قرآن ، سائنس اور ماحولیات

وصی احمد نعمانی
ہمیں معلوم ہے کہ طوفان کی شکل میں 1.52 بلین کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے زہریلی گیس زمین پر حملہ کرتی ہے لہٰذا جب ہم یہ غور کرتے ہیں کہ جس وقت شمسی ہوا اپنے ساتھ وہ الکٹران اور پروٹران کے ذرات کی زمین پر بارش کرتی ہے تو یہی فضا یا ماحولیات ان خطرناک ذرات کو یا تو اپنے اندر جذب کرلیتے ہیں یا انہیں مجبور کرتے ہیں کہ وہ واپس وہیں چلے جائیں جہاں یا جدھر سے آتے ہیں۔یہ آسمانی ذرات انسانی جان کے لئے جان لیوا ہیں۔ ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ جب الکٹران اور پروٹران کی بارش مقناطیسی میدان میں پہنچتی ہے تو اس کے اجزاء ترکیبی یعنی الکٹران اور پروٹران جدا جدا ہوکر میدان کے گرد اڑنے لگتے ہیں ۔ اس کے علاوہ کرہ ہوائی یا ماحولیات ان شعاعوں یا دیگر شعاعوں کو جنہیں سورج چارج کرتا ہے اپنے اندر جذب کرلیتا ہے۔ اس طرح یہ ہوائی کرہ جو ہمیں گھیرے ہوئے ہے وہ صرف بے ضرر شعاعوں، روشنی، اور ریڈیائی لہروں کو ہی ہم تک بھیجتا ہے ورنہ ہم کوئی آواز سن ہی نہیں سکتے تھے اور نہ ہم کو روشنی ہی مل سکتی تھی ۔ یہ عجیب و غریب اللہ کی تخلیق ہے جس نے زمین پر جانداروں کو بچا رکھا ہے۔ اس طرح ماحولیات کی تشکیل میں چند اہم گیسوں کا کردار بھی اللہ کا عظیم کرشمہ ہے۔ اس سے پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ کرہ ہوائی میں موجود چار اہم گیسیں نائٹروجن، آکسیجن، آرگون، کاربن ڈائی آکسائڈ موجود ہیں۔ ان چاروں گیسوں کو دو اہم خانوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ جو ماحولیات کی تشکیل اور اس کی بقاء میں بے حد اہم کردار ادا کرتے ہیں۔(1)وہ گیس جو ردّ عمل کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے یا بذات خود رد عمل پیدا کرتی ہیں۔(2)وہ گیس جو رد عمل کے نتیجے میں نہیں پیدا ہوتی ہے یا کوئی رد عمل نہیں پیدا کرتی ہے۔
رد عمل کے نتیجے میں پیدا ہونے والی گیسوں کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوا کہ جو رد عمل وہ گیسیں پیدا کرتی ہیں وہ رد عمل زندگی کے لئے نہایت ضروری ہے بلکہ لازمی ہے ،مگر اس کے بر خلاف جو گیس رد عمل کے بغیر وجود میں آتی ہیں وہ ایسے مرکبات پیدا کرتی ہیں جو زندگی کے لئے تباہ کن ہیں ۔ مثال کے طور پر یوں سمجھیں کہ آرگون اورنائٹروجن غیر فعال گیس ہیں۔ یعنی ان کا کوئی خاص رد عمل نہیں ہے یعنی آرگون اور نائٹرجن سے بے حد محدود کیمیائی عمل ہوسکتے ہیں ۔ اگر یہ دونوں گیسیں آکسیجن گیس کی طرح رد عمل پیدا کرتیں تو دنیا کے سارے سمندر نائٹرک ایسیڈ میں تبدیل ہوجاتے۔ ہمیں یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہئے کہ آکسیجن گیس جو رد عمل پیدا کرنے والی گیس ہے وہ دوسرے جواہر ،نامیاتی مرکبات، یہاں تک کہ یہ آکسیجن گیس چٹانوں کے ساتھ بھی رد عمل پیدا کرتی ہے اور یہ ایسا رد عمل پیدا کرتی ہیں جو زندگی کے بنیادی سالمے یا مائی کیولنر پیدا کرتی ہیں ۔جیسے پانی اور کاربن ڈائی آکسائد وغیرہ۔ ان گیسوں کے رد عمل کے علاوہ ان گیسوں میں موجود ارتکاز بھی زندگی کے لئے ضروری ہیں۔ مثال کے لئے ہم آکسیجن پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ یہ گیس ہمارے ماحولیات میں سب سے زیادہ رد عمل پیدا کرنے والی گیس ہے۔کیونکہ اس کرہ ہوائی میں آکسیجن کا بہت زیادہ ارتکاز ہے اور یہ ارتکاز ایسی صفت یا خصوصیت ہے جو ہمارے پورے نظام شمسی میں اس دھرتی کو دوسرے تمام سیاروں سے ممتاز کئے ہوئے ہے۔ جن میں ذرا سی بھی آکسیجن موجود نہیں ہے۔ اگر ہمارے کرہ ہوائی میں آکسیج کی مقدار یا تناسب موجود ہ مقدار یا تناسب سے تھوڑی بھی زیادہ ہوتی تو اس معمولی زیادتی کی وجہ سے نہایت تیزی کے ساتھ عمل تکسیر (کٹائو، پگھلائو، زمین کا تیزی سے کھسکنا ، بکھرنا) وغیرہ پیدا ہوجاتا ،جن کی وجہ سے چٹانیں اور دھاتیں بہت جلد تباہ ہوجاتیں۔ نتیجہ یہ ہوتا کہ دھرتی میں زبردست کٹائو پیدا ہوجاتا ۔ زمین ٹکرے ٹکڑے ہوکر بکھر کر تباہ و برباد ہوجاتی اور جانداروں کو بہت بڑا خطرہ پیدا ہوجاتا ۔دوسری جانب اگر اس آکسیجن کا مقدار یا تناسب موجودہ تناسب سے ذرا بھی کم ہوجاتا تو سانس لینا مشکل ہوجاتا اور پھر اوزون بھی کم ہوجاتی۔ سورج کی بالا بنفشی شعاعیں زمین پر زبردست یلغار کرتیں اور تمام جانور مٹ جاتے۔کیونکہ گیس کی اس تہہ کی وجہ سے نقصان دہ کرنیں یا شعایں زمین پر یلغار کرنے سے روک دی جاتی ہیں دوسری طرف اگر اوزون زیادہ مقدار میں ہوجاتی تو اس کی تہ موٹی اور دبیز ہوجاتی جن کی وجہ سے سورج سے مناسب گرمی اور روشنی نہیں مل پاتی اس طرح اوزون گیس کی کمی ،بیشی بھی جانداروں کے لئے مہلک ہوجاتی اور کرہ ہوائی کا تہہ و بالا ہوجاتا۔ (بحوالہ کتاب اللہ کی نشانیاں۔ عقل والوں کے لئے )’’اور کیا کیا نعمتیں اللہ کی ہم جھٹلائیں گے ‘‘ سورہ رحمن چیپٹر 55 آیت نمبر 13 ۔اسی طرح کاربن ڈائی آکسائڈ کے نازک توازن سے ماحولیات پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ آئیے ذرا اس پر بھی نگاہ دوڑا لیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ تمام پودے، اس گیس یعنی کاربن ڈائی آکسائڈ کے ذریعہ سورج کی شعاعوں کو جذب کرتے ہیںاور اسی سورج کی شعاعوں میں ملی ہوئی کاربن ڈائی آکسائڈ کو اپنے جسم کے اندر موجود پانی اور ماحولیات یا فضا سے پانی لے کر دونوں کو جب ملاتے ہیں تو ’’بائی کاربونیٹ‘‘ کی تشکیل کرتے ہیں۔ اس طرح پودوں کے ذریعہ تخلیق کردہ فضا میں موجود بائی کاربونیٹ چٹانوں کو سمندروں میں لے جاتی ہیں ۔یہ پودے کاربن ڈائی آکسائڈ کو توڑتے بھی ہیں اور آکسیجن کو بھی خارج کرتے ہیں یا فضا میں آکسیجن گیس کی سپلائی کرتے ہیں۔یہ آکسیجن فضا میں 02 کی حیثیت سے موجود رہ کر جانداروں کے لئے اہم رول ادا کرتے ہیں اور اس طرح ماحولیات میں موجود آکسیجن کا ضروری تناسب ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ یہ گیس دنیا میں گرین ہائوس افیکٹ کو ماحولیات میں برقرار رکھنے میں بھی مدد دیتی ہیں ،مگر اپنے موجودہ درجۂ حرارت میں کوئی تبدیلی نہیں آنے دیتی ہے۔

اگر ہمارے کرہ ہوائی میں آکسیج کی مقدار یا تناسب موجود ہ مقدار یا تناسب سے تھوڑی بھی زیادہ ہوتی تو اس معمولی زیادتی کی وجہ سے نہایت تیزی کے ساتھ عمل تکسیر (کٹائو، پگھلائو، زمین کا تیزی سے کھسکنا ، بکھرنا) وغیرہ پیدا ہوجاتا ،جن کی وجہ سے چٹانیں اور دھاتیں بہت جلد تباہ ہوجاتیں۔ نتیجہ یہ ہوتا کہ دھرتی میں زبردست کٹائو پیدا ہوجاتا ۔ زمین ٹکرے ٹکڑے ہوکر بکھر کر تباہ و برباد ہوجاتی اور جانداروں کو بہت بڑا خطرہ پیدا ہوجاتا ۔دوسری جانب اگر اس آکسیجن کا مقدار یا تناسب موجودہ تناسب سے ذرا بھی کم ہوجاتا تو سانس لینا مشکل ہوجاتا اور پھر اوزون بھی کم ہوجاتی۔ سورج کی بالا بنفشی شعاعیں زمین پر زبردست یلغار کرتیں اور تمام جانور مٹ جاتے۔

خدا کی کرشمہ سازی کہ اگر کاربن ڈائی آکسائڈ کیتناسب میں کمی ہوتی تو زمین اور سمندر میں موجود پودوں کی زندگی میں بھی کمی آجاتی۔ جانوروں کے لئے خوراک کم ہوجاتی اور اگر سمندر میں بائی کاربونیٹ کی کمی ہوجاتی تو تیزابیت میں اضافہ ہوجاتا ۔ اگر کرہ ہوئی میں کاربن ڈائی میں اضافہ ہوجاتا تو زمین کا کیمیائی کٹائو تیز ہوجاتا۔ جن کی وجہ سے سمندر کی تہوں میں نقصان دہ ’’ شورہ‘‘ زیادہ جمع ہوجاتا۔جن کے نتیجہ میں زمین کا درجہ حرارت زیادہ ہوجاتا اور پھر کرہ ارضی پر زندگی نیست و نابود ہوجاتی۔ اللہ تیرے حضور سرجھکاتے ہیں ، کس طرح ریاضی اور سائنسی طریقہ سے ماحولیات کی تشکیل کرکے اس کی حفاظت کا انتظام کر رکھا ہے۔یہ سب صرف تو کرسکتاہے ۔ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ زمین پر کرہ ہوائی یا فضا یا ماحولیات کا وجود زندگی کے تسلسل کے لئے ضروری ہے۔ اس کرہ ہوائی کو برقراررکھنے کے لئے بہت سے فلکی، طبعی،کیمیائی،زمینی، سمندری وغیرہ حالات کا وجود ضروری ہے۔
زمین کی سطح پر ایک معتدل درجۂ حرارت کی موجودگی لازمی ہے اس لئے اس فضائی زمین کی سطح پر ایک معتدل درجۂ حرارت کی موجودگی لازمی ہے ۔ اس لئے اس فضائی اعتدال میں نائٹروجن اور بیکٹریا کی موجودگی میں نہایت اہم توازن کی بھی ضرورت ہے کہ نائٹروجن کے گردشی چکر کو پورا کیا جاسکے۔ اس کا چکر نائٹروجن گیس سے شروع ہوتاہے کہ پودوں ے جرثومے اس نائٹروجن کو ایمونیا میں تبدیل کردیتے ہیں۔ کچھ جرثومے ایسے بھی ہوتے ہیں جو ایمونیا کو نائٹروجن میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ پھر فضا اس موجود نائٹروجن سے مل کر بجلی کی چمک کی وجہ سے بھی ایمونیا میں تبدیل ہوکر کھاد کی شکل لے کر زمین پر برستی ہے،جو بہترین کھاد ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے کہ’’ ہم بار آور ہوا بھیجتے ہیں اور ہم ہی ہوائوں کو بار آور بنا کر بھیج دیتے ہیں ‘‘۔اسی طرح وہ جاندار جو اپنی خوراک خود پیدا کرتے ہیں وہ نائٹروجن کو جذب کر لیتے ہیں۔ جیسے سبز پودے، پیڑ، گھنے جنگلاوت وغیرہ ، مگر انسان جو اپنی خوراک خود پیدا نہیں کرتے ہیں وہ نائٹروجن کی ضرورت کو ان پودوں کو کھا کر پوری کرلیتے ہیں۔ اس طرح جانوروں اور انسانوں میں جو نائٹروجن پائی جاتی ہے وہ اس کے فضلے یا مردہ جسم کی وجہ سے اور جرثوموں کے سڑ جانے پر واپس لوٹ آتی ہے ۔ ایسا کرتے وقت جرثومے یا بیکٹریا ان فضلوں اور سڑے جسم کو صاف کرتے وقت ایمونیا بھی خارج کرتے ہیں۔یہی ایمونیا نائٹرجن کا اصل ماخذ ہے۔ جس وقت ایک بیکٹریا کے ذریعہ ایمونیا کی کچھ مقدار کاربن میں تبدیل ہوکر ہوا میں شامل ہوجاتی ہے دوسرے جرثوموں کے ذریعہ اس کا ایک حصہ نائٹروجن میں یعنی (NO3) میں تبدیل ہوجاتا ہے،پھر اسے پودے استعمال کرتے ہیں اور اس طرح یہ گردشی چکر جاری رہتا ہے۔ اس گردش میں اگر بیکٹریا نہ ہوں تو تمام جانداروں کی زندگی ختم ہوجائے گی کیونکہ بیکٹریا کے بغیر پودے اپنی کاربن کی ضرورت پوری نہیں کرسکتے تھے اور اس دنیا سے ہی نا پیدا ہوجاتے ۔ اسی لئے کہا جاتاہے کہ جہاں پودے نہ ہوں وہاں زندگی کی بات کرنا ہی ممکن نہیں ہے اور جہاں پانی نہ ہو وہاں پودے ہی نہیں ہوسکتے ہیں ۔ اس لئے کہ پودے زندگی اور پانی پودے کی بنیاد ہے۔ یہی ناسا کی تلاش ہے جس کی رہنمائی قرآن کررہا ہے۔ اللہ نے جانداروں کی زندگی کے لئے ماحولیات کی تشکیل کرکے اس کی بقاء کا انتظام فرمایا۔یہاں تک کہ بظاہر حقیر سمجھے جانے والے جرثومے کو لازم بنا دیا تو اس پور ی فضا یا کرہ ہوا میں جانداروں کی حفاظت کے لئے اسے محفوظ چھت بنا دیا۔ اس لئے ساری تعریف اسی رب العالمین کے لئے ہے جس کا فرمان ہے ’’ اور ہم نے آسمان کو محفوظ چھت بنادیا‘‘ سورہ الانبیاء 21 آیت نمبر 32 ۔بحوالہ قرآن کریم۔اللہ کی نشانیاں عقل والوں کے لئے)            (جاری)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *