدہ انہیں لوگوں نے اٹھایا جو اس کے اہل نہیں تھے اور اس میں سب سے زیادہ حیران کن بات یہ تھی کہ اس اسکیم کا سب سے غلط استعمال ان ریاستوں میں ہوا تھا، جہاں کانگریس کو 2009 کے لوک سبھا انتخاب میں سب سے زیادہ اکثریت حاصل ہوئی تھی۔ اب جو CAGکی رپورٹ سامنے آئی ہے، وہ ہو بہو ہماری ریسرچ اور ہمارے انکشاف کا ہی خلاصہ ہے۔

اس اسکیم کے جو خاص نکات تھے، ان کے تحت پانچ ایکڑ سے کم زمین والے کسانوں کا پورا قرضہ معاف کیا جانا تھا اور دوسرے کسان، جن کے پاس پانچ ایکڑ سے زیادہ زمین ہے اور 2.5 ایکڑ ہے اور 2ہیکٹیئر سے زیادہ ہے، ان کو بھی اس اسکیم کے تحر راحت ملنی تھی۔ اس اسکیم کی ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ قرض کا ایک حصہ چکانے پر باقی قرضہ بھی معاف کیا جانا تھا۔ جس وقت اس اسکیم کو لاگو کیا گیا تھا، اس وقت پی چدمبرم نے فخریہ انداز میں کہا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ ہم 30 جون، 2008 تک اس اسکیم کو کامیابی کے ساتھ لاگو کر لیں گے اور اس کے تحت چار کروڑ کسانوں کو اس کا فائدہ پہنچے گا، مگر ہوا اس کے برعکس۔ ضرورت مند کسانوں کو اس کا فائدہ تو کیا پہنچا، بینکوں نے جن کسانوں کا قرضہ معاف کیا، ان کی صحیح پہچان ہی نہیں کر پایا۔ ہر پانچ میں سے ایک کیس میں گڑبڑی پائی گئی ہے۔ سی اے جی کی رپورٹ دیکھیں اور اس کا تجزیہ کریں، تو پتہ چلتا ہے کہ 80 ہزار 299 میں سے 8.5 فیصد وہ کسان، جو اس اسکیم کے اہل نہیں تھے، ان کو اس کا سیدھا فائدہ ملا، یعنی ان کو اس کا فائدہ ملنا ہی نہیں چاہیے تھا۔ دوسری طرف، 13.46 فیصد وہ کسان، جنہیں اس کا فائدہ ملنا چاہیے تھا، انہیں اس اسکیم کے تحت اس فائدے کے لائق ہی نہیں سمجھا گیا، یعنی 1257 وہ کسان، جو صحیح معنوں میں اس کے حقدار تھے، انہیں اس اسکیم کا پتہ ہی نہیں۔ 20.25 کروڑ روپے ایسے کسانوں کو ملے، جو قرض معافی کے بالکل لائق ہی نہیں تھے اور تقریباً 2824 معاملوں میں Temper کرنے یعنی چھیڑ چھاڑ کرنے کے ثبوت ملے ہیں۔ اسی طرح تقریباً 34%کسانوں کو قرض معافی کے سرٹیفکٹ ہی نہیں ملے۔  اس کے نفاذ میں بھی گڑبڑ یاں کی گئی ہیں۔ 164 کروڑ روپے کے قرض کی رقم کسی پرائیویٹ کمرشیل بینک کو دی جانی تھی، لیکن یہ رقم درحقیقت میں مائکرو فائننس انسٹی ٹیوشنز کو دے دی گئی۔ سی اے جی کی رپورٹ تو یہ تک کہتی ہے کہ ریکارڈ سے بھی چھیڑ خانی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ 9 ریاستوں میں، جن 9334 کھاتوں کی جانچ کی گئی، ان میں سے آڈٹ کے بعد 1257، یعنی 13.46 فیصد کھاتوں کو اس اسکیم کے لیے اہل پایا گیا، لیکن قرض دینے والے اداروں نے ان کسانوں کو قرض دینے سے منع کر دیا۔
سی اے جی کی رپورٹ کے اہم نکات پڑھنے کے بعد ایک بات تو سامنے آتی ہے کہ بینکوں کا کردار اس معاملے میں مشکوک ہے۔ بینک اگر صحیح طور پر کام کریں، تو اتنے بڑے پیمانہ پر گھپلے اور گڑبڑ یاں ہو ہی نہیں سکتیں۔ بینکوں میں زبردست بدعنوانی ہے، جس کا ہم ذکر کبھی نہیں کرتے اور ایسا لگتا ہے کہ بینکوں کے پاس پہلے سے ہی ایک فہرست ہے اور اس فہرست کی بنیاد پر وہ بار بار قرض دیتے ہیں۔ اس فہرست کی جانچ ہونی بے حد ضروری ہے، تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ ان تمام گڑبڑیوں میں بینک کی حصہ داری تو نہیں ہے۔ اگر بے زمین، چھوٹے اور غریب کسانوں کے قرض کو معاف کرنے کی سرکار کوئی اسکیم بناتی ہے، تب بھی ایک بار سرکار کی دلیل کو سمجھا جا سکتا ہے، لیکن سرکار غریبوں کے نام پر اسکیمیں بناتی ہے اور فائدہ امیر کسانوں کو پہنچاتی ہے، تو یہ سراسر دھوکہ ہے اور کسانوں کے ساتھ بلکہ غریب کسانوں کے ساتھ بہت بڑی نا انصافی ہے۔ یہ فائدہ کسے ملا ہے، یہ دیکھنا بہت ضروری ہے، کیونکہ کسانوں کو خودکشی کرنے پر ان ہی لوگوں نے مجبور کیا ہے۔ وہ غریب کسان، جنھوں نے سرکار سے امید یں لگا رکھی تھیں، ان کو کس قدر مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہوگا۔ اگر 2008 کی قرض معافی کی یہ اسکیم صحیح معنوں میں لاگو ہو گئی ہوتی، تو ہزاروں کسان خوشحال ہو جاتے ، ان کے بچے پل جاتے۔
اس اسکیم نے امیر کسانوں کو اور امیر اور غریب کسانوں کو مزید غریب بنا دیا۔ کسانوں کو قرضے ملے ہی نہیں۔ کاغذوں پر تو پیسے دکھائے گئے، لیکن اصل میں دیے نہیں گئے اسکیم سے غریب کسانوں کو ہی فائدہ پہنچا تھا، مگر کس کو ملا یہ سوال آج بھی ادھورا ہے۔ اب کس سے پوچھا جائے، کس کی گردن پکڑی جائے۔ بینکوں کے خلاف تو ضرور کارروائی ہونی چاہیے، کیونکہ بینکوں کو ہی Monitoring کرنی تھی۔ اس کی پوری ذمہ داری فائنانس منسٹروں کی ہے۔ RBI کی بھی ذمہ داری بنتی ہے۔
وزیر زراعت شرد پوار نے ایک ایسا جواز دیا، جس پر ہنسی آتی ہے کہ حکومت نے فیصلہ کیا اور پیسہ بینکوں کو بھیجا گیا۔ ریزرو بینک آف انڈیا اور نابارڈ (قومی زراعتی اور دیہی ترقی بینک) کی نگرانی میں بینکوں نے اکائونٹس اور مستحق کسانوں کی فہرست بنائی۔ پیسہ براہِ راست اکاؤنٹ میں بھیجا گیا۔ ایسے میں کیا گڑبڑی کا سوال پیدا ہوتا ہے؟ وزیر موصوف نے ایک طرح سے سیدھے سیدھے سی اے جی پر ہی سوالیہ نشان لگا دیا ہے، یعنی سی اے جی کی رپورٹ غلط ہے۔ وزیر موصوف کا یقین سرکار اور بینکوں پر اتنا ہے کہ وہ یہ بھول گئے کہ سی اے جی وہ ادارہ ہے، جس کی قابلیت پر شبہ نہیں کیا جا سکتا۔ کل اکائونٹس کی تعداد 3.7 کروڑ تھی اور سی اے جی نے 90576 اکائونٹس کو بطور نمونہ لیا، یعنی 0.25 فیصد اکائونٹس کی ہی جانچ کی گئی ہے۔ شردپوار کے مطابق، ملک بھر کے لیے اتنے بڑے پیمانے پر منصوبہ بندوں کی جانچ اتنے جھوٹے اعداد و شمار سے کرنا اور نتیجے پر پہنچنا صحیح نہیں ہے اور ان کے مطابق اس کی اور جانچ ہونی چاہیے۔ مگر وزیر موصوف یہ کیوں بھول رہے ہیں کہ بے ایمانی اور گھوٹالہ تو ہوا ہے اور اس کی وجہ سے نہ جانے کتنے ہی کسانوں نے خودکشی کر لی۔ کتنے گھر اجڑ گئے ، کسانوں کی زمین ہڑپ لی گئی۔ جو چھوٹے کسان ، ساہوکارں اور مہاجنوں سے پیسہ لے کر اپنی زمین جوتتے ہیں اور فصل اگاتے ہیں اور قرضے لے کر اپنی زندگی گزارتے ہیں، ان کسانوں کو تو اس کا کوئی فائدہ ہی نہیں مل پاتا۔ غریب کسانوں کو راحت دینے والی سرکاری اسکیم سے اگر سرکار ہی اپنی جیبیں بھرنے لگے، تو پھر ایسی اسکیموں کا کیا فائدہ ہے۔ سماجوادی پارٹی کے مسٹر ریوتی رمن سنگھ کے اس بیان کو اگر سنجیدگی سے لیں، جس میں انھوں نے کہا ہے کہ اس اسکیم کے مناسب استعمال سے ہزاروں کسانوں کی زندگیاں بچائی جا سکتی تھیں، تو اس اسکیم کے ناکام ہونے پر قصورواروں کو سامنے لانا ہی چاہیے، جو زندگیوں سے کھیل گئے۔ بی ایس پی کے دارا سنگھ چوہان نے جس طرح سے مائکرو فائنانس اداروں سے، جنھوں نے اس اسکیم سے غیر قانونی طور پر فائدہ اٹھایا ہے، رقم وصولی کے لیے فوری قدم اٹھانے کی درخواست کی ہے۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے، تو بھی کافی حد تک کسانوں کے لیے کچھ کیا جا سکتا ہے۔
اس ضمن میں ایک بات بہت اہم ہے کہ جے ڈی یو کے شرد یادو نے کہا ہے کہ انھوں نے اس وقت کے وزیر خزانہ پرنب مکھرجی کی توجہ ان دھاندلیوں کی طرف دلائی تھی اور انھوں نے یقین دلایا تھا کہ صحیح اقدامات کیے جائیں گے۔ بڑی حیران کن بات ہے۔ یہ کیسی حکومت ہے، جہاں سب کو سب کچھ پتہ ہوتا ہے، پھر بھی گھوٹالے ہو جاتے ہیں۔ یو پی اے سرکار، جسے درحقیقت گھوٹالوں کی سرکار کہا جائے، تو بہتر ہوگا۔ ٹوجی گھوٹالہ، کامن ویلتھ گھوٹالہ، کوئلہ گھوٹالہ، ہیلی کاپٹر گھوٹالہ اور نہ جانے کیا کیا گھوٹالہ، ایسی فہرست تو بہت طویل ہے۔ لاتعداد گھوٹالوں کی یہ سرکار کتنی بے شرمی سے اپنا ٹرم پورا کیے جا رہی ہے۔ پورا ملک مہنگائی ، بدعنوانی، فرقہ پرستی کی مار جھیل رہا ہے اور اربوں، کروڑوں کے گھوٹالے ہمارا مقدر بن چکے ہیں۔ ہم غریب عوام کے خون پسینے کی کمائی، جو ہم ٹیکس کی شکل میں دیتے ہیں، وہ ان گھوٹالے بازوں کے پیٹ میں چلی جاتی ہے۔ ہمارے غریب کسانوں کے بچے بھوکے مر رہے ہیں اور ان کے بچے آکسفورڈ، کیمبرج میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور پزا برگر کھا رہے ہیں۔ ہمارے پیٹ کو بھرنے والا کسان آج اپنے خالی پیٹ کو لیے بیٹھا ہے۔ ایسے میں وہ خودکشی نہ کرے تو کیا کرے؟ ملک کا سپریم کورٹ، اپوزیشن، الیکشن کمیشن اور دوسرے اہم ادارے اگر اسی طرح ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے، تو ملک یقینا بک جائے گا اور ہمارے لیڈران ہمیں بیچ دیں گے اور ڈکار بھی نہیں لیں گے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *