نتیش کمار اپنی ساکھ کھو رہے ہیں

ڈاکٹر منیش کمار
 پٹنہ کے چانکیہ ہوٹل کے پاس آر بلاک کا گیٹ ہے۔ یہاں پر ہفتہ میں تین چار احتجاجی مظاہرے ہوتے ہیں۔ بہار سرکار کے خلاف احتجاج کرنے والوں کے لیے یہ آخری پڑاؤ ہے۔ وہ اس سے آگے نہیں جاسکتے۔ گیٹ کو بند کر دیا جاتا ہے۔ بھاری تعداد میں پولس ہوتی ہے، واٹر کینن ہوتا ہے۔ مظاہرین اگر مشتعل ہونے کی ذرا سی بھی کوشش کرتے ہیں، تو یہ علاقہ فوراً میدانِ جنگ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ پھر کیا، مظاہرین کی پیٹھ ہوتی ہے اور پولس کا ڈنڈا۔ پٹنہ میں احتجاجی مظاہرے اور ان پر لاٹھی چارج کا واقعہ عام بات ہے۔ پٹنہ کے لوگ کہتے ہیں کہ مظاہرین کو وزیر اعلیٰ کے دفتر اور رہائش گاہ سے اتنی دور اس لیے روک دیا جاتا ہے، تاکہ لوگوں کی آواز نتیش کمار کے کانوں تک نہ پہنچ سکے اور ایسی حالت میں نتیش کمار یہ سمجھتے رہیں کہ بہار میں سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے۔
بہار کا سیاسی ماحول بدل رہا ہے۔ لوگوں کی پریشانیاں کم نہیں ہو رہی ہیں۔ نتیش حکومت سے لوگ ناامید ہونے لگے ہیں۔ ناامیدی کی کئی وجہیں ہیں۔ سرکاری بدعنوانی سے لوگ پریشان ہیں۔ بدعنوانی سے زیادہ سرکاری دفتروں کے رویے سے لوگوں میں غصہ ہے۔ نتیش سرکار نے سڑکیں بنا کر لوگوں کا دل ضرور جیتا تھا، لیکن اب وہ سڑکیں بھی خستہ ہونے لگی ہیں۔ جو سڑک نہیں بن سکی، وہ اب تک نہیں بنی۔ پانی کا مسئلہ ہے۔ بجلی کا مسئلہ اب تک حل نہیں ہوا ہے۔ لوگوں کو نتیش کمار سے بہت امیدیں تھیں، جو اب ناامیدی میں تبدیل ہونے لگی ہیں اور اس لیے اب وہ سرکار کے خلاف متحد ہونے لگے ہیں۔ شاید، نتیش کمار کو بھی لوگوں کے موڈ کا اندازہ ہے، اس لیے انہوں نے کہا کہ وہ بہار میں بدعنوانی کے خلاف ہیں اور ان کی حکمت عملی ’زیرو ٹالیرنس‘ کی ہے، لیکن صرف بیان دینے سے بات نہیں بنتی۔ بہار کے لوگ غریب ضرور ہیں، لیکن سیاسی طور پر بالغ نظر ہیں، اس لیے بیانوں کی اہمیت کو وہ اچھی طرح سمجھتے ہیں۔
نتیش کمار کی سرکار سے سب سے زیادہ پریشان جنتا دل یونائٹیڈ کے ایم ایل اے ہیں۔ یہ وزیر اعلیٰ سے سیدھے نہیں مل سکتے۔ وزیر اعلیٰ صاحب کو بھی یہ معلوم ہے، لیکن اگر ان سے اس مسئلے پر کوئی سوال پوچھتا ہے، تو وہ فوراً ناراض ہو جاتے ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ 52 ایم ایل اے اب تک وزیر اعلیٰ سے ملاقات بھی نہیں کر پائے ہیں۔ کئی لوگوں کا ابھی تک ان سے آمنا سامنا بھی نہیں ہوا ہے۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ وزیر اعلیٰ اپنے سبھی ایم ایل اے کو نہیں پہچانتے۔ ویسے بھی جس ایم ایل اے کی ملاقات ان سے ہوتی ہے، وہ بھی ان سے ملنے کے بعد مایوس ہی لوٹتے ہیں۔ پارٹی ڈسپلن اور سیاسی مجبوری کی وجہ سے کوئی منھ کھولنے کی ہمت ہی نہیں کرتا ہے، لیکن سچائی یہی ہے کہ بہار کے ممبرانِ اسمبلی خود کو کمزور محسوس اس لیے کرتے ہیں، کیوں کہ پولس اور انتظامیہ نے بھی ممبرانِ اسمبلی کی باتوں کو سننا بند کر دیا ہے۔ ایسی حالت میں ان کو اپنے ووٹروں کے سامنے شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کسی افسر کو فون کرنے کی ہمت تک نہیں کر پاتے۔

بہار میں افسروں کی تانا شاہی ہے اور وہاں  کے افسر بے لگام ہو گئے ہیں۔ صوبہ میں بدعنوانی عروج پر ہے۔ بدعنوانی کو ختم کرنے کی صرف باتیں ہوتی ہیں، لیکن کوئی کارروائی آخر کار نہیں ہوتی۔ دراصل، گزشتہ دورِ حکومت کی جو بھی حصولیابی تھی، اس کا اثر دھیرے دھیرے ختم ہو رہا ہے۔ بجلی، پانی، سڑک، تعلیم کی حالت خراب ہے اور سرکار کی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ نتیش کمار کی آنکھوں پر افسروں نے پٹی باندھ دی ہے یا پھر وہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی اسے نظر انداز کر رہے ہیں۔ وہ عوامی نمائندوں سے زیادہ افسروں کی سنتے ہیں۔ نتیش کمار عوامی لیڈر ہیں اور کچھ لوگ انھیں اگلے وزیر اعظم کے روپ میں دیکھتے ہیں، اس لیے ایسی غلطی کی امید ان سے نہیں کی جاسکتی۔

نتیش کمار نے نہ صرف کارکنوں اور پارٹی کے لیڈروں سے دوری بنا لی ہے، بلکہ وہ عوام سے بھی دن بہ دن دور ہو تے چلے جا رہے ہیں۔ ان کو عوام نے جس طرح حمایت دی، انہیں جتنی سیٹیں دلوائیں، وہ تاریخی ہے، لیکن پچھلے دنوں منعقد ہونے والی ادھیکار ریلی کی بھیڑ دیکھ کر نتیش کمار کی عوامی مقبولیت پر سوال اٹھتا ہی ہے۔ جے ڈی یو کے ایم ایل اے بتاتے ہیں کہ ریلی پر بہت پیسہ خرچ ہوا، لیکن صرف ڈیڑھ لاکھ لوگ گاندھی میدان پہنچے۔ بتایا یہ بھی گیا کہ اس میں صرف ایک ایم ایل اے نے تقریباً ایک لاکھ لوگوں کو گاندھی میدان پہنچانے کا انتظام کیا تھا۔ ادھیکار ریلی میں جو بھی لوگ آئے، اس کا انتظام منا شکلا، آنند سنگھ، کوشل یادو، سنیل پانڈے اور دھومل سنگھ نے کیا تھا۔ کہنے کا مطلب یہ کہ یہ ریلی عام لوگوں کی نہیں تھی۔ خیر، پردے کے پیچھے کا سچ جو بھی ہو، لوگوں کی تعداد کے حساب سے اس ریلی کو کامیاب کہا جاسکتا ہے۔ حالانکہ اس ریلی سے اگر نتیش کمار کی عوامی مقبولیت کا اندازہ لگایا جائے، تو یہ ریلی کئی سوالوں کو جنم دیتی ہے۔ اس ریلی کی تیاری میں خود نتیش کمار کو کئی جگہوں پر مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی جگہوں پر انہیں پروگراموں کو بھی ردّ کرنا پڑا تھا۔
نتیش کمار کی پارٹی میں سنجے جھا کے دخل سے کافی غصہ ہے۔ لوگ سوال پوچھتے ہیں، لیکن نتیش کمار کے سامنے اس بات کو اٹھانے کی ہمت کسی کی بھی نہیں ہوتی۔ سنجے جھا کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ پارٹی کے سبھی لیڈروں پر بھاری پڑتے ہیں۔ ان کی حیثیت ان دنوں ویسی ہوگئی ہے، جیسی کبھی للّن سنگھ کی ہوا کرتی تھی۔ یہ سب کو پتہ ہے کہ سنجے جھا پہلے ارون جیٹلی کے دفتر میں کام کرتے تھے، اس لیے انہیں بی جے پی کے کام کاج کو دیکھنے کے لیے بہار بھیجا گیا۔ وہ نتیش کمار کو اتنا پسند آئے کہ وہ بی جے پی چھوڑ کر جے ڈی یو میں آ گئے اور سب سے طاقتور بن گئے۔ جے ڈی یو کے لیڈر اس بات سے پریشان ہیں کہ آخر سنجے جھا کی خاصیت کیا ہے۔ ان کی کیا عوامی بنیاد ہے۔ لیڈران، ممبرانِ اسمبلی اور ممبرانِ پارلیمنٹ کی یہ ناراضگی فی الحال عام ضرور نہیں ہوئی ہے، لیکن ایسا کب تک چلے گا، یہ بھی ایک سوال ہے، کیوں کہ سیاست میں کب کیا ہو جائے، یہ کسی کو معلوم نہیں ہوتا۔
نتیش کمار عوام سے بھی دور ہو رہے ہیں۔ ان کا جنتا دربار صرف دکھاوا رہ گیا ہے۔ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ لوگوں کی شکایت پر کوئی کارروائی تو ہوتی ہی نہیں، الٹا شکایت کرنے والے ہی پریشان ہو جاتے ہیں۔ دراصل، ہوتا یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی کسی افسر کی شکایت لے کر جاتا ہے اور اپنی داستاں سناتا ہے، تو وزیر اعلیٰ صاحب اس کی شکایت کو افسروں کو سونپ دیتے ہیں اور وہ افسر واپس اسے اپنے جونیئر افسر کو دے دیتا ہے۔ اس طرح وہ شکایت وہیں پہنچ جاتی ہے، جس کے خلاف شکایت ہوتی ہے۔.اب جب اس افسر کو پتہ چلتا ہے کہ اس کے خلاف فلاں آدمی نے وزیر اعلیٰ سے شکایت کی ہے، تو اسے سبق سکھانے کے لیے وہ افسر اسے ذلیل کرنا شروع کردیتا ہے۔ ایسی کئی مثالیں ہیں۔ ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ جن لوگوں کو نتیش کمار سے امید تھی، وہ اب مایوس ہو رہے ہیں، اس لیے ان کے جنتا دربار میں لوگوں کی بھیڑ دھیرے دھیرے کم ہوتی جا رہی ہے۔
جب کارکن ہی اپنی پارٹی کو کوسنے لگے، تو اس پارٹی کا اللہ ہی مالک ہے۔ دراصل، جس پارٹی میں ممبرانِ پارلیمنٹ کو اپنی رائے رکھنے کی اجازت نہ ہو یا ان کی رائے کو سننے والا کوئی نہ ہو، ایسی پارٹیوں کو آپ کیا کہیں گے۔ جس پارٹی کے ایم ایل اے کو اپنے ہی وزیر اعلیٰ سے ملنے کے لیے مہینوں انتظار کرنا پڑے، اس پارٹی کے کارکن کبھی بھی خوش نہیں رہ سکتے۔ جب ایم ایل اے اپنی ہی پارٹی کی سرکار سے مایوس ہو جائے، تو یہ مان لینا چاہیے کہ نتیش کمار کا کنٹرول پارٹی کے کارکنوں پر اب نہیں رہ گیا ہے۔ جب کوئی وزیر اعلیٰ اپنے کارکن، ایم ایل اے، ایم پی، یہاں تک کہ وزیروں سے دوری بنا لے، تو یہ مان لینا چاہیے کہ اس پارٹی کا مستقبل سنہرا نہیں ہے۔ بہار میں نتیش کمار کی سرکار اور ان کی پارٹی جنتا دل یونائٹیڈ میں افسردگی چھائی ہوئی ہے۔ وزیر اعلیٰ کے سامنے نہ کوئی وزیر منھ کھولنے کی ہمت کرتا ہے اور نہ ہی ایم ایل اے کو ان سے بے جھجک ملنے کی آزادی ہے۔ وہیں زیادہ تر کارکن تو وزیر اعلیٰ کی جھلک تک نہیں لے پاتے ہیں۔ جے ڈی یو کے لوگ نتیش کمار کو اب راجا کہہ کر مخاطب کرنے لگے ہیں۔ ان کی میٹھی میٹھی باتوں اور ترقی کے دعووں کو لوگ اب کھوکھلا سمجھنے لگے ہیں۔
ایک ٹی وی چینل نے گزشتہ دنوں بہار میں ایک سروے کیا۔ سوال تھا کہ وہ کسے وزیر اعظم کی شکل میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس سروے کے مطابق، 55 فیصد لوگوں نے کہا کہ وہ گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو وزیر اعظم کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ صرف 35 فیصد لوگوں نے نتیش کمار کے نام پر مہر لگائی۔ نتیش کمار ایک پختہ لیڈر ہیں اور انہیں زمینی حقیقت کا اندازہ ہے۔ نتیش کمار پہلے بی جے پی پر حاوی رہتے تھے، لیکن اب بی جے پی ایگریسیو ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے ہی لگایا جاسکتا ہے کہ جب بھی کوئی جے ڈی یو کا لیڈر بی جے پی یا نریندر مودی کے خلاف بیان دیتا ہے، تو اسے ڈانٹ ضرور سننی پڑتی ہے۔ پارٹی کی طرف سے یہ پابندی لگا دی گئی ہے کہ وزیر اعلیٰ یا پارٹی کے صدر کی اجازت کے بغیر کوئی بیان نہیں دے گا۔ یہاں تک کہ ترجمانوں پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ااس کی مثال بہار کے وزیر برائے دیہی کام کاج بھیم سنگھ ہیں۔ انہوں نے یہ بیان دیا کہ نتیش کمار وزیر اعظم بنیں گے۔ یہ سنتے ہی نتیش کمار نے انہیں بلا کر پھٹکار لگائی۔ انہوں نے بھیم سنگھ کو صاف کہا کہ آپ استعفیٰ دیجیے یا پھر معافی مانگئے۔ بھیم سنگھ نے پریس کانفرنس بلائی اور اپنا بیان واپس لیا اور کہا کہ ’’میرے بیان سے وزیر اعلیٰ کو تکلیف پہنچی ہے اور وہ دکھی ہیں، اس لیے میرے بیان کی ایسی کی تیسی۔‘‘
نتیش کمار سے لوگوں کی امیدیں بندھی ہیں۔ جب وہ وزیر اعلیٰ بنے، تو لوگوں کو لگا کہ بہار میں تبدیلی آئے گی۔ پہلی مدتِ کار میں تبدیلی دکھائی بھی دی، اس لیے دھیرے دھیرے لوگوں کی توقعات میں مزید اضافہ ہوا۔ نتیش کو دل کھول کر لوگوں نے ووٹ دیا۔ اب بہار میں مایوسی کا دور ہے۔ نتیش کمار کے سامنے کسی اپوزیشن کی چنوتی نہیں ہے۔ انہیں تو لالو یاد و کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ آج بھی لوگ لالو یادو کے دورِ حکومت کے بارے میں سوچ کر کانپ جاتے ہیں۔ صوبہ میں لاء اینڈ آرڈر پہلے سے بہتر ہے، دن دہاڑے لوٹ نہیں ہوتی اور غنڈہ راج بھی نہیں ہے۔ لیکن سب کچھ ٹھیک ہوگیا، یہ کہنا بھی صحیح نہیں ہے، کیوں کہ لوگ اب پریشان ہیں۔ بہار سرکار کی اسکیموں کا اثر نہیں دکھائی دے رہا ہے۔ مرکزی اسکیموں میں بھی بدعنوانی ہے۔ تعلیم، صحت یا پھر کوئی اور محکمہ ، ہر جگہ گڑبڑیاں چل رہی ہیں۔ بہار میں سرمایہ کاری نہیں ہو رہی ہے۔ انڈسٹری نہیں لگ رہی ہے۔ پاور سیکٹر کی حالت خستہ ہے۔ نتیش کمار کے سات سال کے دورِ حکومت میں نکسلیوں کا اثر 10 ضلعوں سے بڑھ کر 23 ضلعوں تک پہنچ چکا ہے۔ بہار سرکار کے پاس اس مسئلہ سے نمٹنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ شہروں کی حالت دن بہ دن خراب ہوتی جا رہی ہے۔ نوجوانوں کے لیے نہ تو روزگار ہے اور نہ ہی کوئی بہتر مستقبل نظر آ رہا ہے۔ لوگوں کے پاس اب کوئی متبادل نہیں ہے، اس لیے بدحالی کو ہی بہار کے لوگوں نے اپنی قسمت مان لیا ہے۔ اس کے باوجود بہار کے لوگ آج بھی نتیش کمار کے دورِ حکومت کو لالو یادو کے دورِ حکومت سے بہتر مانتے ہیں۔ بہار کے عوام کی امیدوں پر کھرا اترنا نتیش کمار کی ذمہ داری ہے، لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ وہ اس ذمہ داری کو نبھا نہیں پا رہے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ جس تاریخی جیت کے بعد نتیش کمار دوبارہ وزیر اعلیٰ بنے، اس سے یہ امید ضرور جگی تھی کہ وہ ایک کامیاب اور غیر معمولی وزیر اعلیٰ ثابت ہوں گے اور آگے چل کر ملک کی قیادت بھی کریں گے۔ ایسا بہار ہی نہیں، پورے ملک میں لوگ چاہتے ہیں، لیکن بہار میں ان دنوں جو حالات ہیں، اس سے تو یہی لگتاہے کہ نتیش کمار نے خود کو ایک معمولی وزیر اعلیٰ کے دائرے میں محدود کر لیا ہے۔ اب ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے پٹنہ سے دہلی کا سفر مشکل ہی نہیں، نا ممکن بنا لیا ہے۔

کیا بہار میں غیر اعلانیہ سنسر شپ ہے؟
پریس کونسل آف انڈیا کے چیئرمین، جسٹس کاٹجو نے ایک کمیٹی بناکر نیا تنازع شروع کیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ بہار میں غیر اعلانیہ سنسرشپ نافذ ہے، میڈیا پر کئی قسم کی پابندیاں عائد ہیں اور اسی لیے وہ آزادی کے ساتھ کام نہیں کر پا رہا ہے۔ دراصل، جو بات جسٹس کاٹجو آج کہہ رہے ہیں، اسے چوتھی دنیا نے سب سے پہلے 2009 میں ہوبہو چھاپا تھا۔ ان دنوں چوتھی دنیا نے لکھا تھا ’’میرے خلاف لکھنا منع ہے‘‘۔ اس مضمون کے شائع ہونے کے بعد بہار میں بڑا ہنگامہ ہوا تھا۔ اپوزیشن نے اسمبلی کے اندر چوتھی دنیا اخبار کو لے کر ہنگامہ کیا۔ لالو یادو اور رام وِلاس پاسوان نے اخبار کی کاپیاں لے کر پریس کانفرنس بھی کی۔ جسٹس کاٹجو پریس کونسل کے چیئرمین ہیں، اس لیے پریس کے حقوق کے لیے لڑنا ان کی ذمہ داری ہے، لیکن انہیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ اس میں نتیش کمار کی سرکار کا قصور کم ہے۔ میڈیا اگر خود ہی صحافت چھوڑ کر چمچہ گیری کرنے لگ جائے، تو اس میں کسی سرکار کو کیسے قصوروار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ چوتھی دنیا اب تک سچائی کو بیان کرتا آیا ہے۔ بہار کی ہر گڑبڑیوں کو بے دھڑک شائع کیا ہے۔ اگر ایمرجنسی ہوتی، تو ہم پر بھی پابندی لگتی۔ سرکار تنگ کرتی، لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا۔ نہ ہی نتیش سرکار نے ہمارے خلاف کچھ کیا اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی لالچ دیا۔ ہم آج بھی نتیش کمار کی سرکار کی خامیوں کو بلا جھجک اجاگر کر رہے ہیں اور آئندہ بھی ایسا کرتے رہیں گے۔
پچھلے الیکشن کے دوران چوتھی دنیا نے یہاں تک چھاپا کہ نتیش مغرور ہو گئے ہیں۔ یہ تحریر نتیش کمار کے کام کرنے کے طریقے پر لکھی گئی تھی۔ نتیش ناراض ہوئے اور انہوں نے اپنے پرسنل سکریٹری کو ہی بدل دیا۔ ہاں، الیکشن جیتنے کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس میں چوتھی دنیا کے نامہ نگار کو نتیش کمار نے یہ ضرور کہا کہ چوتھی دنیا کو وہ اس لیے پڑھتے ہیں، کیوں کہ یہ اکیلا اخبار ہے، جسے بہار میں صرف برائی نظر آتی ہے۔
نتیش کمار کی سرکار میں بہت کمیاں ہیں، جنہیں ہر اخبار کو اجاگر کرنا چاہیے۔ اگر اخبار اشتہار کے لالچ میں قصیدہ خوانی کرنے لگے، تو قصور کس کا ہے۔ پریس کی آزادی کی بات تو تب آتی ہے، جب نیوز چینل اور اخبار خود آزاد ہونا چاہیں۔ اس لیے پریس کونسل کو اس بات کی جانچ کرنی چاہیے کہ کون سا اخبار نتیش کمار یا مرکز کی یو پی اے حکومت کی قصیدہ خوانی میں لگا ہے اور اس کے اسباب کیا ہیں۔ ان ایڈیٹروں پر کارروائی ہونی چاہیے، جو مرکزی اور صوبائی حکومتوں سے فائدہ اٹھا کر پریس کی آزادی کو بیچتے ہیں۔ جسٹس کاٹجو کے سامنے بڑی چنوتی ہے۔ ملک میں صحافت کی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ سرکار کے ایجنٹ کی طرح کام کرنے والے صحافیوں اور ایڈیٹروں کی لسٹ کافی لمبی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں کا اعتماد اٹھتا جا رہا ہے۔ جسٹس کاٹجو کو ایسے صحافیوں کے خلاف بھی ایکشن لینا چاہیے، جو عوامی صحافت کو چھوڑ کر سرکار کے لیے پبلک رلیشن کا کام کرتے ہیں۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *