نفرت کی سیاست کب تک ؟

وسیم راشد
ہندوستان میں مقدس کنبھ میلہ چل رہا ہے۔یہاں عقیدت مندبڑی تعداد میںروحانی غذا حاصل کرنے کے لئے جمع ہوتے ہیں مگر ہمارے ملک کے سیاست داں اس مقدس میلے پر بھی سیاست کا رنگ چڑھانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ البتہ سادھوئوں کے ایک گروپ نے انتہائی سمجھداری سے کام لیتے ہوئے با قاعدہ تنبیہ کی ہے کہ کوئی بھی اس میلے کے تقدس کو پامال نہ کرے۔سادھوئوں کو اس بیان کی ضرورت اس لئے پڑی کہ بی جے پی کے لیڈران خاص طور پر نریندر مودی، اس مذہبی میلے کو اپنی سیاسی امیج بنانے کے لئے استعمال کرنے کی سوچ رہے ہیں۔2014 کا الیکشن قریب ہے۔بی جے پی آنے والے اس الیکشن میں مہنگائی اورترقی کے بجائے مذہبی ایشو کو اچھالنا چاہتی ہے۔ لہٰذا اس کے لئے اسے سادھوئوں سے حمایت چاہئے ،اسی لئے کنبھ کے میلے کو چنا گیا ہے ، مگر سادھوئوں کا ایک گروپ بی جے پی کی نیت کو بھانپ چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے متنازع سیاسی ایشو کو اس مقدس میلے کے اسٹیج سے اعلان کرنے کو غیر اخلاقی کہا ہے۔ یقینا سادھوئوں کا یہ فیصلہ ہوشمندی اور حالات سے ہم آہنگ ہے اور سچ تو یہ ہے کہ ان سادھوئوں نے جس طرح سے ہوشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے آر ایس ایس اور بی جے پی کو مذہبی میلے کو سیاسی مقصد کے لئے استعمال کرنے سے منع کیا ہے،اسی سوجھ بوجھ کی ضرورت پورے ملک کو ہے۔ اگر مذہبی اجتماع میں نفرت کی سیاست کھیلی جائے ، تولوگوں کو چاہئے کہ اکٹھا نہ ہوں ۔اگر ایسا کیا جائے تو فرقہ پرست عناصر کو ملک کی سالمیت سے کھلواڑ کرنے کا موقع نہ ملے،لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ جذبات کی رَو میں بہہ کر نفرت پھیلانے والوں کی سازش میں پھنس جاتے ہیں ۔

اب جبکہ ملک میںالیکشن قریب آتا جارہاہے ، سبھی فرقہ پرست طاقتیں اپنی چالیں چل رہی ہیں۔ اس وقت مسلمانوں کے ووٹ کی سب کو ضرورت ہے، لہٰذا ایسے وقت میں ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام مسلم تنظیمیں ،تمام مذہبی رہنما ایک ساتھ کھڑے ہوجائیں اور ایک پلیٹ فارم پر مسلمانوں کو لاکر ان کو صحیح طور پر گائڈ کریں ۔ تاکہ 2014 میں مسلم ووٹ تقسیم نہ ہونے پائے اور ملک کا مستقبل ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں نہ چلا جائے جو فرقہ پرستی کی بنیاد پر اس ملک کو چلانا چاہتے ہیں۔ بابری مسجد کا قصہ راجناتھ سنگھ نے پھر سے شروع کردیا ہے۔ وی ایچ پی نے بھی اپنے تیور سخت کرلیے ہیں اور اسی مارگ درشک منڈل نے رام مندر کی تعمیر کے لیے گائوں گائوں تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے

اس کا انجام یہ ہورہا ہے کہ ایسے لوگوں کو جب بھی موقع ملتا ہے کسی ایک فرقے کے خلاف نفرت پھیلا کر سستی شہرت حاصل کرنے کا سامان مہیا کرلیتے ہیں۔مثال کے طور پر جے پور لٹریری فیسٹول کو ہی لے لیجئے جو ایک طرح سے دل آزاری کا ذریعہ بن گیا ہے۔ اس فیسٹول میںایک خاص مذہب کے خلاف جو اسکالر جتنی زیادہ برائی کرسکے ، وہ اتناہی بڑا اسکالر مانا جاتاہے۔ تبھی تو ہر سال اس فیسٹول کو شہرت دینے اور مسلمانوں کی دل آزادی کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔اس فیسٹول میں سلمان رشدی جیسے اسلام مخالف نظریے کے حامل فرد کو بلا کر مسلمانوں کی دل آزاری کی جاتی ہے اور یہ بار بار ہوتا ہے۔ گزشتہ سال اس فیسٹول میں اس کی آمد کی خبر نے ہنگامہ کھڑا کردیا تھا۔اگر انتظامیہ کو مسلمانوں کے جذبوں کا ذرا بھی احساس ہوتا تو دوبارہ اسے شرکت کی دعوت نہ دیتے مگر ایسا ہوا نہیں ،بلکہ امسال پھر اسے جان بوجھ کر بلایا گیا تاکہ مسلمانوں کو دلی چوٹ پہنچائی جاسکے۔سچائی تو یہ ہے کہ انہیں سلمان رشدی کے نظریے میں دلچسپی نہیں ہے بلکہ کچھ سیاست داں رشدی کو ایک مہرہ کے طور پر استعمال کرکے سیاسی شعبدہ بازی کررہے ہیں۔چونکہ رشدی بھی فی الوقت برطانیہ میں گمنامی کی زندگی گزار رہا ہے اور اسے بھی کسی ایسے پلیٹ فارم کی ضرورت ہے جہاں سے اسے اور اس کے نظریے کو شہرت مل سکے ۔ لہٰذا وہ فوراً ایسے شعبدہ بازوں کے ساتھ ہوجاتا ہے۔افسوس کی بات تو یہ ہے کہ مسلمان معصومیت اور سادگی کی وجہ سے ایسی ذہنیت کے حامل لوگوں کی سازش کو سمجھ نہیں پاتے ہیں اور جس طرح سے وہ مذہبی تنظیموں اور نام نہاد لیڈروں کے ہاتھوں کا کھلونا بن جاتے ہیں ،اسی طرح وہ رشدی اور اس جیسے لوگوں کے معاملے میں بھی ان کی سازش کا شکار ہوجاتے ہیں ۔لیکن سوال یہ ہے کہ آخر رنگ بدل بدل کر نفرت کی اس سیاست کا کبھی اختتام بھی ہوگا؟کبھی مودی ، کبھی رشدی، کبھی تعلیمی نصاب کی کتابوں میں حضور کی فرضی تصاویر اور کبھی پیغمبر اسلام کی توہین کرنے والی فلم اور اس پر نفرت کا زہر اگلنے والے ہمارے کچھ سیاست داں۔ابھی رشدی کا تنازع ختم نہیں ہوا کہ حضور کی فرضی تصویر کے تعلق سے تنازع کھڑا ہوگیا ۔ ابھی یہ ہنگامہ تھما نہیں تھا کہ توگڑیا نے ایسا زہر اگل دیا کہ ہم کو شرم آنے لگی، یہ سوچ کر کہ ہم سیکولر ملک میں کس طرح کے شہری ہیں۔جس کا دل چاہتا ہے وہ اپنی نفرت کا شکار مسلمانوں کو بنا لیتا ہے۔حالانکہ مسلم طبقہ کبھی بھی نفرت کی سیاست کو پسند نہیں کرتا ہے ۔اگر کوئی مسلم فرد غیر جمہوری باتیں کرتا ہے تو پوری قوم اس کے بیان کی مذمت کرتی ہے کیونکہ وہ جانتی ہے کہ جمہوریت کے کیا تقاضے ہیں اور ایک مہذب معاشرے میں رہنے کے کیا آداب ہیں۔ چنانچہ اکبر اویسی کے بیان کی سبھی مسلم تنظیموں ،مسلم دانشوروں نے سختمذمت کی اور خود ہم نے اپنے اداریہ میں اس پر کافی برہمی دکھائی، کیونکہ ہمارا مذہب کسی کی بھی دل آزاری کی اجازت نہیں دیتا،مگر اس کا جواب توگڑیا نے جس طرح دیا وہ یقینا قابل مذمت ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے ملک کے امن کو کسی کی نظر لگ گئی ہے ،کیونکہ جہاں کچھ ہندو مسلم تنظیمیں مل کر کام کر رہی ہیں، وہیں اشوک سنگھل اور توگڑیا مذہبی منافرت پھیلانے پر کمر بستہ ہیں اور اکبر اویسی کو انہوں نے جن الفاظ میں مخاطب کیا ہے وہ گستاخانہ اور بھڑکانے والا ہے۔اکبر الدین اویسی کو جس وقت گرفتار کیا گیا تھا تو اس وقت سبھی چینلز پر کسی مسلم لیڈر نے اس کی گرفتاری کی مخالفت نہیں کی۔ ہاں یہ ضرور کہا تھا کہ اکبر الدین اویسی کو تو گرفتار کرلیا مگر اوما بھارتی، اشوک سنگھل، توگڑیا جیسے لوگوں کو کیوںنہیں گرفتار کیا جاتا ،جن کے اشتعال انگیز بیانات کی وجہ سے ملک کا سیکولر کردار داغدار ہورہا ہے۔
اب جبکہ ملک میںالیکشن قریب آتا جارہاہے ، سبھی فرقہ پرست طاقتیں اپنی چالیں چل رہی ہیں۔ اس وقت مسلمانوں کے ووٹ کی سب کو ضرورت ہے، لہٰذا ایسے وقت میں ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام مسلم تنظیمیں ،تمام مذہبی رہنما ایک ساتھ کھڑے ہوجائیں اور ایک پلیٹ فارم پر مسلمانوں کو لاکر ان کو صحیح طور پر گائڈ کریں ۔ تاکہ 2014 میں مسلم ووٹ تقسیم نہ ہونے پائے اور ملک کا مستقبل ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں نہ چلا جائے جو فرقہ پرستی کی بنیاد پر اس ملک کو چلانا چاہتے ہیں۔ بابری مسجد کا قصہ راجناتھ سنگھ نے پھر سے شروع کردیا ہے۔ وی ایچ پی نے بھی اپنے تیور سخت کرلیے ہیں اور اسی مارگ درشک منڈل نے رام مندر کی تعمیر کے لیے گائوں گائوں تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے اور مرکزی حکومت سے راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے قانون بنانے کو کہا ہے اور دھمکی بھی دی ہے کہ ایسا نہ ہو ا تو زبردست تحریک شروع ہوگی۔ ظاہر ہے یہ سب ہوگا اور خوب بڑے پیمانے پر ہوگا ، مگر مسلمانوں کو صبر وضبط سے کام لینا ہوگا۔ مسلم لیڈروں، سیاست دانوں اورمذہبی رہنمائوں کو مسلمانوں کی رہنمائی کرنی ہوگی ۔حالانکہ مسلم نوجوان اب کافی ہوشیار ہوچکے ہیں، مگر جب بار بار ان کے خون کو جوش دلایا جائے گا تو وہ بھی کیا کریں گے۔ حال ہی میں پھر سے پیغمبر اسلام کی توہین کرنے والی فلم کو یو ٹیوب پر ڈالا گیا ہے اور اس کا نام ’’innocent prophet‘‘ہے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ پاکستان نژاد عمران فراست کی اس فلم پر اسپین میں سخت پابندی ہے مگر ہندوستان مین یو ٹیوب پر دکھایا جارہا ہے۔خود ہم نے اس فلم کو با قاعدہ دیکھا ہے اور ان گناہگار آنکھوں اور کانوں نے اپنے حضور کی سخت توہین کو نہ جانے کیسے برداشت کیا ہے۔یہ کئی زبانوں اسپینش، ہندی، انگریزی اور اردو میں دکھائی جا رہی ہے۔ اس طرح کی شر انگیزی مسلمانوں کے ساتھ نئی نہیں ہے۔ مگر مسلمانوں کو بھی عقل و خرد سے کام لینے کی ضرورت ہے، کیونکہ حضور کے زمانے سے ہی مذہب اسلام کو لوگوں نے لعن و طعن کا ذریعہ بنایا ہے مگر اس کے باوجود آج اسی مذہب کے ماننے والے پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کو ابھی بھی ہوش سے کام لینا ہوگا۔ ایسا صرف اس لئے کہا جاتا ہے تاکہ ان کو ترقی کی دوڑ میں پیچھے کیا جاسکے۔ ان کے نوجوانوں کو بیروزگار کیا جاسکے،مگر ابھی ہمیں صرف ایک ہی چیز پر توجہ دینی ہے اور وہ ہے تعلیم۔ یہی ہمارے نوجوانوں کی ترقی میں مدد کرے گی اور ہم مسلمان اگر تعلیم یافتہ ہوں گے تو ہمیں جذباتی ، سیاسی اور معاشی طور پر کوئی نہیں توڑ پائے گا اور نہ ہمارا کوئی استحصال کرپائے گا۔ ہمیں اگر مین اسٹریم سے جڑنا ہے تو خود کو ملک کی ترقی میں شامل کرنا ہوگا اور لیڈر شپ لینی ہے تو پھر تعلیم حاصل کرنا اور سمجھ بوجھ کر چلنا ہوگا۔ رہنمائی کوئی نہیں کرے گا ، سب کو اپنی فکر ہے، آپ کو اپنے لئے خود ہی اپنا راستہ بنانا ہوگا۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *