بجٹ کیسا بھی آئے، مسلمانوں کی تقدیر نہیں بدلتی

وسیم راشد
سال 2013-14 کا بجٹ پیش ہونے سے پہلے بڑی امید تھی کہ اس میں مسلمانوں کے لئے کچھ خاص اعلان ہوگا ۔خاص طور پران کی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کے لئے نہ صرف مختص رقم میں خاطر خو اہ اضافہ کیا جائے گا بلکہ ان کو نافذ کرنے کے لئے ٹھوس حکمت عملی بھی اپنائی جائے گی مگر بجٹ میں ایسا کچھ نظر نہیں آیا ۔حکومت مسلمانوں کی پسماندگی کا اعتراف کرتی ہے اور اس کو دور کرنے کے وعدے بھی کئے جاتے ہیں،مگر زمینی سطح پران وعدوں کو پورا کرنے کی کوشش نظر نہیں آرہی ہے۔ یوں تو مسلمان ہر میدان میں پچھڑے ہوئے ہیں، مگر ان کا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ہے تعلیم کا،جس پر اب تک نہ تو ریاستی سرکاروںاور نہ ہی مرکزی حکومت نے مناسب توجہ دی۔

 آزادی سے اب تک مسلمانوں کے پچھڑے پن کی جو بنیادی وجوہات ہیں، ان میں جہاں حکومت اور انتظامیہ کا متعصبانہ رویہ رہا ہے، وہیں ہماری مسلم تنظیموں کی کوتاہیاں اور بے حسی کا بھی عمل دخل شامل ہے۔ آزادی کے بعد تقریبا ً دو دہائی تک ملک کا مسلمان تقسیم کے ناکردہ گناہ کے احساس تلے دبا رہا اور اس کے بعد وہ جذباتی سیاست کے شکار رہے۔ان کی اس کمزوری کا فائدہ سیاست دانوں نے خوب اٹھایا اور انہیں صرف ایک ووٹ بینک کے سوا کچھ نہیں سمجھا ،مگر اب صورت حال بدل چکی ہے اور مسلم طبقہ جذباتی نعروں پر نہیں بلکہ عملی اقدام میں یقین رکھتا ہے،لہٰذا اگر حکومت واقعی مسلمانوں کو خوشحال دیکھنا چاہتی ہے اور ان کی پسماندگی کو دور کرنے میں مخلص ہے اور یہ چاہتی ہے کہ انہیں اپنا ووٹ بینک بنائے تو بجٹ میں جو رقم مختص کی گئی ہے اس کو خرچ کرنے کے لئے مضبوط حکمت عملی تیار کرے۔

جو سرکاری اسکول ہیں،ان میں بہت سے ایسے اسکول ہیں جہاں مسلم بچوں کیلئے ماحول سازگار نہیں ہیں، وہاں فرقہ وارانہ ذہنیت کی افزائش ہورہی ہے۔اسکولوں میں’ وندے ماترم‘ جیسے بول لازمی بنا کر مسلم بچوں کو اسکول سے دور رکھنے کی کوشش کی گئی۔سوریہ نمسکار لازمی قرار دے کر بچوں کے ذہن کو اپنی شناخت سے دور کرنے کی چال چلی گئی۔یہی نہیں کچھ اسکولوں میں فرقہ وارانہ ذہنیت پیدا کرنے والے مضامین پڑھائے جانے لگے۔اس طرح لاکھوں بچوں کے ذہن میں فرقہ پرستی کا زہر گھول دیا گیا۔ملک کی کچھ سماجی تنظیموں نے ایسے نصاب،تعلیم اور ذہن سازی کے خلاف آواز بلند کی تو حکومت نے اس طرح کے فیصلے تو واپس لے لئے مگر بچوں کے ذہن میں کہیں نہ کہیں نفرت کا بیج تو پڑ ہی گیا۔اس طرح دیکھا جائے تو ایک طرف مسلمانوں کی اقتصادی پسماندگی ان کی تعلیمی پسماندگی کا سبب بنی تو دوسری طرف اسکول میں فرقہ وارانہ ذہنیت نے ان کو تعلیم سے محروم رکھا، اوپر سے حکومت اس سلسلے میں کبھی سنجیدہ نہیں رہی ۔ ہمیشہ ووٹ کی سیاست کی ۔یہی وجہ ہے کہ وزارت برائے اقلیتی امور کے قیام کے باوجود مسلمانوں کا تعلیمی معیار بہتر نہیں ہوسکا۔گزشتہ بجٹ میںاقلیتی محکمے کے لئے جو رقم مختص کی گئی تھی اس کو پورے طور پر طلباء پر خرچ نہیں کیا گیا۔ اگر حکومت چاہتی تو اس رقم کو مستحق طلباء پر خرچ کرکے مسلمانوں کے بچوںمیں تعلیم کا معیار بہتر کرسکتی تھی ،مگر جو رقم مختص کی گئی ، اس کا ایک تہائی حصہ وزارت کے کھاتے میں پڑا رہا،نہ تو اس کے بارے میں مسلم طلباء کو بتایا گیا اور نہ ہی وزارت نے طلباء کو جانکاری دینے اور اسکالر شپ کو مستحق تک پہنچانے میں مخلصانہ کوشش کی ۔ اس کا انجام یہ ہوا کہ کچھ فیصد کے علاوہ تمام رقم مرکز کو واپس بھیج دی گئی۔
اب جبکہ 2013-14 کا بجٹ پیش کیا جا چکا ہے تواس بجٹ میںوزیر مالیات پی چدمبرم نے گزشتہ تعلیمی بجٹ میں 12 فیصد کا اضافہ کیا ہے۔حالانکہ حالیہ بجٹ میں اقلیتوں کی فلاح و بہبود کیلئے مجموعی 3511 کروڑ روپے مختص کرتے ہوئے یہ کہا گیا کہ اقلیتی بجٹ میں 60 فصد کا اضافہ ہوا ہے جبکہ سچائی یہ ہے کہ2012-13 کے بجٹ میں سے صرف 2200 کروڑ روپے ہی خرچ ہوپائے ہیں ۔سرکار 60 فیصد کا اضافہ گزشتہ سال کے مجموعی بجٹ کے حساب سے لگارہی ہے جبکہ حقیقت میں اس کی باقیماندہ رقم کے مطابق جاری بجٹ میں صرف بارہ فیصد کا اضافہ ہوا ہے،جو مسلمانوں کی پسماندگی کے حساب سے ناکافی ہے کیونکہ پانچ نئی مائنارٹی یونیورسٹیوںکے علاوہ جو دیگر تعلیمی منصوبے بنائے گئے ہیں ،ان کو عمل میں لانے کے لئے یہ رقم قطعی طور پر کم ہے۔یہی وجہ ہے کہ وزیر برائے اقلیتی امور کے ۔رحمن نے اس مختصر رقم کو ناکافی کہا ہے اور کہا ہے کہ سپلیمنٹری کی اپیل کی جائے گی۔
بہر کیف جو بھی اضافہ ہوا ہے اس کو مثبت نقطہ نگاہ سے دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ یہ اضافہ ایک اچھا فیصلہ ہے،مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی بھی مسئلے کا حل صرف بجٹ پاس کردینے سے نہیں ہوجاتا۔ اگر بجٹ پاس کردینے سے ہی تمام مسائل حل ہوجاتے تو گزشتہ مالی سال کے بجٹ میں مائنارٹی کے لئے جو رقم مختص کی گئی تھی ،اس سے بہت سے مسلم طلباء کو فائدہ پہنچایا جاسکتا تھا اورمسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کی راہ میں ایک اچھی پیش رفت ہوسکتی تھی، مگر عملی طور پر ایسا ہوا نہیں۔چنانچہ جو صورت حال گزشتہ برسوں میں پیدا ہوئی ، وہی صورت حال اب بھی ہوسکتی ہے اور مختص کی گئی رقم یونہی سرکاری محکمے میں پڑی رہے اور طلباء کو اس سے استفادے کا موقع ہی نہ دیا جائے۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ چدمبرم جی نے جس طرح سے بجٹ میں اضافہ کرکے ایک دانشمندانہ فیصلہ کیا ہے ،اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ اس کے نفاذ کے لئے حکمت عملی تیار کی جائے اور متعلقہ محکمے کو پابند بنایا جائے کہ وہ ان رقموں کو مستحق تک پہنچائے،ورنہ صرف بجٹ پیش کرنے سے مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی دور نہیں کی جاسکتی ہے۔
سچائی کی بات تو یہ ہے کہ مسلمانوں کی تعلیم کے تعلق سے حکومت کبھی مخلص رہی ہی نہیں۔ ان کو صرف ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا اور جب مقصد پورا ہوگیا توانہیں سائڈ لائن کردیا گیا۔یہ صورت حال مسلسل کئی دہائیوں سے مسلمانوں کے ساتھ پیش آرہی ہے۔۔وہ تو بھلا ہو مدارس کا جو سرکار سے بغیر امداد پائے ہوئے ہی مسلمانوں کے تقریباً 4 فیصد بچوں کو دینی تعلیم سے بہرہ ور کرتے آرہے ہیں۔ اگر یہ دینی مدارس نہ ہوتے تو شاید مسلم طبقہ تعلیمی میدان میں اور بھی پیچھے ہوتا۔ بلکہ کچھ مسلم ماہرینِ تعلیم کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ گزشتہ برسوں میں حکومت نے دینی مدارس کو سینٹرلائز کرنے کی جو مہم شروع کی تھی، اس کے پیچھے بھی سرکار کی بد نیتی کارفرما تھی اور مدارس میں جو چار فیصد بچے دینی تعلیم حاصل کر رہے تھے، ان کو مدرسہ بورڈ قائم کرکے تعلیم سے دور کرنا، سرکار کا اصل مقصد تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب مدرسہ بورڈ کی باتیں سامنے آئیں تو علماء اور دانشوروں کی بڑی تعداد نے اس کی سخت مخالفت کی اور کہا کہ اس طرح بچے اپنی دینی شناخت سے دور ہوجائیں گے۔ہوسکتا ہے یہ باتیں درست ہوں، لیکن اس وقت میری تحریر کا مقصد صرف یہ ہے کہ حکومت نے حالیہ بجٹ میں مسلمانوںکے لئے جو تعلیمی بجٹ میں اضافہ کیا ہے ،اس اضافے کو ووٹ بینک کے طور پر استعمال نہ کرکے ملک کی دوسر ی سب سے بڑی اکثریت کی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کے نقطۂ نظر سے اس پر عمل کرے۔
ہمارے قائدین کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ سچر کمیٹی رپورٹ اور رنگاناتھ مشرا کمیٹی رپورٹ میںمسلمانوں کی ملک میں جو صورت حال بتائی گئی ہے ،یہ کسی بھی جمہوری ملک کے لئے اچھی علامت نہیں ہے۔ اس سے نہ صرف ہماری قومی معیشت متاثر ہوتی ہے بلکہ باہری ملکوں میں بھی ہماری شبیہ خراب ہوتی ہے،لہٰذا حکومت اور انتظامیہ کو چاہئے کہ جو بجٹ مائنارٹی کے لئے مختص ہوا ہے، اس کو پورے طور پر پسماندگی دور کرنے کے لئے خرچ کیا جائے۔ساتھ ہی ہماری قومی تنظیموں کو بھی سیاسی جذباتیت کے خول سے باہر نکل کر حقیقت کا سامنا کرنا چاہئے اور مسلم بچوں کو تعلیمی میدان میں آگے لانے کے لئے مخلصانہ کوشش کرنی چاہئے۔
آزادی سے اب تک مسلمانوں کے پچھڑے پن کی جو بنیادی وجوہات ہیں، ان میں جہاں حکومت اور انتظامیہ کا متعصبانہ رویہ رہا ہے، وہیں ہماری مسلم تنظیموں کی کوتاہیاں اور بے حسی کا بھی عمل دخل شامل ہے۔ آزادی کے بعد تقریبا ً دو دہائی تک ملک کا مسلمان تقسیم کے ناکردہ گناہ کے احساس تلے دبا رہا اور اس کے بعد وہ جذباتی سیاست کے شکار رہے۔ان کی اس کمزوری کا فائدہ سیاست دانوں نے خوب اٹھایا اور انہیں صرف ایک ووٹ بینک کے سوا کچھ نہیں سمجھا ،مگر اب صورت حال بدل چکی ہے اور مسلم طبقہ جذباتی نعروں پر نہیں بلکہ عملی اقدام میں یقین رکھتا ہے،لہٰذا اگر حکومت واقعی مسلمانوں کو خوشحال دیکھنا چاہتی ہے اور ان کی پسماندگی کو دور کرنے میں مخلص ہے اور یہ چاہتی ہے کہ انہیں اپنا ووٹ بینک بنائے تو بجٹ میں جو رقم مختص کی گئی ہے اس کو خرچ کرنے کے لئے مضبوط حکمت عملی تیار کرے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *