یوکرین کے مسلمان: خوش ہیں اپنی سماجی زندگی سے

وسیم احمد
یوکرین کے مسلمان اپنی سماجی زندگی سے بہت خوش ہیں۔ ان کی یہ خوشی نئی نئی ہے۔انہوں نے تقریباً دو دہائی قبل تک  مذہبی،معاشرتی اور معیشتی ہر طرح کی  اذیتیں برداشت کی ہیں۔یوکرین روس سے آزادی حاصل کرنے والا ایک ملک ہے ۔جب تک یہاں کمیونسٹوں کا دبدبہ رہا، انہوں  نے مسلمانوں سے اسلامی تہذیب کو ختم کرنے کی پوری کوششیں کی۔سترہویں صدی عیسوی مسلمانوں کے لئے سب سے بد ترین صدی تھی، جب انہیں ترک وطن کرنے، اسلامی تہذیب کو چھورنے یا پھر دین بدلنے کے لئے مجبور کیا گیا۔جو لوگ کسی طرح بچ گئے وہ عرصے تک کمیونسٹ کے مظالم کو برداشت کرتے رہے یہاں تک کہ انہیں مذہبی ارکان ادا کرنے اور حج وغیرہ پر جانے سے بھی روک دیا گیا۔ اٹھارہویں صدی کی آخری دہائی یعنی 1890 کا عرصہ تو ان کے لئے مزید مصیببوں کا پیام لے کر آیا جب روس کی حکومت نے ان کی مسجدوں پر پابندی لگا دی،مدارس بند کردیے گئے۔اوقاف کی زمینیں ان سے چھین لی گئیں،مساجد کے ائمہ کو جبراً فوج میں شامل کیا گیا اور وہاں انہیں خنزیر کا گوشت کھانے کے لئے دیا گیا۔ان تمام مصیبتوں کے باوجود ان میں جو مذہب کے پکے تھے، حکومت کی نظر سے بچ کر نماز پڑھ لیا کرتے تھے اور مذہبی شعائر ادا کرتے تھے اورمصیبت کی اس گھڑی میں وہ لوگ بہتر وقت کا انتظار کررہے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ہر تنگی کے بعد آسانی آتی ہے۔ ان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ جب یوکرین روس سے آزاد ہوا تو مسلمانوں کو دینی آزادی میسر ہوئی۔ انہوں نے مذہبی ادارے اورمسجدیں قائم  کیں۔اب وہ پورے وقار اور عزت کے ساتھ وہاں زندگی گزار رہے ہیں۔

اٹھارہویں صدی کی آخری دہائی یعنی 1890 کا عرصہ تو ان کے لئے مزید مصیببوں کا پیام لے کر آیا جب روس کی حکومت نے ان کی مسجدوں پر پابندی لگا دی،مدارس بند کردیے گئے۔اوقاف کی زمینیں ان سے چھین لی گئیں،مساجد کے ائمہ کو جبراً فوج میں شامل کیا گیا اور وہاں انہیں خنزیر کا گوشت کھانے کے لئے دیا گیا۔ان تمام مصیبتوں کے باوجود ان میں جو مذہب کے پکے تھے، حکومت کی نظر سے بچ کر نماز پڑھ لیا کرتے تھے اور مذہبی شعائر ادا کرتے تھے اورمصیبت کی اس گھڑی میں وہ لوگ بہتر وقت کا انتظار کررہے تھے۔

وہاں اس وقت تین طرح کے مسلمان ہیں۔ ایک وہ جو ابتدا سے ہی یوکرین میں تھے اور اذیتوں کے باوجود مذہب اسلام پر قائم رہے یا پھر وہ  نو مسلم جنہوں نے اسلامی تعلیمات سے متاثر ہوکر مذہب اسلام کو قبول کیا ہے۔ایسے لوگوں کی تعداد 10 ہزار سے زیادہ ہے۔ دوسرے وہ لوگ ہیں جو دوسری جگہوں سے ہجرت کرکے یہاں آئے ہیں۔یہ زیادہ تر وسط ایشیا سے آکر یہاں آباد ہوئے ہیں۔تیسرے وہ لوگ ہیں جن کے اباء و اجداد کمیونسٹ کے مظالم سے تنگ آکر دوسرے ملک چلے گئے تھے اور اب دوبارہ یہاں آکر آباد ہوئے ہیں۔یہاں مسلمانوں کی کل آبادی دو ملین سے زیادہ ہے ان میں سے 45 ہزار راجدھانی ’’کییف‘‘ میںہیں۔آزادی کے بعد یہاں مسلمانوں نے پہلی مرتبہ اپنا ایک دینی اداراہ 1993 میں قائم کیا تھا۔اس کے بعد تو کئی ادارے قائم ہوئے اور ہر ادارے اپنے اپنے طور پر اسلامی شناخت کو عام کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔یہاں ایک نسل تتاریوں کی ہے جو اپنے سلامی عقیدے میں انتہائی پختہ شمار کئے جاتے ہیں۔ ان کی کوششوں سے ہی راجدھانی میں ایک عظیم الشان مسجد ’’ مسجد الرحمۃ‘‘ کی تعمیر کی گئی،جس کا امام و خطیب شیخ احمد تمیم کو مقرر کیا گیا۔شیخ احمد تمیم مسلمانوں کو جوڑ کررکھنے میں کلیدی کردار ادا کررہے ہیں۔انہوں نے نہ صرف کئی دینی ادارے قائم کئے بلکہ یوکرین میں مسلمانوں کو سیاسی و سماجی طور پر متحد  کرنے میں بھی اہم رول ادا کیا ہے۔کمیونسٹ کے دور اقتدار میں مسلمانوں کی بہت سی مسجدوں کو مسمار کرکے اس کی اینٹیں سرکاری عمارتوں میں لگا دی گئی تھیں لیکن شیخ احمد نے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرکے ازسر نو کئی مسجدیں اور تعلیمی ادارے قائم کئے اور راجدھانی میں ایک یونیورسٹی ’’ الجامعۃ الاسلامیۃ‘‘ بھی قائم کیا۔وہاں مسجدوں میں مینار نہیں ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ جب ملک آزاد ہوا تو مسجدوں کی تعمیر کی اجازت تو دی گئی لیکن ان مسجدوں میں مینار نہ بنانے کی شرط رکھی گئی تھی، لیکن کچھ دنوں کے بعد حکومت نے انہیں ایک جامع مسجد بنانے کی اجازت دے دی تھی جس میں مینار بنائے جاسکتے تھے چنانچہ راجدھانی میں  بنی عظیم الشان مسجد ’’ الرحمۃ‘‘میں ایک بلند مینارہ بنایا گیا۔اب مسلمان وہاں بہت خوش ہیں اور انہیں مذہبی معاملوں میں پوری آزادی حاصل ہے۔ دیگر قوموںمیں تبلیغ کا بہترین کام ہورہا ہے اور جا بجا اجلاس ،سمینار اور کانفرنس منعقد کئے جاتے ہیں۔ مقامی زبان میں اسلامی لٹریچر شائع کئے جاتے ہیں ۔ اس کا اثر وہاں کے مقامی لوگوں پر اچھا پڑ رہا ہے اور لوگ تیزی سے اسلامی تعلیمات سے متاثر ہورہے ہیں۔اب لڑکیوں کے لئے بھی کئی اسکول کھولے جاچکے ہیں۔ایک اسلامی رسالہ ’’میناریت‘‘ کے نام سے عربی اور روسی زبان میں شائع ہوتا ہے۔وہاں کی پارلیمنٹ میں دو مسلم ممبر پارلیمنٹ ہیں مگر یہ دونوں خطہ’ قرن ‘کی نمائندگی کررہے ہیں۔ یہ خطہ خصوصی اختیارات والا خطہ ہے ۔مسلم تنظیم کی کوششوں سے برادران وطن میں اسلام کا مثبت پیغام جارہاہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ اسلام کے بارے میں کچھ  نہیں جانتے تھے اب وہ اسلام کے بارے میں بہت کچھ جاننے لگے ہیں۔مسلم اسکالروں کو وہ اپنے سمیناروں میں بلاتے ہیں ،یہاں تک کہ کئی مرتبہ چرچ میں بھی انہیں اسلام کے تئیں بیانات دینے کے لئے بلایا جاتا ہے۔ یہی نہیں اب جیل میں بند قیدیوں میں اخلاقیات کا درس دینے کے لئے کسی مسلم اسکالر کو بلایا جاتا ہے تاکہ وہ اسلام کے بتائے ہوئے صلح و آشتی کے راستے کے بارے انہیں بتا سکیں۔یونیورسٹیوں میں بھی مسلم اسکالر کوبیان کے لئے بلایا جاتا ہے۔مسلم مبلغین کے بیانات کا ہی نتیجہ ہے کہ وہاں تقریباً  دس ہزار لوگ اسلام میں داخل ہوچکے ہیں۔البتہ ایک کمی آج بھی شدت سے محسوس ہورہی ہے ۔ وہاں ایسے لوگوں کی کمی ہے جو مقامی زبان  کے ساتھ ساتھ دینی اصطلاحات سے بھی واقف ہوں اور لوگوں میں اسلام کا پیغام پہنچا سکیں۔ عالم عرب سے بھی ان کے رابطے برائے نام ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی ممالک کے مبلغیں وہاں مناسب تعداد میں نہیں پہنچ پاتے ہیں لیکن یوکرین کے مسلمان خود ہی ان ذمہ داریوں کو بخوبی نبھا رہے ہیں اور اسلامی معاشرے کو باقی رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی معاشرتی زندگی دیگر مذاہبوں کے ساتھ انتہائیہم آہنگی پر مبنی ہے، یہی وجہ ہے کہ وہاں مذہب اسلام کو احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور مسلمانوں کو سیاسی و سماجی اعتبار سے پوری عزت دی جاتی ہے۔آج وہاں کے مسلمان اپنی زندگی سے پوری طرح مطمئن ہیں۔ انہوں نے کمیونسٹ کے دور میں جو مصیبتیں اٹھائی تھی ،آج انہیں اتنی ہی سہولت میسر ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *