پونچھ کے عوام کا کوئی پرسان حال نہیں

کاجل کاظمی؍ مہناز اختر
نومہینوں کی اہمیت کیا ہوتی ہے یہ اس ماں سے پوچھو جس نے کافی مشقت کے بعد ایک مردہ بچے کو جنم دیا ہو۔ جموں خطے کے پونچھ قصبے سے ۱۴؍ کلومیٹر دور پیر پنجال رینج کے دور دراز پہاڑی علاقے کے لہردار قطعۂ زمین پر بسا ہے نونا بانڈی گاؤں۔ اس گاؤں میں ایک ایسی نوجوان ماں رہتی ہے جس کی اس عبارت کے تعلق سے کچھ اور ہی رائے ہے۔ اس کے لئے نو مہینے نہیں بلکہ آخری چند لمحات بیش قیمتی ہوتے ہیں۔ درد زہ یا لیبر پین (Labour Pain) کے آخری گھنٹوں میں ایک نئی زندگی کو اپنی آغوش میں لینے کا خواب پاش پاش ہوگیا۔ اس کی واحد غلطی یہ تھی کہ وہ ہمارے ملک کے ایک دوردراز جغرافیائی خطے کے ایک انتہائی دشوار گزار علاقے میں رہتی ہے جہاں کسی ایسی سڑک تک پہنچنے کے لئے جو اب بھی نیم مکمل ہے اس چکّر دار پہاڑی سلسلے پر جھولتے ہوئے نصف گھنٹے تک کا سفر کرنا پڑتا ہے۔چھ ماہ قبل، ۲۸؍ سالہ فاطمہ بی کو، جو اس وقت نو مہینے کے حمل سے تھیں، احساس ہوا کہ انہیں درد زہ شروع ہو رہا ہے۔ انہوں نے اپنے شوہر محمد اسلم کو مطلع کیا۔ اسلم مدد حاصل کرنے کے لئے فوراً ہی اپنے گھر سے نکل پڑے۔ گاؤں کے مکانات پہاڑ ی کے مختلف حصوں میں آباد اور پھیلے ہوئے ہیں اور یہاں کسی ہنگامی حالت کے لئے کوئی ڈسپنسری یا پرائمری ہیلتھ کیئر سینٹر بھی نہیں ہے۔چونکہ اس کے پاس کوئی گاڑی نہیں تھی، اسلئے انہوں نے ایک مقامی ڈرائیور کو گاؤں سے نصف گھنٹے کی مسافت پر واقع سڑک پر ملنے کے لئے کہا تاکہ وہاں سے فاطمہ کو پونچھ کے ضلع اسپتال تک لے جایا جا سکے۔ لیکن مذکورہ ڈرائیور نے سڑک پر آنے سے منع کر دیا۔ وہ فاطمہ کو انتہائی خطرناک لمحوں اور اس ایمرجینسی کی حالت میں اسپتال لے جانے کے لئے دو ہزار روپئے کے علاوہ پیٹرول کے پیسے بھی مانگ رہا تھا۔حالانکہ ’’ماں تجھے سلام‘‘ نامی ایک خاص اسکیم جموں و کشمیر حکومت نے یومِ جمہوریہ کے موقع پر اپنے عوام کو سوغات کے طور پر ۲۶؍ جنوری ۲۰۱۱ء کو لانچ کیا تھا۔ اس اسکیم کے تحت ریاست کی تمام حاملہ خواتین اور ۵ ؍ برس کی عمر تک کے بچوں کو اسپتال کی مفت خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔ اس اسکیم میں گھر سے اسپتال تک مفت ٹرانسپورٹیشن بھی شامل ہے۔ اس اسکیم کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے ڈرائیور نے ایک ضرورت مند جوڑے سے محض اسلئے  ان کے بچے کو چھین کر موت کی آغوش میں پہنچا دیا کیونکہ ان کے پاس بطور نذرانہ پیش کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں تھا۔ انتہائی کرب میں مبتلا فاطمہ درد اور مروڑ سے دوہری ہوتی اپنے شوہر اسلم کا ہاتھ پکڑے ٹیڑھے میڑھے دشوار گزار راستوں سے ہوتے ہوئے اسپتال کی جانب چل پڑی۔ اس سے قبل کہ وہ لوگ اسپتال تک پہنچتے، بچہ پیٹ میں ہی دم توڑ چکا تھا۔
فاطمہ اس گاؤں کی تنہا خاتون نہیں جسے ریاست میںبنیادی طبی سہولیات کی عدم دستیابی کے سبب یہ کرب برداشت کرنا پڑرہا ہے۔ اس دشوار گزار خطے میں آباد تقریباً تمام قبیلوں اور خاندانوں کو اس طرح کا شدید کرب جھیلنا پڑا ہے۔ پاس کے بانڈی چیچیاں گاؤں کی زلیخہ نے اپنی بھابھی رضیہ کوثرسے جڑا ایسا ہی ایک واقعہ گوش گزار کیا۔انہوں نے بتایا ’’اسی سال ۱۶؍ اکتوبر کو رضیہ نے رات کے تقریباً ۲؍ بجے پیٹ میں شدید تکلیف کی شکایت کی۔ ہمارے گھر والوں نے ایمبولینس کو فون کیا، لیکن اس کے آنے کی امید نہ دیکھتے ہوئے، انہوں نے کسی مقامی شخص کی گاڑی یا نقل و حمل کے کسی بھی وسیلے کا انتظام کرنے کی کوشش کی، لیکن یہ ساری کاوشیں بے سود رہیں۔ چونکہ گاؤ ںمیں کوئی ڈسپینسری نہیں ہے، اسلئے اسے ساری رات تکلیف اور بے چینی میں ہی بسر کرنی پڑی اور انہیں دوسرے دن ہی اسپتال لے جایا جا سکا۔‘‘ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تکلیف و پریشانی کئی برسوں سے ان سرحدی باشندوں کا دائمی مقدر بن چکا ہے۔ ضروریات زندگی کی دو اہم سہولیات ان فراموش کردہ لوگوں کے لئے بڑی آسانیاں پیدا کرسکتی ہیں۔۔ ایک تویقینی طور پر طبی سہولیات، یعنی ڈسپینسری یا ابتدائی ہیلتھ کیئر سینٹر، اور دوسرے سڑک سے گاؤں کو جوڑنے کی سہولت۔ بانڈی چیچیاں گاؤں کی امینہ بی نے کے مطابق’’ہمارے گاؤں میں کل ۹۵۰؍ گھر ہیں جبکہ اس کے دس وارڈس کی کل آبادی چھ ہزار سے زیادہ ہے۔ یہاں کا ہر گھر اس قسم کے واقعات اور کہانیوں سے بھرا پڑا ہے۔ ہم سب کو اس کا حل چاہئے۔ ایک تو ہمیں سڑک تک جانے کا راستہ چاہئے اور دوسرے ڈسپینسری۔‘‘ اسی گائوں کے محمد اسلم حکومت کو اپنے علاقے میںہسپتال بنانے کے لئے اپنی غربت و افلاس کے باوجود اپنی زمین فراہم کرنے کوتیار ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ “اگر آپ لوگوں کے توسط سے ہماری آواز حکومت تک پہنچ سکتی ہے تو میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ جب چاہیں میں اپنی زمین انھیں اسپتال بنانے کے لئے دے سکتاہوں کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ طبی امداد کی کتنی اہمیت ہوتی ہے ۔ میں نے اپنے چاروں بچوں کے جسمانی اعضاء کھوئے ہیں، میں نہیں چاہتا کہ کوئی اور اپنے نورِ نظر کو کھو کر میری طرح زندگی جینے پر مجبور ہو۔”
حکومت دیہی اور حاشیے پر زندگی بسر کرنے والوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لئے مختلف اسکیموں پر کروڑوں روپئے خرچ کرتی ہے۔ مثال کے طور پر، اس معاملے میں، پردھان منتری گرام سڑک یوجنا کے تحت سرکاری فائلوں میں بانڈی چیچیاں گاؤں تک ایک سڑک دکھائی گئی ہے۔ اس دعوے کی تصدیق کے لئے، یہاں ایک سائن بورڈ بھی آویزاں ہے جس پر جلی حروف میں سڑک کے مکمل ہونے کی تاریخ ۲۹؍ اپریل ۲۰۰۸ء تحریر ہے اور یہ بورڈ گاؤں جانے والے کچے راستے سے محض چند قدم کے فاصلے پر آویزاں ہے۔ اس گاؤں میں آنے والا کوئی بھی شخص بڑی آسانی سے یہ سمجھ سکتا ہے کہ مسئلہ دراصل کہاں درپیش ہے۔ وقت آچکا ہے کہ انتظامیہ کے افسران اس بات کا جائزہ لیں کہ یہ رقوم صحیح سمت میں خرچ ہو پارہی ہیں یا نہیں ۔خیال رہے کہ ۲۰۰۴ء میں جموں و کشمیر کے دورے کے دوران، وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے جموں و کشمیر کے لئے تعمیر نو کے منصوبے کے اعلان کیا تھا جس پر ۲۴۰۰۰؍ کروڑ روپئے خرچ ہونے تھے۔ اس رقم کا ایک بڑا حصہ ’’ڈیولپمینٹ آف پونچھ‘‘ کے عنوان کے تحت پونچھ ضلع کی تعمیر نو پر خرچ کیا جانا تھا اور جس کا نفاذ پونچھ ڈیولپمینٹ اتھارٹی کو کرنا تھا۔ اس خطے کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر ۵۲ء ۲۴۳ لاکھ روپئے مختص کئے گئے جسے مرکزی حکومت نے ۰۷۔۲۰۰۶ء میں ریلیز کر دیا۔ ریکارڈ پر تو یہ پروجیکٹ تکمیل کے مراحل سے کب کا گزر چکا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی اور سڑک سے جڑا نہ ہونے کے سبب ان دورافتادہ دیہاتوںمیں لوگوں کی زندگیاں اب بھی اجیرن ہیں۔نصف سڑک کی تعمیر اور بنیادی قسم کی ایک ڈسپینسری ان مسائل کی صرف پردہ پوشی کرے گی اسے حل نہیں کرے گی۔ ان مسائل کی تہہ تک پہنچنے اور ان کی ضروریات کے مطابق ایکشن پلان مرتب کرنے کے بعد ہی ان فراموش کردہ علاقوں میں آباد لوگوں کے مسائل کا کلّی طور پر ازالہ ہو سکے گا۔ ترقی کے نام پر بغیر سوچے سمجھے رقم بھیجنے سے ریاست کو ایوارڈز تو مل سکتے ہیں (جیسا کہ ریاست کو نومبر ۲۰۱۲ء میں انڈیا ٹوڈے کنکلیو میں بیسٹ ہیلتھ کیئر سروس ایوارڈ سے نوازا گیا تھا) لیکن اس سے ریاست کے دیہی اور پسماندہ لوگوں کے مسائل حل نہیں ہونگے۔
(چرخہ فیچرس)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *