کیا ضروری ہے؟ عصمت دری کے مجرموں کو سزا دینا یا 16سال کے غیر ضروری ایشو میں الجھنا

وسیم اراشد

 حکومت کو بل لانے کے بجائے سماج کو کیسے بدلا جائے، ذہن سازی کیسے کی جائے، تعلیمی اداروں کا ماحول کیسے سدھارا جائے۔ والدین کی ذمہ داریاں کیا ہوتی ہیں؟ ان تمام باتوں پر بحث کرانی چاہئے تھی  مرض کو ختم کرنے کے لئے مریض کو ختم کرنا کہاں کی عقلمندی ہے۔ آج ہم 14سال ، 16سال، 18سال کے بچوں سے سیکس کی باتیں کر رہے ہیں۔ وہ بھی سماج تھا، وہ بھی ذہن تھا، وہ بھی ہم جیسے ہی انسان تھے جن کے پاس اخلاقی قدریں تھیں، جو اپنے والدین، بہن، بھائیوں، عزیز و اقرباء اور یہاں تک کہ دوستوں سے بھی سیکس کی بات کرتے ہوئے شرماتے تھے۔ظاہر ہے تبدیلی تو آتی ہی ہے ۔ اب 21ویں صدی میں اگر ہم یہ سب باتیں کھل کر رہے ہیں تو اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ ہم ذہن سازی کا کام بھی کریں۔ 16دسمبر کے سانحہ کے بعد کیا ریپ کے واقعات میں کمی آئی ہے ، کیا اینٹی ریپ بل پر بحث کرنے اور شور مچانے کے باوجود ملک کے کسی بھی حصے اور خاص کر دہلی میں یہ واقعات کم ہوئے ہیں۔

پے در پے عصمت دری کے واقعات سے دہلتی دہلی اور ملک کی تمام ریاستوں سے لگاتار آنے والی عصمت دری کی خبروں نے جیسے ہم سب کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور 16دسمبر ہندوستان کی تاریخ کا وہ دن، جس نے انسانیت لفظ سے ہی اعتماد اٹھا دیا۔ پیرا میڈیکل کی طالبہ کے ساتھ جو انسانیت سوزمعاملہ ہوا، اس نے یہ ثابت کر دیا کہ دنیا سائنسی ایجادات میں بے شک چاندپر کمندیں ڈال چکی ہو، مگر انسان آج بھی وہیں ہے جہاں سے ہزاروں سال پہلے اس کی شروعات ہوئی تھی۔ یہ واقعہ یقینا پورے ملک کو دہلانے کے لئے کافی تھا اور چونکہ یہ واقعہ دہلی میں ہوا ، اس لئے لوگوں کی نظروں میں آگیا اور مظاہرے ہوئے لیکن ہندوستان کی بیشتر ریاستیں، صوبے، ضلع جو ابھی بھی پسماندگی اور غربت کی مار جھیل رہے ہیں۔ جہاں ابھی بھی بنیادی ضروریات روشنی ، پانی، بجلی کا فقدان ہے۔ جہاں اسکول ، کالج نہیں ہیں، جہاں آج بھی عورتوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا جاتا ہے۔ ایسی جگہ بالکل اندرونی بستیوںمیں نہ جانے ایسے کتنے ہی کھیل ہوتے ہوں گے۔ کتنی معصوم لڑکیاں ہوس کا شکار ہو جاتی ہوں گی اور نہ جانے کتنی احتجا ج کے بعد درندگی سے مار دی جاتی ہوں گی۔ یہاں جو ہوا، اس کے آگے کی بات کرنا زیادہ ضروری ہے کہ آخر کسی بڑے حادثے کے بعد ہی حکومت نیند سے کیوں جاگتی ہے؟اور پھر کیوں قانون بنانے پر جلد بازی پر اتر آتی ہے۔جس وقت پیرا میڈیکل کی طالبہ کے ساتھ یہ حادثہ ہوا ۔ اسی وقت سے ان 6درندوں کو پھانسی پر لٹکائے جانے کی مانگ کی جا رہی تھی۔ فاسٹ ٹریک کورٹ میں چل رہے ان کے کیس پر جانے کب فیصلہ ہوگا، مگر ایک درندے نے تو اپنے ضمیر کی آواز پر خود کو سزا سنا ہی دی ۔
اس وقت ہمارا مقصد اس پر بات کرنا ہے کہ رضامندی سے سیکس کرنے کی عمر پر جو بحث کی جارہی تھی اورسیکس کی عمر 16سال کرنے پر سوچا جا رہا تھا۔ بے شک اس پر قانون نہیں بنا اور بلوغت کی عمر کو 16سال میں رکھنے پر اتفاق رائے نہیں ہوا۔خوشی اس بات کی ہے کہ پورا ملک اس کے خلاف کھڑا ہو گیا۔ تمام چینلز پر زور و شور سے جاری اس بحث کا خاتمہ ہو گیا اور 18سال پر ہی اتفاق رائے ہو گیا۔مگر سوال یہ ہے کہ حکومت نے یہ بحث شروع ہی کیوں کی؟ آخر 16دسمبر والے عصمت دری کے سانحہ سے رضا مندی سے سیکس کرنے کی عمر کم کرنے کا کیا تعلق ہے۔ حکومت کو اسی وقت اس کا دھیان کیوں آیا؟ اور کیا جس وقت حکومت اینٹی ریپ بل پر بحث کر رہی تھی اور 16سال رضا مندی سے سیکس کرنے پر قانون بنانے جا رہی تھی کیا اس وقت اس کے ذہن میں ملک کی سب سے بڑی اقلیت کا کوئی خیال تھا کیا اس کو ایک بار بھی اس بات کا احساس تھا کہ اسے اتنا اہم قانون بنانے سے پہلے مسلم رہنمائوں اور خاص کر مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر سے بھی اس معاملے میں مشو رہ نہیں کرنا چاہیے۔ میں ملک کی سیکولر حکومت سے یہ سوال بھی کرنا چاہتی ہوں کہ وہ جب بھی قانون بناتی ہے ملک کی سب سے بڑی اقلیت یعنی مسلمانوں کو کیوں نظر انداز کر دیتی ہے ساتھ ساتھ میرا سوال بڑی بڑی مسلم جماعتوں کے رہنمائوں سے بھی ہے کہ جب عورتوں کی بات آتی ہے ان کی حقوق کی بات آتی ہے تو وہ صرف عورت کو گھر سنبھالنے اور بچے پیدا کرنے تک ہی اہمیت دیتے ہیں ۔ مگر جب بات ان کے تحفظ کی نوجوان نسل کی بقا کی آتی ہے تو وہ ایک ساتھ کھڑے ہوکر حکومت سے سوال کیوں نہیں کرتے کہ اتنا بڑا قانون بنانا ہماری شریعت کے بالکل خلاف ہے۔کیوں کہ جس طرح انسانی حقوق کی پاسداری کرتے ہوئے تمام لوگ اس بل کے خلاف کھڑے ہو گئے ہمارے مسلم رہنمائوں کو بھی اس پر حکومت سے ضرور سوال کرنا چاہیے تھا یہ الگ بات ہے کہ یہ قانون پاس نہیں ہو پایا۔

جس وقت حکومت اینٹی ریپ بل پر بحث کر رہی تھی اور 16سال رضا مندی سے سیکس کرنے پر قانون بنانے جا رہی تھی کیا اس وقت اس کے ذہن میں ملک کی سب سے بڑی اقلیت کا کوئی خیال تھا کیا اس کو ایک بار بھی اس بات کا احساس تھا کہ اسے اتنا اہم قانون بنانے سے پہلے مسلم رہنمائوں اور خاص کر مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر سے بھی اس معاملے میں مشو رہ نہیں کرنا چاہیے۔ میں ملک کی سیکولر حکومت سے یہ سوال بھی کرنا چاہتی ہوں کہ وہ جب بھی قانون بناتی ہے ملک کی سب سے بڑی اقلیت یعنی مسلمانوں کو کیوں نظر انداز کر دیتی ہے ساتھ ساتھ میرا سوال بڑی بڑی مسلم جماعتوں کے رہنمائوں سے بھی ہے کہ جب عورتوں کی بات آتی ہے ان کی حقوق کی بات آتی ہے تو وہ صرف عورت کو گھر سنبھالنے اور بچے پیدا کرنے تک ہی اہمیت دیتے ہیں ۔ مگر جب بات ان کے تحفظ کی نوجوان نسل کی بقا کی آتی ہے تو وہ ایک ساتھ کھڑے ہوکر حکومت سے سوال کیوں نہیں کرتے کہ اتنا بڑا قانون بنانا ہماری شریعت کے بالکل خلاف ہے۔

اب بات کرتے ہیں کہ آخر حکومت یہ سوچا ہی کیوں؟ جب ووٹ دینے کی عمر 18سال ہے ، جب لائسنس ملنے کی عمر 18سال ہے ، جب شادی کی عمر قانونی طور پر 18سال ہے تو آخر رضامندی سے سیکس کرنے کی عمر 16سال کرنے کے بارے میں کیوں سوچا گیا؟ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ نوجوان لڑکے ، لڑکیوں کو تھوڑی بہت سیکس ایجوکیشن دئے جانے پر زور دینا چاہئے تھا۔ 16سال کے نوجوان اسکولوں میں پڑھتے ہیں۔ دسویں ، گیارہویں کلاس میں پڑھنے والے یہ نوجوان پوری طرح سیکس کا مطلب بھی نہیں جانتے۔ صرف جسمانی تبدیلیاں ہی ان کی سمجھ میں آتی ہیں۔ بے شک جنسی خواہش  بیدارہوتی ہے مگر سماج کا ، گھر کا ، والدین کا خوف ان کو باندھے رکھتا ہے۔مخلوط تعلیم جہاں پر ہے وہاں تو پھر بھی لڑکے ، لڑکیاں ایک دوسرے سے تھوڑا بہت مل جل کر بات چیت کر کے تھوڑا بہت رومانس کر کے اساتذہ کے ، والدین کے خوف سے آگے نہیں بڑھتے لیکن کم سے کم ان کے لئے سیکس ایک بیماری کی طرح نہیں پنپتی ہے، مگر جہاں صرف لڑکیوں اور لڑکوں کے اسکول الگ الگ ہیں، وہاں اسکول تک لڑکیوں کے لئے لڑکے اور لڑکوں کے لئے لڑکیاں کوئی دوسری دنیا کی سی مخلوق ہوتی ہیں، جن سے بات کرتے وہ ڈرتے ہیں۔
حکومت کو بل لانے کے بجائے سماج کو کیسے بدلا جائے، ذہن سازی کیسے کی جائے، تعلیمی اداروں کا ماحول کیسے سدھارا جائے۔ والدین کی ذمہ داریاں کیا ہوتی ہیں؟ ان تمام باتوں پر بحث کرانی چاہئے تھی کیونکہ مرض کو ختم کرنے کے لئے مریض کو ختم کرنا کہاں کی عقلمندی ہے۔ آج ہم 14سال ، 16سال، 18سال کے بچوں سے سیکس کی باتیں کر رہے ہیں۔ وہ بھی سماج تھا، وہ بھی ذہن تھا، وہ بھی ہم جیسے ہی انسان تھے جن کے پاس اخلاقی قدریں تھیں، جو اپنے والدین، بہن، بھائیوں، عزیز واقرباء اور یہاں تک کہ دوستوں سے بھی سیکس کی بات کرتے ہوئے شرماتے تھے۔ظاہر ہے تبدیلی تو آتی ہی ہے ۔ اب 21ویں صدی میں اگر ہم یہ سب باتیں کھل کر رہے ہیں تو اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ ہم ذہن سازی کا کام بھی کریں۔ 16دسمبر کے سانحہ کے بعد کیا ریپ کے واقعات میں کمی آئی ہے ، کیا اینٹی ریپ بل پر بحث کرنے اور شور مچانے کے باوجود ملک کے کسی بھی حصے اور خاص کر دہلی میں یہ واقعات کم ہوئے ہیں۔3سال کی بچی سے لے کر 60سال تک کی عورتیں اس ملک میں محفوظ ہیں۔ اس کو انجام دینے والے سارے ہی کیا نوجوان ہیں؟ ہر عمر کا آدمی ایک عجیب ذہنی بیماری کا شکار ہے اور اس کی وجوہات بھی مختلف ہیں۔ بل تو بے شک پاس نہیں ہوا ،لیکن ہمارے لئے کچھ سوال چھوڑ گیا اور وہ سوال بار بار ہمیں جھنجھوڑ رہے ہیں کہ
(1)     عمر گھٹانے کی نوبت ہی کیوں آتی ہے۔ ایسا سوچا بھی کیوں گیا ۔ کیا عمر گھٹانا اس مسئلہ کا حل ہو سکتا تھا۔
(2)    اگر لگاتار عصمت دری کے واقعات ہوتے رہے تو کیا رضامندی سے سیکس کرنے کی عمر گھٹا کر ہم اس کو روک سکتے ہیں؟
(3)    اسکولوں میں ،کالجوں میں اس عمر کے لڑکے ، لڑکیوں کو صرف اپنے مستقبل کے لئے سوچنا چاہئے۔ کیا ہم نوجوانوں کو ان کے اصل مقصد سے نہیں بھٹکا رہے ہیں۔
(4)    اگر ریپ کے واقعات بڑھتے رہے تو کیا رضامندی سے سیکس کرنے کی عمر گھٹا کر 12سال کر دی جائے گی۔
ہندوستانی سماج میں شادی کو ہی رضامندی سے سیکس کرنے کا قانون مانا گیا ہے اور یہ عمر 18سال ہے لیکن اس بے حد مقابلہ جاتی دور میں ، دوڑتی بھاگتی زندگی میں ہم لگاتار دیکھ رہے ہیں کہ شادی ابھی بھی نوجوان لڑکے لڑکیاں زیادہ تر اپنے کریئر کو بنا کر ہی کرتے ہیں، لیکن یہ بھی ہم نے دیکھا ہے کہ کچھ گھریلو ویلیوز، کچھ خاندانی بندشیں اور سب سے بڑھ کر سماجی قانون انہیں 18سال کے بعد بھی رضامندی سے سیکس کرنے سے باز رکھتے ہیں۔ایک اور بات اسی ضمن میں بہت اہم ہے کہ جس کو بدکاری کرنی ہے وہ کیا قانون کے بارے میں سوچے گا، کیا وہ پولیس اور قانون کو بتا کر یہ سب کرے گا۔ چوری چھپے جو ہوتا ہو وہ ہو، لیکن ضرورت ابھی بھی اس بات کی ہے کہ ہم نوجوانوں کے ذہن کو صاف کریں۔ ایک  کھلا تعلیمی، معاشی اور سماجی ماحول ان کو دیں تاکہ وہ صحیح سمت میں چل سکیں۔  18 سال کی عمر کو 16 سال کرنے  کا بل اگر چہ پاس نہیں ہوا، لیکن ایک نئی چیز تو سامنے آ ہی گئی کہ یہ بھی ہو سکتا ہے۔بلکہ حکومت کو اس بات پر کام کرنا چاہیے کہ اگر زیاد ہ تر ابارشن کم عمر کی نوجوان بچیوں کے ہوتے ہیں اور contraceptiveخریدنے والے نوجوان زیادہ ہوتے ہیں تو اس حکومت کو اس کو کنٹرول کرنا چاہیے اور اگر آپ اس کو کنٹرول نہیں کر سکتے تو آپ کا قانون ایک طرح سے انہیں کرمنل بنا رہا ہے۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہ تجویز وزارت صحت کی جانب سے آنا چاہیے تھا کیونکہ عمر کم کرنے کا ذرا بھی تعلق عصمت در کے کیس سے نہیں ہے ۔ بلکہ اس کا تعلق نوجوان نسل کی صحت سے ہے۔  آج تو سرکار قانون بنانے کی سوچ رہی ہے ، کل کو اگر نوجوانوں کے ذہن میں یہ بات آ گئی کہ حکومت 16سال کا قانون بھی پاس کر سکتی ہے اور انھوں نے اس کی مانگ کی تو پھر کوئی راستہ نہیں رہ جا ئے گا ۔ ابھی تو ہم نے جتنے بھی لڑکے لڑکیوں سے اس معاملہ میں بات کی ،سبھی کا کہنا یہ تھا کہ 16سال کی عمر تو اچھے برے کی تمیز کرنے کے لئے بھی کم ہے۔ اس عمر میں تو ہمیں صرف اپنی پڑھائی نظر آتی ہے ۔ اس عمر کے ان کے سبھی دوست، ماں باپ کے اچھے بچے ہوتے ہیں، جنہیں رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم نے دہلی کے ڈی پی ایس متھرا روڈفرہنگ  انتھونی  پبلک اسکول ، مسلم اسکولوں میں جامعہ ملیہ اسلامیہ، ہمدرد پبلک اسکول اور گورنمنٹ اسکولوں کے طلباء سے بات چیت کی جس میں مذہب کی کوئی قید نہیں تھی۔ سبھی بچے18,16,14سال کے تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت سب کو ایک نظر سے دیکھ  رہی ہے۔ ہر کسی کا لیول آف میچورٹی الگ ہوتا ہے۔ اگر اس طرح سوچا گیا تو حکومت کو اس کے برے نتائج کے بارے میں بھی سوچنا پڑے گا۔ کچھ مسلم بچوں کے نقطۂ نظر سے اگر دیکھیں تو ان کا ماننا ہے کہ ہمارے والدین خود زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہیں۔ وہ ہمیں بہت ہی بھروسے سے اسکولوں اور کالجوںمیں بھیجتے ہیں۔ اگر اس طرح کی کوئی تبدیلی آتی بھی ہے تو ہم اس کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہتے۔ کیونکہ ہمارا مقصد صرف تعلیم حاصل کرنا ہے اور بس۔ کچھ مسلم لڑکوں سے بات کرنے کے بعد تھوڑی خوشی بھی ہوئی۔ جب انھوں نے کہا کہ شرعی طور پر جو ہمیں سیکس کرنے کی اجازت ہے وہ شادی کے بعد ہے اور ہم اپنی شریعت کا احترام کرتے ہیں۔ حکومت اس طرح کے پروپیگنڈے سے صرف نوجوانوں کا ذہن خراب کر رہی ہے اور کچھ نہیں ہے۔
دہلی کے علاوہ کچھ دوسری ریاستوں کے طلباء سے بھی ہماری فون پر بات چیت ہوئی۔ جن میں نینی تال، دہرادون، مغربی بنگال، راجستھان کے کچھ طلباء نے یہ بھی کہا کہ باہمی رضامندی سے سیکس کی عمر گھٹانے سے ملک کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ اتنی کم عمر کی لڑکیوں کو حمل روکنے کے بہت طریقے نہیں آتے ۔ جس کی وجہ سے کم عمر میں ماں بننے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔  حکومت نے ایک شوشہ چھوڑدیا ،مگر اس بات کو بھول گئی کہ سیکس ایک فطری عمل ہے۔ جہاں صرف اگر کچھ کام کرتا ہے تو Moralsیا اصول کام کر سکتے ہیں۔ جیسا ماحول ہوگا ویسا ہی معاشرہ جنم لے گا اور ہماری آج کی نوجوان نسل کو بگاڑنے کے لئے فلمیں ہیں، انٹرنیٹ ہے۔ ہمارے بچے چھوٹی سی عمر میں ہی سیکس کو سمجھنے لگے ہیں اور ان کے اسی رجحان کو بڑھاوا دینے میں ماس میڈیا کا رول بہت زیادہ ہے۔جیسا کلچر ہماری نوجوان نسل کو دیا جا رہا ہے۔ وہ زہر پورے معاشرے کو برباد کر رہا ہے۔ سیکس کی عمر 16ہو یا 18،حکومت کو میڈیا پر کنٹرول کرنا چاہئے۔ حکومت کوتعلیمی اداروں کے ماحول بہتر بنانے پرسوچنا چاہئے۔ حکومت کو ایسا نصاب بنانا چاہئے جس میں خوبصورتی سے چھوٹی عمر سے ہی سیکس ایجوکیشن دی جا سکے۔ تاکہ نوجوان نسل کی ذہن سازی کی جائے۔ میڈیا  جس طرح کے آئیڈیل، خیالات ، جذبات اور عریانیت کو بڑھاوا دے رہا ہے،ہمارا معاشرہ بھی اسی طرف گامزن ہے۔ گائوں میں آج بھی 12,13سال کی بچی کی شادی کر دی جاتی ہے۔ کیا حکومت ان معاملات پر ابھی تک روک لگا پائی ہے۔ سماج میں پھیلی برائیوں کو تو حکومت کنٹرول کر نہیں پائی تو پھر اس طرح کی نئی بات جو کسی نے سوچی بھی نہیں ،اس کو سامنے لانے کی کیا ضرورت تھی۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ اس موضوع کو چھیڑا ہی نہ جائے۔ عیاشی صدیوں سے ہو رہی ہے۔ عصمت دری کے واقعات بھی کوئی نئے نہیں ہیں، لیکن ایک بات یاد رکھنی چاہئے کہ عیاشی ہو یا عصمت  دری،یہ سب زیادہ تر بڑی عمر کے لوگ کرتے ہیں۔ جس طالبہ کی اجتماعی عصمت دری ہوئی تھی ۔ اس میں بھی6میں سے صرف ایک 18سال سے کچھ مہینے کم تھا۔ باقی سبھی بڑی عمر کے تھے۔
کسی بھی مذہب میں شادی کے بغیر سیکس جائز نہیں ہے۔ مگر ان اصولوں کو مانتا ہی کون ہے؟ مگر وہ ضرور مانتے ہیں جن کو اس کی برائیوں کا پتہ ہوتا ہے۔ جن کے اصول مضبوط ہوتے ہیں یا جن کو گھر سے اچھی ویلیوز ملتی ہیں۔ اس لئے حکومت کو چاہئے کہ وہ نوجوان نسل کو کم عمر میں سیکس کرنے کی برائیوں سے آگاہ کرے نہ کہ ان کو سیکس کرنے کی حوصولہ افزائی کرے۔ کسی بھی چیز کو قانونی بنانے  کا مقصد ہوتا ہے، اس کو بڑھاوا دینا۔ سماج میں اس وقت جتنے بھی عصمت دری کے واقعات ہو رہے ہیں۔ ان میں پولس بھی برابر کی شریک ہے۔ پولس والے پیسہ لے کر ہوٹلوں میں اور دوسرے مقام پر نوجوان لڑکوں کو لڑکیاں لے جانے دیتے ہیں۔ جہاں پیسہ نہیں ملتا، وہیں Raidڈالی جاتی ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ رضامندی سے سیکس کرنے کا قانون پاس نہیں ہوا  اور اس سے بھی زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ ہم نے جتنے بھی لڑکے لڑکیوں سے بات چیت کی ، والدین سے بھی بات کی، سبھی اس کے خلاف کھڑے نظر آئے۔بہت کم لڑکے لڑکیاں اس کو صحیح مان رہے تھے لیکن زیادہ تر طلبائ، والدین، اساتذہ اور پرنسپل اس کے خلاف ہی نظر آئے۔

نوجوان لڑکیوں کی رائے
ہم کو تو ابھی تک راستے بھی صحیح طرح نہیں آتے۔ ابھی تو ہمارے والدین ہمیں اکیلا کہیں آنے جانے تک نہیں دیتے۔ تو اس عمر میں سیکس کرنے کے بارے میں تو ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔
–   مریم (16سال) فرینک انتھونی پبلک اسکول

16سال ہنسی آ رہی ہے مجھے اس بات پر۔ میں اس وقت 19سال کی ہوں۔ مجھے تو ابھی تک اس کے معنی بھی نہیں معلوم۔ نہ کبھی اس طرف دھیان گیا۔ حکومت گندی گندی فلموں پر روک کیوں نہیں لگاتی۔ بجائے اس کے کہ سیکس کی عمر گھٹائے۔
–  افشین فاطمہ (19سال) فیشن ڈیزاننگ کورس

اس ایشو کو سامنے لا کر حکومت نے ہمارے حق میں بہت برا کیا ہے۔ بھلے ہی قانون نہ بنا ہو مگر لڑکوں کے ذہن میں تو آ گیا ۔ وہ اب ہمیں اس بات کو لے کر اور ستا سکتے ہیں، پریشان کر سکتے ہیں۔
–  کوثر خان (17سال) میٹاڈئی کانوینٹ

ہمارا دھیان صرف اور صرف اپنی پڑھائی کی طرف ہے لڑکوں سے دوستی کرنی اچھی لگتی ہے لیکن ہم ہر دوست کے بارے میں اپنے ماں باپ کو بتاتے ہیں ہاں یہ ضرور ہے کبھی کسی لڑکے کے ساتھ اکیلے کہیں نہیں جاتے ۔ ہم تو ابھی کپڑے تک اپنی ممی کی پسند کے پہنتے ہیں ایسے میں سیکس کے بارے سوچنا بہت ہی عجیب لگتا ہے۔
–  تسنیم خان  16(میٹا ڈئی کانوینٹ)
سیکس کی عمر کو 16 سال مقرر کرنے کے بارے میں سوچنا ہی غلط ہے۔ معلوم نہیںکیوں اس عمر کو سیکس کے لئے لائق سمجھا گیا اور اس موضوع پر بحث کی گئی۔اس عمر میں تو لڑکیاں جسمانی طور پر بالکل ہی تیار نہیں ہوپاتی ہیں۔
–  نیشا( عمر 18 سال

سیکس کی عمر جو 18 سے 16 کرنے کی بات کی گئی،میرے خیال میں درست نہیں ہے۔ کیونکہ جب شادی کی عمر اٹھارہ سال رکھی گئی ہے تو سیکس کی عمر سولہ سال کرنے کے بارے میں کیسے سوچا جاسکتاہے۔
–  —سونی عمر 18 سال

16 سال کی عمر میں سیکس کی باتیں لڑکی کے کیریئر کو خراب کرنے والی بات ہے۔یہ عمرکیریئر بنانے کی ہوتی ہے ،سیکس کی نہیں،لہٰذا اس عمر میں سیکس کی اجازت دینا عقل کے خلاف بات ہے۔
–  سدھا  عمر 20 سال
16 سال کی عمر میں لڑکی کا جسم اس قابل نہیں ہوتا ہے کہ سیکس کے لئے تیار ہو۔اس سے مستقبل میں اس کے جسم پر منفی اثر پڑ سکتا ہے،  لہٰذا سیکس کی عمر کو سولہ مقرر کرنے کی بات سوچنا ہی غلط ہے۔
–  ششی عمر 18 سال

نوجوان لڑکوں کی رائے
حکومت نے آپسی مرضی سے جنسی رشتہ بنانے کی عمر جو گھٹا کر 16 سال کرنے کی سوچی ہے،ا س تبدیلی کی وجہ شاید یہ ہو کہ آدمی عام طور پر 14 سال کی عمر میں ہی بالغ ہو جاتا ہے۔ ہندوستان جیسے ملک میں اس سے کافی مدد ملے گی، اس سے کرائم میں کم از کم 10 فیصد کی کمی آئے گی۔
اقبال احمد (24)، ایم ایس سی، جامعہ ملیہ اسلامیہ

میرے خیال سے زیادہ تر بچے 14 سے 16 سال کی عمر میں غلط قدم اٹھا لیتے ہیں اور پھر اس کے لیے انہیں سزا ہو جاتی ہے۔ غلطی سے کوئی قدم اٹھا لینے سے انہیں اب سزا نہیں ہوگی۔ پہلے یہ تھا کہ چوری چھپے اس عمر کے لوگ ایسا کر لیتے تھے، حالانکہ سماج میں اسے برا مانا جاتا تھا، لیکن اب قانون کی نظر میں وہ گنہگار نہیں ہوں گے، اس لیے انہیں سماج کا کوئی خوف نہیں رہے گا۔ ایسا ہو جانا نیچرل بات ہے۔
محمد عاقب 22)، بی ایس سی، جامعہ ملیہ اسلامیہ

حکومت کا ایسا سوچنا شاید وقت کی ضرورت ہو بایولوجیکلی بھلے ہی یہ عمر سیکس کے حساب سے پوری طرح صحیح نہ ہو، لیکن آدمی 16 سال کی عمر میں بالغ ہو جاتا ہے۔ حکومت نے یہ قدم بہت سوچ سمجھ کر اٹھایا ہوگا۔ میرے حساب سے اس قدم سے ریپ کیس کو کم کرنے میں کافی مدد ملے گی۔ اس لیے میں اس کے فیور میں ہوں۔
منیش کمار دیکشت (23)، بی ایس سی، جامعہ ملیہ اسلامیہ

میرا ماننا ہے کہ گورنمنٹ سب کو ایک نظر سے دیکھ رہی ہے۔ آپسی مرضی سے سیکس کی عمر کو گھٹانا صحیح قدم نہیں ہے۔ ہر کسی کا لیول آف میچورٹی الگ الگ ہوتا ہے۔ حکومت اگر سیکس کی عمر کو گھٹا کر 16 سال کرنے کی سوچ رہی ہے، تو اسے ووٹ دینے اور شادی کرنے کی بھی اجازت اسی عمر میں دے دینی چاہیے۔ اگر کرائم کو روکنے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے، تو میں نہیں مانتا کہ اس سے کرائم ریٹ میں کمی آئے گی، بلکہ اتنی کم عمر میں بچوں کو بہت سارے ایسے حالات سے گزرنا پڑ سکتا ہے، جس سے وہ اس عمر میں اکثر نہیں گزرا کرتے تھے۔ حکومت کو ابھی اس پر بہت کچھ غور کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت وقت لے، سوچے سمجھے، اینا لیسس کرے، پھر کوئی فیصلہ کرے۔
عمران احمد (24)، ایم ایس سی، جامعہ ملیہ اسلامیہ

سرکار نے یہ ایشو اٹھا یا ہی کیوں ہے ۔دیکھئے ہمارے سماج میں صرف قانون کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ ریفارمیشن کی بھی ضرورت ہے۔ اس سے لوگوں کی سوچ میں آہستہ آہستہ تبدیلی آئے گی۔
کاشف عزیز17-، کلاس 11، جامعہ اسکول، نئی دہلی
حکومت کا یہ ایشو اٹھانا بے وقت کی راگنی ہے اسے دامنی کے مجرموں کو سزا دینے کے بارے میں سوچنا چاہیے اگر اب تک مجرموں کو سزا مل گئی ہوتی تو جو بے شمار ریپ ہر دن ہو رہے ہیں وہ ختم ہوجاتے۔سولہ سال کی عمر کا ایشو اٹھانا ہی نہیں چاہیے تھا اس عمر میں بچوں کا دماغ اتنا ڈیولپ نہیں ہو پاتا ہے کہ وہ صحیح اور غلط کا ٹھیک ڈھنگ سے فیصلہ کر سکیں۔ 16 سال میں کوئی کالج کا اسٹوڈنٹ نہیں ہوتا، بلکہ کسی اسکول کا اسٹوڈنٹ ہوتا ہے۔ وہ اس عمر میں گیارہویں یا بارہویں کلاس کا اسٹوڈنٹ ہوتا ہے۔
محمد سرفراز عالم (16)، کلاس 11، جامعہ سینئر سیکنڈری اسکول، نئی دہلی

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *