پاکستانی سسٹم کا اگلا پڑائو

(مبین ڈار(پاکستان
یہ بات تقریباً طے ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی اور مذہبی انتہاپسندی مستقبل قریب میں ختم نہیں ہونے والی ہے۔اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ پاکستانی عوام کی اکثریت اسے برقرار رکھنا چاہتی ہے ۔اصل وجہ یہ ہے کہ دہشت گردی اور قتل غارت گری کے خلاف صف آراء ہونے کا کوئی عزم کسی کی طرف سے دکھائی نہیں دیتا۔نہ کوئی فوجی قیادت سامنے آتی ہے اور نہ ہی سیاسی قیادت کو اس بات کی فکر ہے کہ یہ سلسلہ کہاں جاکر رکے گا؟سب کا خیال یہی ہے کہ جیسے چلا آرہا ہے ویسے ہی چلنے دو۔بے وجہ اپنی جان مصیبت میں مت ڈالو۔کوئی اس خوف سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کے حق میںنہیں ہوتا کہ اسے امریکی ایجنٹ تصور کر لیا جائے گااور کوئی یہ سوچتا ہے کہ اسے مذہب کا مخالف سمجھ لیا جائے گا۔یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ ایک انتہائی مقبول سیاسی لیڈر اور سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو دہشت گردوں کا نشانہ بنیں ۔تب بھی سیاسی قیادت اس لعنت سے لڑنے میں سنجیدہ نہیں ہوئی۔ابھی حال ہی میں صوبہ پختونخاوا میں ایک صوبائی وزیر بشیر بلور کو بم کا نشانہ بنایا گیا۔ان کے ساتھ مزید کئی افراد ہلاک ہوئے۔صوبہ خیبر پختونخاوا کے وزیر اطلاعات کے اکلوتے جوان بیٹے کو بھی دہشت گردوں نے ہلاک کر دیاتھا۔دراصل ان کے نشانے پر صرف خیبر پختونخاوا کے وزراء ہی نہیں بلکہ بیشتر سیاست داں ہیں۔حال ہی میں تحریک طالبان نے کھلا یہ اعلان کیا ہے کہ وہ عوامی نیشنل پارٹی ،پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے ایک ایک فرد کو چن چن کر ماریں گے کیونکہ یہ پارٹیاں جمہوریت اور سیکولرزم کی بات کرتی ہیں۔ان کی سرگرمیوں اور کامیاب منصوبہ بندیوں کو دیکھ کر تو یہی لگتا ہے کہ حکومت اور فوج اپنے کسی منصوبہ میں کامیاب ہو یا نہ ہو،لیکن طالبان والے اپنے ہر منصوبے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنے کے لیے جب کوئی تیار ہی نہیں ہے یعنی جب کوئی طالبان اور دوسرے دہشت گرد گروپوں کے خلاف آر پار کی لڑائی کے لیے تیار ہی نہیں ہے تو پھر پاکستان میں اب کو ن سا سسٹم رائج ہونے والا ہے؟اب تک پاکستان میں یا تو فوج کی حکومت رہی ہے یا وقفہ وقفہ سے منتخب حکومتیں قائم ہوتی رہی ہیں لیکن یہ منتخب حکومتیں کبھی بااختیار نہیں رہیں۔اس کی منتخب حکومت پانچ سال کی مدت پوری کرنے کو جا رہی ہے لیکن اسے ’’بااختیار‘ حکومت نہیں کہا جا سکتا ہے کیونکہ داخلہ یا خارجہ پالیسی کے محاذ پر آزادانہ موقف سمجھ میں نہیں آتا۔وہ پاکستانی طالبان کے خلاف کارروائی کرنا تو چاہتی ہے لیکن افغان طالبان سے دوستی بھی نبھانا چاہتی ہے۔دوسری طرف افغان طالبان،پاکستانی طالبان اور القاعدہ سب ایک دوسرے کے دوست ہیں۔پاکستانی فوج اس مرحلے میں تو افغان طالبان کو اپنی مخالف بنا ہی نہیں سکتی کیونکہ عنقریب امریکہ کی قیادت والی اتحاد ی فوجوں کی واپسی کے بعد اسے افغانستان میں ملا عمر اور حقانی کے تعاون سے اپنے اسٹریٹجک ڈپتھ کے منصوبہ کو عملی جامہ پہنانا ہے۔گویا تحریک طالبان پاکستان کے خلاف پاکستانی فوج کوئی بڑا قدم نہیں اٹھا سکتی تو پھر پاکستان کا کیا ہونے والا ہے؟یہ سوال پاکستان کی سول سوسائٹی اور سنجیدہ حلقوں کو کافی پریشان کر رہا ہے۔قتل و غارت گری کا سلسلہ بے روک ٹوک جاری ہے۔فوج کے جنرل ہیڈکوارٹر سے لے کر پاکستانی فضائیہ اور بحریہ کے اہم اڈوں پر حملے ہو چکے ہیںاور ہوتے ہی جا رہے ہیں۔ابھی حال ہی میں پشاور کے ہوائی اڈے پر حملہ ہوا تھا۔دوسری طرف حکومت کی جانب سے ایسا کوئی معمولی قدم بھی نہیں اٹھایا جا سکا جس سے یہ اندازہ ہو کہ وہ دہشت گردوں کو کوئی سخت پیغام دینا چاہتی ہے۔دہشت گردوں کے حوصلے بلند ہی نہیں بلکہ وہ یکے بعد دیگر ے اپنی کامیابی کا پرچم لہراتے جا رہے ہیں۔پاکستان کا جمہوریت پسند حلقہ اندر ہی اندر گُھٹ رہا ہے کہ وہ کیا کرے۔اسے جب بھی موقع ملتا ہے وہ اپنے ووٹوں سے منتخب حکومت قائم کرتا ہے۔لیکن وہ حکومت طاقت کے اصل محور یعنی فوجی اسٹیبلشمنٹ پر اپنی بالادستی قائم نہیں کر پاتی اور صرف عہدوں و مراعات پر قناعت کر لیتی ہے۔کم ازکم اب تک تو یہی سسٹم رہا کہ کبھی براہ راست فوج اقتدار میں ہوتی ہے اور کبھی سویلین حکومت کو اپنی ڈھال بنا کر اپنا ایجنڈہ تھوپتی ہے ۔لیکن آثار و قرائن یہی اشارہ کرتے ہیں کہ اب یہ سلسلہ بھی ختم ہونے والا ہے اور جو کبھی کبھی برائے نام جمہوریت نظر آتی تھی وہ بھی مشکل سے ہی کبھی دکھائی دے گی۔کیونکہ اب اصل لڑائی اس حلقے سے ہے جو جمہوریت کے خلاف صف آراء ہے۔دراصل پاکستان جنرل ضیاء الحق کی کارستانیوں کی قیمت چکا رہا ہے۔انتہا پسندانہ ذہن کے حامل جنرل ضیاء نے افغانستان کے معاملات میں پاکستان کو ملوث کرکے پاکستانی عوام کو یہ سمجھانا شروع کیا کہ قومی مفاد کا تقاضہ یہ ہے کہ ظالمانہ اور جابرانہ طریقہ کار اختیار کیا جائے۔کسی نے یہ سوال کرنے کی جرأ ت نہ کی کہ کیا یہ طریقہ کار پاکستان کے حق میں ہے۔کچھ لوگ تو اپنی جان کے خوف سے خاموش رہ گئے او ر کچھ لوگوں نے اس خیال سے اپنی زبان بند رکھی کہ اگر انہوں نے کسی طرح کی تنقید کی تو انہیں غدار قرار دیدیا جائیگا۔لوگوں کو یہ یقین دلایا گیا کہ پاکستان کو مضبوط اور آزاد رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ انتہا پسندی کو فروغ دیا جائے۔حالانکہ یہ طریقہ کار اس لیے اختیار کیا گیا تھا کہ پاکستان میں آمریت کو یقینی بنایا جا سکے۔اس فوجی آمر نے بیک وقت امریکہ اور اپنے ہم وطنوں کو بے وقوف بنانے میں کامیابی حاصل کر لی۔اس نے اندرون پاکستان اپنے بہت سے ہمنوا بنا لیے اور ایک ایسے مائنڈسیٹ کو فروغ دیا جو جمہوریت اور ترقی پسندی کا شدید مخالف ہے۔انتہا پسندی کو برسو ں بلکہ دہائیوں تک جو فروغ دیا گیا اس کے باعث پاکستان میں دہشت گردوں کے ہمدرد او ر بہی خواہوں کی تعداد اتنی بڑھ گئی کہ انہوں نے تمام دہشت گرد گروپوں کو پناہ گاہیں مہیا کیں۔دہشت گردوں کے یہی ہمدرد اور بہی خواہ ان کے لیے ڈھال کا کام کر رہے ہیں اور انہیں کے طفیل پاکستانی سماج تیزی سے تقسیم بھی ہو رہاہے۔یہ ہمدرد اور بہی خواہ پردے کے پیچھے سے عام آدمیوں میں جمہوریت کے تئیں نفرت پیدا کرتے ہیںاور انہیں یہ کہہ کر اپنا ہمنوا بناتے ہیں کہ جمہوریت اپنے ساتھ سیکولرزم لاتی ہے اور سیکولرزم مذہب کے منافی ہے۔ایک طرف بڑے پیمانے پر وہ سیکولرزم کو مذہب کے منافی قرار دے کر عام آدمیوں کو گمراہ کرتے ہیں تو دوسری طرف عام آدمیوں میں گھس کر شیعہ مسلمانوں،احمدیوں ،عیسائیوں اور ہندوئوں وغیرہ پر ہونے والے مظالم اور ہلاکت کے خلاف ممکنہ رد عمل کے اثرات کو زائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تا کہ سماج کے مختلف فرقوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا نہ ہونے پائے۔یہی وجہ  ہے کہ پاکستان میں قومی فکر منقسم اور منتشر ہو کر رہ گئی ہے۔لہٰذا جب کبھی کسی موقع پر سخت قدم اٹھانے کا مرحلہ آتا ہے تو مختلف اور متـضاد قسم کی آراء سامنے آتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان پھر دوراہے پر کھڑا ہے۔کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ شمالی وزیرستان میں دہشت گردی کے سرچشمہ پر بھر پور وار کیا جائے تو دوسری طرف ایک بڑا طبقہ ایسا ہے جو اس کی مخالفت کر رہا ہے۔عمران خان جیسے سیاست داں اسی حلقے کی نمائندگی کر رہے ہیں جو دہشت گردوں کی سرگرمیوں کو جائز تصور کرتے ہیں۔لیکن بحرحال ایک طبقہ ایسا بھی پاکستان میں پیدا ہو گیا ہے جو ہمت کرکے یہ آواز اٹھانے لگا ہے کہ اب دو میں سے کسی ایک راستہ کو چننا پڑے گا۔یعنی یا تو دہشت گردوں کے سامنے سپر ڈال دی جائے اور وہ جس طرح کا نظام قائم کرنا چاہیں قائم کر لیں اور لوگ مستقل خوف و دہشت کے ماحول میں سانس لیںیا پھر پورے طور پر اس لڑائی کے لیے تیار ہو جائیں جو طویل جدو جہد اور قربانیوں کی متقاضی ہے۔اخبار ڈیلی ٹائمز میں ایک مبصر محمد احمد نے لکھا ہے کہ اگر جمہوری سیکولر اور ترقی پسند پاکستان چاہیے تو ان تمام لوگوں کے لیے متحد ہو کر اس کے لیے جدو جہد کرنا نا گزیر ہوگا جو جمہوریت کے خواہاں ہیں۔بلا شبہ یہ راستہ کانٹوں بھرا ہوگا اور بے شمار جانیں جائیں گی۔یہ راستہ کافی طویل بھی ہوگا اس لیے کم حوصلہ لوگ اس راہ پر دور تک نہیں چل سکتے۔لیکن اس راستے کو اختیار کیے بغیر کوئی چارہ بھی نہیں ہے ۔محمد احمد یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ’’کیا ہم آسان راستہ اختیار کریں اور اس ملک کو طالبان کے حوالے کر دیں یا پھر طویل جدو جہد کا راستہ تلاش کریں؟اس میں تکلیف تو ہوگی لیکن آزادی ،خوشحالی اور جمہوریت اسی راستے سے حاصل کی جا سکتی ہے۔‘‘محمد احمد کے مطابق فیصلہ کرنے کی گھڑی آ پہنچی ہے۔یہ فیصلہ ابھی کرنا ہے۔ورنہ پھر کبھی موقع نہیں ملے گا۔محمد احمد کو ئی مشہور یا ممتاز مبصر نہیں ہیں لیکن جو باتیں انہوں نے کہی ہیں وہ پاکستان کے سنجیدہ سیکولر اور جمہوریت پسند حلقے کے جذبات کی آئینہ دار ہیں۔دیکھنا یہ ہے کہ کیا پاکستانی سماج پر اس طرح کی باتوں کا کوئی اثر پڑتا ہے۔اگر نہیں تو پاکستان میں طالبان کا پرچم بلند ہونے والا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *