بی پی ایل لسٹ میں گڑبڑی کی جانچ کیسے کریں

جس ملک کی 37 فیصد سے زیادہ آبادی غریب ہو، وہاں یہ ضروری ہوجاتا ہے کہ غریبی سے جڑے منصوبوں کو ایمانداری سے لاگو کیا جائے، لیکن عملی طور پر اب تک یہی دیکھا گیا ہے کہ غریبوں کی ترقی کے لئے بنائے گئے لگ بھگ سبھی منصوبوں میں بد عنوانی کا بول بالا ہے ۔ اس شمارے میں ہم ایسے ہی ایک مسئلے پر بات کر رہے ہیں، جو سیدھے سیدھے غریبوں کی حق اور ان کی ترقی سے جڑا ہوا ہے۔ بی پی ایل لسٹ ، یعنی جس لسٹ کی بنیاد پر غریبوں کو بہت سے سرکاری منصوبوں کا فائدہ مل سکتا ہے۔ ظاہر ہے، سرکاری سہولتوں کا فائدہ اٹھانے کے لئے بہت سارے لوگ کسی بھی طرح سے اپنا نام بی پی ایل لسٹ میں شامل کروا لیتے ہیں۔ نتیجتاً جو ضرورتمند لوگ ہیں اور جنہیں واقعی سرکاری مدد کی ضرورت ہوتی ہے، وہ اس سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اس شمارہ میں ایک ایسی ہی درخواست شائع کی جارہی ہے ، جس کے استعمال سے آپ بی پی ایل لسٹ میں شفافیت لانے کا دبائو ڈال سکتے ہیں اور ساتھ ہی لسٹ تیار کرتے وقت اس میں ہونے والی گڑ بڑیوں کو پکڑ بھی سکتے ہیں یا اس کا خلاصہ کر سکتے ہیں۔ اس درخواست کے ذریعہ ہم اور آپ یہ سوال کر سکتے ہیں کہ مذکورہ گائوں میں یا پنچایت میںخط افلاس سے نیچے رہنے والے خاندانوں کی تعداد کتنی ہے؟کیا اس سلسلے میں کوئی سروے کروایا گیا ہے؟ بی پی ایل کارڈ بنانے کے لئے کیا کیا معیار اپنائے گئے؟کتنے خاندان اس معیار پر کھرے اترے؟کتنے خاندنوں کو بی پی ایل کارڈ دیا گیا ہے؟کیا اس علاقے میں بی پی ایل کارڈ لسٹ کی جانچ ہوئی ہے؟
دراصل ، جب آپ اس طرح کے سوال پوچھنا شروع کرتے  ہیں، تو مقامی سطح پر انتظامیہ کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے، کیونکہ ایسے سوالوں کے جواب دینا نہ صرف ان افسروں ؍ ملازموں کے لئے مشکل ہوتا ہے، بلکہ اس طرح سے نہ صرف ان کی جوابدہی طے ہونے لگتی ہے، بلکہ اس سے شفافیت بھی آنے لگتی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ آپ اس درخواست کا استعمال ضرور کریں گے اور دیگر لوگوں کو بھی اس کے لئے راغب کریں گے۔

بی پی ایل کے سلیکشن کے لئے گئے سروے کی تفصیل
بخدمت شریف،                        بتاریخ
پبلک انفارمیشن آفیسر
ڈسٹرکٹ فوڈ پروسیسنگ آفیسر
پتہ  ————————————————————
—————————————————————
موضوع: حق اطلاعات قانون 2005  کے تحت درخواست
جناب عالی،
——— گرام میںخط افلاس  سے نیچے (بی پی ایل) کے سروے کے سلسلے میں مندرجہ ذیل اطلاعات فراہم کریں:
1    مذکورہ گائوں میںخط افلاسسے نیچے (بی پی ایل) کے کتنے کارڈ ہولڈر ہیں؟ان کی لسٹ مندرجہ ذیل تفصیل کے ساتھ فراہم کرائیں:
(الف) کارڈ ہولڈر کا نام(ب) والد کا نام (ج) کارڈ نمبر(د) کارڈ پر ممبروں کی تعداد (یونٹ)
2     مذکورہ کارڈ ہولڈروں کاخط افلاس سے نیچے (بی پی ایل ) کا کارڈ کس بنیاد پر بنایا گیا؟ اس سلسلے میں کارڈ ہولڈر کی طرف سے پیش کیے گئے دستاویز کی کاپی مہیا کرائیں۔
3    مذکورہ گائوں میںخط افلاس سے نیچے(بی پی ایل) کے خاندانوں کا سروے پچھلی بار کب ہوا تھا؟اس سروے رپورٹ کی کاپی مہیا کرائیں، ساتھ ہی سروے کرنے والے افسروں؍ملازموں کے نام اور عہدے بھی بتائیں؟
4     خط افلاسسے نیچے (بی پی ایل) کے خاندانوں کے سروے کے وقت ان کے سلیکشن کے لئے کیا معیار بنایا گیا ؟اس سلسلے میں تمام مینڈیٹ؍رولز اور انسٹرکشن کی کاپیاں فراہم کرائیں۔
5    مذکورہ سروے کے درجے کی کوئی ازسر نو جانچ کی گئی؟اگر ہاں، تو تمام دستاویزوں کی کاپیاں فراہم کرائیں۔
6    ازسر نو جانچ کے سلسلے میں تمام مینڈیٹ؍رولز اور انسٹرکشن کی کاپیاں فراہم کرائیں۔
7    جانچ کے دوران کسی بے قاعدگی کا معاملہ سامنے آیا؟اگر ہاں ، تو شکایت پر کیا کارروائی کی گئی؟تفصیل دیں۔
میں درخواست فیس کے طور پر 10 روپے الگ سے جمع کر رہا ؍رہی ہوں۔    یا
میں بی ایل کارڈ ہولڈر ہوں ، اس لئے سبھی طرح کی فیس سے آزاد ہوں۔میرا بی پی ایل کارڈ نمبر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہے۔
اگر مانگی گئی اطلاع آپ کے محکمہ؍ دفتر سے متعلق نہیں ہو، تو آر ٹی آئی قانون 2005 کی دفعہ 6(3) کا نوٹس لیتے ہوئے میری درخواست متعلقہ پبلک انفارمیشن آفیسر کو پانچ دنوں کے اندر منتقل کریں۔ ساتھ ہی اطلاع فراہم کراتے وقت فرسٹ اپیلیٹ آفیسر کا نام و پتہ ضرور بتائیں۔
شکرگزار
نام  ————————————————-    دستخط ———————————————-
پتہ ————————————————–

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *