راج ناتھ کے لئے کانٹوں بھرا تاج

ڈاکٹر منیش کمار
لگتا ہے بھارتیہ جنتا پارٹی وبالِ جان پارٹی بن گئی ہے، ورنہ ایسی کیا بات ہے کہ جب بھی کانگریس کی غلطیوں کی وجہ سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے حق میں ماحول بنتا دکھائی دیتا ہے، تو الیکشن سے ٹھیک پہلے کچھ نہ کچھ ایسا ضرور ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے سب کچھ چوپٹ ہو جاتا ہے۔ اٹل جی کی سرکار نے شاندار کام کیا، لیکن پھر بھی بی جے پی الیکشن ہار گئی۔ 2009 میں پھر ماحول بنا، ایسا لگا کہ پارٹی ضرور جیتے گی۔ بی جے پی کے لیڈروں نے اڈوانی جی کو وزیر اعظم کہہ کر مخاطب بھی کرنا شروع کردیا تھا، لیکن عین موقع پر پارٹی کی گروہ بندی سامنے آ گئی اور باقی کسر اڈوانی جی کے نہایت عقل مند دوستوں نے پوری کر دی اور بی جے پی پھر ہار گئی۔ اب 2014 کے الیکشن کی تیاری شروع ہو گئی ہے۔ پانچ اہم ریاستوں میں الیکشن ہونے والے ہیں، لیکن پھر سے بھارتیہ جنتا پارٹی میں اندرونی خلفشار زور پکڑنے لگا ہے۔ کچھ دن پہلے تک بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکنوں، حامیوں اور ووٹروں میں خود اعتمادی نظر آ رہی تھی، لیکن راشٹریہ سویم سیوک سنگھ نے ایسا داؤ کھیلا کہ آج بی جے پی کے کارکن، حامی اور ووٹر پھر سے ناامیدی کا شکار ہو گئے ہیں۔

راجناتھ سنگھ بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر تو بن گئے، لیکن یہ شاہی تاج کانٹوں سے بھرا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا راجناتھ سنگھ اپنے فیصلے کو نریندر مودی پر نافذ کروا پائیں گے؟ کیا اڈوانی اور ان کے قریبی لیڈر راجناتھ سنگھ کو آزادانہ طور پر فیصلہ لینے کا موقع دیں گے؟ پارٹی کے اندر ہر صوبے میں بغاوت ہو رہی ہے، ایسے میں کیا راجناتھ سنگھ صوبوں میں چل رہی اٹھا پٹک کو ختم کرا پائیں گے؟ یہ سوال اس لیے اہم ہو جاتا ہے، کیوں کہ راجناتھ سنگھ کو جس طرح سے صدر بنایا گیا ہے، اس سے تو سنگھ نے صدارتی عہدہ کے وقار کو ہی ختم کر دیا ہے۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ گڈکری کو صدر بنانا چاہتا تھا، لیکن اڈوانی کی مخالفت کی وجہ سے جب یہ منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکا، تو ایسے میں راجناتھ سنگھ کو صدر بنا دیا گیا۔ راجناتھ سنگھ نہ تو سنگھ کے اور نہ ہی بی جے پی کے کسی گروپ کی پہلی پسند تھے، پھر بھی وہ صدر چن لیے گئے۔ راجناتھ سنگھ اتفاقِ رائے سے چنے گئے صدر نہیں، بلکہ ایک کمپرومائزڈ پریزیڈنٹ ہیں۔ ایسا امیدوار دمدار صدر نہیں بن سکتا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی میں ایسے کئی لیڈر ہیں، جن کا قد راجناتھ سنگھ سے کافی بڑا ہے، جو اب کسی کی بات نہیں سنتے۔ حقیقت تو یہی ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو اپنی گرفت میں رکھنے کی راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی ضد کی وجہ سے راجناتھ سنگھ چنے گئے ہیں۔ یہی راجناتھ سنگھ کے تاج کا سب سے بڑا کانٹا ہے۔ ایسے صدر کو کرسی تو مل جاتی ہے، لیکن لیجیٹی میسی نہیں ہوتی۔

اگلا صدر کون ہوگا، اس کو لے کر بھارتیہ جنتا پارٹی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے درمیان کئی مہینوں سے گھمسان چل رہا تھا۔ سنگھ کے دباؤ کی وجہ سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے دستور کو بھی بدلا گیا، تاکہ گڈکری کو پھر سے صدر بنایا جاسکے۔ دہلی کے سرکردہ رہنماؤں کو گڈکری پسند نہیں تھے، کیوں کہ سنگھ نے گڈکری کو پوری چھوٹ دے رکھی تھی۔ بی جے پی کے ویسے لیڈر، جن کا بیک گراؤنڈ سنگھ کا نہیں تھا، وہ بھی گڈکری کے خلاف تھے، لیکن سنگھ کی ضد تھی کہ گڈکری کو پھر سے صدر بنایا جائے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی میں سازش کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ بی جے پی کے لوگوں نے میڈیا کو گڈکری کے خلاف ثبوت دیے، پورتی گروپ کی دستاویزیں مہیا کرائیں۔ اس کی وجہ سے گڈکری کی کرکری ہوئی۔ یہ دباؤ بنایا گیا کہ گڈکری کو استعفیٰ دے دینا چاہیے، لیکن سنگھ نے پھر بھی ان کو صدارتی عہدہ سے نہیں ہٹایا اور نہ ہی گڈکری نے استعفیٰ کی پیش کش کی۔ گڈکری سے سب سے بڑی غلطی یہ ہوئی کہ تین سال تک صدر رہتے ہوئے وہ پارٹی کے اندر دوست سے زیادہ دشمن بن گئے۔ ان کے خلاف ماحول بن چکا تھا، لیکن سنگھ کے خلاف جانے کی کسی کو ہمت نہیں پڑی۔ جس دن گڈکری کو پھر سے صدر منتخب کیا جانا تھا، اس سے ٹھیک ایک دن پہلے گڈکری کے دفتر پر اچانک انکم ٹیکس کے چھاپے پڑنے لگے۔ انہیں پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا گیا۔ ایسے میں اڈوانی ایکٹو ہو گئے اور انہوں نے سنگھ کے سامنے سشما سوراج کا نام پیش کیا، لیکن بات نہیں بنی۔ سنگھ اپنی ضد پر اڑا رہا۔ اس کے بعد مہیش جیٹھ ملانی نے یہ اعلان کر دیا کہ وہ گڈکری کے خلاف اپنا پرچہ نامزدگی بھریں گے۔ یشونت سنہا نے بھی اعلان کر دیا کہ اگر کوئی نہیں لڑے گا، تو وہ گڈکری کے خلاف چناؤ لڑیں گے۔ اگر چناؤ ہوتا تو گڈکری ہار جاتے، اس لیے سنگھ بیک فٹ پر آگیا اور اڈوانی کے ساتھ ممبئی میں بات چیت ہوئی۔ ایک سمجھوتہ ہوا۔ اسی سمجھوتہ کے تحت راجناتھ سنگھ کو بی جے پی کا صدر منتخب کر لیا گیا۔
آئیے پہلے یہ سمجھتے ہیں کہ کن حالات میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ نے نتن گڈکری کو پارٹی کا صدر بنایا۔ نتن گڈکری بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایسے لیڈر تھے، جنہیں مہاراشٹر کے باہر کوئی نہیں جانتا تھا۔ وہ پارٹی کے کوئی آئڈیولوگ یا مفکر بھی نہیں تھے۔ وہ ایک بزنس مین ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لوگ بتاتے ہیں کہ ان کی بس ایک ہی خاصیت تھی کہ وہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے ہیڈ کوارٹر کو چلانے کے لیے مالی مدد مہیا کراتے رہے ہیں۔ بی جے پی 2009 کا الیکشن ہار چکی تھی۔ جیتی ہوئی بازی کو ہار کر پارٹی کے لیڈر گھر بیٹھ چکے تھے اور کارکنوں میں مایوسی تھی۔راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کو لگا، یہ سب سے صحیح موقع ہے، جب بھارتیہ جنتا پارٹی کو پوری طرح گرفت میں لیا جاسکتا ہے۔ موہن بھاگوت کا بیان آیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی بیمار ہو چکی ہے، اسے سرجری کی ضرورت ہے۔ انہوں نے نتن گڈکری کو ڈاکٹر بناکر بی جے پی کی سرجری کرنے کے لیے بھیجا ، لیکن وہ بھارتیہ جنتا پارٹی میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں لا سکے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کا المیہ یہ ہے کہ یہ پارٹی دہلی میں بیٹھے، بغیر عوامی حمایت والے اُن چار پانچ لیڈروں کے چنگل میں پھنسی ہوئی ہے، جنہیں ڈی – 4 کے نام سے بی جے پی کے لوگ بلاتے ہیں۔دہلی کے یہ چار لیڈر ہیں ارون جیٹلی، سشما سوراج، اننت کمار اور وینکیا نائڈو۔ گڈکری کو پارٹی میں نئی جان، آئڈیولوجی پر واپس لوٹانے اور کارکنوں میں جوش بھرنے کی ذمہ داری تھی، لیکن وہ ہر میدان میں ناکام رہے۔ وہ تین سال تک صدر رہ کر بھی قومی سطح کے لیڈر نہیں بن سکے۔ اس کی وجہ صاف ہے کہ ان میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت کرنے کی صلاحیت نہیں تھی اور نہ ہی وہ خود کو اس لائق بنا سکے۔ یہ بات صحیح ہے کہ سنگھ نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی بیماری کی پہچان تو صحیح کی تھی، لیکن غلط ڈاکٹر کا انتخاب کیا تھا۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کی بیماری آج بھی برقرار ہے۔ گڈکری کو ہٹائے جانے کے بعد تو دہلی کے ڈی -4 کی ساکھ اور بھی بڑھ گئی ہے۔ راجناتھ سنگھ سیدھے سادے آدمی ہیں۔ وہ کسی کو ناراض کرکے سیاست کرنے والے لیڈروں میں سے نہیں ہیں۔ وہ لڑاکو قسم کے نیتا نہیں ہیں۔ اڈوانی اور سنگھ مخالف بی جے پی لیڈر شاید اسی لیے راجناتھ سنگھ کے نام پر راضی ہو گئے۔ بی جے پی کی بدقسمتی یہ ہے کہ پارٹی دہلی میں بیٹھے چند لیڈروں کے قبضے میں ہے، جو الیکشن نہیں لڑتے، بلکہ الیکشن کا مینجمنٹ کرتے ہیں۔ الیکشن کا اعلان ہوتے ہی یہ سب سے زیادہ طاقتور بن جاتے ہیں۔ یہ پارٹی تنظیم کو درکنار کرکے سارے فیصلے خود لیتے ہیں۔ پچھلی بار جب اڈوانی کی قیادت میں الیکشن لڑا جا رہا تھا، تب سارے فیصلے ارون جیٹلی، اڈوانی اور ان کے معاون لیتے تھے۔ راجناتھ سنگھ صدر تھے، لیکن انہیں پتہ بھی نہیں چلتا تھا اور فیصلے لے لیے جاتے تھے۔ راجناتھ سنگھ کا الیکشن کی حکمت عملی تیار کرنے میں کوئی دخل نہیں تھا۔ ارون جیٹلی سب سے اہم حکمت عملی ساز ہیں، لیکن جس میٹنگ میں راجناتھ سنگھ ہوتے، وہ اس میٹنگ میں نہیں جاتے۔ ٹکٹ کسے ملے گا، پرچار کیسے ہوگا، حکمت عملی کیا ہوگی، ان سب سے پارٹی کے صدر کو الگ کر دیا گیا۔ الیکشن کے لیے وار روم بنا، لیکن وہاں صدر راجناتھ سنگھ کا دخل نہیں تھا۔ کہنے کا مطلب یہ کہ الیکشن کا اعلان ہوتے ہی اور وزیر اعظم کے عہدہ کے امیدوار کا نام ظاہر کرنے کے بعد ہی پارٹی تنظیم کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے اور الیکشن وزیر اعظم کے عہدہ کے امیدوار کی ذاتی لڑائی بن جاتا ہے۔ کس لیڈر کو آگے کرنا ہے، کس سے اتحاد ہونا ہے، کسے سائڈ لائن کرنا ہے، یہ سب فیصلے وزیر اعظم کے عہدہ کا امیدوار اور ان کے قریبی لوگ ہی لیتے ہیں۔ بی جے پی کے اس طریق کار سے پارٹی کے سرگرم کارکن ناراض رہتے ہیں۔ گڈکری نے اس طریق کار کو بدلنے کی کوشش کی۔ اتر پردیش کے الیکشن میں سارے فیصلے انہوں نے خود لیے، لیکن وہ کامیاب نہیں ہو پائے۔ ان سے کچھ غلطیاں بھی ہوئیں۔ کچھ فیصلے انہوں نے ایسے لے لیے، جن کی وجہ سے ہار کا ٹھیکرا ان کی پیشانی پر پھوٹا۔ کیا راجناتھ سنگھ 2014 کے الیکشن میں پارٹی تنظیم کی افادیت کو بچا پائیں گے یا پھر جو 2009 میں ہوا، وہی دوہرایا جائے گا۔ یہ سوال اس لیے اٹھتا ہے، کیوں کہ اگر نریندر مودی کو وزیر اعظم کے عہدہ کا امیدوار بنایا گیا، تو بی جے پی کے صدر کی کیا اہمیت رہ جائے گی؟ ارتیہ جنتا پارٹی کے صدر کی اور بھی مشکلیں ہیں۔ پارٹی کے سینئر لیڈروں میں باہم گفت و شنید کی کمی ہے۔ وہ ایک دوسرے سے بات بھی نہیں کرتے۔ ایسے میں پارٹی کو ایک مضبوط صدر کی ضرورت تھی، لیکن راشٹریہ سویم سیوک سنگھ نے جس طرح سے آخری موقع پر راجناتھ سنگھ کو آگے کیا اور صدر بنایا، اس سے راجناتھ سنگھ کے لیے مشکلیں بڑھ گئی ہیں۔ راجناتھ سنگھ کے سامنے سب سے بڑی چنوتی یہ ہے کہ انہیں پارٹی کے باہمی تضاد اور اندرونی خلفشار کو ختم کرنا ہوگا۔ ویسے بھارتیہ جنتا پارٹی کے باہمی تضاد اور اندرونی خلفشار کو سمجھنا تھوڑا مشکل ہے۔ یہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ کون کس سے لڑ رہا ہے، کیوں کہ صورتِ حال یہ ہے کہ سب ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں۔ یہ لیڈروں کے درمیان اپنی بالا دستی کو قائم کرنے کی لڑائی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی میں وزیر اعظم بننے کی ریس لگی ہوئی ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ بدعنوانی اور مہنگائی کی وجہ سے پارٹی 2014 کا الیکشن بغیر کسی محنت کے جیت جائے گی، اس لیے وزیر اعظم بننے کا خواب پالنے والوں کی لائن لمبی ہوتی جا رہی ہے۔ پارٹی کے اندر سازش اور گروہ بندی زوروں پر ہے، لیکن اس کا پردہ فاش ہونا ابھی باقی ہے۔ لیکن اس وقت لڑائی دوسری سطح پر ہو رہی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے درمیان گھمسان چل رہا ہے۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ چاہتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اس کے اشارے پر چلے، اس کی آئڈیولوجی اور فیصلے کو اولیت دے، لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کے کئی لیڈر سنگھ کی مخالفت کرتے ہیں، کیوں کہ انہیں لگتا ہے کہ سنگھ کی آئڈیولوجی اور کام کرنے کا طریقہ نہ صرف محدود ذہنیت کا حامل ہے، بلکہ آج کے سیاسی اور سماجی ماحول کے موافق نہیں ہے۔ کئی لیڈر تو یہ بھی چاہتے ہیں کہ پارٹی میں سنگھ کا کوئی دخل نہ ہو، پارٹی کو سنگھ سے بالکل الگ کر لیا جائے۔
آپسی پھوٹ، عدم اعتماد، سازش، بداخلاقی، توانائی کی کمی، انتشار اور کارکنوں میں زبردست ناامیدی کے درمیان الیکشن میں ہار کا سامنا، فی الحال بھارتیہ جنتا پارٹی کی یہی فطرت بن گئی ہے۔ ایسے وقت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو چلانے کے لیے ایک پرانا صدر ملا ہے۔ راجناتھ سنگھ کو نیا نہیں کہا جاسکتا ہے، کیوں کہ گڈکری سے پہلے راجناتھ سنگھ ہی صدر تھے۔ راجناتھ سنگھ ایسے صدر رہے، جن کے پاس زیادہ پاور نہیں تھی، کیوں کہ دہلی کے پانچ لیڈر، جو ڈی – 5 کے نام سے مشہور ہیں، وہ پارٹی پر کنڈلی مار کر بیٹھے رہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے سامنے دو اہم چنوتی ہیں۔ ایک تو پانچ ریاستوں میں اسمبلی الیکشن ہونے والے ہیں۔ مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ میں سرکار بچانے کا امتحان اور راجستھان، دہلی اور جھارکھنڈ میں اکثریت لانے کی چنوتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ 2014 کے لوک سبھا الیکشن کی تیاری شروع ہو گئی ہے۔ کانگریس نے راہل گاندھی کو میدان میں اتار دیا ہے، بھارتیہ جنتا پارٹی کو اس کا جواب جلد از جلد دینا ہوگا۔ نریندر مودی پارٹی کے سب سے بڑے عوامی حمایت والے لیڈر بن کر ابھرے ہیں، راجناتھ سنگھ کو ان کے ساتھ تال میل قائم کرنا ہوگا۔ اڈوانی جی پارٹی کے سب سے سینئر لیڈر ہیں، لیکن راجناتھ سنگھ ان کے پسندیدہ صدر نہیں ہیں۔
بھارتیہ جنتا پارٹی ملک کی سب سے اہم اپوزیشن پارٹی ہے۔ عوامی جمہوریت میں اس کی اہمیت اور ذمہ داری سرکار چلانے والی پارٹی سے زیادہ ہے۔ ایسی پارٹی کا مکھیا بننا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ یہ کام اور بھی مشکل تب ہو جاتا ہے، جب پارٹی کے لیڈروں کے درمیان خانہ جنگی جیسا ماحول ہو۔ ایسے عہدہ پر فائز ہونے کے لیے دوربینی کی ضرورت ہوتی ہے، ایسی سوچ جس سے عام عوام کا اعتماد مضبوط ہوتا ہو۔ لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈروں کی فوج میں غیر اعلانیہ خانہ جنگی چل رہی ہے۔ ہر لیڈر دوسرے لیڈر کو پیچھے چھوڑ کر اگلے الیکشن میں وزیر اعظم کے عہدہ کا امیدوار بننا چاہتا ہے۔ دہلی میں رہ کر میڈیا میں بیان دینے والے لیڈروں کے درمیان بھی سرد جنگ چل رہی ہے۔ پارٹی میں حاشیہ پر گئے عوامی حمایت یافتہ لیڈر لڑ رہے ہیں۔ جو لوگ پارٹی سے باہر گئے ہیں، وہ گروہ بندی میں شامل ہو رہے ہیں۔ کچھ لیڈر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے ساتھ مل کر اپنے حساب سے اس دوڑ میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی میں چل رہی خانہ جنگی کا سب سے زیادہ نقصان ملک کے عوام کو ہو رہا ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کے سامنے سنہرا موقع ہے۔ ملک کے عوام سرکار کی پالیسیوں سے پریشان ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، بدعنوانی اور گھوٹالوں کا پردہ فاش ہونے سے سرکار بیک فٹ پر آ گئی ہے، لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی اس موقع کا فائدہ نہیں اٹھا پا رہی ہے۔ ملک کے عوام پریشان ہیں۔ سرکار ایک کے بعد ایک عوام کو پریشانی میں ڈالنے والی پالیسیوں پر عمل کر رہی ہے۔ اسے بدقسمتی ہی کہیں گے کہ سرکار کا کوئی متبادل نظر نہیں آ رہا ہے۔ بی جے پی کے نئے صدر سے لوگوں کی امیدیں بڑھیں گی، یہ کہنا غلط ہوگا۔ گروہ بندی پہلے سے کہیں زیادہ تیکھی ہو چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی نے عوام کے سوالوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ نہ کوئی نئی حکمت عملی ہے، نہ کوئی آئڈیولوجیکل اور اقتصادی روڈ میپ ہے۔ پارٹی میں گروہ بندی کا عالم یہ ہے کہ ایک ناکام صدر کو پھر سے صدر بنا دیا گیا۔ دکھ کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بی جے پی اپنی افادیت اور اہمیت کو ہی ختم کرنے پر آمادہ ہے۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *