راہل کی جے پور میں دی گئی تقریر کا مطلب کیا ہے

سنتوش بھارتیہ
کانگریس کا چنتن شیور اور پھر کانگریس کی مجلس عاملہ کی میٹنگ جے پور میں ہوئی۔ کانگریس کی تاریخ میں یہ واقعہ اس لیے اہم رہا، کیوں کہ باضابطہ طور پر راہل گاندھی کو نمبر دو کی پوزیشن پارٹی میں دے دی گئی۔ راہل گاندھی نے وہاں ایک لمبی تقریر بھی کی، جس پر چنتن شیور میں موجود لوگوں نے اور مجلس عاملہ کے اراکین نے جم کر تالیاں بھی بجائیں۔ کانگریس کے اس چنتن شیور پر بات کرنے سے پہلے ہمیں کچھ باتوں پر اور غور کرنا چاہیے۔

جے پور کے چنتن شیور نے ایک نئے راہل گاندھی کو جنم دیا ہے۔ امید کرنی چاہیے کہ راہل گاندھی اب ویسی بچکانی حرکتیں نہیں کریں گے، جیسی وہ اب تک کرتے آئے ہیں۔ لیکن جے پور میں بھی انہوں نے جو تقریر کی، اس تقریر کا مطلب راہل گاندھی سمجھتے ہیں یا نہیں، اب یہ نہیں کہا جاسکتا۔ مثال کے طور پر، راہل گاندھی نے اپنی تقریر میں کہا کہ یہ ملک نہرو، پٹیل اور مولانا آزاد کے بتائے ہوئے راستے پر چلے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا نہرو، پٹیل یا مولانا آزاد بازار پر مبنی اقتصادیات چاہتے تھے یا راہل گاندھی کا یہ ماننا ہے کہ اگر پٹیل، نہرو اور مولانا آزاد آج ہوتے تو بازار پر مبنی نیو لبرل اقتصادی پالیسیاں بناتے؟

کانگریس میں سارے لوگوں کی خواہش تھی کہ پرینکا گاندھی سیاست میں آئیں۔ کئی بار اس کے فیصلے بھی ہوئے۔ ہمیں پختہ طور پر پتہ ہے کہ راہل گاندھی نے اپنی بہن پرینکا گاندھی سے کئی بار یہ کہا کہ ان کی سیاست میں دلچسپی نہیں ہے، اس لیے وہ سیاست میں آگے آئیں۔ وہ خود اپنی ماں کی دیکھ بھال کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ہر بار سونیا گاندھی نے اس فیصلہ پر ویٹو کر دیا۔ راہل گاندھی کو مجبوراً کانگریس کی ذمہ داری لینی پڑی۔ کانگریس کے لوگوں میں دراصل راہل گاندھی کو لے کر ایک ناامیدی ہے۔ راہل گاندھی کبھی سنجیدگی سے نہ لیڈروں سے بات کرتے ہیں اور نہ کارکنوں سے۔ وہ کسی مسئلہ کے اوپر اپنی صاف رائے کبھی نہیں رکھتے ہیں۔ ان سے بیس دفعہ ملا ہوا آدمی اکیسویں بار جب ملتا ہے، تو وہ اس سے اس کا تعارف پوچھتے ہیں۔ لیکن پرینکا گاندھی سے کبھی نہ ملا ہوا آدمی بھی جب پہلی بار ملتا ہے، تو پرینکا گاندھی اسے یہ احساس نہیں ہونے دیتیں کہ وہ اس سے پہلی بار مل رہی ہیں۔ دیکھنے میں تو یہ فرق چھوٹا ہے، لیکن اس کا اثر بہت بڑا ہوتا ہے۔ راہل گاندھی سے ملنے کے بعد کارکن پرجوش ہو کر نہیں لوٹتا، لیکن پرینکا گاندھی سے ملنے کے بعد کارکن نہ صرف پرجوش ہوکر لوٹتا ہے، بلکہ ان سے دوبارہ ملنا چاہتا ہے۔ یہ صرف مرد اور عورت کا فرق نہیں ہے، یہ سمجھ اور برتاؤ کا فرق ہے۔ پرینکا گاندھی پبلک میٹنگ کے دوران جہاں ہر ایک سے ہاتھ ہلاتے ہوئے ان کی تسلیمات کا جواب دیتی ہیں یا مسکراکر کارکنوں کا حوصلہ بڑھاتی ہیں، وہیں راہل گاندھی پبلک میٹنگ میں بھی اپنے جدید ترین موبائل فون پر اپنے دوستوں سے چَیٹ کرتے ہوئے کبھی بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ ان کا اسٹیل منسٹر بینی پرساد وَرما سے یہ پوچھنا کہ آپ کے پاس بی بی ایم (بلیک بیری میسنجر) ہے اور اس وقت بینی پرساد وَرما کا حیرانی کے ساتھ یہ پوچھنا کہ یہ بی بی ایم کیا ہوتا ہے، کانگریس کے تمام لوگوں کو کئی پیغام دے گیا۔
لیکن یہ پرانی باتیں ہیں۔ جے پور کے چنتن شیور نے ایک نئے راہل گاندھی کو جنم دیا ہے۔ امید کرنی چاہیے کہ راہل گاندھی اب ویسی بچکانی حرکتیں نہیں کریں گے، جیسی وہ اب تک کرتے آئے ہیں۔ لیکن جے پور میں بھی انہوں نے جو تقریر کی، اس تقریر کا مطلب راہل گاندھی سمجھتے ہیں یا نہیں، اب یہ نہیں کہا جاسکتا۔ مثال کے طور پر، راہل گاندھی نے اپنی تقریر میں کہا کہ یہ ملک نہرو، پٹیل اور مولانا آزاد کے بتائے ہوئے راستے پر چلے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا نہرو، پٹیل یا مولانا آزاد بازار پر مبنی اقتصادیات چاہتے تھے یا راہل گاندھی کا یہ ماننا ہے کہ اگر پٹیل، نہرو اور مولانا آزاد آج ہوتے تو بازار پر مبنی نیو لبرل اقتصادی پالیسیاں بناتے؟ راہل گاندھی نے کہا کہ اقتدار کچھ لوگوں کے ہاتھ میں قید ہے اور کارکنوں کی بات نہیں سنی جاتی۔ اس کا مطلب راہل گاندھی کو یہ نہیں معلوم کہ اقتدار کی مرکزیت اور لوگوں کی، خاص طور پر ان کے کارکنوں کی یا ان کے اراکینِ اسمبلی یا ممبرانِ پارلیمنٹ کی بات کا نہ سنا جانا گزشتہ آٹھ سالوں سے چل رہا ہے، جب سے محترمہ سونیا گاندھی کے نامزد کیے ہوئے منموہن سنگھ وزیر اعظم بنے ہیں۔ راہل گاندھی نے یہ بھی کہا کہ میری ماں نے مجھ سے کہا کہ جب اقتدار آتا ہے تو لوگوں کا دماغ خراب کر دیتا ہے۔ کیا راہل گاندھی یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وہ اقتدار نہیں لیں گے اور منموہن سنگھ کا دماغ اقتدار نے خراب کر دیا ہے؟ راہل گاندھی نے یہ بھی کہا کہ میں صرف نوجوانوں کی نہیں، سب کی یا سارے ملک کی آواز ہوں۔ یہ وہ کہہ سکتے ہیں، لیکن یہ بولی تو آر ایس ایس کے لوگ بولتے ہیں یا پھر ہٹلر بولتے تھے۔ راہل گاندھی کی تقریر میں اتنی تالیاں بجیں، جس سے لگا کہ ہندوستان کو ایک نیا مسیحا مل گیا ہے، کیوں کہ راہل گاندھی کا یہ کہنا ہے کہ بدعنوانی کے خلاف وہی لڑ رہے ہیں، جو خود بدعنوانی میں ملوث ہیں۔ اس کا ایک مطلب یہ نکلتا ہے کہ اس ملک کے لوگ بدعنوانی سے پریشان ہیں اور اس سے لڑنا چاہتے ہیں، تو کیا یہ سارے لوگ بدعنوان ہیں؟ شاید راہل گاندھی کہنا چاہتے ہیں کہ اس ملک میں صرف انا ہزارے، جنرل وی کے سنگھ، اروِند کجریوال اور پرشانت بھوشن بدعنوان ہیں۔
راہل گاندھی کی پوری تقریر باہم مخالف جملوں اور جذباتی تضادات سے بھری ہوئی تھی، پر تالیوں نے ملک کو یہ بتایا کہ اب ایک نیا سویرا آنے والا ہے اور ملک کے لوگ اس سویرے کا بے تابی سے انتظار کر رہے ہیں۔ وہاں مقررین نے یہ بھی کہا کہ اگلا انتخاب راہل گاندھی کی قیادت میں لڑا جائے گا۔ اس کا مطلب، اگلے کچھ مہینوں میں راہل گاندھی یا تو وزیر اعظم بنیں گے یا پھر پوری طرح سے کانگریس کے صدر بن جائیں گے۔ جو بھی ہوگا، ملک کے لیے اچھا ہوگا۔ پہلی بار کانگریس کی مجلس عاملہ کی اہمیت صرف ایک ربڑ اسٹیمپ کی دیکھی گئی۔ سارا فوکس، ساری بات چیت اور الفاظ کی ساری تلوار بازی چنتن شیور میں ہوئی۔ ہمیں امید تھی کہ راہل گاندھی نائب صدر منتخب ہونے کے بعد پریس سے مخاطب ہوں گے، لیکن ہمیشہ کی طرح امید، ناامیدی میں بدل گئی۔
ہم راہل گاندھی کے خلاف یہ اداریہ نہیں لکھ رہے ہیں۔ ہماری واقعی میں یہ خواہش ہے کہ راہل گاندھی وزیر اعظم بنیں اور ملک کے مسائل کا حل نکالیں، پر اس کے لیے راہل گاندھی کو ملک کے بنیادی مسائل کا مطالعہ کرنا پڑے گا۔ کیا اس ملک میں انتخابی اصلاح ہونی چاہیے یا پھر تعلیم کا ڈھانچہ اور صحت کا ڈھانچہ نئے سرے سے بنایا جانا چاہیے؟ راہل گاندھی کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ کیوں کسی بھی راجدھانی سے باہر نکلتے ہی وہ کوئی بھی چیز نظر نہیں آتی، جس کا دعویٰ سرکاریں کرتی ہیں۔ یہ بھی راہل گاندھی کو سمجھنا چاہیے کہ اس ملک کا غریب، مسلمان، پچھڑا اور سبھی طبقوں کے محروم لوگ اپنی زندگی کو کبھی بہتر بنا پائیں گے؟ کیا مرکزی حکومت کی ان کے تئیں کوئی ذمہ داری ہے یا راہل گاندھی کی قیادت میں اگلا لوک سبھا کا انتخاب لڑا جائے گا تو خیالی طور پر یہ مان لیں کہ اس انتخاب میں راہل گاندھی کے امیدوار جیت جائیں گے، تب راہل گاندھی ملک میں کس قسم کی ترجیحات طے کریں گے؟
راہل گاندھی اگر خود کو لوگوں کے سامنے لائق، سمجھدار اور حساس لیڈر کے طور پر پیش نہیں کر پاتے تو پھر راہل گاندھی کو لوگوں کے ذریعے دیا جانے والا جھٹکا برداشت کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ صرف پیسے خرچ کرنے سے، ٹیلی ویژن پر اپنا چہرہ دکھانے سے، لوگوں کو آپ اپنے فیور میں نہیں کرسکتے۔ یہ حقیقت راہل گاندھی کو بہار، اتر پردیش اور گجرات کے انتخابی نتائج کے بعد سمجھ میں آ جانی چاہیے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *