سٹیزن چارٹر: دیر سے ملنے انصاف کا کوئی مطلب

ششی شیکھر

انگریزی میں ایک کہاوت ہے ’’جسٹس ڈلیڈ، جسٹس ڈینائیڈ‘‘، یعنی دیر سے ملے انصاف کا کوئی مطلب نہیں رہ جاتا۔ مجوزہ سٹیزن چارٹر بل کے التزامات بھی کچھ ایسے ہی ہیں۔ یہاں سرکاری سروس پانے کے حق کے لیے ایک عام آدمی کو ایک نہیں، دو نہیں، بلکہ تین جگہوں پر اپیل کرنی پڑے گی۔ اور اپیلوں کی حالت کیا ہوتی ہے، اس کا اندازہ اسٹیٹ، سنٹرل انفارمیشن کمیشن اور عدالتوں میں زیر التوا اپیلوں کی تعداد کو دیکھ کر لگایا جاسکتا ہے۔

عام آدمی کی بات کرنے والی موجودہ مرکزی حکومت نے جس طریقے سے شہری اشیاء و خدمات کی متعینہ مدت میں فراہمی اور شکایت نمٹارہ حق بل، 2011، یعنی سٹیزن چارٹر بل کے التزامات بنائے ہیں، وہ کہیں سے بھی عام آدمی کا بھلا کرپانے میں اہل ثابت نہیں ہونے جا رہے ہیں۔ الٹے، یہ نیا انتظام عام آدمی کو نیم عدالتی کارروائی میں الجھانے والا ثابت ہوگا۔ ایک راشن کارڈ بنوانے کے لیے آج ایک غریب آدمی کو جتنی مشکل ہوتی ہے، اتنی ہی مشکل اس بل کے وجود میں آنے کے بعد بھی ہوگی۔ ہمارے ملک میں ضلع عدالتوں سے لے کر سپریم کورٹ تک ہے۔ لیکن آخر ایسے کتنے لوگ ہیں، جو انصاف پانے کے لیے ایک عام آدمی کو کیا کیا پاپڑ نہیں بولنے پڑتے۔ پھر بھی اطلاع مل جائے، اس کی کوئی گارنٹی نہیں ہوتی۔ کچھ اسی طرز پر بنایا گیا سٹیزن چارٹر بل عام آدمی کی مشکلوں کا حل نکال سکے گا، ایسا سوچنا اور ماننا بیوقوفی ہی ہوگی۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر سٹیزن چارٹر بل کو اس کے اصلی روپ میں ہی نافذ کر دیا جاتا ہے، تو اس سے کس کا فائدہ ہوگا؟ سرکاری سروس کا حق دینے والے اس بل کی آخر سب سے زیادہ ضرورت کسے ہے؟ ظاہر ہے، اعلیٰ طبقہ کے لیے سرکاری خدمات پانا زیادہ مشکل نہیں ہوتا۔ تعلیم یافتہ اور شہری متوسط طبقہ کو اس بل سے ضرور کچھ فائدہ ہوگا، لیکن ملک کے زیادہ تر عوام گاؤں میں رہتے ہیں، جہاں تعلیم اور بیداری کی کمی ہے، وہاں یہ بل کتنا کارگر ثابت ہوگا، اس پر شک ہے۔
سب سے پہلے جانتے ہیں کہ آخر سٹیزن چارٹر بل ہے کیا؟ حال ہی میں مرکزی کابینہ نے اس بل کو پاس کیا ہے۔ اس بل کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ اسے حق اطلاع قانون کی طرز پر نافذ کیے جانے کی بات کہی جا رہی ہے۔ مرکز اور صوبہ کے تحت آنے والی سرکاری خدمات کو اس بل کے تحت لایا جائے گا، یعنی انکم ٹیکس رٹرن، پنشن، ذات سرٹیفکیٹ، برتھ اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ، پاسپورٹ، راشن کارڈ جیسی کئی اہم خدمات اس کے دائرے میں آئیں گی۔ اگر متعینہ مدت کے اندر افسر خدمات فراہم نہیں کر پا رہے ہیں، تو ان پر 250 روپے روزانہ کے حساب سے زیادہ سے زیادہ 50 ہزار روپے کا جرمانہ لگایا جائے گا۔ اور اگر کسی آدمی کو متعینہ مدت کے اندر سرکاری خدمت مہیا نہیں ہو پاتی ہے، تو متعلقہ محکمہ کے اندر ہی ایک افسر اس کی شکایت کا نمٹارہ کرے گا۔ یہاں سے بھی وہ آدمی مطمئن نہیں ہوا، تو پھر وہ صوبائی سطح پر صوبائی عوامی شکایت نمٹارہ کمیشن یا مرکزی سطح پر مرکزی عوامی شکایت نمٹارہ کمیشن میں (جیسا بھی معاملہ ہو) اپیل کر سکتا ہے۔ اس کے بعد بھی اگر کوئی آدمی چاہے تو لوک پال / لوک آیُکت کے پاس اپیل کر سکتا ہے۔ بہرحال، ان التزامات سے ایسا لگتا ہے کہ اس بل کے قانون بن جانے سے سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ لیکن، ایسا ہے نہیں۔ 2005 میں آر ٹی آئی قانون آنے کے بعد بھی ایسا ہی کہا جا رہا تھا کہ اس سے بدعنوانی پر لگام لگے گی، لیکن ایسا ہوا نہیں۔ اب، جب کہ سٹیزن چارٹر بل کی بات سرکار کر رہی ہے، تب بھی یہی مانا جا رہا ہے کہ یہ قانون عام آدمی کے سارے مسائل کو دور کر دے گا، لیکن اس قانون کی سب سے بڑی خامی یہی ہے کہ سرکاری افسروں کی جس لیٹ لطیفی سے عام آدمی پریشان ہے، اس سے بچنے کا کوئی علاج اس بل میں نہیں کیا گیا ہے۔ متعینہ مدت کے اندر اگر کوئی سرکاری خدمت نہیں مل پاتی ہے، تو ایک آدمی کو تین سطحوں تک اپیل کرنی پڑے گی۔ اپیل کرنے کے اس عمل میں، بل کے مطابق، کم از کم تین سے چار مہینے لگیں گے۔ یہ عام صورتِ حال ہے، لیکن جیسے ہی ملک بھر میں اپیلوں کی تعداد بڑھے گی، عوامی شکایت نمٹارہ کمیشنوں میں بھی زیر التوا اپیلوں کی تعداد بڑھنے لگے گی۔ نتیجتاً، جس اپیل کا 30 یا 60 دنوں کے اندر نمٹارہ ہونا ہے، اس کے لیے سال دو سال کا وقت لگنے لگے گا۔ آر ٹی آئی، جس طرز پر سٹیزن چارٹر بل بنا ہے، کا تجربہ تو یہی بتاتا ہے۔ دسمبر 2012 تک کے ایک اعداد و شمار کے مطابق، سنٹرل انفارمیشن کمیشن میں 28 ہزار اپیل زیر التوا ہے، جب کہ ہر ایک سنٹرل انفارمیشن کمشنر ہر سال 2800 معاملوں کی سنوائی کر رہے ہیں۔ پارلیمنٹ میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے، مرکزی وزیر وی نارائن سامی نے کہا تھا کہ زیر التوا اپیلوں کی تعداد اس لیے زیادہ بڑھ رہی ہے، کیوں کہ 2006-07 سے 2009-10 کے درمیان آر ٹی آئی درخواستوں کی تعداد کافی تھی۔ ویسے اکیلے سنٹرل انفارمیشن کمیشن میں 28 ہزار معاملے زیر التوا ہیں، وہیں صوبائی انفارمیشن کمیشنوں میں زیر التوا معاملوں کی تعداد الگ سے ہے۔ ایسے میں کسی آرٹی آئی درخواست گزار کو متعینہ مدت کے اندر اطلاعات فراہم کرنے کے سرکاری دعووں کی قلعی کھل جاتی ہے۔ ایسے میں، اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ سٹیزن چارٹر بل کے تحت جو عوامی شکایت نمٹارہ کمیشن بنائے جائیں گے، وہ متعینہ مدت کے اندر اپیلوں کا نمٹارہ کر سکیں گے۔
اورنگ آباد، بہار کے صلاح الدین خاں بتاتے ہیں کہ انہوں نے ڈسٹرکٹ رجسٹرار، لکھنؤ سے آر ٹی آئی کے تحت جون 2012 کو ایک درخواست بھیج کر اپنے مکان کی ڈیڈ کاپی مانگی تھی اور اس کے لیے وہ اس قانون کے تحت طے شدہ فیس بھی جمع کرانے کو تیار تھے، لیکن چھ مہینے بعد بھی انہیں مانگی گئی اطلاع تو کیا، کسی بھی قسم کی اطلاع نہیں ملی۔ پھر انہوں نے ڈسٹرکٹ کلکٹر کے پاس پہلی اپیل اور اسٹیٹ انفارمیشن کمیشن میں دوسری اپیل کی، تب بھی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ آر ٹی آئی کی طرز پر ہی بنایا گیا سٹیزن چارٹر بل کتنا کارگر ثابت ہوگا؟
اس بل سے وابستہ ایک اور اہم مدعا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس بل کو اگر اسی شکل میں نافذ کر دیا جاتا ہے، تو اس سے کس کا فائدہ ہوگا؟ سرکاری خدمت کا حق دینے والے اس بل کی آخر سب سے زیادہ ضرورت کسے ہے؟ ظاہر ہے، اونچے طبقہ کے لیے سرکاری خدمت پانا زیادہ مشکل نہیں ہوتا۔ تعلیم یافتہ اور شہری متوسط طبقہ کو اس بل سے ضرور کچھ فائدہ حاصل ہوگا، لیکن ملک کے زیادہ تر عوام، جو گاؤں میں رہتے ہیں، جہاں تعلیم اور بیداری کی کمی ہے، وہاں یہ بل کتنا کارگر ثابت ہوگا، اس پر شک ہے۔ مثال کے طور پر، گاؤں کے ایک کم پڑھے لکھے اور غریب آدمی کو راشن کارڈ بنوانا ہے۔ وہ بلاک کی سطح پر راشن کارڈ کے لیے درخواست دیتا ہے۔ قاعدے سے زیادہ سے زیادہ 30 دنوں کے اندر اس کا راشن کارڈ بن جانا چاہیے، لیکن کسی وجہ سے، جس میں سرکاری افسر کی لاپرواہی بھی شامل ہے، اس کا راشن کارڈ 30 دنوں کے اندر نہیں بن پاتا ہے۔ اس کے بعد وہ آدمی اسی محکمہ کے بڑے افسر کے پاس اپیل کرے گا۔ وہاں سے بھی اس کا کام نہیں ہوتا ہے، تو اسے اپنے صوبہ کی راجدھانی میں واقع صوبائی عوامی شکایت نمٹارہ کمیشن میں اپیل کرنی پڑے گی۔ وہاں سے بھی انصاف نہیں ملا، تب اس آدمی کو لوک آیکت کے پاس اپیل کرنی پڑے گی۔ اس کے بعد بھی اسے انصاف مل ہی جائے گا، اس کی کوئی گارنٹی نہیں ہے۔ مان لیجئے، اگر کوئی معاملہ مرکزی حکومت کے کسی محکمہ سے جڑا ہوا ہے، تب پھر اس آدمی کو دہلی میں واقع مرکزی عوامی شکایت نمٹارہ کمیشن میں اپیل کرنی پڑے گی۔ اور اگر ایک دو سنوائی کے لیے اسے دہلی یا صوبہ کی راجدھانی تک جانا پڑے، تو پھر کیا ہوگا، اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق، ملک کی قریب 70 فیصد آبادی روزانہ 20 روپے سے کم کی آمدنی پر گزارہ کرتی ہے۔ ایک مزدور، جو اپنے کسی کام کے لیے ایک دن بلاک یا ڈسٹرکٹ آفس جاتا ہے، تو اسے اپنی ایک دن کی مزدوری سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ ایسے میں سمجھا جاسکتا ہے کہ یہ نیا قانون اس طرح کے عام آدمی (جو ملک کی آبادی کا سب سے بڑا حصہ ہے) کا کتنا بھلا کر پائے گا۔
بہرحال، عام آدمی کی بات کرنے والی موجودہ مرکزی حکومت نے جس طریقے سے اس بل کے التزامات بنائے ہیں، وہ کہیں سے بھی عام آدمی کا بھلا کرپانے میں کامیاب ہو پائیں گے، کہنا مشکل ہے۔ ایسے میں یہ ضروری ہے کہ سرکار اس بل میں ایسی ترمیم کرے، جس سے کہ عام آدمی کے لیے اس قانون کا استعمال آسان ہو سکے۔  اطلاعات کے تحت ملنے والی اطلاع کے مطابق، ہندوستان کی مختلف جیلوں میں بند مسلمان قیدیوں کی تعداد اُن کی آبادی کے تناسب سے کہیں زیادہ ہے، لیکن ان میں سے زیادہ تر لوگ چھوٹے موٹے جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں، جنھیں مفت قانونی مدد کے بارے میں معلومات نہیں ہے۔ مطالعے میں شامل زیادہ تر قیدیوں کا تعلق دہشت گردی یا منظم جرائم کے تعلق سے نہیں ہے۔ اس میں سے زیادہ تر، یعنی 71.9 فیصد آپسی تنازعات میں الجھے ہوئے تھے۔ پہلی بار معمولی جرم کے الزام میں جیل جانے والوں کی تعداد 75.5 فیصد تھی۔ سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں مسلمانوں کی آبادی 18.49 فیصد ہے، جبکہ مختلف جیلوں میں بند قیدیوں میں 25.15 فیصد مسلمان ہیں۔ اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ جیلوں میں بند ہر چوتھا قیدی مسلمان ہے۔ اسی طرح بہار میں مسلمانوں کی آبادی 16.53 فیصد ہے، جبکہ جیلوں میں ان کا حصہ 16.76 فیصد ہے۔ کیرالہ میں 24.69 فیصد مسلمان ہیں، جبکہ جیلوں میں 29.95 فیصد مسلمان بند ہیں۔ کرناٹک میں 12.22 فیصد مسلمان ہیں، جبکہ جیلوں میں 15.91 فیصد ہیں۔ تمل ناڈو میں 5.56 فیصد مسلمان ہیں، جبکہ جیلوں میں ان کی تعداد 12.52 فیصد ہے۔ پڈوچیری میں 6.09 فیصد مسلمان آباد ہیں، جبکہ جیل میں ان کی آبادی 4.54 فیصد ہے۔ آندھرا پردیش میں 9.16 فیصد مسلمان رہتے ہیں، لیکن جیلوں میں ان کی تعداد 14.88 فیصد ہے۔ مہاراشٹر میں 10.60 فیصد مسلمانوں کی آبادی ہے، لیکن جیلوں میں وہ 33.68 فیصد ہیں، یعنی ہر تیسرا قیدی مسلمان ہے۔ مدھیہ پردیش میں مسلمانوں کی منجملہ آبادی 6.36 فیصد ہے اور جیلوں میں بندکل قیدیوں میں ان کا فیصد 12.81 ہے۔ گجرات میں 9.6 فیصد مسلمان ہیں، لیکن قیدیوں کی تعداد 22.7 فیصد ہے۔ راجستھان میں 9.54 فیصد مسلمان ہیں اور جیلوں میں ان کی آبادی 18.29 فیصد ہے۔ جموں و کشمیر میں 66.97 مسلمان ہیں، جبکہ جیلوں میں 46.93 فیصد ہیں۔ ہماچل پردیش میں 1.97 فیصد مسلم آبادی ہے اور جیلوں میں وہ 4.17 فیصد ہیں۔ پنجاب میں 1.56 فیصد مسلمان ہیں اور جیلوں میں 4.12 فیصد بھرے ہوئے ہیں۔ چنڈی گڑھ میں 3.95 فیصد مسلمانوں کی آبادی ہے اور جیلوں میں ان کا شرح فیصد 11.34 ہے۔
اسی طرح اتراکھنڈ میں 11.92 فیصد مسلمان ہیں اور جیلوں میں 27.53 فیصد ہیں۔ ہریانہ میں 5.78 فیصد مسلمان رہتے ہیں اور جیلوں میں 9.19 فیصد ہیں۔ دہلی میں 11.72 فیصد مسلمان ہیں اور جیلوں میں 22.71 فیصد مسلمان ہیں۔ سکّم میں 1.42 فیصد مسلمان ہیں، جن میں 0.52 فیصد جیلوں میں ہیں۔ آسام میں مسلمان 30.91 فیصد ہیں، جبکہ جیلوں میں بند کل قیدیوں میں ان کا حصہ 33.79 فیصد ہے۔ میگھالیہ میں 4.27 فیصد مسلمان ہیں، جبکہ 17.49 فیصد جیل کی آبادی کا حصہ ہیں۔ اروناچل پردیش میں مسلمان 1.9 فیصد ہیں اور جیلوں میں 10.90 فیصد ہیں۔ ناگالینڈ میں مسلمان 1.75 فیصد رہتے ہیں، جبکہ جیلوں میں 14.45 فیصد ہیں۔ منی پور میں 8.81 فیصد مسلمانوں کی آبادی ہے اور مسلم قیدیوں کی شرح 16.67 ہے۔ میزورم میں 1.13 فیصد مسلمان ہیں اور جیلوں میں 4.54 فیصد مسلمان بند ہیں۔ تری پورہ میں 7.95 فیصد مسلمان ہیں، جبکہ جیلوں میں 19.24 فیصد ہیں۔ مغربی بنگال میں 25.24 فیصد مسلمان ہیں، جبکہ جیلوں میں بند مسلمانوں کی تعداد 45.60 فیصد ہے۔ جھارکھنڈ میں 13.84 فیصد مسلم آبادی ہے اور جیلوں میں ان کا فیصد 16.47 ہے۔ اسی طرح چھتیس گڑھ میں 1.97 فیصد مسلم آبادی ہے اور 5.21 فیصد مسلم جیل میں بند ہیں، یعنی کل ملا کر ملک میں 13.4 فیصد مسلمان رہتے ہیں، لیکن جیل میں 21 فیصد مسلمان بند ہیں۔
اس سلسلے میں ریٹائر د جسٹس راجندر سچّر کا کہنا ہے کہ میں نے اپنی رپورٹ میں حکومت ہند کو مشورہ دیا تھا کہ پولس میں مسلمانوں کی نمائندگی بڑھائی جائے اور انھیں مسلم آبادی والے علاقوںمیں تعینات کیا جائے۔ مسلم اکثریتی علاقوں کے تھانوں میں مسلم پولس والوں کی تقرری سے شکایت کنندگان کو آسانی ہوگی اور پولس پر جانبداری کا الزام بھی عاید نہیں ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ جن ریاستوں کی جیلوں میں مسلم قیدیوں کی تعداد زیادہ ہے، ان میں زیادہ تر میں سیکولر حکومتیں ہیں۔ مہاراشٹر میں سیکولر حکومت ہے، اتر پردیش میں سیکولر حکومت ہے۔ مغربی بنگال میں سیکولر حکومت ہے۔ کیا کر رہی ہیں یہ سیکولر حکومتیں؟ اتر پردیش کے اقلیتی امور کے وزیر، اعظم خان بھی تسلیم کرتے ہیں کہ بہت سے بے قصور مسلمان نوجوانوں کو دہشت گرد قرار دے کر جیل میں ٹھونس دیا گیا ہے۔ یہی نہیں، فرقہ وارانہ فسادات میں بھی سب سے زیادہ یہی طبقہ نقصان اٹھاتا ہے۔ مسلمان ہی فساد میں مارے جا رہے ہیں اورپولس انھیں لوگوں کو ملزم بنا کر جیل میں بند کر رہی ہے، لیکن اسے روکنے کے لیے ابھی تک کوئی ٹھوس تدبیر نہیں سوچی جا رہی ہے۔ مسلم نوجوانوں پر ظلم کے معاملے میں سی پی ایم کے جنرل سکریٹری پرکاش کرات کی قیادت میں ایک نمائندہ وفد نے گزشتہ برس 17 نومبر کو صدر جمہوریۂ ہند پرنب مکھرجی سے بھی ملاقات کر کے 22 مسلمانوں کے برسوں بعد کورٹ سے بری ہونے کا ذکر کرتے ہوئے ایک میمورنڈم بھی سونپا تھا، جبکہ دوسری طرف کانگریس کے جنرل سکریٹری دگ وجے سنگھ کہتے ہیں کہ اپنے خلاف ہورہے پولس کے مظالم کے سلسلے میں اگر مسلمان بے بسی محسوس کر رہے ہیں، تو یہ کانگریس کی بھی کمزوری ہے۔
بہر حال، مسلمانوں کی حامی ہونے کا دم بھرنے والی پارٹیاں بھی اقتدار میں پہنچنے کے بعد کچھ نہیں کر پا رہی ہیں۔ اتر پردیش میں سماجوادی پارٹی نے الیکشن سے پہلے وعدہ کیا تھا کہ غلط الزام میں پھنسا کر جیل میںڈالے گئے مسلم نوجوانوں کو رہا کر دیا جائے گا، لیکن ابھی تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ پارلیمنٹ میں بھی مختلف سیاسی پارٹیوں نے وقفے وقفے سے آواز اٹھائی ہے۔ اس کے علاوہ جلسہ، جلوس، سیمینار، دھرنا اور احتجاج و مظاہرے بھی کیے گئے ہیں۔ پارلیمنٹ کا الیکشن قریب ہے۔ ہر جماعت جو بظاہر مسلمانوں کی ہمدردی کا دم بھرتی ہے، اس کا بھی امتحان ہے کہ وہ کس طریقے سے ان مسلم بے قصور مسلم نوجوانوں اور بچوں کو انصاف دلانے کا کام کرتی ہے۔

اس لئے ناکام ہو سکتا ہے سٹیزن چارٹر
آر ٹی آئی کے تحت دو اپیلوں کا انتظام ہے، جب کہ سٹیزن چارٹر کے تحت کوئی آدمی تین بار اپیل کر سکے گا۔ ظاہر ہے، اپیل در اپیل کرنے میں کافی وقت لگے گا۔ اس طرح ایک عام آدمی کو، جو سروِس تیس دنوں کے اندر مل جانی چاہیے تھی، وہ شاید ہی مل پائے۔
ابھی تک کا آر ٹی آئی کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ عام طور پر درخواست کرنے والے کو تیس دنوں کے اندر اطلاع نہیں ملتی۔  زیادہ تر درخواست کرنے والوں کے پاس نہ تو اتنا وقت ہوتا ہے اور نہ ہی اتنا پیسہ ہوتا کہ وہ دہلی یا صوبے کی راجدھانی تک آ کر اپیل کرکے سرکاری خدمت حاصل کر سکیں۔
آر ٹی آئی کے تحت انفارمیشن کمیشن کم سے کم جرمانہ لگاتا ہے۔ نتیجتاً، افسروں میں اطلاع فراہم کرنے کو لے کر کسی قسم کا خوف نہیں ہوتا۔ کیا گارنٹی ہے کہ سٹیزن چارٹر ایکٹ ے تحت سروِس مہیا نہ کرانے والے افسروں پر جرمانہ لگایا ہی جائے گا؟
ہندوستان ایک بڑا ملک ہے۔ آر ٹی آئی کا تجربہ بتاتا ہے کہ اپیلوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے اور ان کے مقابلے انفارمیشن کمشنرز کی تعداد اتنی کم ہے یا انفارمیشن کمیشنوں کے کام کرنے کا طریقہ اتنا دھیما ہے کہ کمیشن میں ایک اپیل کی سنوائی میں سالوں لگ جاتے ہیں۔ سٹیزن چارٹر کے تحت بھی ایسا نہیں ہوگا، اس کی کیا گارنٹی ہے؟

سٹیزن چارٹر بل کے تحت ساری ریاستوں کو بھی اس کے دائرے میں لایا جا رہا ہے، جب کہ دس سے زیادہ ریاستوں میں سٹیزن چارٹر ایکٹ یا رائٹ ٹو سروِس ایکٹ پہلے سے ہی موجود ہے۔ ایسے میں مرکزی سٹیزن چارٹر کے تحت ریاستوں کو بھی لانا ہندوستانی آئین کی وفاقی شکل کے خلاف ہے۔ مرکزی حکومت اس بل کو مرکزی خدمات کے لیے نافذ کرے، لیکن اس کی توسیع ریاست تک نہ کرے۔
–  پرکاش جاوڑیکر، قومی ترجمان، بی جے پی

سٹیزن چارٹر بل کے اہم الزامات
آرٹی آئی کی طرز پر نافذ ہونا ہے۔
30 دنوں کے اندر سروِس نہیں ملنے پر کوئی بھی آدمی متعلقہ محکمہ میں اپیل کر سکتا ہے۔
متعلقہ محکمہ میں ایک افسر اپیل کی سنوائی 30 دنوں کے اندر کرے گا۔
یہاں سے بھی اگر کوئی آدمی مطمئن نہیں ہوتا ہے، تو وہ صوبائی / مرکزی عوامی شکایت نمٹارہ کمیشن میں اپیل کر سکتا ہے۔ یہاں 60 دنوں کے اندر نمٹارہ ہونا ہے۔
پھر بھی اگر کوئی آدمی مطمئن نہیں ہوتا ہے، تو وہ لوک پال / لوک آیکت کے پاس اپیل کر سکتا ہے۔
اس ایکٹ کے تحت افسروں پر جرمانے کا التزام ہے۔

سٹیزن چارٹر میں یہ ترامیم ہونی چاہئیں
اپیلیٹ اتھارٹی کی تعداد کم ہونی چاہیے اور ضلع کی سطح پر ہی شکایتوں کا نمٹارہ ہونا چاہیے۔
عام آدمی کو انصاف پانے کے لیے دہلی یا صوبے کی راجدھانی تک نہ جانا پڑے۔
اس کے لیے ضلع کی سطح پر یونیفائیڈ (صوبہ اور مرکز کے لیے) شکایت نمٹارہ کمیشن بنے۔
محکمہ جاتی اور یونیفائیڈ شکایت نمٹارہ کمیشن میں کم از کم وقت کے اندر اپیل کا نمٹارہ ہو۔
لاپرواہ افسروں پر جرمانہ ضرور لگایا جائے اور وہ رقم اپیل کرنے والے کو ملے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *