نواز شریف کی پارٹی کا ناکام دھرنا

(اعجاز حفیظ (پاکستان
 پاکستان کے دو مرتبہ وزیراعظم رہنے والے میاں نواز شریف کی پارٹی مسلم لیگ ن کا دھرنا ۔معزز قارئین پوچھ سکتے ہیں کہ صرف اُس کا ہی دھرنا کیوں لکھا ،جس  میں درجن پھر دوسری پارٹیاں بھی شامل تھیں۔انتہائی مودبانہ عرض ہے کہ باقی جماعتوں کو اس میں ’’شامل باجہ‘‘ہی کہا جا سکتا ہے ۔یہ ہماری رائے ہے اور جس سے  اختلاف کی پوری طرح سے گنجائش ہے ۔ہم اپنی بات میں اُس رات کو بھی’’گواہ‘‘کے طور پیش کرنے کی جسارت کرتے ہیں ،جب مسلم لیگ ن کی پارلیمانی کمیٹی قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان پر برس پڑی۔اسے محض اتفاق کہیں گے کہ دھرنے کے دوران موسم بھی برستا رہا ۔ایسے میں موسم کو داغدار کرنا…وہ پہلے ہی حضرت انسان کے ہاتھوں کافی زخم رسیدہ ہے ۔ ایک اہم بات یہ ہوئی چوہدری نثار علی خان چہرہ کشائی کے بعد دھرنے سے ایسے غائب ہوئے کہ میڈیا سمیت اُن کی پارٹی کے شرکاء بھی حیران تھے ۔ بعد ازں پارلیمانی کمیٹی کے شرکاء کی اکثریت کا سوال تھا کہ دھرنے کی کیا ضرورت تھی؟ بہر کیف یہ اُن کے اندر کا مسئلہ ہے ۔ہم تو یہی عرض کریں گے کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے ۔اس کو مد ِ نظر رکھتے ہوئے ایک سوال کرنے کی ہم بھی جسارت کر لیتے ہیں کہ انہوں نے اس ضرورت سے کیا ایجاد کیا ؟ہماری سیاست تو پہلے ہی ’’ایجادات ‘‘سے بھری پڑی ہے۔جس کے پاس تھوڑی بھی سوچ ہے ،وہ کچھ نہ کچھ کرنے میں لگا ہوا ہوتا ہے ۔ ہمیں یہ بھی کہنے دیجئے کہ کسی بھی سوچ کے لئے رات سے بہتر ہم راز کوئی نہیں ہوتا ۔
یہ بھی عرض کرتے چلیں کہ اسلام آباد کی سوچ کے لئے کسی اپروچ کی بھی ضرورت ہوتی ہے ۔’’یہ کسی‘‘ اکثر ہر کسی کے ساتھ بھی ہوتے ہیں ۔ اس بات کو کچھ اس طرح سے دی اینڈ کرتے ہیں کہ باقی بات نصیب نصیب کی ۔دھرنا ناکام  رہا۔اگر ہم نے اس پر کچھ عرض کر دیا تو یار لوگوں کو اور دکھ ہو گا ،جو پہلے ہی اس پر دیوداس بنے ہوئے ہیں ۔بہر کیف اس مشکل گھڑی میں وزیر داخلہ رحمان ملک نے ہی اُن کا دل بڑھایا ۔انہوں  نے اسے جمہوریت سے یکجہتی کا مارچ قرار دیا ۔اُن کے رائے چوہدری نثار علی خان صاحب کے لئے کسی ’’سند ‘‘سے کم نہیں ۔ یہ بھی عرض کرتے چلیں کہ  وزیر داخلہ کے مسلم لیگ ن کے ساتھ کبھی بھی تعلقات ٹھیک نہیں رہے ۔ یاد آیا کہ اُن کی جماعت کے ایک کارکن آخر ِ کار  جب چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ بنے تو انہوں نے اپنے ایک فیصلے میں وزیر داخلہ کی گرفتاری کا حکم دے دیا تھا ۔اُن دنوں وہ سندھ میں تھے ،لہٰذا پنجاب پولیس سے بچے رہے ۔بعد میں انہوں نے سندھ ہائی کورٹ سے ہی ضمانت کروا لی ۔صدر آصف زرداری نے اُن کی سزا کو فی الفور معاف کر دیا ۔ابھی چند روز قبل سپریم کورٹ نے بھی وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی گرفتاری کا حکم جاری کر کے عالم گیر شہرت حاصل کی ۔لیکن راجہ صاحب ہنوز ملک کے وزیراعظم ہیں۔ پاکستان میںجوڈیشل ایکٹو ازم اپنے عروج پر ہے لیکن عام شخص کے لئے انصاف کا حصول اُسی طرح سے سسک رہاہے ۔ قارئین کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ پچھلے دنوں وزیر داخلہ نے کراچی کے حوالے سے اپنی ایک’’ پیش گوئی ‘‘میں کہا تھا کہ ’’ فروری میںوہاں بڑی خون ریزی  ہوگی‘‘۔جس پر اپنی پارٹی کے رد ِ عمل پر بھی وہ کافی پریشان دکھائی دئیے۔یہ ہماری آبزرویشن ہے ۔پریشان شخص کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اُن کی نیند بھی جیسے اُس کے ہجر میں رہنے لگتی ہو ۔
آپس کی بات ہے کہ جانے والے بھی کبھی لوٹ کر آئے ہیں ۔ لیکن ہماری سیاست پر یہ بات ایک فیصد بھی پورا نہیں اُترتی ۔آج کا منظر نامہ ہمارے سامنے ہے ۔ ملک کی دونوں بڑی جماعتوں میں جس تیزی سے آنا جانا لگاہوا ہے ،ڈر ہے کہ اس سے بھی کہیںٹریفک جام ہو کر نہ رہ جائے ۔سردار سیف الدین کھوسہ کی پیپلز پارٹی میں شمولیت کو  مسلم لیگ ن کے سر کردہ رہنما سردار ذوالفقار علی کھوسہ کچھ زیادہ ہی اپنی سیاست پر لگا بیٹھے ہیں ۔قارئین سوچ رہے ہوں گے کہ دل پر لگانے کا کیوں نہیں لکھا ۔عرض ہے کہ دل کا ہماری  سیاست  میں سوائے’’ مہمان اداکار‘‘کے کوئی بھی کردار نہیں ۔جہاں ایک سے بڑھ کر ایک دماغ(از خود)ہو ،وہاں دل بیچارہ اپنوں کا ہی مارا ہو گا ۔بیٹے کی شمولیت پر والد گرامی کا دکھ۔اُن ہی کی زبان سے عرض کئے دیتے ہیں ،’’پیپلز پارٹی نے میرا بیٹا چھین لیا ،یہ میری اپنی تکلیف ہے ،اسے خود بھگتوں گا ‘‘۔یہ اُن کا سیاسی عمل ہو گا ،جہاں تک ذات کا تعلق ہے،ہر کسی کو اس اس سے دور رہنا چاہیے بصورت دیگر نفرت اور محبت میں کم ہی فاصلہ رہ جاتا ہے ۔مسلم لیگ ن کے ایک لیڈر کا کہنا ہے کہ سردار ذوالفقار کھوسہ نے اپنے ہی بیٹے کے خلاف خود الیکشن لڑنے کا اعلان کر کے پیپلز پارٹی کی اُس حلقے میں بازی اُلٹ کر رکھ دی ۔
بہر کیف ڈیرہ غازی خان کے حلقے میں والد محترم جیتیں یا بر خوردا ر ،سیٹ اپنے گھر میں ہی رہے گی ۔اسے ہم اپنی سیاست کا ’’شاہکار‘‘ بھی کہہ سکتے ہیں ۔ یہ بھی عرض کرتے چلیں کہ بیرون ملک پاکستانی، وطن کی حالت ِ زار پر کافی ٹینشن میں ہیں ۔پچھلے دنوں ہماری ملاقات بیرسٹر سیدہ مقسومہ زہرہ بخاری صاحبہ سے ہوئی ۔جو حال ہی  میںلندن کا وزٹ کر کے آئی تھیں ۔قارئین کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ اُن کے والد معروف شاعر پروفیسر شہرت بخاری مرحوم اور والدہ فرخندہ بخاری صاحبہ ہیں ۔اُنہیں ڈکٹیٹر ضیا نے زبردستی جیل سے لبیا  جلاوطن کر دیا تھا ۔پچھلے دنوں محترمہ فرخندہ بخاری کی کتاب ’’یہ بازی عشق کی بازی ہے ‘‘شائع ہوئی ۔جس سے اُن دنوں کی بر بریت کا پتہ چلتا ہے ۔مقسومہ زہرہ بخاری کہنے لگیں کہ ’’بیرون ممالک میں رہنے والے پاکستانی اپنے ارادوں اور خیالات میں ہم سے کہیں زیادہ مخلص ہیں ۔ہمارے سیاسی و معاشی حالات پر وہ بہت فکر مند ہیں ۔  یہ بات خوش آئند کہ وہاں رہنے والے ایک ہیں ۔ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں‘‘۔ اُن سے گفتگو جاری رکھیں گے۔
غموں کے فاصلے کم کرنے کے لئے ایک دوسرے کی پکار پرلبیک کہنا چاہیے ۔میرے ایک سوال پر بیرسٹر صاحبہ کہنے لگیں کہ ’’وہاں کے پاکستانی بھی ہمارے یہاں تبدیلی کے خواہش مند ہیں ۔عمران خان وہاں پاپولر ہیںلیکن وہ اُن کے سیاسی وژن کو بہت کمزور سمجھتے ہیں ‘‘۔اُن سے کی گئی گفتگو ہم نے رقم کردی ۔میں سوچ رہا ہوں کہ مسلم لیگ ن خود کو برطانیہ میں بھی پاکستانیوں کی سب سے  مقبول جماعت ہونے کا بھی  دعویٰ کرتی ہے ۔اسلام آباد والے دھرنے پر وہاں اُس کے مداحوں پر کیا بیتی ہو گی ؟g
نوٹ !کالم نگار پاکستان کے سینئر جرنلسٹ ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *